زرداری صاحب! برطانیہ پاکستان کا کبھی بھی دوست نہیں رہا.... طالبان سے بات چیت جلد سے جلد شروع کریں

ـ 8 اگست ، 2010
صدر آصف علی زرداری نے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے ساتھ ملاقات کے بعد میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے برطانیہ کے ساتھ گزشتہ کئی دہائیوں سے قائم روایتی دوستانہ تعلقات اور مستقبل میں بھی دو طرفہ تعلقات اور تعاون جاری رکھنے کا اظہار کیا۔ دوسری طرف وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے بھی پاکستان سے پکی دوستی قائم ہونے کا کہا جبکہ آصف زرداری کا دعویٰ ہے کہ دونوں کی ملاقات کے دوران پاکستان اور برطانیہ کے مابین سٹرٹیجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق ہوا ہے۔ برطانوی وزیراعظم نے بھارت کے دورہ کے دوران پاکستان کیخلاف بڑے درشت لہجہ میں انتہائی سخت اور غیرسفارتی الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’اسلام آباد‘ دہشت گردی کی دوسرے ممالک کو ترسیل بند کرے‘ یہ بات کسی صورت برداشت نہیں کر سکتے‘ یہ ملک (پاکستان) دونوں راستوں کو اختیار کئے ہوئے ہے اور دہشت گردی کو دوسرے ممالک میں منتقل کر رہا ہے‘ خواہ یہ انڈیا ہو یا افغانستان‘ یا دنیا میں کہیں اور…‘‘ کیمرون نے یہ ہرزہ سرائی بنگلور کے ایک اجلاس میں کی۔
پاکستان کیخلاف یہ زہریلی گفتگو کرنے کے بعد ڈیوڈ کیمرون نے بار بار اپنے بیان پر اصرار کیا‘ اس سلسلہ میں کسی قسم کی معذرت کرنے یا بیان واپس لینے سے انکار کردیا‘ اس حقیقت کے باوجود صدر زرداری اس بات پر مصر تھے کہ وہ ڈیوڈ کیمرون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسکے بیان کی تردید کرائیں گے اور بتائیں گے کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی قربانی نیٹو افواج اور دیگر کسی بھی ملک سے زیادہ ہے مگر صدر زرداری اور ڈیوڈ کیمرون کی ملاقات کے بعد صرف پاکستانی صدر ہی یہ کہتے سنائی دیئے کہ پاکستان اور برطانیہ اکٹھے رہیں گے‘ رشتے اٹوٹ ہیں‘ پکی دوستی قائم ہے‘ انکی آواز میں ڈیوڈ کیمرون کی آواز شامل نہیں تھی۔
صدر آصف علی زرداری نہ جانے کس غلط فہمی میں مبتلا ہیں‘ شاید وہ اپنی اور اپنے خاندان کی بے پناہ قیمتی جائیداد اور بھاری بنک اکائوٹنس برطانیہ میں ہونے کی وجہ سے برطانیہ کی شدید محبت میں گرفتار ہیں وگرنہ برطانیہ اور پاکستان کے تاریخی تعلقات تو انتہائی افسوسناک اور اسلام دشمن رویہ کے مظہر ہیں کیونکہ برطانوی حکمران جب تک انڈیا کے حکمران رہے‘ صرف مسلمان ہی ان کیلئے تکلیف کا باعث تھے کیونکہ انہوں نے مسلمانوں سے حکومت چھینی تھی‘ مسلمان ہی سلطان ٹیپو اور سراج الدولہ کی صورت میں برطانوی حکمرانوں کیلئے تکلیف کا باعث بنتے رہے اور اسکے بعد جب تحریک آزادی عروج پر پہنچی تو قائداعظم محمد علی جناحؒ کی صورت میں ایک ایسا سیاسی رہنماء سامنے آیا جس کے ساتھ بات کرتے ہوئے برطانوی لیڈر اپنے آپ کو آزاد محسوس نہیں کرتے تھے اور نہ ہی ہندو لیڈروں کی طرح مسلمان لیڈر ان سے کوئی مصلحت یا اندرون خانہ سمجھوتے کیلئے تیار تھے‘ اپنی اس تکلیف کا اظہار انگریز لیڈروں نے اپنی متعدد تصانیف میں کیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ انگریز نے برصغیر کے مسلمانوں کے مطالبۂ آزادی کی راہ میں ہر طرح کے کانٹے بوئے‘ کشمیر مسلم اکثریت کا علاقہ تھا‘ برطانوی حکمرانوں نے پاکستان کی زندگی بھارت کے ہاتھوں دیدی‘ حیدرآباد دکن‘ جوناگڑھ‘ منادر اور پنجاب کے کئی اضلاع کو متنازعہ بنا کر بھارت کے حوالے کر دیئے۔ برطانیہ کے اس وقت کے لیڈروں نے ایک نوزائیدہ اسلامی مملکت کی راہیں دشوار سے دشوار تر کرنے کیلئے ہر اقدام کیا‘ پاکستان کی فوج‘ اسلحہ کی تقسیم اور پاکستان کے حصہ کا سرمایہ سب میں برطانوی عہدیداروں کی صلاح و مشورہ سے بددیانتی کی گئی اور برطانیہ نے مسلمانوں کے ساتھ اپنی دشمنی کا حق پوری طرح استعمال کیا تاکہ یہ دونوں ملک آپس میں لڑتے رہیں اور انکے اسلحہ کا کاروبار عروج پر رہے۔
صدر آصف علی زرداری اور انکے ہم خیال سیاست دانوں کو یہ واضح طور پر معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات ہمیشہ افسوسناک رہے ہیں‘ برطانوی ہاتھوں پر لاکھوں مسلمانوں کا خون لگا ہوا ہے‘ جو بے انصافی پر مبنی تقسیم برصغیر کی تاریخ کے کھلے صفحات ہیں‘ اس لئے پاکستانی مسلمان یہ دھوکہ کھانے کیلئے تیار نہیں‘ برطانیہ کا جو بھی وزیراعظم یا لیڈر ہو گا‘ وہ امریکہ کے ’’پوڈل‘‘ کا کردار ادا کرتا ہے‘ بھارت کے تلوے چاٹتا ہے اور پاکستان پر غراتا ہے۔ امریکہ برطانیہ دونوں اس وقت بھارت کے کاروباری معاون ہی نہیں‘ پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کیلئے اکٹھے کھڑے ہیں۔
اول تو صدر زرداری کو پاکستان کے عوام اور سیاسی لیڈروں کا مشورہ تسلیم کرنا چاہیے تھا کہ وہ برطانیہ کے وزیراعظم کے الفاظ کی شدید مذمت کرتے اور اپنا دورۂ برطانیہ ملتوی کردیتے۔ بلاول بھٹو زرداری نے تو پاکستان میں سیاست کرنی ہے‘ اسکی سیاست میں رونمائی کی رسم بھی پاکستان میں ہی منعقد کرتے اور یہاں پاکستان رہ کر پاکستان کے طوفانی سیلاب کا شکار عوام کے ساتھ اظہار محبت و یکجہتی کرتے کیونکہ عوام نے زرداری کی سربراہی میں انکی پارٹی کو ووٹ دیئے ہیں۔ برطانیہ میں موجود مسلمان لیڈروں نے بھی انہیں یہی مشورہ دیا تھا۔ لارڈ نذیر اور برطانوی کابینہ کے رکن شاہد ملک نے انہیں کہا تھا کہ وہ برطانیہ نہ آئیں‘ پاکستان میں رہ کر احتجاج کریں مگر صدر زرداری اپنے کسی نادیدہ مشن پر کاربند رہے اور برطانیہ جا پہنچے۔ وہاں میڈیا اور سیاسی لیڈروں کی طرف سے جو سلوک ان سے ہوا‘ وہ صدر زرداری نے شاید محسوس نہیں کیا‘ البتہ پاکستان کے سترہ کروڑ عوام کے سر شرم سے جھکے ہوئے ہیں۔
البتہ زرداری صاحب نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پاکستانی طالبان سے بات چیت کرنے کا جو عندیہ ظاہر کیا ہے‘ وہ واحد سیاسی نکتہ ہے جس کی پاکستانی حلقوں میں تحسین موجود ہے۔ کیونکہ پاکستان میں محب وطن حلقے انہیں انکی حکومت اور سابقہ حکومت کو بھی مسلسل یہ راستہ دکھا رہے تھے کہ پاکستان کو دہشت گردی کیخلاف اس نام نہاد جنگ سے پیچھا چھڑا لینا چاہیے‘ ہمارا اس میں حصہ اس سے بہت کم ہونا چاہیے تھا مگر امریکہ نواز حکمرانوں نے اپنے آپ کو اس میں امریکہ سے بھی زیادہ ملوث کرلیا ہے۔
غیرت اور عزت نفس کا تقاضہ یہی ہے کہ ہم پاکستانی طالبان سے بات چیت کریں‘ خواہ وہ ہتھیار ڈال دیں یا ہتھیار اٹھائے ہوئے ہوں‘ ان سے بات چیت کی جائے اور امریکہ خود افغان طالبان لیڈروں سے بات چیت کر رہا ہے‘ تو ہم لڑائی کس بات کی لڑ رہے ہیں؟ طالبان ہمارے بھائی ہیں‘ دوست ہیں‘ ان سے بات چیت کی جائے‘ پاکستان میں مذہبی جماعتوں کے کئی لیڈر مولانا سمیع الحق‘ مولانا فضل الرحمٰن‘ پروفیسر ساجد میر‘ سید منور حسن اور پروفیسر حافظ سعید سے بات چیت کی جائے‘ یہ لوگ قبائل اور بلوچستان میں سب لوگوں سے بات چیت کرکے امن بحال کریں۔
وزارت خارجہ کو چاہیے کہ وہ قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے جو بھی ثبوت ہیں‘ عالمی میڈیا کے سامنے پیش کریں اور بتائیں کہ پاکستان دہشت گردی کا شکار ہے اور بھارت دہشت گردی ایکسپورٹ کر رہا ہے۔ قومی اسمبلی کا مشترکہ اجلاس طلب کرکے اس میں خارجہ پالیسی پر بحث کی جائے اور ایک متفقہ قومی خارجہ پالیسی وضع کی جائے۔ پاکستانی وزیراعظم دنیا سے امداد کی اپیل کر رہے ہیں‘ سیلاب اور بارشوں کی تباہ کاری کا رونا رو رہے ہیں‘ انہیں چاہیے کہ فوری طور پر تیاری کریں کیونکہ بھارت چناب کے بعد راوی میں بھی پانی چھوڑنے والا ہے تاکہ پنجاب کا جو علاقہ طوفان سے محفوظ ہے‘ اسے بھی تباہی کا شکار بنائے‘ راوی میں سیلاب سے جو علاقے متاثر ہو سکتے ہیں‘ ان کا تعین کرکے احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں‘ غیرملکی امداد کا انتظار کرنے کے بجائے اپنی مدد آپ کے اصول پر اپنے وسائل پر انحصار کریں۔
چدم برم مہاراج! مسئلہ کشمیر کا حل مذاکرات نہیں اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد ہے
بھارتی وزیر داخلہ چدمبرم نے کہا ہے کہ مقبوضہ وادی کشمیر، آزادی کے نعروں سے گونج رہی ہے۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ اس صورتحال کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے۔ چدمبرم نے بھارتی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا واحد حل مذاکرات ہیں جس کیلئے سیاسی عمل فوری طور پر شروع کرنا ہو گا۔
بھارتی وزیر داخلہ چدمبرم کو معلوم ہونا چاہئے کہ مسئلہ کشمیر کا حل سیاسی مذاکرات نہیں ہیں بلکہ اسکا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کیمطابق کشمیریوں کو استصواب کا حق دینا ہے۔ اس سے قبل بھارتی فوج کے سربراہ بھی بھارتی حکومت کو یہ مشورہ دے چکے ہیں کہ مسئلہ کشمیر فوج کے ذریعہ حل نہیں ہو سکتا۔ سات لاکھ بھارتی فوج گذشتہ ساٹھ برسوں سے مقبوضہ کشمیر میں لاکھوں کشمیری مجاہدین آزادی کو شہید کر چکی ہے اور اب تو بھارتی فوج میں بے پناہ نفسیاتی اور سماجی مسائل پیدا ہو چکے ہیں اور بھارتی فوج کے سینکڑوں اہلکار فوج سے بھاگ گئے یا خود کشی کر چکے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام اور انکا جو ش و خروش آزادی کیلئے انکی بے پناہ جدوجہد تاریخ میں ایک علیحدہ اور منفرد مقام رکھتی ہے۔ تحریک آزادی کشمیر کے بزرگ راہنما اسی سالہ سید علی گیلانی اس پر خراج تحسین کے مستحق ہیں کہ انہوں نے کشمیر کی تحریک آزادی کو سیاسی خطوط پر اس طرح منظم کیا اور جاری رکھا کہ اسے کوئی دہشت گردی نہیں کہہ سکتا البتہ بھارتی فوج پولیس اور انتظامیہ ریاستی دہشت گردی کر رہی ہے۔ ساری دنیا میں انسانی حقوق کی تنظیمیں حتیٰ کہ امریکی کانگرس کے کئی ارکان امریکی حکومت سے مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کو حل کئے بغیر دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ اب حکومت پاکستان کو چاہئے کہ دہشت گردی کیخلاف نام نہاد جنگ کی طرف توجہ دینے کی بجائے تحریک آزادی کشمیر کو مضبوط و مستحکم کرنے کیلئے کشمیریوں کی مدد کی جائے کیونکہ کشمیریوں کی تحریک آزادی پاکستان کی زندگی اور استحکام کیلئے ہے۔
کراچی کے سنگین حالات
کراچی میں مزید 7 افراد کو ہلاک کر دیا گیا‘ وزیر داخلہ رحمان ملک کی موجودگی میں متحدہ اور اے این پی نے ایک دوسرے پر الزام عائد کئے‘ بند کمرے میں دو گھنٹے جاری اجلاس میں کوئی حتمی فیصلہ تو نہ ہو سکا‘ لیکن بقول وزیر داخلہ ٹارگٹ کلنگ کے خاتمہ پر دونوں جماعتیں متفق ہیں۔ اس صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ بند نہ ہو گا کیونکہ جو اعلامیہ سامنے آیا ہے‘ وہ مبہم ہے اور یوں لگتا ہے کہ وزیر داخلہ اپنے طور پر مطمئن ہو گئے ہیں‘ فریقین میں کشمکش کی فضاء قائم ہے‘ اگر حالات اسی طرح رہے تو یہ وبا مزید پھیل سکتی ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ کراچی کے احوال کی اصلاح ٹھوس بنیادوں پر کرے‘ یہ درست ہے کہ ٹاسک فورس تشکیل دیدی گئی ہے اور نو ٹارگٹ کلرز سمیت 195 افراد کو حراست میں لے لیا گیا‘ لیکن یہ مسئلے کا مستقل حل نہیں‘ جب تک وسیع سیاسی مذاکرات نہیں ہوتے اور دونوں فریقوں کو بقائے باہمی پر رضامند نہیں کیا جاتا‘ کراچی میں امن و امان قائم نہیں ہو سکتا۔ ٹارگٹ کلنگ نے مرگ ناگہانی کو کراچی میں عام کر دیا ہے اور معصوم لوگ بھی اس کا نشانہ بنتے ہیں۔ حکومت کیلئے کراچی کی صورتحال ایک بڑا چیلنج ہے‘ اس معاملہ میں کوئی تاخیر نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اس بات کا خدشہ ہے کہ پاکستان دشمن قوتیں بھی اس خانہ جنگی میں شامل نہ ہو جائیں اور پورے سندھ کو خطرہ لاحق ہو جائے۔ آج کراچی تک یہ سلسلہ محدود ہے‘ تو کل خدانخواستہ یہ دوسرے شہروں تک بھی پھیل سکتا ہے۔
مقبوضہ کشمیر مظاہروں میں خواتین کی شرکت
مقبوضہ کشمیر میں مظاہروں میں پہلی بار سینکڑوں خواتین کی شرکت‘ فوج پر پتھرائو بھی کرتی ہیں‘ روزانہ سینکڑوں خواتین مردوں کیساتھ سڑکوں پر آزادی کے حق میں نعرے لگاتی ہیں‘ اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کشمیری خواتین نے کہا ‘ ’’ہمارے بچوں کو شہید کرنے سے پہلے ہمیں شہید کرو‘‘۔ یوں لگتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مقامی طور پر جدوجہد آزادی زور پکڑ گئی ہے کیونکہ بھارتی افواج نے ظلم و ستم کا ٹیمپو تیز کر دیا ہے اور یہ پہلی بار ہے کہ کشمیری خواتین بھی تحریک آزادی میں شامل ہی نہیں‘ بھارتی فوج پر پتھرائو بھی کر رہی ہیں۔ کیا یہ خواتین سرحد پار سے آرہی ہیں؟ کشمیری اپنی جنگ خود لڑ رہے ہیں اور ان کو کسی کی مدد حاصل نہیں‘ ساری دنیا کشمیریوں کو انکے حق خودارادیت سے محروم کرنے کا تماشا دیکھ رہی ہے۔ یو این او بھی ان تماشائیوں میں شامل ہے۔ پاکستان کی طرف سے اگر کوئی اخلاقی مدد تھی تو وہ بھی اب نہیں رہی‘ امریکہ کے اس خطے میں آنے کے بعد بجائے اسکے کہ وہ کشمیریوں کے بارے میں بھارت پر دبائو ڈالتا‘ اس نے چپ سادھ لی ہے۔ کشمیر پر پاکستان کی خارجہ پالیسی اس قدر کمزور ہے کہ بھارت ٹس سے مس نہیں ہوتا اور مذاکرات کی سطح پر بھی وہ پاکستان کے ساتھ مسئلہ کشمیر کو نہیں چھیڑتا۔ کشمیر کہنے کو تو ہماری شہ رگ ہے مگر ہماری جانب سے اس سلسلے میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی۔ ان دنوں بھارت کی کوشش ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں اپنا عمل دخل بڑھا دیا ہے‘ یہی وجہ ہے کہ مظلوم کشمیریوں کا ردعمل بھی سامنے آگیا ہے جس سے مجبور ہو کر خواتین بھی شامل ہو گئیں۔ کشمیری خود کو تنہا سمجھتے ہیں اور یقین کر چکے ہیں کہ بھارتیوں کے ہاتھوں انکی شہادت یقینی ہے‘ اس لئے خواتین نے کہہ ڈالا کہ ہمارے بچے شہید کرنے سے پہلے ہمیں شہید کر دو۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter