بھارت کی جارحانہ دفاعی اور ایٹمی جنگی تیاریاں ... پاکستان بھی منہ توڑ جواب دینے کی تیاری کرے

ـ 7 مارچ ، 2010
سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر نے کہا ہے کہ جامع مذاکرات کی بحالی سے بھارتی انکار سمجھ سے بالاتر ہے‘ پاکستان بھارت کے ساتھ جامع مذاکرات کی بحالی چاہتا ہے جبکہ بھارت اس کیلئے تیار نہیں اور صرف ایک نکتہ پر بات کرنا چاہتا ہے۔ طے شدہ ایجنڈے کے بغیر مذاکرات مثبت صورتحال پیدا نہیں کر سکتے‘ غیرملکی سفیروں کو پاکستان اور بھارت مذاکرات کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری خارجہ نے امن اور خطے میں سیکورٹی کی صورتحال‘ بھارت کی جانب سے دفاعی بجٹ میں اضافے کے حوالے سے پاکستان کے تحفظات سے بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ بھارت نہ صرف جارحانہ دفاعی تیاریوں میں مصروف ہے‘ بلکہ ایٹمی جنگ کی تیاری بھی کر رہا ہے۔
یہ مسئلہ حقیقت ہے کہ معاملات گولی اور طاقت سے بھی شروع ہوں‘ تو بالآخر مذاکرات کی میز پر ہی طے ہوتے ہیں‘ لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دوسرا فریق مذاکرات کو کھیل اور مذاق بنالے تو اپنی بقاء اور سلامتی کیلئے آخری حد تک جانا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ بھارت نے ایسا ہی وطیرہ اپنا رکھا ہے۔ مذاکرات کی طوالت کی کوئی حد ہوتی ہے‘ 62 سال کوئی کم عرصہ نہیں‘ اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں‘ جو جواہر لال نہرو خود یو این سے منظور کرا چکے ہیں‘ ان پر عملدرآمد ہی تو کرانا ہے‘ بھارت اس پر بھی آمادہ نہیں‘ اب وہ وقت گزاری اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے اپنی مرضی یا امریکی دبائو پر مذاکرات شروع کرتا ہے پھر ان کو کسی نہ کسی بہانے سے سبوتاژ کر دیتا ہے۔ گزشتہ ماہ مذاکرات کی ایک بار پھر پیشکش کی اور ازخود دہشت گردی پر مذاکرات کا یک نکاتی ایجنڈہ بھی طے کرلیا جبکہ پاکستانی حکام کشمیر اور پانی کے مسئلہ پر بات چیت کی امید لے کر گئے تھے لیکن بھارت اپنے ایجنڈے پر مصر رہا جسکی وجہ سے حسب معمول مذاکرات کے نتائج پھر ناکامی پر منتج ہوئے‘ پاکستانی حکام کو بھارت کے رویے کو دیکھتے ہوئے ایسے مذاکرات سے انکار کر دینا چاہئے تھا‘ بہرحال جو ہوا سو ہوا‘ اب سیکرٹری خارجہ نے کہا ہے کہ طے شدہ ایجنڈے کے بغیر مذاکرات مثبت صورتحال پیدا نہیں کر سکتے‘ ساتھ ہی وزارت خارجہ کا حوصلہ افزاء پہلو بھی سامنے آیا ہے کہ پاکستان بھارت مذاکراتی عمل کیلئے پارلیمنٹ میں موجود جماعتوں کی مشاورت سے رہنماء اصول مرتب کئے جا رہے ہیں‘ جن کی بنیاد پاکستان کے کشمیر کے حوالے سے اصولی مؤقف اور پانی کو ایشو بنایا جا رہا ہے‘ مذاکرات کیلئے پس پردہ سرگرم بعض عالمی قوتوں کو باور کرادیا گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے ذریعے ہی پاکستان بھارت باہمی عزت و احترام پر مبنی تعلقات قائم ہو سکتے ہیں‘ جن کا یو این قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کیمطابق حل ہونا ناگزیر ہے۔
قیام پاکستان کے بعد سے ہی بھارت کو پاکستان کا وجود ناقابل برداشت ہے‘ اسے ایک بار موقع ملا تو اس نے پاکستان کو دولخت کردیا‘ وہ موجودہ پاکستان کو بھی حصوں بخروں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے‘ جس کیلئے اسکی خفیہ سازشیں جاری ہیں۔ ایک طرف اس نے کشمیر سے پاکستان آنے والے دریائوں پر 62 سے زائد ڈیمز تعمیر کرکے پاکستان کو بنجر بنانے کے منصوبے پر عمل شروع کردیا ہے‘ دوسری جانب افغانستان کے راستے بلوچستان میں علیحدگی پسندی کی تحریک اپنے ایجنٹوں کے ذریعے مضبوط کررہا ہے۔ سرحد کے شمالی علاقہ جات میں بھی اس کا دیا ہوا اسلحہ اور روپیہ استعمال ہو رہا ہے‘ کالاباغ ڈیم نہ بننے کی سب سے بڑی وجہ بھارتی سازش ہی ہے جس کیلئے اس نے مخالفت کرنے والوں میں اربوں روپے تقسیم کئے ہیں۔ اسکے ساتھ ساتھ بقول سیکرٹری خارجہ کہ بھارت پاکستان کے ساتھ ایٹمی جنگ کی بھی تیاری کر رہا ہے۔ سیکرٹری خارجہ کی طرف سے یہ کوئی انکشاف نہیں کیونکہ بھارتی آرمی چیف دیپک کپور تو باقاعدہ اعلان کر چکے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ محدود ایٹمی جنگ ہو سکتی ہے جبکہ وہ یہ بھی دھمکی دے چکے ہیں کہ بھارت بیک وقت پاکستان اور چین کو صرف 96 گھنٹے میں مفلوج کر سکتا ہے۔ دیپک کپور نے یہ بھی کہا کہ پاکستان پر جنگ کی صورت میں امریکہ اور روس بھی بھارت کی مدد کرینگے‘ روس اور امریکہ کی طرف سے بھارتی آرمی چیف کے بیان کی تردید نہیں کی گئی۔
بھارت کی جنگی تیاریوں کا اندازہ اس کے دفاعی بجٹ میں حالیہ اضافے سے بھی لگایا جا سکتا ہے جو پاکستان کے دفاعی بجٹ تو کجا‘ پاکستان کے وفاقی بجٹ کے لگ بھگ ہے۔ اب اس نے اس بجٹ میں 53 ارب روپے کا مزید اضافہ کردیا ہے۔ اسکے علاوہ اسکے روس‘ امریکہ‘ فرانس‘ آسٹریلیا اور ہالینڈ سے عالمی حفاظتی اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایٹمی معاہدے بھی ہو چکے ہیں۔ اسرائیل اسے دھڑا دھڑ اسلحہ فراہم کر رہا ہے‘ امریکہ جدید ترین F-18 اور روس سخوئی لڑاکا طیارے فراہم کرنے پر تیار ہے‘ دوسری طرف امریکہ کی طرف سے اول تو پاکستان کو جدید اسلحہ نہیں دیا جاتا‘ اگر روایتی اسلحہ بھی دیا جاتا ہے تو صرف تجارتی بنیاد پر۔ پاکستان دہشت گردی کیخلاف جنگ میں امریکہ کا فرنٹ لائن اتحادی ہے اور امریکی حکام یہ اعتراف کرتے ہیں کہ پاکستان کی مدد کے بغیر اس جنگ میں کامیابی ممکن نہیں لیکن اسکی تمام تر نوازشات بھارت پر ہیں جو ہمارا ازلی اور دشمن نمبر ایک ہے۔ اسکے باوجود پاکستان امریکہ کی مبینہ دہشت گردی کی یہ جنگ بڑے جوش و خروش سے لڑ رہا ہے‘ حالانکہ اس جنگ میں پاکستان کا تقریباً 35 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ اس نام نہاد امریکی جنگ میں ہم نے اپنی ایک لاکھ سے زائد فوج جھونک رکھی ہے‘ اتنی شہادتیں بھارت کے ساتھ ہونے والی تین جنگوں میں نہیں ہوئیں‘ جتنی امریکہ کے مفادات کی اس جنگ میں لڑتے ہوئے ہو چکی ہیں۔ اوباما انتظامیہ کی مہربانی ہے کہ اس نے پاکستان کو ایٹمی ہتھیار رکھنے والے ملک کے طور پر تسلیم کرلیا ہے‘ جس کا جلد کھل کر اعلان بھی متوقع ہے لیکن پاکستان کو کو حمایت کی یقین دہانی کراکے اسے بیچ منجدھار میں چھوڑ دینا امریکہ کا وطیرہ ہے‘ اس کی ایک بڑی مثال مشرقی پاکستان اسکے بیڑے کے انتظار میں مغربی پاکستان سے الگ ہو گیا۔ پاکستان نے امریکہ اور اسکے اتحادیوں کا بہت ساتھ دے لیا‘ جس کا خمیازہ ڈرون حملوں اور اسکے ردعمل میں خودکش حملوں کی صورت میں پاکستان بھگت رہا ہے۔ گزشتہ روز ہنگو میں ہونے والے خودکش حملہ میں پندرہ افراد جاں بحق ہو گئے۔ امریکی ایڈمرل مائیک مولن نے یہ کہہ کر پاکستان کیلئے دہشت گردی کیخلاف جنگ سے علیحدگی کا خود جواز پیدا کردیا کہ اگر کسی کو اعتماد نہیں تو ہم مل کر کام نہیں کر سکتے۔ اب جبکہ بھارت کی ایٹمی جنگی تیاریاں عروج پر ہیں‘ پاکستان کو اس کا منہ توڑ جواب دینے کی تیاری کرنی چاہئے‘ وہ اسی صورت ممکن ہے جب ہماری مسلح افواج یکسو ہو کر پوری توجہ مشرقی سرحد پر مبذول کرے‘ جہاں ہمارا ازلی دشمن بھارت موقع کی تاک میں بیٹھا ہے۔ آج جدید سے جدید تر ٹیکنالوجی موجود ہے‘ امریکہ اور روس کے پاس ریڈار اور نشریات جام کرنے کی ٹیکنالوجی ہے‘ بھارت ان ممالک کو اپنا ساتھی قرار دیتا ہے‘ کل بھارتی جارحیت کی صورت میں ہم نے جدید ترین ٹیکنالوجی کا بھی مقابلہ کرنا ہے‘ اس حوالے سے ہمارے گھوڑے ہمہ وقت تیار ہونے چاہئیں۔ گو پاکستان کے گھوڑوں کا بھارت کے کھوتوں کیساتھ کوئی موازنہ ہی نہیں ہے لیکن بھارت کو جب عالمی قوتوں کی مدد حاصل ہو گی تو ہمیں بہت زیادہ تیاری کی ضرورت ہے‘ حالات جس نہج پر ہیں‘ بھارت پاکستان کے حصے کے پانی پر بدستور قابض رہتا ہے تو ہمیں گھٹ گھٹ کر مرنے کا انتظار نہیں کرنا چاہئے‘ پانی زندگی ہے اور کشمیر سے آنیوالا پانی ہماری نسلوں کی رگوں میں خون بن کر دوڑ رہا ہے‘ اسکی واگزاری کیلئے شاید پاکستان کو آخری حد تک جانا پڑے جو ایٹمی جنگ کی صورت میں بھی ہو سکتی ہے۔
دو برسوں کی مایوس کن کارکردگی باقی تین برسوں میں کیا کر لیں گے؟
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ میری بھرپور کوشش ہو گی کہ عوام کو حکومت کی کارکردگی سے آگاہ رکھا جائے اور ملک و قوم کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے اقدامات کے سلسلہ میں اعتماد میں لیا جائے۔ ان مسائل میں دہشت گردی‘ مہنگائی‘ بے روزگاری‘ سیاسی کشیدگی ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد کا فقدان‘ توانائی کا بحران‘ خوراک کی قلت‘ پڑوس میں رونما ہونیوالے غیر متوقع واقعات کے پریشان کن اثرات‘ معاشی عدم استحکام صنعتی پیداواری انحطاط امن و امان کی غیر تسلی بخش صورتحال اور عوام میں پایا جانیوالا عدم اطمینان‘ یہ سب انتہائی قابل ذکر ہیں۔
وزیراعظم نے اپنی نشری تقریر میں یہ بھی کہا ہے کہ انکی حکومت اپنی کوششوں میں اللہ کے فضل و کرم سے کامیاب ہوئی ہے اور وہ اس صورتحال کو بہتر کر سکے ہیں۔ وزیراعظم کی طرف سے اللہ کا شکر ادا کرنے کی وجہ صرف یہ ہی ہو سکتی ہے کہ وہ اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ مفاہمت کی کوششوں میں کامیاب ہو گئے ہیں‘ وگرنہ انہوں نے جن مسائل کا تذکرہ فرمایا ہے۔ وہ مسائل اور مشکلات جن کا وہ تذکرہ نہیں کر سکے۔ وہ سب کی سب نہ صرف جوں کی توں موجود ہیں بلکہ انکی شدت میں مزید اضافہ ہو چکا ہے۔ کسی حکومت کا قائم رہنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ عوام میں مقبول ہے یا اس نے عوام کو درپیش مسائل حل کر دئیے۔ وزیراعظم خود جانتے ہیں کہ ملک کے 18کروڑ عوام مہنگائی اور بیروزگاری کے ہاتھوں تنگ آکر خودکشیاں اور خود سوزیاں کر رہے ہیں۔ غریب عوام بھوکے مر رہے ہیں۔ لوگ اپنے بچوں کو بیچ رہے ہیں سوائے اپنے منظور نظر افراد کے حکومت عام لوگوں کو روزگار فراہم نہیں کر سکی گندم اور آٹا عوام کو ٹھیک انداز میں مل رہا تھا‘ مگر حکومت نے یکایک اسکی قیمت دوگنا سے زیادہ کر دی نتیجہ یہ نکلا کہ بمپر پیداوار ہونے کے باوجود ملک بھر میں گندم‘ آٹا‘ چاول اور چینی نایاب ہو گئے۔ حکومت نے منافع کمانے کیلئے گیس پٹرول اور دیگر مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا۔ کک بیکس اور کمشن کھانے کیلئے نئے رینٹل پاور سٹیشن لگانے کی کوشش کر رہے ہیں اس سے قبل بھی پی پی پی نے ہی یہ آئی پی پی پیز اپنے پچھلے دور میں لگائے تھے انکے بقایا جات ادا کرنے اور انکی دیکھ بھال کرنے کی بجائے نئے پاور سٹیشن لگائے جا رہے ہیں۔ جن کے بارے میں ایشین ڈویلپمنٹ بنک نے انتہائی تنقیدی رپورٹ لکھی ہے۔ جناب وزیراعظم ! آپ اپنی تقریر میں جو کچھ بھی کہیں وعدے کریں۔ عوام انکے کھوکھلا پن کو خوب سمجھتے ہیں عوام کی نہ جان و مال محفوظ ہے اور نہ ہی عزت و آبرو‘ آپ دیکھ رہے ہیں کہ بھارت پاکستان کے پانی پر 62 ڈیم بنا رہا ہے پاکستان کی طرف آنیوالے پانی کے ہر قطرے کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔ آپ نے اس کیلئے کیا کیا؟ کالا باغ اور دوسرے ڈیمز بنانے سے انرجی کا بحران مستقل بنیادوں پر حل ہو سکتا ہے مگر آپ لوگ صرف وہی کام کر رہے ہیں جس سے آپکے وزیروں کو کمشن اور کک بیکس مل سکیں۔ ڈیم بنانے کیلئے قومی وسائل کو یک جا کرنے اور قومی یکجہتی پیدا کرنے کی بجائے آپکی حکومت عوام کے مختلف طبقات کے مابین منافرت کو بڑھا رہی ہے اور اداروں کے درمیان کھینچا تانی کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ عوام کو وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سے ایک حقیقت پسندانہ اور سچی تقریر کی ضرورت تھی یہ دوسری پارٹیوں کی یکجہتی کی بجائے مفاہمت بھری تقریر سے محسوس ہوتا ہے کہ آپ لوگوں کو صرف اپنی حکومت کے پانچ سال پورے کرنے اور اپنی نا اہلی کو چھپانے کیلئے منطق کی ضرورت ہے۔ آپ نے دو سال میں کچھ نہیں کیا تو باقی تین برسوں میں کیا کرلیں گے؟
وزیر اعلیٰ عوام دوست پولیس کو متعارف کرائیں
چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری نے پنجاب پولیس کی جانب سے حوالاتیوں پر سرعام برہنہ کرکے تشدد کرنے کے واقعات کے ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران آئی جی پنجاب کی تحقیقاتی کمیٹی کو 11 مارچ کو رپورٹ کرنے کا حکم دیا ہے۔ دوسری طرف وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ زیر حراست ملزموں پر غیرانسانی تشدد جیسے واقعات کو پولیس کے نظام میں احتساب کے خاتمہ‘ نگرانی اور تھانے کے نظام میں کمزوری کا نتیجہ ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنے تبصرہ میں مزید کہا ہے کہ پولیس ملازمین کی تنخواہیں اس لئے نہیں بڑھائیں کہ وہ عوام پر تشدد کرنا شروع کر دیں۔ کسی مہذب معاشرے میں قانون کی حفاظت کرنیوالوں سے اس طرح قانون شکنی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ وزیر اعلیٰ نے الزام عائد کیا ہے کہ گزشتہ آٹھ سالہ دور میں سفارش اور سیاسی مداخلت نے پولیس کے ڈھانچے کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب درست کہہ رے ہیں‘ عوام پر تشدد کرنیوالے پولیس ملازمین اور انکے سرپرستوں کو سپریم کورٹ میں پیش کریں‘ تاکہ وہاں ان کا مکمل احتساب ہو سکے اور انہیں قرار واقعی سزائیں مل سکیں۔ پولیس ملازمین سے کسی کو ذاتی پرخاش نہیں ہے‘ پولیس کے محکمہ کے بنیادی مقصد میں یہ شامل ہے کہ یہ محکمہ اور اسکے ملازمین معاشرے کو قانون شکن عناصر سے پاک رکھیں اور عوام کی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کریں مگر پاکستانی پولیس کے بارے میں عوام کی امیدیں ایک فیصد بھی پوری نہیں ہوتیں۔ معاشرے میں قانون نافذ کرنیوالے ایک ادارہ کی حیثیت سے یہ محکمہ جرائم کا انسداد کرنے اور عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنے میں زیادہ کامیاب نہیں رہا اور عوام کی شکایات اسکے بارے میں روز بروز بڑھتی ہی گئی ہیں اور جوں جوں پولیس ملازمین کی مراعات اور سہولتوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور اس محکمہ اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کوشش کریں کہ پنجاب میں عوام دوست پولیس کو متعارف کرایا جائے اور اس سلسلہ میں مثبت اقدامات کئے جائیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter