وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ دہشت گردی کے مؤثر طور پر مقابلہ اور قومی پالیسی کی تیاری کیلئے قومی کانفرنس کی تاریخ تمام سٹیک ہولڈرز کے صلاح مشورے سے جلد طے کی جائیگی جس میں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر کی سیاسی قیادت کو مدعو کیا جائیگا‘ صوبوں کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ کو مؤثر بنایا جائیگا‘ تمام نامعلوم جماعتوں کی سرگرمیوں کو روکا جائیگا اور انکی مانیٹرنگ کی جائیگی۔ انسداد دہشت گردی کی اتھارٹی کو مؤ ثر بنانے کے علاوہ دہشت گردی سے نمٹنے اور اس سلسلہ میں قومی حکمت عملی بہتر بنانے کیلئے اتھارٹی میں تھنک ٹینک بنایا جائیگا اور انسداد دہشت گردی کے قانون میں ترامیم کا بل لایا جائیگا۔ اجلاس میں یہ بھی طے کیا گیا کہ جنوبی پنجاب میں فوجی اپریشن نہیں ہو گا اور جو ایکشن ضروری ہو گا‘ وہ پنجاب حکومت خود کریگی۔ وزیراعظم نے اجلاس میں خطاب کے دوران پوری قوم پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئے اٹھ کھڑی ہو۔
اجلاس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمرالزمان کائرہ نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ دہشت گردی کے حوالے سے قومی پالیسی موجود ہے‘ تاہم اس پر نظرثانی کی جا سکتی ہے۔ انکے بقول ہم مذاکرات اور مفاہمت کے حامی ہیں‘ مگر سوال یہ ہے کہ مذاکرات کس سے کئے جائیں‘ ان درندوں سے مذاکرات نہیں ہو سکتے جو قانون کے درپے ہیں‘ مزاروں پر حملے کر رہے ہیں‘ معصوم لوگوں کو قتل اور معیشت کو تباہ کر رہے ہیں۔ تاہم جو لوگ ریاست کی اتھارٹی کو تسلیم کرتے ہوئے سرنڈر کرلیں‘ انکے ساتھ مذاکرات کا راستہ کھلا ہے۔
دہشت گردی کا روگ درحقیقت ہمارے حکمرانوں کا اپنا پالا ہوا ہے‘ جو نائن الیون کے بعد قومی خارجہ پالیسی کے تحت اس خطہ میں امریکی فرنٹ لائن اتحادی کا کردار قبول کرکے لگایا گیا تھا۔ یہ روگ اب بڑھتے بڑھتے ہماری جان کو آگیا ہے اور روحانی عقیدت و محبت کے مراکز ہمارے بزرگانِ دین اور مذہبی پیشوائوں کے مزار بھی دہشت گردی کی لہر سے محفوظ نہیں رہے۔ امریکی مفادات کی جنگ کا صلہ ہمیں اپنے ہزاروں معصوم و بے گناہ شہریوں کی جانوں اور قیمتی املاک کے ضیاع کی صورت میں پہلے ہی مل چکا ہے‘ جس کے نتیجہ میں ہماری معیشت بھی مفلوج ہوئی ہے‘ قومی ترقی کا پہیہ بھی جامد ہو گیا ہے اور بدترین دہشت گردی کا نشانہ بننے کے باوجود دہشت گردوں کی سرپرستی کا الزام بھی ہم پر ہی دھرا جا رہا ہے۔ یہ سب ہماری اس قومی پالیسی کا ہی کیا دھرا ہے جو مشرف کی جرنیلی آمریت کی جانب سے امریکی ٹیلی فونک دھمکی پر ’’سرینڈر‘‘ کرکے اختیار کی گئی اور اسکی بنیاد پر اپنی ہی سرزمین پر اپنے ہی شہریوں کیخلاف اپنی ہی افواج کا اپریشن شروع کیا گیا اور امریکہ کو ڈرون حملوں کی اجازت دی گئی۔ آج ہم اسی پالیسی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں چنانچہ فوجی اپریشن اور ڈرون حملوں میں بھی ہمارے ہی شہریوں بشمول سیکورٹی فورسز کے ارکان کا خون ناحق بہہ رہا ہے اور اسکے ردعمل میں ہونیوالے خودکش حملوں اور دہشت گردی کی دوسری وارداتوں میں بھی ہمارے ہی شہریوں بشمول خواتین اور بچوں کے جسموں کے چیتھڑے اڑ رہے ہیں جبکہ امریکہ ہمارے اس کردار پر بھی خوش اور مطمئن نہیں ہوا اور جنوبی وزیرستان کے بعد شمالی وزیرستان اور جنوبی پنجاب تک اپریشن کا دائرہ وسیع کرنے کا تقاضہ کر رہاہے۔
یہ خوش آئند بات ہے کہ وزیراعظم کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں دہشت گردی کے تدارک کیلئے قومی پالیسی کا جائزہ لیتے ہوئے بعض مثبت اقدامات تجویز اور طے کئے گئے ہیں جن میں پنجاب میں فوجی اپریشن نہ کرنے کا فیصلہ بھی شامل ہے جبکہ انسداد دہشت گردی کی قومی پالیسی پر نظرثانی کیلئے قومی سیاسی قائدین کی کانفرنس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو ایک مثبت اقدام ہے اور توقع کی جانی چاہیے کہ نیٹو افواج کی افغانستان سے واپسی کے پیدا شدہ امکانات کے باعث اس خطہ میں تبدیل ہوتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر اب امریکی مفادات کی جنگ میں اسکے فرنٹ لائن اتحادی کی حیثیت سے شریک ہونیوالی مشرف آمریت کی پالیسی کو یکسر ختم کر دیا جائیگا اور ملکی و قومی مفادات کے تقاضوں کے مطابق ازسرنو قومی پالیسی وضع کی جائیگی جس میں مقامی طالبان کے ساتھ مذاکرات کی آپشن کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
یہ طرفہ تماشہ ہے کہ وزیراعظم خود تو افہام و تفہیم کی پالیسی پر زور دے رہے ہیں اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے ساتھ اس سلسلہ میں رابطے میں بھی رہتے ہیں مگر انکی کابینہ کے ارکان بالخصوص وزیر اطلاعات و نشریات قمرالزمان کائرہ‘ ڈاکٹر بابر اعوان‘ رحمان ملک اور حکمران پیپلز پارٹی کی سیکرٹری اطلاعات فوزیہ وہاب مسلم لیگ (ن) کی قیادت اور حکومت پنجاب (جس میں وہ خود بھی شامل ہیں) پر چڑھائی کرکے اور دہشت گردی کے حوالے سے پنجاب کو مطعون کرکے وزیراعظم کے کئے کرائے پر پانی پھیرنے کی کوششوں میں مگن ہیں‘ جس کیلئے وزیر داخلہ رحمان ملک‘ گورنر پنجاب سلمان تاثیر اور سینئر صوبائی وزیر راجہ ریاض بھی انکے مددگار ہیں اس لئے دہشت گردی کے چیلنج کا سامنا کرنے اور اسے غیرمؤثر بنانے کی قومی پالیسی کو قابل قبول اور قابل عمل بنانا ہے تو سیاسی پراگندگی کا باعث بننے والی حکمران پیپلز پارٹی کی اس ٹیم کو قابو میں رکھنا ہو گا۔ بصورت دیگر سیاسی گرما گرمی کے ماحول میں قومی پالیسی پر اتفاق رائے تو کجا‘ قومی کانفرنس کا انعقاد ہی بے مقصد ہو جائیگا۔ عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کرنے یا نہ کرنے کا معاملہ بھی قومی پالیسی کا حصہ ہے‘ جس کے بارے میں حتمی فیصلہ تو یقیناً وزیراعظم کی طلب کردہ قومی کانفرنس میں ہی ہو پائے گا مگر قومی کانفرنس کے انعقاد کی نوبت آنے سے پہلے ہی وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمرالزمان کائرہ اور حکمران پیپلز پارٹی کی سیکرٹری اطلاعات فوزیہ وہاب نے اپنے طور پر عسکریت پسندوں سے مذاکرات نہ کرنے کا فیصلہ صادر کردیا جو حکومتی صفوں میں ہم آہنگی کے فقدان کی غمازی کر رہا ہے۔
یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے کہ امریکہ اور اسکی کٹھ پتلی کرزئی حکومت خود تو حقائق کو بھانپتے ہوئے طالبان اور عسکریت پسندوں کے مختلف گروپوں سے مذاکرات کا راستہ اختیار کر رہی ہے جبکہ ہمارے حکمرانوں کا ایک طبقہ مذاکرات کا دروازہ ازخود بند کرکے اپنے ملک کی سرزمین پر اپریشن اور ڈرون حملے جاری رکھنے پر زور دے رہا ہے اور اپنے سیاسی مقاصد کے تحت بالخصوص واحد سٹیبل صوبہ پنجاب اور پنجاب حکومت کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے جس کا نتیجہ ملکی اور قومی عدم استحکام کے سوا کچھ برآمد نہیں ہو گا جبکہ امریکہ اور بھارت کا بھی یہی ایجنڈہ ہے کہ دہشت گردی کے حوالے سے پنجاب کو فوکس کرکے پاکستان کو کمزور کیا جائے۔ اسی تناظر میں پنجاب میں کالعدم تنظیموں کو دوسرے ناموں سے بھی کام کرنے سے روک دیا گیا ہے اور انکے فنڈز منجمد کرکے انکے قائدین کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ان میں سے جو تنظیمیں سراسر فلاحی کام کر رہی ہیں اور دکھی انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں‘ ان پر پابندی عائد کرنا دشمن کا ایجنڈہ پورا کرنے کے مترادف ہے کیونکہ یہ تنظیمیں بالخصوص ہمارے کشمیر کاز کو آگے بڑھانے اور تقویت پہنچانے میں بنیادی کردار ادا کر رہی ہیں‘ جسے روکنا دشمن کا ایجنڈہ ہے۔
اس تناظر میں ضروری ہے کہ قومی کانفرنس کا ایجنڈہ تمام قومی سیاسی قائدین اور سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے طے کیا جائے اور اس کانفرنس کے انعقاد تک وزراء اور جماعتی عہدیداروں کو کسی بھی قسم کے اختلافی بیانات جاری کرنے سے روک دیا جائے‘ بصورت دیگر وزیراعظم کی مفاہمت کی تمام کوششیں اکارت جائیں گی اور پاکستان کی سالمیت کو کمزور کرنے سے متعلق امریکہ بھارت مشترکہ ایجنڈے کی بھی تکمیل ہو جائیگی۔
’’بھارتیو! جموں و کشمیر چھوڑ دو‘‘
مقبوضہ کشمیر میں حریت کانفرنس کی جموں و کشمیر چھوڑو۔ تحریک کے تحت پیر کے روز ہزاروں افراد نے کرفیو کی پابندیاں توڑتے ہوئے جنوبی کشمیر کے قصبے اسلام آباد کی طرف مارچ کیا۔ بھارتی فوج اور دیگر سکیورٹی فورسز نے مارچ کو روکنے کیلئے پرامن اور نہتے شہریوں کو خوفناک تشدد کا نشانہ بنایا۔ جس میں بیسیوں افراد زخمی ہو گئے۔
بزرگ کشمیری رہنما سید علی گیلانی کی سرپرستی میں کشمیری عوام بھارتی حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ’’بھارتیو! جموں وکشمیر چھوڑ دو‘‘ کشمیری حریت پسندوں کے جذبہ حریت کی سچائی پر کبھی بھی کسی کو شک نہیں رہا اور بزرگ کشمیری راہنما سید علی گیلانی کی روح پرور قیادت کے خلوص کا یہ نتیجہ ہے کہ کشمیری عوام گذشتہ چونسٹھ برسوں سے بھار تی سامراج کیخلاف ہر قسم کی قربانیاں دے رہے ہیں۔ بھارتی فوجی ان کیلئے انگریزوں اور یہودیوں سے بھی بدتر ثابت ہو رہے ہیں۔ اب تک لاکھوں کشمیری نوجوان اور ہزاروں خواتین تحریکِ آزادی کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں اور یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ پاکستان کے عوام سوفیصد کشمیری عوام کے ساتھ ہیں وہ کشمیریوں کی تحریک آزادی کیلئے ہر طرح کی قربانیاں دینے کیلئے بھی تیار ہیں۔ اگرچہ حکومتی سطح پر حکمران مسئلہ کشمیر کا تذکرہ کرتے ہوئے شرماتے ہیں اور نام نہاد دہشت گردی کیخلاف جنگ کے پیچھے چھپتے ہیں اور قومی اسمبلی کی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمٰن مقبوضہ کشمیر میں حریت پسندوں کی حوصلہ افزائی کرنے اور عالمی میڈیا کے سامنے انکی قربانیوں کو پیش کرنے کی بجائے پاکستان میں حکمرانوں کے ساتھ اپنے مفادات کیلئے لین دین میں مصروف ہیں۔ پاکستان کے عوام کو اس پر سخت افسوس ہے مگر پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام کی دعائیں اور ہر قسم کی ہمدردیاں کشمیری حریت پسندوں کے ساتھ ہیں اور ساتھ رہیں گی اور کشمیری حریت پسندوں کی شاندار جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
نواز شریف کھل کر میدان میں آگئے
مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ صدر آصف علی زرداری کی نیت شروع میں ٹھیک تھی مگر بعد میں خراب ہوگئی وہ ججوں کو بحال نہیں کرناچاہتے تھے۔ مجھے عدالت سے نا اہل قرار دلوایا اور میاں شہباز شریف کی حکومت ختم کی۔ اُنہوں نے اعتراف کیا کہ جنرل پرویز مشرف کوچیف آف آرمی سٹاف مقرر کرنا اُنکی سنگین غلطی تھی۔
میاں نواز شریف کے اس انٹرویو سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ اب اپنی سیاست کرنے کیلئے تیار ہورہے ہیں۔ پہلے وہ گورنر پنجاب سے ہی پریشان تھے کہ اب وفاقی وزیرقانون بابر اعوان بھی اُنکے ساتھ آکر بیٹھ گئے ہیں۔مفاہمت اور مصالحت کی سیاست آخر کب تک ہوسکتی ہے؟ میاں نواز شریف اپنی اتحادی پیپلز پارٹی سے پریشان ہوگئے ہیں اور اب اُن پابندیوں سے آزاد ہوناچاہ رہے ہیں جو کہ اتحادی ہونے کے ناطے اُنکی سیاسی راہوں میں حائل ہیں۔ جونہی وہ کچھ بولتے ہیں تو کبھی وزیراعظم گیلانی اُنکے پاس پہنچ جاتے ہیں اور کبھی صدر زرداری فون کھڑکا دیتے ہیں۔ایک نئے فارمولا کے تحت دال پکانے والے باورچی کا حوالہ دیکر اُنہیں کھانے پر مدعو کرلیتے ہیں۔ میاں نواز شریف حالیہ انٹرویو سے قبل بھی ایک دو جلسوں سے خطاب کر چکے ہیں۔ جس میں حکومت کو اُنہوں نے کھری کھری سنائی بھی ہیں اور اِس انٹرویو میں تو وہ کُھل کر سامنے آگئے ہیں۔ وہ عوام کو درپیش مسائل پر بات کرکے اور حکمرانوں کی طرف سے جو کوتاہیاں ہوئی ہیں انکو اپنی سیاست کا موضوع بنا کر ملک میں نئے انتخابات کی تیاری کیلئے میدان میں اُتر رہے ہیں۔ گزشتہ اڑھائی برس کے دوران عوام جن مشکلات اور پریشانیوں میں مبتلا ہیں غریب بھوکے مر رہے ہیں‘ خودکشیاں کر رہے ہیں۔ماں باپ اپنے ہاتھوں اپنے جگر گوشوں کو موت کی نیند سلا رہے ہیں۔ اور لوگ برسرِ عام اپنے بچوں کو فروخت کر رہے ہیں۔
میاں نواز شریف جیسے سیاستدان کیلئے یقینا یہ بڑا صبر آزما وقت تھا۔ مگروہ زیادہ طویل عرصہ مفاہمت اور فرینڈلی اپوزیشن کا کردار قبول نہیں کرسکتے اور ٹھیک اُس وقت اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے اُٹھ کر کھڑے ہوگئے ہیں‘ جب اُنہوں نے دیکھا کہ اب حالات کی سنگینی قابلِ برداشت نہیں رہی۔ میاں نواز شریف ایک سمجھ دار اور عوام کے نباض سیاستدان ہیں۔ یقینا اُنہوں نے جو بھی فیصلہ کیا ہے۔ وہ سوچ سمجھ کر ہی کیا ہوگا۔