چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ عدالتی نظام کرپشن کا شکار ہے مقدمات کے فیصلہ میں تاخیر سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے قومی جوڈیشل پالیسی سے ان بُرائیوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ جوڈیشل کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ ماضی میں عدلیہ عوام کی توقعات پر پوری نہیں اُتری۔
اس میں شک نہیں کہ زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح ماضی میں عدلیہ کی کارکردگی بھی مایوس کن رہی ہے اور ماتحت و اعلیٰ عدلیہ عوام کو انصاف فراہم کرنے اور ملکی آئین و قانون کی پاسداری کرنے کے بجائے طاقتور اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ اور فوجی طالع آزماؤں کے احکامات کی تعمیل کرتی رہی جس کی وجہ سے نہ صرف ملک میں قانون کی حکمرانی اور انصاف کی فراہمی کا خواب شرمندہ تعبیرہ نہ ہو سکا بلکہ جمہوری ادارے کمزور ہوئے‘ احتساب کا شفاف نظام وجود میں نہ آیا اور عام آدمی پولیس و انتظامیہ کے علاوہ جاگیرداروں ‘ سرمایہ داروں‘ مافیاز اور استحصالی طبقات کے چنگل میں پھنس کر اپنے حقوق سے محروم ہو گیا‘ پیچیدہ عدالتی نظام اور کرپشن کی وجہ سے عام آدمی کیلئے انصاف کا حصول خواب بن کر رہ گیا جبکہ مالدار اور صاحبِ حیثیت لوگ پیسے اور اثر و رسوخ کے زور پر اپنی مرضی کے فیصلے حاصل کرنے لگے۔
پیچیدہ اور مہنگے عدالتی نظام کی وجہ سے غریب اور متوسط طبقے کے آدمی کیلئے عدالتوں کا رُخ کرنا اپنے آپ کو مصیبت میں مبتلا کرنے کے مترادف سمجھا جانے لگا اور یہ تاثر پختہ ہوتا چلا گیا کہ اگر دادا کے مقدمہ کا فیصلہ پوتے کی زندگی میں ہو جائے تو اسے غنیمت سمجھنا چاہیے۔ اعلیٰ عدلیہ نے ہر فوجی آمر کے ہرغیر آئینی اقدام کو سندِ جواز عطا کر کے نہ صرف ملک میں جمہوریت کا بیڑا غرق کیا بلکہ عوام کو ملکی نظام اور اپنے مستقبل سے مایوس کیا۔ ماتحت اور اعلیٰ عدلیہ میں کرپشن کے علاوہ نااہلی اور کام چوری کی شکایت بھی عام ہوتی چلی گئی جس کی وجہ سے لاقانونیت اور انتقام کے کلچر میں اضافہ ہوا اور انصاف کے اداروں سے مایوس عناصر خود ہی من مرضی کے فیصلے کرنے لگے‘ قبائلی علاقوں اور سوات میں پاکستانی حکومت کو جس صورتحال کا سامنا ہے اس کی ایک اہم ترین وجہ ہمارا فرسودہ عدالتی نظام بھی ہے جو انصاف کی فراہمی اور بروقت فیصلوں کے ذریعے عوام کو مطمئن کرنے میں ناکام رہا ہے۔
آئین و قانون شکنی‘ طاقت کے زور پر فیصلے کرنے اور ناانصافی کے اس کلچر نے بالآخر اعلیٰ عدلیہ کو بھی لپیٹ میں لے لیا اور مارچ 2007ء میں سابق فوجی آمر جنرل (ر) پرویز مشرف نے چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف کارروائی کر کے عدلیہ‘ وکلا برادری اور سول سوسائٹی کو احساس دلایا کہ پانی سر سے گزر گیا ہے اور اب انصاف کا حصول صرف عام آدمی کا ہی نہیں بلکہ فوجی آمر سے اختلاف کرنیوالی عدلیہ کا بھی مسئلہ ہے چنانچہ عظیم الشان عوامی تحریک کے ذریعے نہ صرف اعلیٰ عدلیہ بحال ہوئی بلکہ وکلا برادری اور اعلیٰ عدلیہ کو ماضی کی غلطیوں کے ازالے اور عوام کو سستے اور جلد انصاف کی فراہمی کا موقع بھی ملا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں اعلیٰ عدلیہ نے نئی جوڈیشل پالیسی تشکیل دی ہے جس کے تحت فیصلوں میں تاخیر اور التواء کو روکنے اور بلاامتیاز انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے‘ جوڈیشل کانفرنس میں بھی ایسی تجاویز منظور کی گئی ہیں جن پر عملدرآمد کی صورت میں ماضی کی کوتاہیوں کا ازالہ ہو سکتا ہے۔
سول اور فوجی مقدمات کے ناقابل قبول حد تک التوا کو روکنے کیلئے بار اور بنچ کا تعاون ضروری ہے جبکہ انتظامیہ کا بھی فرض ہے کہ وہ ماتحت اور اعلیٰ عدلیہ کو قرار واقعی وسائل فراہم کرے ضلعی سطح پر نہ صرف ججوں کی کمی کو دور کیا جائے بلکہ انہیں وہ تمام سہولتیں اور مراعات بھی حاصل ہونی چاہئیں جو عدلیہ کا حق ہے اور جس سے عدلیہ کی کارکردگی پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ خالی آسامیاں پُر کرنے کے بعد ججوں کی رہائش‘ دفاتر‘ ٹرانسپورٹ اور ماتحت عملے کی سہولتیں فراہم کرنے کے ساتھ موجودہ حالات میں ان کا تحفظ ضروری ہے جبکہ پولیس اور انتظامیہ بھی اپنے فرائض ایمانداری سے ادا کرے اور وکلا کی طرح پولیس بھی تاخیری حربے اختیار کرنے سے گریز کرے تاکہ بروقت فیصلے ہوں اور عوام کو اطمینان ہو کہ انہیں حصولِ انصاف میں کسی قسم کی دقت نہیں ہو گی‘ اعلیٰ عدلیہ کی سطح پر بھی زیر التوا کیسوں کو جلد سے جلد نبٹانے اور کسی قسم کے دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے تمام فیصلے میرٹ پر کرنے کی ضرورت ہے۔ آئینی معاملات میں فیصلے حکمرانوں کے مفادات کو پیش نظر رکھ کر نہیں بلکہ صرف اور صرف ملکی مفاد اور آئین و قانون کے تقاضوں کو مدنظر رکھ کر کئے جائیں۔ عوامی قوت سے بحالی کے بعد اعلیٰ عدلیہ بالخصوص چیف جسٹس سے قوم کی توقعات بڑھ گئی ہیں اور وہ ایک متوازن اور منصفانہ جمہوری معاشرے کی تشکیل میں عدلیہ کے کردار کو سب سے زیادہ اہم سمجھتے ہیں اس لئے عوام کی توقعات پر پورا اُترنے کیلئے نہ صرف روزمرہ کے معاملات کا جلد فیصلہ ضروری ہے بلکہ نظریہ ضرورت کو ہمیشہ کیلئے دفن کرنے اور آئین و پارلیمنٹ کو فوجی طالع آزماؤں سے بچانے کیلئے بھی عدلیہ کو ایسے فیصلے کرنے پڑیں گے جن کے دوررس نتائج قومی زندگی پر خوشگوار اثرات مرتب کرسکیں تاہم سیاستدانوں کو اپنے تنازعات پارلیمنٹ اور سیاسی ایوانوں میں حل کرنے چاہئیں اور عدلیہ کو زیر بار نہیں کرنا چاہیے۔ عدلیہ کا اصل فرض عام آدمی کو پولیس‘ انتظامیہ‘ بالادست طبقات اور مافیاز کی دستبرد سے بچانا اور انکے بنیادی انسانی آئینی حقوق و مفادات کا تحفظ کرنا ہے تاکہ حقیقی معنوں میں منصفانہ جمہوری اسلامی فلاحی معاشرہ وجود میں آ سکے۔ جوڈیشل کانفرنس کی سفارشات خوش آئند پیشرفت ہے مگر جب تک عملدرآمد نہیں ہو گا عوامی مایوسی ختم نہیں ہو سکتی۔
کیا اکھنڈ بھارت پر بات ہوگی؟
بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے کہا ہے کہ بھارت کشمیر کے معاملہ پر پاکستان سے بات چیت نہیں کرنا چاہتا‘ گزشتہ روز جاپان کے دورے سے واپسی پر بھارتی خبر رساں ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان سے کشمیر پر نہیں‘ صرف دہشت گردی کے معاملات پر بات چیت ہو گی۔ انکے بقول ہم ممبئی حملوں میں ملوث ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے حوالے سے پاکستان کے ناقابل تردید ایکشن کا انتظار کر رہے ہیں۔
بھارت سے کسی قسم کا خطرہ محسوس نہ کرنے والے ہماری وفاقی حکمرانوں کو بھارتی وزیر خارجہ کے ہٹ دھرمی پر مبنی اس مؤقف سے ہی اندازہ لگا لینا چاہئے کہ بھارت ہمارا دوست ہے یا دشمن اول جس سے کسی قسم کا خطرہ محسوس نہ کرنا‘ اسے ہماری سالمیت پر حملہ آور ہونے کا کھلم کھلا موقع دینے کے مترادف ہے۔ درحقیقت کشمیر ہی وہ بنیادی تنازعہ ہے جس کے یو این قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل تک نہ اس خطہ میں امن و سلامتی کی فضاء قائم ہو سکتی ہے‘ نہ بھارت سے دوستانہ تجارتی مراسم استوار ہو سکتے ہیں۔ اگر بھارت کشمیر پر مذاکرات سے بدکتا ہے تو کیا اس کی لچر ثقافت کو اختیار کرنے اور اسکے اکھنڈ بھارت کے منصوبہ کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کیلئے اسکے ساتھ مذاکرات ہونگے؟ جہاں تک دہشت گردی کا معاملہ ہے تو بھارت جہاد کشمیر کو ہی دہشت گردی سمجھتا ہے اور اسکی بنیاد پر ہمارے خلاف مذموم پراپیگنڈے میں مصروف رہتا ہے جبکہ اس پراپیگنڈے سے متاثر ہو کر ہی امریکہ برطانیہ کی جانب سے ہمیں بار بار باور کرایا جاتا ہے کہ پاکستان کو بھارت سے نہیں‘ انتہا پسندی سے خطرہ ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے گزشتہ روز بھی امریکی ٹی وی کو اپنے انٹرویو میں اپنے اسی مؤقف کا اعادہ کیا ہے۔ اگر دوسری جنگ عظیم کے دوران یہ پراپیگنڈہ کیا جاتا کہ یورپ کو جرمنی سے نہیں‘ ہٹلر سے خطرہ ہے تو کیا اسکی بنیاد پر یورپ جرمنی سے دوستی کرکے اس کیخلاف جنگ سے دستکش ہو جاتا۔ اب بھارت کے بارے میں یہ پراپیگنڈہ کرنا کہ وہ ہمارے لئے خطرہ نہیں ہے‘ ہماری سالمیت کیخلاف اسکے مذموم عزائم سے ہمیں غافل کرنے کے مترادف ہے۔ ہمارا دشمن اول تو پہلے ہی ہماری شہ رگ کشمیر پر بزور طاقت اپنا تسلط جما کر اور اسکے راستے ہماری جانب آنیوالے دریائوں پر ڈیمز کی قطاریں لگا کر ہمارے حصے کا پانی روکنے اور ہمیں بھوکا پیاسا مارنے کے درپے ہے‘ جبکہ جہاد کشمیر کو دہشت گردی کے کھاتے میں ڈال کر وہ کشمیر پر ہمارے دیرینہ اصولی موقف کو کمزور کرنے کی سازشوں میں بھی مصروف ہے اور اسی بنیاد پر وہ ہمیں مشورے دیتا ہے کہ کشمیر کو بھول جائو۔ اس صورتحال میں ہمارے حکمرانوں کو بھارت پر واضح کر دینا چاہئے کہ جب تک وہ یو این قراردادوں کیمطابق کشمیری عوام کو استصواب کا حق نہیں دیتا‘ اس سے کسی قسم کے مذاکرات ہو سکتے ہیں‘ نہ دوستی اور تجارت۔ اگر ہماری حکومتی سیاسی اور عسکری قیادت یہ تصور کرکے مطمئن بیٹھی رہے کہ ہمیں بھارت سے کوئی خطرہ نہیں ہے تو پھر ہمیں مارنے کیلئے دشمن کو کوئی دوسرا حربہ اختیار کرنے کی بھی ضرورت نہیں رہے گی۔
ایران کیخلاف مذموم سازشیں
امریکی نائب صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ اسرائیل کو ایران یا کسی بھی دوسرے ملک کے بارے میں اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر خود فیصلے کرنے ہیں۔ اگر اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کیلئے حملہ کرتا ہے تو امریکہ اسکے راستہ میں نہیں آئیگا۔ دوسری جانب برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز نے اسرائیلی دفاعی ذرائع کے حوالے سے شائع کی گئی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے اسرائیل کو ایران پر حملے کیلئے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دیدی ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ امریکہ‘ بھارت اور اسرائیل پر مشتمل شیطانی اتحاد ثلاثہ کو کسی اسلامی ملک کا ایٹمی قوت بننا ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ اسی بنیاد پر ہماری ایٹمی ٹیکنالوجی پر قبضہ یا اسے تباہ کرنے کی مذموم سازشیں بھی کی جاتی رہی ہیں اور ایک موقع پر تو بھارت نے اسرائیل کو ہماری ایٹمی تنصیبات پر فضائی حملہ کرنے کیلئے لاجسٹک سپورٹ بھی فراہم کر دی تھی۔ ہماری ایٹمی صلاحیتوں کیخلاف اس شیطانی اتحاد ثلاثہ کی مذموم سازشوں کا سلسلہ ہنوز جاری ہے جبکہ اب برادر اسلامی ملک ایران کیخلاف بھی ایسی ہی سازشوں کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔ چونکہ ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے امریکی دھمکیوں کو بالائے طاق رکھ کر ایران کے ایٹمی صلاحیتیں حاصل کرنے کا اعلان کیا تھا‘ اسلئے امریکہ برطانیہ نے انہیں دوسری ٹرم کے صدارتی انتخاب میں شکست دلانے کیلئے اپنی سازشوں کا جال پھیلایا اور جب انہیں اس میں ناکامی ہوئی تو احمدی نژاد کے مدمقابل صدارتی امیدوار حسین موسوی سے ذریعے ایران میں سول نافرمانی کی تحریک چلوا دی گئی۔ اس تحریک کے ذریعہ بھی امریکہ برطانیہ کو اپنے عزائم میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تو اب وہ اسکی ایٹمی صلاحیتوں کے درپے ہو گئے ہیں اور مسلم امہ کو آپس میں لڑانے کیلئے یہ مذموم پراپیگنڈہ بھی شروع کر دیا گیا ہے کہ سعودی عرب نے ایران کیخلاف حملے کیلئے اسرائیل کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دیدی ہے جبکہ مسلم دنیا کے لیڈر برادر اسلامی ملک سعودی عرب کے بارے میں یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ وہ کسی اسلامی ملک کی سالمیت کیخلاف مسلم امہ کے دشمنوں کو اپنی زمینی یا فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے سکتا ہے۔ یہ درحقیقت مغرب کا وہ خبث باطن ہے جو مسلم امہ کے اتحاد و یکجہتی کو پارہ پارہ کرنے کی مذموم سازشوں پر مبنی ہے جس کا مسلم امہ کو اتحاد و یکجہتی برقرار رکھ کے توڑ کرنا چاہئے اور اس سلسلہ میں عرب لیگ اور او آئی سی کو بہرصورت اپنا کردار بروئے کار لانا چاہئے۔ ایران کی ایٹمی ٹیکنالوجی پر حملہ پوری مسلم امہ پر حملہ کے مترادف ہوگا۔
ڈاکٹروں کے مسائل حل کریں
پنجاب بھر کے ڈاکٹروں نے 9 جولائی کو پی ایم اے ہائوس سے میاں نواز شریف کی ماڈل ٹائون رہائش گاہ تک لانگ مارچ اور مطالبات تسلیم ہونے تک دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے۔ ڈاکٹروں کی تنظیم طویل عرصہ سے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کر رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے انکے مسائل کا نوٹس لیتے ہوئے 20 جولائی کو 4000 ڈاکٹرز کو قواعد و ضوابط میں ترمیم کرکے مستقل کر دیا تھا۔ یہ ڈاکٹر 1997ء سے ناانصافی کا شکار تھے۔ جب ملازمت پبلک سروس کمشن کے بجائے کنٹریکٹ پر دینے کا فیصلہ کیا گیا‘ اس پر ڈاکٹروں نے بھی بھرپور احتجاج کیا تھا لیکن فیصلہ چونکہ انٹرنیشنل ڈونر کے ایماء پر کیا گیا تھا‘ اس لئے لاگو ہو کر رہا۔ اب جبکہ ڈاکٹروں کی تنظیم سے محکمہ صحت کیساتھ معاملات طے پا چکے ہیں تو حکومت پنجاب کے ریگولیشن ونگ کی طرف سے ایک متنازعہ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے جس سے 1015 سینئر رجسٹرار ڈاکٹروں کی ترقی رک گئی ہے۔ ڈاکٹروں کیساتھ ہونے والی زیادتیاں دیکھ کر میڈیکل کالجوں سے فارغ التحصیل ہونیوالے 70 فیصد ڈاکٹر ملازمت کے عدم تحفظ کی وجہ سے انگلینڈ امریکہ اور مڈل ایسٹ چلے جاتے ہیں۔ ہسپتالوں اور ٹیچنگ اداروں میں آج بھی 40 فیصد اسامیاں خالی پڑی ہیں۔ ایسے میں ڈاکٹروں کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے‘ نہ کہ ایسے حالات پیدا کر دیئے جائیں کہ یہ لوگ بھی بیرون ممالک جانے پر مجبور ہو جائیں۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے ذاتی دلچسپی لیکر مئی میں ڈاکٹروں کیلئے قواعد و ضوابط میں جو ترمیم کی اس سے ڈاکٹر مطمئن تھے لیکن بیوروکریسی عادتاً ہر اچھے کام میں روڑے اٹکانے کا وطیرہ اپنائے ہوئے ہے ۔ وزیر اعلیٰ کو ایک بار پھر نوٹس لیتے ہوئے ڈاکٹروں کو مطمئن کرنا چاہئے تاکہ یہ لوگ سڑکوں پر آنے کے بجائے یکسوئی سے انسانیت کی خدمت کرتے رہیں۔