پیپلزپارٹی کور کمیٹی اجلاس میں جارحانہ فیصلے، عدلیہ کے بارے درشت رویہ .... حکمران معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن تک نہ لے جائیں

ـ 7 جنوری ، 2012
حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی کور کمیٹی کے 4گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ صدر مملکت میمو کیلئے بنائے گئے تحقیقاتی کمشن یا کسی دوسرے تحقیقاتی ادارے کے سامنے پیش نہیں ہوں گے کیونکہ ان کو آئین کے تحت استثنیٰ حاصل ہے۔اجلاس کی صدارت صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم گیلانی نے مشترکہ طور پر کی۔اجلاس میں سپریم کورٹ کی طرف سے این آر او فیصلے کے بارے میںعمل درآمد کیلئے دی گئی مہلت کا بھی جائزہ لیا گیا اور اس حوالے سے بھی یہی فیصلہ کیاگیا کہ اس سلسلے میں سپریم کورٹ میں جواب دیاجائیگا کہ صدر مملکت کو آئین کے تحت استثنیٰ حاصل ہے اس لئے ان کے بارے میں سوئس اتھارٹی کو خط نہیں لکھا جائیگا۔اجلاس میں بتایاگیا کہ این آر او فیصلے پر پہلے ہی بڑی حد تک عمل ہوچکا ہے جس سے عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیاجائیگا۔میمو کے حوالے سے کہا گیا کہ اس کی حقیقت کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ نہیں۔اسے حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش قرار دیاگیا۔کور کمیٹی کے اجلاس کے بعدمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر خورشید شاہ نے کہا کہ سینٹ کے انتخابات فروری میں ہوں گے جبکہ عام انتخابات بجٹ کے بعدکسی بھی وقت ہوسکتے ہیں۔
پیپلز پارٹی کور کمیٹی کا ایوانِ صدر میںہونیوالا اجلاس اور اس میںکئے جانیوالے فیصلے دوررس نتائج کے حامل ہوںگے۔ ملک جن خطرات، مسائل اور بحرانوں سے دوچار ہے اس پر جس طرح کی رائے زنی کی گئی اس سے صورتحال میں بہتری آنے کے بجائے مزیدابتری آسکتی ہے۔ میمو کی حقیقت کو پارٹی کے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ قرار نہ دیناانتہائی افسوسناک ہے ۔اگر اس کی کوئی حیثیت اور اہمیت نہیں تو حقانی سے استعفیٰ کیوں لیا گیا؟تحقیقات کیلئے معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے حوالے کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ این آر او کیس کے حوالے سے سوئس حکومت کو خط نہ لکھنے کا فیصلہ بھی سراسر توہین عدالت اور جارحانہ رویے کا عکاس ہے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ فیصلہ کہ صدر کسی تحقیقاتی کمشن یا ادارے کے سامنے پیش نہیں ہوں گے بھی ایک غیر دانشمندانہ اقدام ہے۔صدر کے استثنیٰ کے حوالے سے سپریم کورٹ یہ واضح کرچکی ہے کہ استثنیٰ اس وقت تک لاگو نہیں ہوتا جب تک عدالت سے استثنیٰ لینے کی استدعا نہ کی جائے۔ یہ فیصلے پیپلزپارٹی کی قیادت کی طرف سے عدالتوں کی حکم عدولی اور تضحیک کا واضح ثبوت ہیں۔ پیپلز پارٹی کے اہم رہنما بابراعوان پہلے دو مرتبہ توہین عدالت کا باعث بن چکے ہیں جس پر انہیں 9اور13جنوری کو عدالت کے روبرو اپنا جواب داخل کرانا ہے۔چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے یہ ریمارکس کہ کیوں نہ ان کا وکالتی لائسنس منسوخ کردیاجائے اور جسٹس جواد ایس خواجہ کا بابر اعوان کے ”کلمات“ پر رنجیدہ ہونااس امر کا واضح ثبوت ہے کہ بابر اعوان تمام عدالتی اور روایتی حدیں پار کرچکے ہیں۔ جہاں تک میمو سکینڈل کا تعلق ہے حکومتی رویہ کسی صورت بھی مناسب دکھائی نہیں دیتا امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی جن پر میمو میں اہم کردارادا کرنے کا الزام ہے انہیںوزیراعظم ہاﺅس میں مہمان کے طورپر ٹھہرانا صدر کی طرف سے جواب داخل نہ کرانا وہ مثالیں ہیں جن سے پیپلز پارٹی کی قیادت کے رویے کا پتہ چلتا ہے حکومت کے ایک اور وزیر خورشید شاہ بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ انہیں سپریم کورٹ کی طرف سے توہین عدالت کے نوٹسوں کی کوئی پرواہ نہیں دوسری طرف وفاقی حکومت کی طرف سے پنجاب میں اپنے لا آفیسرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ لاہور ہائیکورٹ کے اُس فل بنچ کے سامنے پیش نہ ہوں جس کے روبرو صدر اور وزیراعظم کے خلاف دو آئینی درخواستیںزیر سماعت ہیں۔ یہ ہدایات بھی حکومت کے عدلیہ کے بارے میں نامناسب رویے کی چغلی کھاتی ہیں ۔جو کچھ سپریم کورٹ اور دیگر عدالتوں میں حکومت کی طرف سے کیا جارہا ہے اس سے پہلے کبھی سننے میں نہیں آیا۔گورنر پنجاب لطیف خان کھوسہ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ وہ کسی جج یا جرنیل کو سپر پاور نہیں مانتے۔ لطیف کھوسہ اور جہانگیر بدر پیشے کے اعتبار سے دونوں وکیل ہیں ان کا یہ فرمانا کہ کسی جج کا قانون نہیں چلے گا ،چہ معنی دارد؟ ایسے بیانات اور اقدامات بلامبالغہ عدلیہ کی تضحیک اور عدالتوں سے فرار کا ایک راستہ ہے کیوں کہ پیپلز پارٹی کے متعدد سرکردہ رہنماﺅں کے خلاف کرپشن اقربا پروری اور اختیارات سے تجاوز کرنے کے مقدمات زیر سماعت ہیں اور انہیں خطرہ ہے کہ جلد غیر جانبدارانہ فیصلے سامنے آنے والے ہیں۔ حکومت یوں تو دن رات آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کا راگ الاپتی ہے مگر اس پرعملدرآمد سے کوسوں دور ہے یہ رویہ اسے کس نوبت تک لے جائیگا اس کا شاید حکمرانوں کواندازہ نہیں۔
جہاں تک حکومت کی طرف سے سینٹ کے انتخابات مقررہ وقت سے قبل کرانے کا تعلق ہے یہ کوشش صرف اس لئے کی جارہی ہے کہ اس کا تادیر قائم رہنا شایدممکن نہیں اور اسے ایوان بالا میں اکثریت حاصل کرکے مستقبل میں اپنے تحفظ کی ضمانت مل سکتی ہے لیکن آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ سینٹ کے الیکشن مقررہ وقت سے قبل نہیں ہوسکتے۔شایدسینٹ کے قبل از وقت الیکشن کرانے کے فیصلے کو بھی سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا جائے جس پر حکومت پھر واویلا کرے گی کہ اس کے کام میں مداخلت ہورہی ہے اور پارلیمنٹ کی بالادستی کوچیلنج کیاجارہا ہے۔
حکومتی پالیسیوں سے ملک مہنگائی ، بیروزگاری، لاقانونیت، بجلی گیس کی شدید قلت ،ریلوے ،پی آئی اے، سٹیل مل کے دیوالیہ ہونے جیسے بحرانوں میں مبتلا ہے۔ ان مسائل کو حل کرنے کے بجائے حکومت اداروں کے مابین تصادم کی راہ پر گامزن ہے۔ وزیراعظم ریٹائرڈ امریکی جرنیل جیمز جونز کی بات کو اپنے آرمی چیف کی رائے پر فوقیت دیتے ہیں۔ فوج حکومت کے ماتحت ادارہ ہے آرمی چیف کو خودوزیراعظم گیلانی نے توسیع دی گورنر کھوسہ جرنیلوںکوسپر پاور ہونے کا طعنہ دیتے ہیں۔ ججوں جرنیلوں کے بارے میںایسے ریمارکس اور کور کمیٹی کے عدلیہ کے بارے میں جارحانہ فیصلے اگر غیر دانشمندی کا شاخسانہ نہیں تو شوقِ شہادت ضرور ہے۔ تاکہ غیر مقبول حکومت کی طرف سے عوام کی ہمدردیاں حاصل کی جاسکیں لیکن یہ شاید حکمرانوں کی بھول ہے کہ اپنی پالیسیوں سے عوام کورُلانے والوں کے انہونے انجام پر عوام آنسو بہائیں گے۔ حکمران خدا کا خوف کریں اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کی خاطر قومی مفادات خصوصی طور پر جمہوریت کو قربان نہ کریں اداروںکے مابین تصادم کا راستہ ترک کردیں۔ میمو کیس کی غیر جانبداری سے تحقیقات میں تعاون اور این آر او فیصلے پر من و عن عمل کریں۔ اپنے رویے اور جارحانہ اقدامات سے معاملات کو پوائنٹ آف نو ریٹرن تک نہ لے جائیں یہی قوم و ملک اور خود ان کے اپنے وسیع تر مفاد میں ہے۔
کشمیریوں کا حق خودارادیت
سیز فائر لائن کی دونوں جانب پاکستان اور بیرونی ملک مقیم کشمیریوں نے 5 جنوری کو یوم حق خودارادیت کے طور پر منایا، احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں۔ کشمیری رہنماﺅں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ بھارتی تسلط سے آزادی تک جدوجہد جاری رہے گی۔ یکم جنوری 1948ءکو جب کشمیریوں نے مسلح جدوجہد کا آغاز کیا تو شاطر ہندو بنیا دم دبا کر بھاگ کھڑا ہوا اور اقوام متحدہ کے دروازے پر جا کر دستک دی۔ اقوام متحدہ نے اس مسئلے کے حل کیلئے کمشن تشکیل دیا جس نے 5 جنوری 1949 کو قرارداد میں لکھا کہ ریاست میں پرامن حالات ہونے کے بعد رائے شماری کرائی جائے اور بھارت اپنی افواج واپس بلا لے لیکن آج 64 سال ہونے کو ہیں لیکن اس قرارداد پر عمل نہیں ہوا۔ اگر یہ قرارداد کسی غیر مسلم ملک کی ہوتی تو یقینی طور پر 64 دنوں میں عمل ہو جانا تھا لیکن اقوام متحدہ کا متعصبانہ رویہ مسلمان حکمرانوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ مسلمان پوری دنیا میں مولی گاجر کی طرح کاٹے جا رہے ہیں کوئی پرسان حال نہیں۔ اس کے زیادہ ذمہ دار ہمارے ہنود و یہود و نصاریٰ کے غلام حکمران ہیں۔اگر ہمارے مسلم حکمرانوں کی پالیسیاں مغرب نواز ہیں تو یقین جانیے ہم نہ تو کافریہ طاقتوں کے سامنے سر اٹھا کے جی سکتے ہیں اور نہ ہی اپنے مسلمان ملکوں کو ان کی گولیوں کا نشانہ بننے سے روک سکتے ہیں۔ اس کی بڑی مثال کشمیریوں کا قتل عام ہے۔ آج وہاں ڈنڈے کی حکمرانی ہے۔ امریکہ سمیت کسی کو یہاں جمہوریت یاد نہیں ۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اپنے فنڈز بند ہونے کے خطرے کے باعث وہاں پر ہندوﺅں کے مظالم عالمی سطح پر اجاگر کرنے سے خائف ہیں۔ ہر سال 5 جنوری کو کشمیری اقوام متحدہ کے مبصر کو یادداشت پیش کرتے ہیں لیکن کوئی بھی ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ مسلم حکمرانوں کو اقوام متحدہ کے رویے کو دیکھ کر الگ سے مسلم بلاک بنا کر یہود و نصاریٰ کے زیر تسلط مسلم ریاستوں اور ملکوں کی آزادی کا لائحہ عمل تشکیل دینا چاہئے۔
لسانی بنیادوں پر صوبے بنا کر فسادات کی بنیاد مت رکھیں
قومی اسمبلی میں نئے صوبوں کے معاملے پر شدید ہنگامہ آرائی، مسلم لیگ (ن) اور متحدہ میں شدید جھڑپ ہوئی جبکہ حکومت کی اتحادی جماعتیں ایم کیو ایم ، اور اے این پی ایک بار پھر صف آراءہو گئیں، اے این پی نے اسمبلی کے اجلاس سے واک آﺅٹ کیا۔سیاسی جماعتیں الیکشن جیتنے کیلئے نئے صوبوں کا نعرہ لگا کر عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی تگ و دو میں ہیں۔ ایم کیو ایم کراچی سے نکل کر پورے پاکستان میں پھیلنا چاہتی ہے جس کے لیے اسے ہی نعروں اور مطالبوں سے ووٹ مل سکتے ہیں۔ اے این پی گرچہ ذاتی مقاصد کیلئے صوبہ ہزارہ کی مخالفت کر رہی ہے لیکن پھر بھی اس کی مخالفت قابل تحسین ہے لیکن دوسری طرف اے این پی کو سرائیکی صوبہ کی حمایت کرکے اپنے ہی موقف کو کمزور نہیں کرنا چاہیے۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی عام انتخابات میں واضح شکست دیکھ کر سرائیکی صوبے بنانے کے درپے ہیں، موصوف اپنے بیٹے کو وزیر اعلیٰ بنانا چاہتے ہیں، اسی طرح ہر سیاسی جماعت کا کوئی نہ کوئی مفاد ضرور ہے۔قائد اعظم نے 14اگست 1947ءکو بے شمار قربانیاں دیکر اور طویل جدوجہد کرکے پاکستان بنایا تھا، لیکن سیاستدانوں کے حصول اقتدار کی ہوس نے اسے دولخت کر دیا، اب باقیماندہ ملک کو بھی ٹکڑے کرنے پر تلے ہوئے ہیں، اس وقت ملکی حالات انتہائی نازک صورت اختیار کیے ہوئے ہیں، ہمارے دشمن بھارت، امریکہ اور اسرائیل ہمیں ہڑپ کرنے کے درپے ہیں۔ ان حالات میں سیاسی جماعتوں کو اکٹھا ہو کر دشمن کی سازشوں کا مقابلہ کرنا چاہیے تھا، لیکن عاقبت نااندیش حکمران باہم دست و گریبان ہو کر دشمن کو کھل کھیلنے کا موقع فراہم کر رہے ہیں۔ گیس، بجلی لوڈشیڈنگ ، اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے انتہا اضافے نے عوام کو زندہ درگور کر دیا ہے۔ سیاست دانوں کو قومی اسمبلی میں ان ایشوز پر بحث کرنی چاہیے تھی، لیکن وہ الٹا ہنگامہ آرائی کرکے عوام کی امیدوں پر پانی پھیر رہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو ملک کی کمر میں چھرا گھونپ کر اسے ٹکڑوں میں تقسیم کرکے سیاست نہیں کرنی چاہیے۔حکمران ملک کو قائد اور اقبال کے خوابوں کی تعبیر نہیں بنا سکتے تو خدا کیلئے اسے صوبستان تو مت بنائیں۔ اگر صوبوں کاپنڈورا بکس کھل گیا تو لسانی طور پر ہر اہل زبان اپنی الگ شناخت مانگے گا، سرائیکی اور ہزارہ کے بعد کراچی کی باری آئیگی ایم کیو ایم، اے این پی، اور پی پی کی حب الوطنی سے ہر کوئی واقف ہے۔ وہ اپنی ساکھ کو بہتر بنانے کی کوشش کریں، فسادات کی بنیاد مت رکھیں۔
دفاعی ضروریات چین سے پوری کی جائیں
آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے چین کے دورہ کے موقع پر چینی وزیراعظم اور وزیر دفاع سے ملاقاتیں کیں جن میں پاکستان اور چین کے مابین دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ چین پاکستان کا آزمایا ہوا دوست ہے جس نے ہر مشکل میں پاکستان کی مدد کی ہے مسئلہ کشمیر پر نہ صرف پاکستان کی حمایت کی بلکہ وہ آج بھی ایک سادہ کاغذ پر کشمیریوں کوویزہ دیتا ہے، بھارت گرچہ اس کا ہمسائیہ ملک ہے لیکن اس نے پاکستان کے ساتھ ترجیحی بنیادوں پر تعلقات استوار کیے ہوئے ہیں چینی کہاوت ہے کہ دور کے رشتہ دار سے نزدیک کا ہمسایہ دوست بہتر ہے۔اسی بنا پر وہ پاکستان کے ساتھ شہد سے میٹھی اور سمندر سے گہری دوستی قائم رکھے ہوا ہے ۔امریکہ نے پاکستان کو فرنٹ لائن اتحادی ہونے کے باوجود نقصان پہنچایا ہے سرحدوںکی خلاف ورزی ،فوجیوں کا قتل اور پاکستانی شہریوں کو دن دیہاڑے موت کے گھاٹ اتارنے جیسے واقعات ہماری آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہیں۔ سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد اب تو ویسے ہی امریکہ کے ساتھ تعلقات ختم ہونے کے قریب ہیں۔ امریکہ افغانستان سے دُم دبا کر بھاگنے کیلئے لنگوٹ کس رہا ہے۔ان حالات میں پاکستانی حکام کو اپنے دیرینہ دوست چائنہ کے ساتھ سٹرٹیجک تعلقات کو وسعت دینی چاہئے،دفاعی ضروریات چین سے پوری کرنی چاہئیں جس طرح خالد ٹینک چائنہ کے اشتراک سے بنایا ہے اسی طرح دیگر دفاعی کاموں میں بھی اس سے ہی مدد لینی چاہئے اور امریکی جنگ سے مکمل طورپر علیحدگی اختیار کرلینی چاہئے۔
صاحبزادہ خلیل احمد شرقپوری کا سانحہ ارتحال
شرقپور وہ مبارک قصبہ ہے، جسکی روحانی و سماجی خدمات کی تاریخ بہت طویل ہے۔ صاحبزادہ خلیل احمد شرقپوریؒ نے اپنے والد گرامی پیر طریقت میاں جمیل احمد شرقپوری سے کسبِِ فیض کیا، ان کے دادا حضرت میاں شیر محمد شرقپوری کے مقام و مرتبے سے کون واقف نہیں، حضرت علامہ اقبال بھی ان سے کسب فیض کرنے شرقپور گئے تھے، وہ اپنے وقت کے ابو الوقت صوفی بزرگ تھے، اور یہ سلسلہ روحانیت ان کے خاندان میں چلا آ رہا ہے، صاحبزادہ میاں خلیل احمد شرقپوری 1955ءمیں پیدا ہوئے اور گزشتہ جمعرات کے روز وہ اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے، اناللہ واناالیہ راجعون۔ اللہ جل جلالہ اُن کو جنت الفردوس میںجگہ عطا فرمائے۔ اور ان متوسلین، مریدین کو صبر جمیل عطا کرے، حضرت مرحوم و مغفور نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی ایڈوائزری کونسل کے رکن تھے، ان کی وفات حسرت آیات سے ہم عظیم دینی و محب وطن شخصیت سے محروم ہو گئے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں