کراچی میں حضرت امام حسینؑ کے چہلم کے موقع پر دو بم دھماکوں کے دوران 30 افراد جاں بحق جبکہ 150 سے زائد زخمی ہو گئے۔ پہلا حملہ شاہراہ فیصل پر پر نرسری کے قریب عزاداروں کی بس پر مبینہ موٹر سائیکل سوار کے ذریعے کیا گیا‘ جس میں 17 افراد جاں بحق اور 50 سے زائد زخمی ہو گئے‘ دوسرا دھماکہ جناح ہسپتال کے ایمرجنسی گیٹ کے باہر پارکنگ میں ہوا‘ جہاں پہلے دھماکے میں جاں بحق ہونیوالے افراد کی لاشوں اور زخمیوں کو لایا جا رہا تھا۔ دوسرے دھماکے میں موقع پر مزید 13افراد جاں بحق ہو گئے۔
اس سے پہلے دہشت گردوں نے عاشورہ کے موقع پر کراچی ہی میں ماتمی جلوس پر حملہ کرکے ایک قیامت برپا کردی تھی‘ اس اندوہناک واقعہ میں پچاس کے قریب افراد شہید اور سو سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ شرپسندوں نے اربوں روپے کی پراپرٹی کو بھی نقصان پہنچایا۔ اس خون آشام سانحہ کے بعد تو حضرت امام حسینؑ کے چہلم کے موقع پر فول پروف انتظامات ہونے چاہئیں تھے‘ لیکن ایسا نہ کرکے حکومت نے اپنی مجرمانہ نااہلی ثابت کر دی۔ حکومت کا دہشت گردی کی روک تھام کیلئے دلچسپی کا یہ عالم ہے کہ ابھی تک یہ تعین نہیں ہو سکا کہ یوم عاشور پر دھماکہ خودکش تھا یا بم پلانٹ کیا گیا تھا۔ گزشتہ روز کے دھماکوں کے بارے میں بھی حکومت کا ایک مؤقف نہیں‘ بم ڈسپوزل سکواڈ دونوں دھماکوں کو خودکش‘ سی سی پی او کراچی ریموٹ کنٹرول قرار دیتے ہیں‘ جبکہ وزیر داخلہ رحمٰن ملک یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ کس کی بات مانیں؟ یہ کس کی کارستانی ہے؟
آج حکمرانوں کی توجہ عوام کی حفاظت کے بجائے اپنی حفاظت پر مرکوز ہے‘ کسی وزیر کے پاس دس گاڑیاں ہیں‘ کسی کے پاس پندرہ اور بیس‘ عوام کو دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ خدا نخواستہ حالات اسی نہج پر گامزن رہے تو ہر وزیر کی حفاظت کیلئے چالیس گاڑیاں بھی کم پڑ جائیں گی۔ حکمرانوں نے یوم عاشورہ کے دھماکے سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ پورا ملک عرصہ سے دہشت گردی کا نشانہ بن رہا ہے۔ پولیس اور بم ڈسپوزل سکواڈ کے پاس مناسب میٹل ڈیٹکٹر اور بم ڈی فیوز کرنے کے آلات ہی نہیں ہیں۔ کراچی میں جو مانیٹر سے 20 کلو وزنی بم ملا‘ اس کو بم ڈسپوزل سکواڈ نے اپنی ناقص آلات سے چیکنگ کے بعد کلیئر قرار دیا تھا۔ خوش قسمتی سے ایک اہلکار نے اٹھایا تو غیرمعمولی وزن کے باعث شک گزرنے پر کمپیوٹر مانیٹر کھولا تو بم برآمد ہوا۔ اگر خدانخواستہ یہ بم بھی پھٹ گیا ہوتا تو تباہی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
حکمرانوں کو اپنی حفاظت کا حق حاصل ہے لیکن اس مقصد کیلئے پورا بجٹ اپنی حفاظت پر خرچ کر ڈالنا‘ قرین انصاف نہیں‘ جن کے ووٹوں کی طاقت سے وہ اقتدار میں آئے ہیں‘ حکمرانوں کو انکی حفاظت کی طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہر سانحہ کے بعد مرنے والوں کے لواحقین کیلئے پانچ پانچ لاکھ اور زخمیوں کیلئے ایک ایک لاکھ فی کس کا اعلان کردیا جاتا ہے‘ رقم جتنی بھی ہو‘ انسانی جان کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ جو رقم ایسے واقعات اور سانحات کیلئے مختص کی جاتی ہے‘ وہی رقم حفاظتی اقدامات کیلئے استعمال کرلی جائے تو کسی حد تک ایسے خوفناک واقعات سے بچا جا سکتا ہے جن کو حکومت فرقہ ورانہ یا دہشت گردی کے کھاتہ میں ڈال کر اپنی جان چھڑانے کی کوشش کرتی ہے۔
آج وطن عزیز کو حکمرانوں کی عاقبت نااندیشی کی وجہ سے سنگین دہشت گردی کا سامنا ہے‘ جس کا بیج ایک آمر نے بویا تھا‘ جس کا خمیازہ آج پوری قوم بھگت رہی ہے۔ دشمن ہماری کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر اپنے مذموم مقاصد کے حصول میں کامیاب ہو رہا ہے‘ بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ اور امریکی بلیک واٹر کی پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کی سرگرمیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں‘ ان موقعوں پر ان پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت تھی لیکن افسوس کہ جس کوتاہی کا مظاہرہ یوم عاشور پر حکومت اور انتظامیہ کی طرف سے کیا گیاتھا‘ ویسا ہی چہلم امامؑ پر کیا گیا۔
کراچی عروس البلاد ہے‘ اس کا امن مسلسل دائو پر لگا ہوا ہے‘ جہاں کبھی لسانیت کو ہوا دی جاتی ہے‘ کبھی فرقہ واریت اور کبھی سیاسی اختلافات کو وجہ بنا کر کراچی کا امن تہ و بالا کردیا جاتا ہے‘ جس کے پیچھے ہمارے دشمن کے ہاتھ کو کسی طرح نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یوم عاشور کے سانحہ کے بعد فرقہ وارانہ فسادات پر قابو پایا گیا تو سیاست دان باہم دست و گریبان ہو گئے‘ اس وقت کراچی میں پچھلے ایک ماہ سے ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری تھا‘ اس میں پچاس سے زائد افراد مارے گئے‘ تھوڑ پھوڑ اور جلائو گھیرائو میں بھی کروڑوں کا قومی نقصان ہوا۔ اب جبکہ ایم کیو ایم‘ پیپلز پارٹی اور اے این پی کے مابین مفاہمت کے کچھ آثار پیدا ہو رہے تھے‘ تو اسے سبوتاژ کرنے کیلئے ایک مرتبہ پھر امن اور انسانیت کے دشمنوں نے یکے بعد دیگرے دھماکے کرکے پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی شہراور بندرگاہ کراچی کو بدامنی کی نذر کردیا۔
بلاشبہ کوئی مسلمان ایسی خونریزی کی واردات کے ارتکاب کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا‘ یقیناً ان کارروائیوں میں پاکستان دشمن عناصر ملوث ہیں جو پاکستان کو ہمہ وقت غیرمستحکم کرنے کے درپے ہیں اور جن کیلئے ہمارا وجود ناقابل برداشت ہے۔ پاکستان دشمنوں کو اپنے ناپاک ایجنڈے پر عملدرآمد کیلئے ہمارے اندر سے ہی پیسوں کے لالچ میں میرجعفر اور میر صادق جیسے انسانیت کے دشمن عناصر مل جاتے ہیں۔ بیک وقت دونوں کی بیخ کنی کی ضرورت ہے۔ اس کیلئے ہمیں اپنے اندر اتحاد پیدا کرنا ہوگا‘ بالخصوص کراچی میں ایم کیو ایم‘ پیپلز پارٹی اور اے این پی اپنے مفادات سے بالاتر ہو کر صرف اور صرف قومی مفاد کی طرف توجہ دیں‘ فروعی اختلافات فساد کو حد تک نہ جانے دیں‘ اسکے ساتھ ساتھ بین المسالک ہم آہنگی کی بھی اشد ضرورت ہے‘ لیکن سب سے زیادہ ضرورت امریکہ کی دہشت گردی کیخلاف نام نہاد جنگ سے چھٹکارہ حاصل کرنے کی ہے۔ آج ملک میں بدامنی کی سب سے بڑی وجہ یہی جنگ ہے۔ شمالی علاقہ جات میں پاک فوج قبائلیوں کے ساتھ برسر پیکار ہے‘ امریکہ ڈرون حملے کرکے بچوں اور خواتین سمیت بے گناہ افراد کو مار رہا ہے‘ اسکے ردعمل میں خودکش بمبار پیدا ہو رہے ہیں۔ امریکہ‘ اسرائیل اور بھارت پر مشتمل شیطانی اتحاد ثلاثہ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا کام دکھانے میں مصروف ہے‘ پاکستان دہشت گردی کیخلاف جنگ سے باہر آجاتا ہے تو ارض پاک کے دشمنوں کو طالبان کے بھیس میں اپنے مذموم مقاصد کا حصول کا موقع نہیں مل سکے گا۔
ہم جس کے مفادات کی جنگ میں خود کو جھلسا رہے ہیں‘ وہ محض ڈیڑھ ارب ڈالر سالانہ کی امداد کے جھانسے میں ڈور مور کے تقاضے بڑھا رہا ہے۔ تمام تر اقدامات کے باوجود وہ ہمارے کردار سے مطمئن نہیں۔ آخر اسکی فرمانبرداری کی کوئی انتہاء بھی ہے؟ ہمارے حکمران کب ہوش کے ناخن لیں گے ‘ خدانخواستہ جب سب کچھ لاد چکا ہو گا؟ اب کراچی کے سانحات حکمرانوں کیلئے کافی ہونے چاہئیں‘ اگر دشمن ہماری سالمیت اور خودمختاری کیخلاف صف آراء ہو چکا ہے اور ہماری کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے پر تلا بیٹھا ہے تو اسکا ہر مطالبہ اور تقاضہ پورا کرنا ہمارے حکمرانوں کی ذمہ داری نہیں ہونی چاہئے۔ اگر حکمران قومی سلامتی اور خودمختاری کا دفاع کرنے کے اہل نہیں تو اقتدار کسی اہل قیادت کے حوالے کر دیں‘ موجودہ حالات حکومتی سیاسی اور عسکری حلقوں کیلئے لمحہ فکریہ ہیں۔ دشمن کے مذموم عزائم کو خاک ملانے کیلئے اب جامع اور ٹھوس منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ورنہ دشمن کو ارض پاک کو دنیا کے نقشے سے غائب کے منصوبے بنا چکا ہے اور ان پر پیرا بھی ہے۔
امن کیلئے آزادی ٔ کشمیر کی
جنگ ناگزیر ہے
پاکستان آزاد کشمیر‘ مقبوضہ کشمیر سمیت دنیا بھر میں 5 فروری کو کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے یوم یکجہتی کشمیر ہر سال کی طرح بھرپور جوش و خروش سے منایا گیا اور اس عہد کی تجدید کی گئی کہ جب تک کشمیریوں کو حق خودارادیت نہیں دیا جاتا‘ انکی حمایت جاری رکھی جائیگی۔ لاہور سمیت ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے‘ ریلیاں نکالی گئیں‘ جلسے جلوس اور سیمینارز کا اہتمام کیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھی یوم یکجہتی کشمیر پر زبردست احتجاج کیا گیا‘ جس کے دوران مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔
پاکستان بھر میں دن کا آغاز مساجد میں کشمیری شہداء کے ایصال ثواب کشمیر کی آزادی اور پاکستان کی ترقی و خودمختاری کیلئے خصوصی دعائوں سے کیا گیا‘ پاکستان اور آزاد کشمیر کو ملانے والے کوہالہ منگلا اور دیگرپلوں پر ہاتھوں کی زنجیر بنا کر کشمیریوں سے خصوصی یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ اقوام متحدہ کے مبصر دفاتر میں کشمیری عوام پر بھارتی جارحیت کیخلاف یادداشتیں بھی پیش کی گئیں۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکی جیوری کی طرف سے مجرم قرار دینے کی مذمت کی گئی‘ عالمی ادارے کی توجہ کشمیری عوام سے کئے گئے وعدوں کی پاسداری کی طرف مبذول کرائی گئی اور بھارتی ہٹ دھرمی کی شدید مذمت کی گئی۔
وزیراعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی نے اسلام آباد میں آزاد جموں و کشمیر کونسل اور کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر ایک فوجی چھائونی میں تبدیل کر رکھا ہے‘ مسئلہ کشمیر کو حل کئے بغیر اس خطہ میں امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت نے ہمیشہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کو کچلا ہے‘ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پاکستان کشمیریوں کی آزادی اور خودارادیت کے حصول کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پر عالمی دبائو بڑھ رہا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر حل کرنے کیلئے ٹھوس بنیادوں پر مذاکرات کرے۔
مسئلہ کشمیر حل کرنے کیلئے اقوام محدہ کا تجویز کردہ حل اور دنیا بھر کی آزاد اقوام کے مطالبات‘ مسلسل التواء میں پڑے ہیں۔ کشمیری عوام کی پرامن جدوجہد آزادی کو بھارت نے ہمیشہ دہشت گردی قرار دیا اور کشمیری حریت پسند لیڈروں اور کارکنوں کو بھارتی فوج کے ہاتھوں قتل کرایا جا رہا ہے اس لئے مسئلہ کشمیر حل کا وہی حل ہے جو الجزائر کے حریت لیڈر بومحی الدین نے تجویز کیا تھا کہ کشمیریوں کی آزادی کا فیصلہ میدان جنگ میں ہو گا۔ جب تک بھارت کے اسلحہ کے ڈھیر اور جنگی جہازوں کے ہجوم تباہ نہیں کئے جاتے اور بھارتی معیشت کی کمر نہیں توڑی جاتی‘ اس وقت تک بھارت کشمیریوں کی آزادی کو تسلیم نہیں کریگا۔ اس لئے پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام کا مطالبہ ہے کہ بھارت کے ساتھ ہر قسم کی تجارت بند کی جائے‘ دوستی کے معاہدے ختم کئے جائیں‘ بھارت پاکستان آنے والے تمام دریائوں کا پانی بند کر رہا ہے اور پاکستان کو بنجر صحرا بنانے کی ہر کوشش میں مصروف ہے۔ ایسے حالات میں بھارت کے ساتھ کوئی دوستی اور کوئی تجارت نہیں ہو سکتی۔ حکومت پاکستان اس سلسلہ میں واضح اعلان کرے‘ مسئلہ کشمیر‘ منت سماجت اور نام نہاد دوستی کے عمل سے حل نہیں ہو گا‘ پاکستان کو اپنی بقاء کیلئے کشمیر اور اپنے دریائوں کے پانی کیلئے بھارت سے جنگ کرنا ہو گی۔ پاکستان کے حکمران دھوکے میں نہ رہیں‘ بھارتی فوجی کمانڈر انچیف دیپک کپور اس کا اعلان کر چکا ہے‘ ہمیں بھارت سے جنگ کیلئے تیار رہنا چاہئے اور بھارت کے اچانک وار سے بچنے کیلئے اپنی حکمت عملی طے کرلینی چاہئے۔ اس موقع پر اگر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف بھی لاہور موجود ہوتے اور 5 فروری کو اپنی جماعت کے جلوس کی قیادت کرتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔ مگر وہ اس اہم قومی خدمت میں شریک ہونے کے بجائے چولستان میں اپنے دوست کی خبر گیری کرنے یا چولستان میں بانسری کی سریلی دھنیں سننے کیلئے چلے گئے‘ قومی لیڈروں کو اپنے فیصلے کرتے ہوئے قومی پروگرام کا پابند ہونا چاہئے۔
تعلیم کیلئے وزیر اعلیٰ پنجاب کی کاوشیں
وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ صوبے کے تمام پبلک و پرائیویٹ کالجز میں یکساں یونیفارم رائج کیا جائے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز صوبے بھر میں تعلیمی سرگرمیوں کو نتیجہ خیز اور موثر بنانے کیلئے بڑی محنت سے کام کر رہے ہیں‘ اس شعبہ میں انکی خدمات تاریخی یادگار بن جائیں گی اگر وہ پنجاب میں یونیفارم‘ نصاب تعلیم مرتب کرانے اور اس میں نظریہ پاکستان کی تعلیم کو اہمیت دلانے میں کامیاب ہو جائیں۔ کیونکہ محکمہ تعلیم اور اس شعبہ میں شامل بہت موثر لوگ پنجاب میں ایک یکساں نصاب تعلیم نافذ کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں‘ بچوں کو طلباء کو اپنی شناخت اپنی تعلیم اور نظریہ پاکستان اور اسلام کے ساتھ ملانے دیں‘ یونیفارم وہ جو بھی پہنے ہوئے ہوں‘ پاکستان کے ساتھ محبت اور نظریہ پاکستان سے وابستگی انکے چہروں سے عیاں ہو گی۔ وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف کو اس سازش سے بھی آگاہ ہونا چاہئے کہ پنجاب میں سینکڑوں گورنمنٹ سکول اور کالجز این جی اوز کو دیئے جا رہے ہیں۔ یہ این جی اوز کس کی نمائندگی کرتی ہیں‘ کہاں سے مالی امداد لیتی ہیں اور طلباء پر انہوں نے کیا خرچ کیا ہے اور طلباء سے فیسوں کی صورت میں کیا لیا ہے‘ اس کا کسی کو کوئی پتہ نہیں۔
وزیر اعلیٰ دانش سکولوں کا سلسلہ شروع کر رہے ہیں‘ یہ بہت مستحسن ہے‘ تعلیم دینا حکومت ہی کا کام ہے‘ قوم کو زیور تعلیم سے آراستہ رکھنا حکومت کا کام ہے۔ پرائیویٹ اداروں کو تعلیم کے شعبہ میں آنے دیں‘ مگر بڑی چھان بین کے بعد۔ تمام گورنمنٹ سکولوں اور کالجوں کو دانش سکولوں کے سلسلہ میں شامل کریں اور یہاں معیاری تعلیم کو یقینی بنایا جائے۔ ایک ہی نصاب تعلیم کا سب کو پابند بنایا جائے۔