آئین شکنوں کیخلاف کارروائی‘ وفاق کے وکیل کا مؤقف اور سپریم کورٹ کا استفسارقبر کشائی کرنی ہے تو ایوب خان سے بسم اللہ کریں

ـ 7 اگست ، 2010
سپریم کورٹ کے17 رکنی وسیع تر بینچ کے روبرو 18ویں آئینی ترمیم کیخلاف دائر آئینی درخواستوں کی سماعت کے دوران گزشتہ روز وفاق پاکستان کے وکیل بیرسٹر باچا خان نے ماورائے آئین اقدامات کے تحت منتخب جمہوری حکومتوں کا تختہ الٹانے سے متعلق جنرل ضیاء الحق اور جنرل (ر) مشرف کے اقدامات کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور موقف اختیار کیا کہ اگر آئین کی دفعہ6 پر عمل کرتے ہوئے برطانوی آمر جنرل کرامویل کی طرح جنرل ضیاء الحق کو بھی قبر سے نکال کر پھانسی پر لٹکایا گیا ہوتا تو پرویز مشرف کو کبھی آئین شکنی کی جرأت نہ ہوتی۔ انکے بقول مشرف بطور کرنل اچھی عینک نہیں خرید سکتے تھے‘ مگر آج وہ لندن کے مہنگے ترین علاقے میں رہائش پذیر ہیں۔ بینچ کے فاضل رکن جسٹس خلیل رمدے نے انہیں باور کرایا کہ جس شخص کے بارے میں عدالت کیس نہیں سن رہی‘ اس کا تذکرہ مناسب نہیں۔ اس پر بیرسٹر باچا خان نے جذباتی انداز میں جواب دیا کہ ملکی خودمختاری کا سودا کرنے والے شخص کو میں کبھی معاف نہیں کرسکتا‘ بینچ کے فاضل رکن جسٹس جواد ایس خواجہ نے استفسار کیا کہ وفاق کو کونسی طاقت آئین شکنی کرنیوالے کیخلاف کارروائی سے روک رہی ہے؟ اس کا بیرسٹر باچا خان کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکے اور کہا کہ جب انہیں موقع ملا‘ وہ یہ سوال ضرور اٹھائیں گے۔ انکے بقول سسٹم کو ہمیشہ جرنیلوں نے پٹڑی سے اتارا‘ عدلیہ کو کوئی الزام نہیں دے سکتا‘ انہوں نے باور کرایا کہ آئین کی دفعہ 6 نمائشی نہیں‘ سابق صدر مشرف کیخلاف اس آئین کی دفعہ کے تحت اب بھی کارروائی ہو سکتی ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ طاقت و اختیار کا خناس دل میں پالنے والے فوجی جرنیل ہی ہمیشہ ماورائے آئین اقدام کے تحت منتخب جمہوری نظام کو پٹڑی سے اتارتے اور جرنیلی آمریت مسلط کرتے رہے ہیں‘ مگر بدقسمتی سے ہمیشہ مفاد پرست سیاست دانوں‘ جاگیرداروں اور اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ہی ان طالع آزما جرنیلوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے اور انہی کی آشیرباد سے انہیں ’’میرے عزیز ہم وطنو!‘‘ کا نعرہ لگا کر اقتدار پر براجمان ہونے کا موقع ملتا رہا ہے اس لئے اگر تاریخ کا ریکارڈ درست رکھنا ہے تو پھر اب تک کے مارشل لائوں اور فوجی آمریتوں کا باعث بننے والی تمام قباحتوں کو سامنے لانا اور تمام متعلقہ چہروں کو بے نقاب کرنا ہوگا۔ فاضل عدالت نے وفاق پاکستان کے وکیل سے بجا طور پر استفسار کیا ہے کہ وفاق پاکستان کو کونسی طاقت آئین توڑنے والوں کیخلاف کارروائی سے روک رہی ہے؟ اگر وفاق پاکستان کے وکیل کسی طالع آزما جرنیل کو عبرت کا نشان بنانا چاہتے ہیں تو اسکی ابتداء پھر جنرل ضیاء یا مشرف سے ہی کیوں کی جائے‘ جس خودساختہ فیلڈ مارشل ایوب خان نے فوجی طالع آزمائی کے تحت جمہوریتوں پر شب خون مارنے کا راستہ کھولا‘ کیوں نہ اسی سے نشان عبرت کنندہ کرنے کی شروعات کی جائیں‘ اس لئے بسم اللہ کیجئے‘ سب سے پہلے فیلڈ مارشل ایوب کی قبر کشائی کرکے انکی جیسی تیسی لاش نکالیں اور بیچ چوراہے میں لٹکا کر آئندہ کیلئے طالع آزمائوں کو کندھا فراہم کرنے سے تائب ہو جائیں‘ مگر قوم کو اپنے اس طرز عمل سے گمراہ کرنے کی کوشش نہ کی جائے کہ جن طالع آزمائوں کے اقتدار میںشریک رہے‘ ماورائے آئین اقدامات میں ان کا تذکرہ تک نہ کیا جائے اور جس طالع آزما جرنیل نے ماورائے آئین اقدام کے تحت انکی حکومت ختم کی‘ صرف اسی کو قومی مجرم بنا کر پیش کیا جائے۔
اصل فساد کی جڑ تو فیلڈ مارشل ایوب خان تھے‘ جو اپنے دل میں قیام پاکستان کے وقت سے ہی جمہوریت کیخلاف طالع آزمائی کا خناس پروان چڑھا رہے تھے۔ بانی ٔ پاکستان قائداعظمؒ نے ایوب خان کی بدنیتی اسی دن سے بھانپ لی تھی جب وہ بطور بریگیڈیئر ڈھاکہ میں تعینات تھے اور حکومت کے احکام کی تعمیل سے گریز کر رہے تھے‘ چنانچہ قائداعظم نے انکے سروس ریکارڈ پر اپنے ہاتھ سے ریمارکس تحریر کرکے انہیں معطل کیا اور ان کا ایک بیج اتروا دیا تھا۔ 1958ء میں ایوب خان نے سکندر مرزا کی ملی بھگت سے ملک میں پہلا مارشل لاء نافذ کیا اور پھر ان سے جبراً استعفیٰ لے کر خود مسندِ صدارت پر براجمان ہو گئے۔ اپنے بارے میں قائداعظم کے تحفظات درست ثابت کر دیئے۔ اگر وہ فیروز خان نون کی منتخب جمہوری حکومت کیخلاف فوجی طالع آزمائی نہ کرتے تو آج ملک کی جمہوری سیاسی تاریخ قطعی مختلف ہوتی اور آنیوالے کسی دوسرے جرنیل کو بھی کبھی جمہوریت پر شب خون مارنے کی جرأت نہ ہوتی‘ اس لئے اصل مجرم تو ایوب خان ہیں‘ جنہوں نے اس رسم بد کا آغاز کیا۔
حکمران پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقارعلی بھٹو اسی فیلڈ مارشل کا حسن انتخاب تھے‘ جو ایوب خان کی کابینہ میں نہ صرف وزیر خارجہ کی حیثیت سے شامل رہے‘ بلکہ انکی تخلیق حکمران کنونشن لیگ کے سیکرٹری جنرل بھی مقرر ہوئے اور 1964ء کے صدارتی انتخاب میں ایوب کے مدمقابل قائداعظم کی بہن محترمہ فاطمہ جناح کی جیت کو شکست میں بدلنے کی حکومتی بدعملی میں شریک کار رہے۔ پھر انہوں نے پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھ کر ایوب خان کیخلاف تحریک چلائی اور انکی حکومت کے خاتمہ کے بعد اگلے فوجی آمر جنرل یحییٰ کے دست راست بن گئے۔ 1971ء کے انتخابات کے بعد اپنے اقتدار کی غرض سے یحییٰ خان کو شیخ مجیب الرحمان کو مشرقی پاکستان تک محدود رکھنے کے مشورے دیتے رہے اور جب یحییٰ بھٹو گٹھ جوڑ سے سقوط ڈھاکہ کا سانحہ رونما ہو گیا تو بھٹو پہلے یحییٰ کے نائب وزیراعظم بن کر اسی فوجی حکومت کی نمائندگی کرنے اقوام متحدہ پہنچ گئے اور پھر یحییٰ کو اقتدار سے نکلوا کر خود چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور صدر کے منصب پر فائز ہو گئے‘ چونکہ بھٹو مرحوم ایوب اور یحیٰی کی جانب سے جمہوریت کو پنپنے نہ دینے کے عمل میں خود شریک رہے تھے اس لئے پیپلز پارٹی نے طالع آزما جرنیلوں کی فہرست میں سے ایوب اور یحییٰ کے نام حذف کر دیئے ہوئے ہیں اور اسے صرف جنرل ضیاء کی طالع آزمائی یاد آتی ہے‘ جنہوں نے بھٹو کا تختہ الٹ کر انہیں تختہ دار تک پہنچایا تھا۔ اس لئے اگر ضیاء کی لاش کو قبر سے نکال کر عبرت کا نشان بنانا ہے تو پھر انکے پیشرو طالع آزما جرنیلوں کے ساتھ بھی یہ سلوک کیوں نہیں ہو سکتا؟
جہاں تک جنرل مشرف کا معاملہ ہے‘ چونکہ انہوں نے نواز شریف کی منتخب حکومت کی بساط لپیٹی تھی‘ اس لئے وہ بھی حکمران پیپلز پارٹی کے ہاتھوں جنرل ضیاء جیسی مجوزہ سزا کے مستوجب نہیں ٹھہرتے‘ جبکہ انکی جرنیلی آمریت کے ساتھ ہی این آر او کرکے شہید محترمہ ملک واپس آئیں اور پیپلز پارٹی نے انکی زیر نگرانی ہونے والے انتخابات میں حصہ لے کر انہی کی صدارت میں اقتدار کی منزل حاصل کی اور جب انہیں ایوان صدر سے نکالنے کا مرحلہ آیا تو یہ فریضہ بھی انہیں گارڈ آف آنر پیش کرکے اور پورا پروٹوکول دے کر ادا کیا۔ اگر مقصد جمہوریت پر شب خون مارنے والوں کو عبرت کا نشان بنانا اور آئین کی دفعہ 6 کی عملداری قائم کرنا ہو تو اس کیلئے مشرف آج بھی بہترین مثال بن سکتے ہیں‘ مگر نہ صرف انہیں پہلے دفعہ 6 کی زد میں آنے سے بچا کر ملک سے بحفاظت باہر جانے کا موقع فراہم کیا گیا بلکہ اب بھی سیاسی مفادات کے تحت حکمران پیپلز پارٹی کی مشرف کے ساتھ گاڑھی چھن رہی ہے اور یہ اطلاعات زیر گردش ہیں کہ سیاست میں میاں نواز شریف کو زچ کرنے کیلئے زرداری مشرف نئی دوبئی ڈیل تیار ہو چکی ہے جس کے تحت مشرف کو مجرم کے بجائے ہیرو بنا کر ملک واپس لانے کا سوچا جا رہا ہے۔
قوم تو ہر طالع آزما جرنیل کو عبرت کا نشان بنانے کی خواہاں ہے اور مشرف کو کٹہرے میں دیکھنا چاہتی ہے‘ اگر حکمران پیپلز پارٹی طالع آزمائوں کے گرو کا نام لیتے ہوئے بھی شرماتی ہے اور مشرف کے ساتھ بھی اسکی ڈیل چل رہی ہے تو آئین کی دفعہ 6 کی عملداری کیلئے قوم اسکی نیت پر کیسے یقین کر سکتی ہے‘ اس تناظر میں وفاقی حکومت کو سپریم کورٹ کے اس استفسار کا دوٹوک جواب دینا چاہیے کہ آئین توڑنے والوں کیخلاف کارروائی سے اسے کونسی طاقت روک رہی ہے‘ قوم بھی اسی سوال کے جواب کی منتظر ہے اس لئے اب ’’میٹھا میٹھا ہپ اور کڑوا کڑوا تھو‘‘ کی پالیسی سے بات نہیں بنے گی‘ طالع آزمائوں کو نشانِ عبرت بنانا ہے تو ’’پک اینڈ چوز‘‘ کے بجائے بلاامتیاز‘ بے لاگ اور کڑا احتساب کریں‘ ورنہ طالع آزمائوں کو سیاست دانوں کی اس دوعملی کی وجہ سے ہی جمہوریت پر شب خون مارنے کا موقع ملتا ہے۔
کراچی میں امن کا خواب
لیڈر پہلے اپنے اختلافات دور کریں
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کراچی میں امن و امان کی بحالی کیلئے کسی بھی قسم کے فوجی اپریشن کے امکان کو مسترد کر دیا ہے جبکہ وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کیخلاف سخت کارروائی کرنے جا رہے ہیں اور ضرورت پڑی تو کراچی میں فوج کو بھی طلب کر سکتے ہیں۔ آئندہ جوبیس گھنٹوں میں اہم فیصلے کئے جا رہے ہیں۔ کرائے کے قاتلوں کو کسی حالت میں بھی معاف نہیں کرینگے۔
کراچی میں امن و امان کی صورتحال کئی ماہ سے خراب ہے‘ ٹارگٹ کلنگ میں سینکڑوں افراد گولیوں کا نشانہ بن چکے ہیں‘ سندھ اسمبلی کے رکن رضا حیدر کو بھی محافظ سمیت جاں بحق کر دیا گیا جس کے بعد صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے۔ سینکڑوں دکانیں اور کئی مارکیٹیں جلا کر راکھ کر دی گئی ہیں‘ کئی معروف علاقوں سے وہاں کے قدیم رہائشیوں کو اس علاقہ سے رہائش ترک کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے‘ ایم کیو ایم کے اراکین سینٹ نے حکومت کیخلاف واک آئوٹ کیا ہے‘ ان کا مطالبہ ہے کہ رضا حیدر کے قاتلوں کو گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟ جبکہ عوامی نیشنل پارٹی اور جے یو آئی کا مطالبہ ہے کہ کراچی کو فوج کے حوالے کیا جائے‘ ان کا موقف ہے کہ کراچی میں پولیس انتظامیہ اور رینجرز ناکام ہو چکے ہیں۔ پولیس اور رینجرز کے سامنے سینکڑوں دکانیں اور کئی مارکیٹیں نذر آتش کر دی گئیں‘ وزیر داخلہ کی طرف سے تخریب کاروں کو دیکھتے ہی گولی مار دینے کے حکم کے باوجود اس سلسلہ میں ایک فرد کو بھی نہ تو گرفتار کیا گیا ہے اور نہ ہی گولی ماری گئی ہے۔
کراچی کے ان مسائل کو حل کرنے کیلئے فوج کی طلبی ہی اگر کوئی حل ہے تو ملک کے بیشتر علاقوں میں فوج ہی طلب کرنا پڑیگی‘ صوبہ سرحد اور بلوچستان میں تو صورتحال بہت خراب ہے۔ فوج کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض ادا کرنے دیں‘ جمہوریت ہے‘ سندھ کے وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا کہاں چھپے ہوئے ہیں؟ وہ وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کے ساتھ مل کر کراچی میں امن و امان بحال کریں‘ وفاق کی مدد کی جہاں بھی ضرورت ہو‘ طلب کریں‘ ہمارے ملک میں یہی امن و امان کا مسئلہ جمہوریت کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ جب آپ فوج کو طلب کریں گے تو فوج اپنے طریق کار کے مطابق کام کریگی جس سے شاید سب کو اتفاق نہ ہو۔ جمہوری طریق کار یہی ہے کہ اے این پی‘ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کی لیڈر شپ کراچی میں بیٹھ جائے‘ پہلے اپنے اختلافات دور کریں اور امن و امان کیلئے خطرہ بن جانے والوں کو آگاہ کر دیں کہ جمہوریت کا احترام کریں اور انسانوں کا قتل عام بند کر دیں وگرنہ پھر جمہوریت ادھوری رہ جائیگی۔ یہ فساد کرنیوالے جو پاکستان کے دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں‘ نہ تو اسلامی اخوۃ پر یقین رکھتے ہیں اور نہ ہی معاشرتی اخوۃ یعنی جمہوریت پر تو پھر اللہ ہی حافظ ہے۔
مخلوط حکومت کا ڈرامہ مایوس کن ہے
ملک بھر میں سیلاب اور شدید بارشوں کی تباہ کاریوں کے دوران پنجاب کی تین نشستوں پر ضمنی انتخابات کے نتائج سامنے آئے ہیں۔ سرگودہا سے مسلم لیگ (ن) ، گوجرانوالہ سے پیپلز پارٹی اور لودھراں سے آزاد امیدوار کامیاب ہوئے۔ آزاد امیدوار مسلم لیگ (ن) کا حمایت یافتہ ہے۔
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی پنجاب میں مخلوط حکومت ہے دونوں پارٹیاں حکمران ہیں، ایک ہی وزیر اعلیٰ کی کابینہ میں دونوں پارٹیوں کے وزیر کام کر رہے ہیں۔ اس مخلوط حکومت میں باہم کوئی مشترکہ منشور یا ورکنگ ریلیشن شپ کا اس قدر فقدان ہے کہ اس کی وجہ سے صوبہ میں حکومت چلانی بہت مشکل ہے کیونکہ دونوں طرف رویہ انتہائی منافقانہ ہے، گورنر پنجاب کے اپنے خیالات ہیں جن کا اظہار کرتے ہوئے وہ کسی تکلف سے کام نہیں لیتے‘ دوسری طرف مسلم لیگی وزراء پیپلز پارٹی اور وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہیں۔ صدر، وزیراعظم اور وفاقی وزراء کے لتے لئے جاتے ہیں، گورنر کو بُرا بھلا کہا جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے وزراء کو شکایت ہے کہ وہ بے اختیار ہیں۔ مخلوط حکومت اسی صورت کامیاب اور بہتر ثابت ہو سکتی ہے اگر باہم اتفاق اور یک جہتی مضبوط ہو۔ اگر نہ تو اہم فیصلوں پر آپ متفق ہوںاور نہ ہی انتخابات کے موقع پر آپ لوگ اتفاق رائے سے امیدوار نامزد کر سکتے ہیں تو پھر اس منافقانہ سیاست گری کا کیا فائدہ ؟ بہتر یہ ہے کہ مخلوط حکومت کا یہ ڈرامہ ختم کیا جائے۔ مسلم لیگ (ن) پنجاب میںاپنی اکثریت کے بل بوتے پر اپنی حکومت قائم کرے اور اپنے پارٹی منشور کے مطابق عوام کی خدمت کرے‘ اگر پیپلز پارٹی کو پنجاب میں حکمرانی کا مینڈیٹ نہیں ملا تو وہ اپوزیشن بینچوں پر بیٹھ کر اپنا جمہوری سیاسی کردار ادا کرے۔ ایک دوسرے کے نظریات اور منشور کو قبول نہ کرکے مشترکہ حکمرانی نہیں کی جا سکتی‘ نہ یہ پارلیمانی جمہوریت ہے کہ آپ حکومت میں بھی ہیں اور اپوزیشن میں بھی!
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter