وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ بجلی‘ گیس اور چینی کے موجودہ بحران کے ہم ذمہ دار نہیں‘ عوام نے ہمیں پانچ سال کیلئے منتخب کیا ہے مگر ہم سے حساب ڈیڑھ سال میں مانگا جا رہا ہے۔ گزشتہ روز سی ڈی اے ہیڈکوارٹر اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ اگر ہم نے پانچ سال میں وعدے پورے نہ کئے تو آئندہ انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مشرف کی جرنیلی آمریت کے پیدا کردہ مسائل سے تنگ آئے عوام نے 18 فروری کے انتخابات میں خاموش انقلاب برپا کرکے موجودہ حکمرانوں کو پانچ سال کیلئے حکمرانی کا مینڈیٹ دیا تھا اور عوام کی خواہش بھی یہی ہے کہ حکومت انکے مینڈیٹ کی روشنی میں پانچ سال کی آئینی میعاد پوری کر ے۔ سلطانی ٔ جمہور کیلئے عوام نے اسی لئے مینڈیٹ دیا ہے کہ مشرف آمریت نے ملکی و قومی مفادات کا سودا کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کو اقتصادی بدحالی کے بھی دہانے تک پہنچادیا تھا جس کے نتیجہ میں لوگوں کا کاروبار تباہ ہوا‘ بے روزگاری میں اضافہ ہوا اور عام آدمی کا جینا دوبھر ہو گیا۔ چنانچہ اپنے دکھوں اور گوناںگوں مسائل کے مداوا کیلئے عوام نے پارلیمانی جمہوریت کے تابع سول حکمرانی کا مینڈیٹ دیا تو اپنے مسائل کے حل کیلئے سلطانی ٔ جمہور سے ان کا توقعات وابستہ کرنا بھی فطری امر تھا۔ اگر منتخب حکمران عوام کی توقعات پر پورے اتر رہے ہوتے اور سلطانی ٔ جمہور کے ثمرات ان تک پہنچ رہے ہوتے تو حکومت کی پانچ سالہ آئینی میعاد پوری ہونے میں کیا امر مانع ہو سکتا تھا بلکہ عوام تو خود سول حکمرانی کے استحکام کیلئے اپنے فرض کی ادائیگی میں سرگرم نظر آتے۔ مگر بدقسمتی سے موجودہ وفاقی حکمران اقتدار سنبھالتے ہی ملکی و قومی معاملات اور عوامی مسائل کے حل کے بجائے اس روش پر گامزن ہو گئے جس سے عاجز آکر عوام نے مشرف اور انکی جرنیلی آمریت کے حصہ داروں کو مسترد کیا تھا۔ آئین و قانون کی حکمرانی‘ عدلیہ کی آزادی‘ پارلیمنٹ کی بالادستی اور جمہوریت کے استحکام کیلئے محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کے مابین طے پانے والے میثاق جمہوریت میں جو پیرا میٹرز طے کئے گئے تھے‘ اسکی روشنی میں سول حکمرانی قائم کی جاتی تو یقیناً جرنیلی آمریت میں گھٹ گھٹ کر زندگی بسر کرنے والے عوام کو بھی تبدیلی کا احساس ہوتا اور ملک کی تعمیر و ترقی اور عوام کی خوشحالی کی راہ بھی ہموار ہوتی مگر پیپلز پارٹی کے قائدین نے اقتدار میں آتے ہی میثاق جمہوریت کو طاق پر رکھ دیا اور مشرف کے پی سی او کے تحت معزول کئے گئے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی 2نومبر 2007ء کی پوزیشن پر بحالی اور 17ویں آئینی ترمیم کے خاتمہ کیلئے اپنی حکومتی سیاسی حلیف مسلم لیگ (ن) کے ساتھ کئے گئے زبانی تحریری معاہدوں سے بھی انحراف شروع کر دیا اور پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے یہ بیان بھی جاری کر دیا کہ یہ وعدے اور معاہدے قرآن و حدیث تو نہیں کہ ان کو پورا کیا جائے۔
حکمران پیپلز پارٹی جمہوری نظام کے استحکام میں مخلص ہوتی تو جمہوریتوں کے تاراج ہونے کے سابقہ تجربات سے سبق سیکھ کر ایسے کسی اقدام سے گریز کرتی‘ جس سے جمہوریت کی بساط لپیٹنے کا خناس دل میں پالنے والے طالع آزما غیرجمہوری عناصر کو جمہوریت کیخلاف کسی سازش کو دوبارہ جنم دینے اور پروان چڑھانے کا موقع ملتا ہو‘ مگر وفاقی حکمران قیادت پھر اسی ڈگر پر چل نکلی ہے جو بالآخر جمہوری نظام کو اندھیری کھائی کی جانب لے جاتی ہے۔
بدقسمتی سے سلطانی ٔ جمہور میں جرنیلی آمریت کے چھوڑے ہوئے مسائل بھی برقرار رہے جبکہ روز افزوں مہنگائی‘ بے روزگاری‘ بدامنی اور اشیائے ضرورت کی کمیابی نے ان مسائل کو مزید گھمبیر بنا دیا اور عوام کا جینا دوبھر کر دیا۔ بے شک گندم آٹے کی قلت اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کا بحران جرنیلی آمریت اور اسکی لائی گئی نگران عبوری حکومت کے دور میں شروع ہوا تھا جس پر قابو پانا بھی موجودہ حکمرانوں کی اولین ذمہ داری تھی تاکہ عوام کو سسٹم کی تبدیلی کا احساس ہوتا مگر نہ صرف یہ بحران برقرار رہا بلکہ چینی‘ گیس کی قلت اور انکے نرخوں میں شتربے مہار اضافے جیسے نئے بحران بھی پیدا ہو گئے۔ اب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نہ صرف جرنیلی آمریت کے پیدا کردہ بحرانوں سے خود کو بری الذمہ قرار دے رہے ہیں بلکہ اپنے دور حکومت کے پیدا کردہ بحرانوں کی ذمہ داری قبول کرنے کو بھی تیار نہیں جبکہ ان بحرانوں اور حکومتی پالیسیوں واقدامات کے پیدا کردہ دیگر مسائل کے باعث یہاں گڈگورننس کا تصور ہی مفقود ہو گیا ہے۔ عوام امریکہ کی لگائی دہشت گردی کی آگ میں بھی جھلس رہے ہیں اور اپنے اقتصادی مسائل کے بوجھ تلے بھی دبے ہوئے ہیں یقیناًایسے ہی حالات طالع آزمائوں کیلئے جمہوریت پر شب خون مارنے کیلئے سازگار ہوتے ہیں اور پھر عوام بھی آخر اپنے مسائل کے حل کیلئے پانچ سال تک انتظار کی سولی پر کیوں لٹکتے رہیں گے؟
کشمیری عوام آزادی کی منزل پر
کنٹرول لائن کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیری عوام آج یوم حق خودارادیت منائینگے اور عالمی برادری کی توجہ اقوام متحدہ کی طرف سے کشمیریوں کیساتھ کئے گئے وعدوں اور منظور کی گئی قراردادوں پر عملدرآمد کی طرف مبذول کرائی جائیگی۔ ملک بھر میں جلسے‘ جلوس‘ ریلیاں‘ سیمینارز اور دیگر تقریبات منعقد ہونگی اور عالمی ضمیر کو اس سلسلہ میں بیدار کرنے کی کوشش کی جائیگی۔ یوم حق خودارادیت کے حوالے سے صدر آصف علی زرداری نے بھی یہ حوصلہ افزا اعلان کیا ہے کہ جس طرح پاکستان حاصل کیا گیا ہے‘ اسی طرح اب ہم کشمیر بھی حاصل کرلیں گے۔کشمیری عوام کی طرف سے گزشتہ ساٹھ برسوں میں بھارتی سامراج کی غلامی سے آزادی کی جدوجہد مسلسل جاری ہے اس سے قبل کشمیر کے بہادر عوام نے ظالمانہ ڈوگرا راج سے آزادی کیلئے بھی طویل جدوجہد کی تھی مگر تقسیم ہند کے بددیانت ٹانٹوں ریڈکلف ‘مائونٹ بیٹن اور دیگر نے بھارتی لیڈروں سے رشوت لیکر کشمیر کا علاقہ تنازعہ حل طلب چھوڑ دیا جو آج تک جنوبی ایشیا کے امن و امان کیلئے بارود کا ڈھیر بنا ہوا ہے۔ اقوام متحدہ امریکہ کی لونڈی بن چکی ہے اور امریکہ اپنے اسلام دشمنی کے پروگرام میں بھارت کے ساتھ یکجہتی کی وجہ سے منافقانہ رویہ اختیار کر رہا ہے۔ انسانی حقوق کا چیمپئن بننے کے باوجود کشمیری عوام کیخلاف انسانی حقوق کی پامالیوںکی طرف امریکہ آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ رہا‘ ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پہلی دفعہ مقبوضہ کشمیر کے علاقہ میں خرچ کئے جانیوالے قرضوں کے بارے میں بھارتی حکومت سے یہ یقین دہانی حاصل کرلی ہے کہ مقبوضہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اور یہاں کیلئے دیئے گئے قرض کے بارے میں حکومت کسی طور بھی یہ موقف نہیں اپنا سکے گی کہ یہ علاقہ ان قرضوں کی وجہ سے متنازعہ نہیں بلکہ بھارت نے اپنی اٹوٹ انگ والی ہٹ دھرمی سے اسے متنازعہ بنایا ہے۔ بھارت کا جو بھی موقف ہو‘ قرضوں کی وجہ سے اس علاقہ کی متنازعہ حیثیت پر فرق نہیں پڑیگا اور بھارتی حکومت نے ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کی اس شرط کو تسلیم کرکے اس سلسلہ میں نوٹ لکھ دیا ہے۔ یہ کشمیری عوام کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ پاکستان کے عوام امید کرتے ہیں کہ کشمیری عوام جلد کشمیر کی آزادی سے ہمکنار ہونگے جوکہ انکی لامتناہی جدوجہد کا نتیجہ ہوگی۔ صدر زرداری نے حصول کشمیر کا اعلان کرکے کشمیر پر پاکستان کے دیرینہ اصولی مؤقف کو تقویت پہنچائی ہے‘ انہیں اب محض اعلان کی رسم پوری نہیں کرنی چاہئے بلکہ کشمیری عوام کی تحریک الحاق پاکستان کا حکومتی سطح پر بھرپور ساتھ دینا چاہئے تاکہ وہ اپنی امنگوں کے مطابق اپنی متعینہ منزل سے ہمکنار ہوں۔
؎
مشرف ہی نہیں بینظیر کے قاتلوں کا بھی ٹرائل کریں
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ رواں سال میں جنرل (ر) پرویز مشرف کا ٹرائل ہو جائیگا‘ آئین اور ادارے کسی کی جاگیر یا مقبوضہ ریاست نہیں۔
وفاقی وزیر نے جنرل پرویز مشرف کیخلاف مقدمہ چلانے کی تین وجوہات بیان کی ہیں‘ اول یہ کہ سپریم کورٹ آف پاکستان جب 3 نومبر کے مقدمہ کا مکمل فیصلہ جاری کریگی‘ اسکے بعد امکان ہے کہ مشرف کیخلاف مقدمہ چلانے کی بات بھی کی جائے۔ اکبر بگتی کے قتل میںمشرف نامزد ملزم ہیں‘ مقدمہ کی سماعت میں مزید کتنی تاخیر ہو سکتی ہے۔ وفاقی وزیر کی بات تو بہت حد تک معقول ہے مگر پیپلز پارٹی کو اپنی چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو کے مقدمہ قتل کی طرف بھی توجہ کرنی چاہئے۔ 27 دسمبر 2007ء کو وہ لیاقت باغ راولپنڈی سے متصل سڑک پر جاں بحق ہوئیں‘ انکی ایف آئی آر درج ہوئی یا نہیںاور یہ مقدمہ کب چلے گا‘ کیا مرحومہ کا خون یونہی رائیگاں جائیگا؟ صدر آصف علی زرداری باربار کہہ چکے ہیں کہ وہ بی بی کے قاتلوں کو جانتے اور پہچانتے بھی ہیں اس کے بعد وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ بیت اللہ محسود بھی قتل میں ملوث ہے۔ پیپلز پارٹی کے وزیر ہونے کی حیثیت سے انہیں چاہئے کہ وہ اس مقدمہ کی طرف زیادہ توجہ دیں۔
اقوام متحدہ کی تحقیقات تو ایک ایسی کارروائی ہے جس پر پاکستان کے عوام مطمئن نہیں ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ نواب اکبر بگتی کے قتل کا مقدمہ جلد سے جلد شروع کیا جائے اور ملزموں کو قرار واقعی سزا دی جائے اور پیپلز پارٹی کو دو دفعہ پاکستان کی وزیراعظم رہنے والی بے نظیر بھٹو کو موت کے بعد بھی پاکستان کے عوام نے پاکستان کی سیاسی حکومتی قیادت کیلئے منتخب کیاتو وہ ان کا خون رائیگاں تو نہ جانے دے۔ بابر اعوان اور پیپلز پارٹی کے نام پر جو لوگ بھی برسر اقتدار ہیں‘ وہ سب محترمہ کے مقروض ہیں۔ عوام امید کرتے ہیں کہ اس سلسلہ میں حکومت تاخیری حربے اختیار کرنے کے بجائے جلد از جلد مرحومہ کے قاتلوں کو بے نقاب کریگی اور انہیں کیفر کردار تک پہنچایاجائیگا۔
امریکہ میں تلاشی کے نام پر مسلمانوں کی تذلیل
امریکی حکام نے پاکستان‘ سعودی عرب سمیت 14 اسلامی ملکوں سے امریکہ آنیوالوں کی جامہ تلاشی سمیت سخت چیکنگ شروع کر دی ہے۔ 14 ملکوں سے امریکہ پہنچنے والے مسافروں کی مکمل جامہ تلاشی ہو گی اور ان کا دستی سامان بھی چیک کیا جائیگا۔ امریکی حکومت نے پاکستان، افغانستان، یمن، نائجیریا، الجزائر، لبنان، ایران، عراق، لیبیا، سوڈان، شام، سعودی عرب، صومالیہ اور کیوبا کو خصوصی طور پر سکیورٹی کے لحاظ سے خطرناک قرار دیا ہے۔ امریکہ کی طرف سے متعارف کرائے گئے نئے سکیورٹی اقدامات کے مطابق دیگر ملکوں سے آنیوالے مسافروں کی سرسری انتخاب کے تحت تلاشی لی جائیگی۔
امریکہ نے مذکورہ اقدامات اپنے ملک کو دہشت گردی سے بچانے کیلئے کئے ہیں۔ امریکہ سمیت کسی بھی ملک کو اپنی سکیورٹی فول پروف بنانے کا حق ہی حاصل نہیں بلکہ اس کا فرض بھی ہے لیکن سکیورٹی کی آڑ میں مسلمانوں کی تذلیل اور تضحیک سے امریکہ سے نفرت کے جذبات میں اضافہ ہو گا۔
جس طرح امریکہ کو اپنے سکیورٹی انتظامات فول پروف بنانے کا حق حاصل ہے اسی طرح دوسرے ممالک کو بھی ہونا چاہیے۔ آج امریکہ نہ صرف بغیر ویزے اور دستاویزات کے پاکستان آ رہے ہیں بلکہ ہر بڑے چھوٹے شہر میں بھی دندناتے پھرتے ہیں۔ کیا امریکہ اپنے ہاں پاکستانیوں کو نقل و حرکت کی ایسی آزادی دینے کو تیار ہے؟ ہرگز نہیں ۔ تو پھر اسے پاکستان کے قوانین کی دھجیاں اڑانے کا بھی اختیار نہیں۔
نائیجریا ایک چھوٹا سا ملک ہے اس نے امریکی پابندیوں کی شدید مذمت کی ہے۔ باقی ممالک نے امریکی حکام نے جو کہا من و عن تسلیم کر لیا۔ خودداری اور خود مختاری کا تقاضا تو یہ ہے کہ او آئی سی اس معاملے پر متفقہ لائحہ عمل طے کرے اور امریکیوں کو بھی ممبر ممالک میں آنے پر انہیں مراحل سے گزارا جائے جو مسلمانوں کے لئے مقرر کئے گئے ہیں۔ کم از کم پاکستانی حکومت کو تو ایسا کر گزرنا چاہیے۔