پنجاب اسمبلی کے ارکان نے’’امن کی آشا‘‘ نامی مہم کو ڈھونگ قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ پائیدار امن کا قیام مسئلہ کشمیر اور پانی سمیت تمام تنازعات کے حل سے مشروط ہے اور تنازعات کو چھوڑ کر امن کی خواہش سپانسرڈ مہم تو ہو سکتی ہے مگر اس کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔ گزشتہ روز پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے حکمران پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور اپوزیشن میں شامل مسلم لیگ(ق) کے ارکان نے نوائے وقت سے بات چیت کے دوران اس امر پر زور دیا کہ ہماری قیادت اور حکومتوں کو مصلحتوں سے بالاتر ہو کر کشمیر پر اعلانیہ جرأت مندانہ موقف اختیار کرنا چاہئے جبکہ امن کی آشا نامی مہم مسئلہ کشمیر اور بھارت کے ساتھ دیگر تنازعات پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے۔ ان ارکان کے بقول کشن گنگا سمیت دیگر ڈیمز کی تعمیر پاکستان کو بنجر بنانے کی بھارتی سازش ہے اور یہ اقدام نام نہاد امن کی آشا مہم کے ذمہ داروں کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ جب تک کشمیر پر شاطر ہندو بنیاء کی اٹوٹ انگ والی ہٹ دھرمی ختم نہیں ہوتی اور یو این قراردادوں کی روشنی میں کشمیری عوام کو استصواب کا حق دے کر ان کی رائے کی بنیاد پر مسئلہ کشمیر حل نہیں کیا جاتا، پاکستان اور بھارت کے مابین دوستی اور تجارت کی راہ ہموار ہوسکتی ہے نہ علاقائی اور عالمی امن کی ضمانت دی جاسکتی ہے۔ اگر بنیادی تنازعات کو بالائے طاق رکھ کر پاکستان بھارت کے مابین دوستی ممکن ہوتی تو یہ معاملہ کب کا طے ہو چکا ہوتااور اگرلاتعداد مرتبہ ایک دوسرے کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر، بیک چینل، کرکٹ اور شٹل ڈپلومیسی اختیار کرکے اور ہمارے جرنیلی آمر مشرف کی جانب سے کشمیر پر یکطرفہ لچکیلے موقف اختیار کرکے کشمیر کو پلیٹ میں رکھ کر بھارت کے حوالے کرنے کی سازش کے باوجود دونوں ممالک کے مابین تعلقات کشیدہ ہیں جس میں بنیادی عمل دخل بھارت ہی کا ہے تو یہ امن کی آشاوالوں کیلئے واضح پیغام ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین کشمیر ہی اصل تنازعہ ہے جو حل نہ ہونے کے باعث پانی کا تنازعہ بھی کھڑا ہوا ہے جبکہ ان بنیادی ایشوز کو ایجنڈے کا حصہ بنائے بغیر بھارت کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نتیجہ خیز ہوسکتے ہیں نہ امن کی آشا پوری ہوسکتی ہے۔
یہ امر حیران کن ہے کہ دو روز قبل تک تو بھارت ہمارے ساتھ مذاکرات سے بدک رہا تھا اور مذاکرات کیلئے عالمی دبائو بھی خاطر میں نہیں لا رہا تھا اور اس کی سوئی صرف ایک نکتے پر اٹکی تھی کہ ممبئی حملوں کے مبینہ ملزموں بشمول حافظ محمد سعیدکے خلاف کارروائی اور دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے ٹھوس اقدامات بروئے کار لائے بغیر پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھا جاسکتا۔ اب یکایک مذاکرات کیلئے فضا اتنی ’’سازگار‘‘ہوگئی ہے کہ بھارت نے خارجہ سیکرٹریوں کی سطح پر پاکستان کو مذاکرات کی دعوت بھی دے دی ہے اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس بھارتی پیش کش کو خوش آئند قرار دے کر اتوار کے روز پاکستان کے سیکرٹری خارجہ کو نئی دہلی بھجوانے کا عندیہ بھی دے دیا ہے۔
قوم بھارت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کی اس بیتابی کا پس منظر جاننے کا حق رکھتی ہے جبکہ ہمارے دفتر خارجہ کے ذرائع بھی اس سے لاعلم ہیں جن کے بقول مذاکرات کا ایجنڈہ معلوم ہونے کے بعد ہی سیکرٹری خارجہ بھارت جائیں گے کیونکہ بھارت صرف ممبئی حملوں کے معاملہ پر بات کرنا چاہتا ہے تو پھر اس کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اگر مکار ہندو بنیاء دو روز قبل تک ہمارے ساتھ مذاکرات پر آمادہ نہیں تھا، ہمارے خلاف جنگی تیاریوں میں مصروف تھا۔ پاکستان اور چین کو بیک وقت 96 گھنٹے کے اندر مفلوج کرنے کی گیدڑ بھبکیاں دے رہا تھا۔ ممبئی حملوں سمیت دہشت گردی کا ملبہ ہم پر ڈالے چلا جارہا تھا اور کسی راہ پر نہیں آرہا تھااور اسے اب اچانک ہمارے ساتھ مذاکرات کی ضرورت محسوس ہوئی ہے تو بنیاء کچھ دیکھ کر ہی گرتا ہے۔ یہ لازمی طور پر کوئی ایسا ’’ٹریپ‘‘ ہوگا جس میں الجھا کر ہمارا یہ شاطر دشمن ہماری سالمیت کے خلاف اوچھا وار کرنے کا طے کئے بیٹھا ہوگا، اس لئے امن کی آشا کے شوق میں اپنے اس موذی دشمن کا زہر نکالے بغیر اس کیلئے ریشہ ختمی ہونا، اپنی موت کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا۔
یہ انتہائی نازک معاملہ ہے۔ اس لئے حکومت کو بھارت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہئے جو ہمارے لئے ایسی سنگین غلطی بن جائے جس کا ازالہ ہی ممکن نہ ہو اس لئے مذاکرات کیلئے بھارت جانے سے پہلے حکومت کو تمام قومی سیاسی قائدین اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہئے۔ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر قوم کے منتخب نمائندوں کی رائے حاصل کرنی چاہئے اور تمام قومی سیاسی قائدین کی گول میز کانفرنس طلب کرکے بھارت کے ساتھ مذاکرات کے معاملہ میں مشترکہ اور متفقہ موقف اختیار کرنا چاہئے۔ اس سلسلہ میں مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نوازشریف کو جو سسٹم کو بچانے کے نام پر موجودہ حکومت کیلئے ڈھال بننے کے اکثر اعلانات کرتے رہتے ہیں۔ ملک کی سالمیت کے تقاضوںکے پیش نظر بھارت کے ساتھ مذاکرات کے معاملہ میں حکومت پر مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان کے دیرینہ اور اصولی موقف پرقائم رہنے کیلئے دبائو ڈالنا چاہئے اور خود بھی کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا عملی مظاہر ہ کرنا چاہئے۔ یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر ان کی جانب سے محض یہ بیان جاری کر دینا کافی نہیں کہ کشمیر پر یوٹرن نہیں لیا جاسکتا، انہیں تو یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر لاہورمیں رہ کر اپنے پارٹی کارکنوں کو کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کیلئے متحرک کرنا اور اس سلسلہ میں خود جلوس کی قیادت کرنا چاہئے تھی۔ جبکہ اب بھی وہ خاموش تماشائی بنے بیٹھے رہنے کے بجائے پاک بھارت مذاکرات کے معاملہ میں حکومت کی سرگرمیوں پر کڑی نگاہ رکھیں۔
پاکستان کی جانب سے امریکہ اور پاک بھارت مذاکرات کے متمنی دیگر ممالک کو بھی یہ باور کرانا ضروری ہے کہ یو این قراردادوں کی بنیاد پر کشمیری عوام کو استصواب کا حق دے کر ہی مسئلہ کشمیر کا قابل قبول حل ممکن ہے اور اس کیلئے ضروری ہے کہ بھارت پر دبائو بڑھا کر یو این قراردادوں پر عملدرآمد کی راہ پر لایا جائے اور مسئلہ کشمیر کے حل کے ایجنڈے پر ہی پاکستان بھارت مذاکرات کی راہ ہموار کی جائے۔ اس کے بغیر مذاکرات ہر گز نتیجہ خیز نہیں ہوسکتے، بلکہ مذاکرات کی ناکامی کشیدگی میں اضافہ پر منتج ہوسکتی ہے۔ اگر تو کسی امریکی گیم پلان کے تحت پاکستان بھارت مذاکرات کی راہ ہموار کی جا رہی ہے جس کا مقصد کشمیر ایشو کو پسِ پشت ڈالنا ہے تو قوم مذاکرات کے ایسے ڈرامے کو نہ قبول کرے گی نہ حکمرانوں کو ملک کی سالمیت کے تقاضوں کے برعکس کشمیر پر کوئی سودے بازی کرنے دے گی۔ امن کی آشا کی تالی ایک ہاتھ سے بجائی جائے گی تو بے صدا ہی رہے گی۔ ہمیں بھارت کے ساتھ تجارت سے زیادہ اپنی آزادی، خود داری اور سالمیت عزیز ہے اور کشمیر کی آزادی کی ضرورت ہے۔
سوئٹزر لینڈ کا مثبت اور
قابل تحسین فیصلہ!
سوئٹزر لینڈ کی حکومت نے اسلام کی تبلیغ پر پابندی ختم کرنے اور مساجد کی تعمیر کی اجازت دیدی۔ جبکہ میناروں کی تعمیر کی اجازت دینے پر غور جاری ہے۔ آبزرور آف اسلامک کنٹریز کے ترجمان فیصل محمد نے میڈیا کو بتایا کہ سوئٹزرلینڈ حکومت کی طرف سے مسلم مبلغین کو تمام ضروری سہولتیں فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
سوئٹزرلینڈ میں میناروں پر پابندی کے فیصلے کے بعد عالم اسلام میں بے چینی اور تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔ جلسے جلوسوں اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔ سوئٹزرلینڈ نے اپنے ملک میں تبلیغ اور مساجد کی تعمیر کی اجازت دیکر مسلمانوں کے جذبات کی قدر کی ان اقدامات سے لگتا ہے جلد ہی میناروں کی تعمیر پر پابندی کا فیصلہ بھی واپس لے لیا جائے گا۔ مسلم امہ ایسے مثبت اقدامات پر سوئٹزرلینڈ کو خراج تحسین پیش کرتی ہے جن سے تہذیبوں کے درمیان بڑھتی ہوئی نفرت میں کمی واقع ہو گی۔ مسلم خواتین کے نقاب اوڑھنے کے خلاف فرانس میں قانون سازی کی جا رہی ہے سکارف پر پہلے ہی پابندی لگائی جا چکی ہے۔ ڈنمارک اورناروے میں آزادی اظہار کے نام پر میڈیا میں شائع ہونیوالے توہین آمیز خاکوں سے مسلمانوں کی دل آزاری ہو رہی ہے۔ ان جرائد کی بدمعاشی اوربدقماشی بدستور جاری ہے مسلمانوں کی طرف سے ردِّ عمل کچھ بھی ممکن ہے۔ سوئٹزرلینڈ نے تہذیبوں کے مابین نفرت میں کمی کے لئے جو اقدامات کئے ہیں فرانس ڈنمارک اور ناروے کو اس کی تقلید کرنی چاہئے۔
پولیس اور ماتحت عدالتیں…
ناقابلِ اصلاح کام ہے
وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ پنجاب میں عوام کو فوری اور سستا انصاف فراہم کرنے اور پُرامن ماحول کے قیام کے لئے ماتحت عدلیہ کی تنخواہ میں 300 فیصد اور پولیس کی تنخواہوں میں سو فیصد اضافہ کیا گیا ہے لیکن اس اقدام سے کوئی مثبت نتائج برآمد نہیں ہوئے۔ ماتحت عدلیہ اور پولیس لوگوں کو انصاف اور جان و مال کے تحفظ کی فراہمی کے لئے اپنا کردار ادا کرے ورنہ لوگ مجھ سے سوال کریں گے کہ اس شعبہ پر اس قدر وسائل کیوں صرف کئے۔
میاں شہباز شریف کا موقف درست ہے عوام اُن سے ہی دریافت کریں گے کہ پولیس کی اتنی بھاری نفری ہونے کے باوجود عوام کا جان و مال محفوظ نہیں۔ ہر روز اخبارات میں تین چار درجن جرائم قتل و غارت گری لوٹ مار اور راہزنی کی وارداتوں کی فہرست موجود ہوتی ہے جن کا تعلق صرف لاہور شہر سے ہوتا ہے۔ پنجاب بھر میں ہونے والی جرائم کی وارداتیں اسکے علاوہ ہیں۔ اور ہر واردات میں مجرم‘ واردات کر کے بھاگ جانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ پولیس اُن کا پیچھا بھی نہیں کر سکتی۔ پولیس کی تنخواہیں دوگنا کر دی گئیں اُنہیں جدید ترین ہتھیار دئیے گئے۔ اُنہیں تیز رفتار نئی گاڑیاں دی گئیں۔ مگر اِسکا کیا فائدہ ہوا۔ نہ تو اِنہوں نے جرائم کی روک تھام کی اور نہ ہی مجرموں کو گرفتار کرنے کی تگ و دو ہوئی۔ البتہ اب عوام کے حلقوں میں یہ وحشت ناک خبریں پھیل رہی ہیں کہ پولیس انسداد جرائم کی بجائے مجرموں کے ساتھ مل کر وارداتیں کر رہی ہے۔ جس کی ایک مثال ائرپورٹ پر ٹیپو ٹرکاں والے کا قتل بھی ہے۔ اِسی طرح ماتحت عدلیہ میں بھی‘ رشوت سفارش دھونس دھاندلی سب پہلے کی طرح چل رہی ہے ایک چھوٹے سے کمرے میں فاضل جج‘ ریڈر‘ کلرک‘ اہلمد اور وکلاء کے درمیان وہی لین دین اور ادائیگی پر تاریخیں سب کچھ ویسے ہی چل رہا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کو چاہئے کہ رشوت کے یہ بازار اور جرائم کے ان بدبودار جوہڑوں کو بند کرنے کے لئے ملک کے اندر اور ملک کے باہر وسیع مشاورت کر کے اِس نظام کو تبدیل کیا جائے۔ پولیس امن و امان اور قانون کے نفاذ کی بجائے۔ لوگوں کو جرائم میں ملوث کرنے کا کام کرتی ہے۔ عدالتیں‘ لوگوں کو انصاف دینے کی بجائے اُنہیں بے پناہ اذیت میں مبتلا کرتی ہیں۔ وزیراعلیٰ کو اِس سلسلہ میں یونیورسٹیوں میں قانون کے اساتذہ اور ماہرین سے خصوصی تجاویز حاصل کر کے ان پر کام کرنا چاہئے۔
اپنے ہی خنجر سے خودکشی
فرانس کی بائیں بازو کی جماعت این پی اے نے ایک برقعہ پوش خاتون کو مقامی انتخابات میں بطور امیدوار لانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ فرانسیسی وزیراعظم فرانکوس فلن نے کہا ہے کہ اپنی بیوی کو برقعہ پہنانے والے شخص کی فرانس میں کوئی جگہ نہیں ہے اور وہ اسے شہریت نہ دینے کے حکم نامے پر خوشی سے دستخط کرینگے۔
مغربی جمہوریت کے دلدادگان کیلئے یہ ایک گہری فکر کا موقعہ ہے کہ آج تک مغربی جمہوریت کی جو بھی تعریفیں کی گئی ہیں‘ آج مغربی ممالک خود اس تعریف سے بھاگ رہے ہیں۔ دنیا بھر میں عیسائیت کی پرچارک کیتھولک گرجا گھروں سے تعلق رکھنے والی نن نہ صرف گردن اور سر کو ڈھانپنے کیلئے ایک ٹائٹ سکارف پہنتی ہیں‘ ان کا لباس بھی نہایت باپردہ اور شائستہ ہوتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے یورپ میں چند مسلمان خواتین نے سکارف کو استعمال کیا تو یورپین متعصب افراد نے سکارف باندھنا مسلمانوں کا جرم بنا لیا ہے اور جو خواتین جسم کے شرمناک مظاہرہ سے گریز کرتی ہیں‘ انہیں مسلمان خیال کیا جاتا ہے۔ اب پورے یورپ میں سکارف باندھنا یا پردہ کرنا‘ برقعہ پہننا مسلمانوں کی علامت سمجھ کر منع کیا جا رہا ہے۔ فرانس کی جو خاتون سکارف اور برقعہ کے ساتھ انتخابات میں حصہ لے رہی ہے‘ وہ کبھی اتنی اہمیت حاصل نہ کر سکتی اگر فرانس میں مسلمانوں کیخلاف یہ تعصب نہ پیدا کیا جاتا اور جو لوگ اپنی پسند یا ناپسند سے جو بھی لباس اختیار کرنا چاہیں‘ اسے ان کا قدرتی حق قرار دیا جائے اور جمہوریت بھی یہی ہے کہ عام زندگی میں جو لباس پہننا چاہے پہنے۔ یورپ میں سینکڑوں بلکہ لاکھوں لوگ فطرت کو اپنا رہنماء سمجھتے ہوئے لباس کی قید سے جب چاہے آزاد ہو جاتے ہیں اور اسے اپنا جمہوری حق قرار دیتے ہیں۔ یورپ کے یہ ممالک جو علم‘ سائنس اور جمہوریت کی علمبرداری بھی کرتے ہیں‘ اگر بے لباسی بھی جمہوری تقاضوں میں شامل ہے تو پھر دینی اصولوں کی روشنی میں اپنی مرضی اور پسند سے پورے جسم کو ڈھانپنے والا لباس پہننا جمہوریت کیوں نہیں ہو سکتا۔ اس سے قبل کہ مغربی تہذیب اپنے ہی خنجر سے خودکشی کرے‘ اہل مغرب کو اپنے اطوار میں تبدیلیاں ضرور لانا ہونگی اور یورپ کے اہل دانش کو اس پر غور کرنا چاہئے۔