پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدر قومی اتحاد و یکجہتی کی علامت بنیں
ـ 6 دسمبر ، 2011
یوم عاشور کا باطل قوتوں کے آگے سر نہ جھکانے کا پیغام اور ملکی و قومی سالمیت کے تقاضے
اسلامیانِ پاکستان اور پوری مسلم امہ آج 10 محرم الحرام کو سیدالشہداءحضرت امام حسینؓ اور انکے جانثار ساتھیوں کی دین اسلام کی سربلندی کیلئے یزیدیت سے ٹکراتے ہوئے حق و صداقت کی راہ میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے اور باطل کے آگے سر نہ جھکانے کے بے پایاں جذبے کی یاد تازہ کرنے کیلئے عقیدت و احترام اور غم و سوگ کے ساتھ یوم عاشور منا رہی ہے۔ اس موقع پر اتحاد و یکجہتی¿ ملت کےلئے تجدید عہد اور حسینیت کی پیروی کرتے ہوئے باطل قوتوں سے ٹکرانے کے عزم کا اعادہ کیا جائیگا۔ نواسہ¿ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت امام حسینؓ یزید کی بیعت سے انکار کرتے ہوئے 10 محرم الحرام 61 ہجری کو ابلیسی غرور اور شیطانی سیاست کے مہروں کیخلاف صف آراءہوئے اور تعداد میں کم اور نہتے ہونے کے باوجود جرا¿ت و شجاعت کی ایسی مثالیں رقم کیں‘ جو رہتی دنیا تک مسلم امہ کے حوصلے بلند کرتی رہیں گی۔ سیدالشہداءنے قوتِ ایمانی سے اسلام کے پرچم کو بلند رکھا اور میدان کربلا میں یزیدی قوتوں سے ٹکرا کر اپنے خاندان سمیت 72 انسانی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور اس طرح امام عالی مقام نے اسلام کی نشاة ثانیہ کیلئے باطل قوتوں سے ٹکرا کر قربانیاں دینے کی نئی تاریخ رقم کی جو رہتی دنیا تک مسلم امہ کے حوصلے بلند کرتی رہے گی۔
بقاءو دوامِ حق اور اسلام کی سربلندی و بالادستی قدرت کا اٹل اور ابدی فیصلہ ہے جبکہ طاغوتی اور ابلیسی قوتوں کی سرکوبی اور زوال بھی آئین ِ فطرت میں لکھا جا چکا ہے۔ طاغوتی طاقتوں کی سازشوں میں گھری اور مصلحتوں کا شکار مسلم امہ کو آج سیدالشہداءامام حسینؓ کی لازوال قربانیوں کو اپنے لئے مشعل راہ بنا کر ان باطل قوتوں سے ٹکرانے اور اسلام کا پرچم سربلند رکھنے کیلئے عزمِ نو کرنا چاہیے۔ سانحہ ¿ کربلا جہاں ہمیں غمگین و دلگیر کرتا ہے‘ وہیں ہنود و یہود و نصاریٰ پر مبنی باطل قوتوں کیخلاف ڈٹ جانے کا درس بھی دیتا ہے۔ آج وطنِ عزیز جس طرح چاروں جانب سے ان باطل قوتوں کے نرغے میں ہے‘ جن کے مکروہ عزائم اور منصوبہ بندیوں سے ملک کی سالمیت کو سنگین خطرات لاحق ہو چکے ہیں‘ طاغوتی طاقتوںکی ان تمام گھناﺅنی سازشوں کو جذبہ حسینیت کی بنیاد پر ہم اتحاد و یکجہتی ¿ ملت کا عملی مظاہرہ کرکے ہی ناکام بنا سکتے ہیں۔ اگر ساری باطل قوتیں اپنی صف بندی کرکے مسلم امہ کی قیادتوں کو صفحہ¿ ہستی سے مٹانے کے درپے ہو گئی ہیں تو اسلام کے نشاة ثانیہ کے تحفظ اور پرچم اسلام کی سربلندی کیلئے اب مسلم امہ کو بھی خواب خرگوش سے جاگ جانا چاہیے اور مصلحتوں کے لبادے اتار کر باطل قوتوں کے مقابلے میں مسلم امہ کے اتحاد کیلئے عملی پیش رفت کرنی چاہیے۔
ایٹمی قوت ہونے کے ناطے مملکتِ خداداد پاکستان بلاشبہ پوری مسلم امہ کے تحفظ کا ضامن ہے اور اسی بنیاد پر شیطان امریکہ کی سرپرستی میں طاغوتی طاقتیں پاکستان کی سلامتی کے درپے ہیں۔ اس تناظر میں پوری مسلم امہ کو اپنی سلامتی کے تحفظ کی خاطر پاکستان کی سلامتی کے تحفظ و دفاع کیلئے یکسو ہو کر اسلامیانِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہونا چاہیے۔ بدقسمتی سے ہمارے جرنیلی اور سول حکمرانوں نے اپنی مصلحتوں کی بنا پر اس خطہ میں امریکہ کے فرنٹ لائن اتحادی کا کردار قبول کرکے باطل قوتوں کے اس سرپرست کو غلبہ حاصل کرنے کا خود ہی موقع فراہم کیا تھا جو ان سے اپنے مفادات کی تکمیل کراتے کراتے اب پاکستان کی سالمیت کے ہی درپے ہو گیا ہے۔ ہماری سرزمین پر امریکہ کے ایبٹ آباد اپریشن سے مہمند ایجنسی کی سلالہ چیک پوسٹوں پر نیٹو فورسز کے حملہ تک کے افسوسناک واقعات اور ہمیں دبائے رکھنے کی امریکی حکمت عملی کے تناظر میں آج جذبہ¿ جہاد کو اجاگر کرکے سیدالشہداءامام حسینؓ کے نقش قدم پر چلنا ہمارے لئے اور بھی ضروری ہو گیا ہے۔ اگرچہ نیٹو حملوں کےخلاف پاکستان کی حکومتی اور عسکری قیادتوں کے سخت مو¿قف اور فیصلوں کے باعث آج امریکی صدر اوبامہ بھی مہمند ایجنسی کے حملوں کو غیرارادی قرار دیکر ان میں پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کی شہادتوں پر اظہار افسوس کرنے پر مجبور ہوئے ہیں اور امریکی سفیر کیمرون منٹر نے بھی گزشتہ روز ”وقت نیوز“ کو اپنے خصوصی انٹرویو میں دہشت گردی کے خاتمہ کی جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کی ستائش کرتے ہوئے پاکستان امریکہ کشیدگی کے خاتمہ کی ضرورت پر زور دیا ہے جن کے بقول پاکستان کی جانب سے بون کانفرنس کے بائیکاٹ سے امریکہ کو سخت مایوسی ہوئی ہے۔ تاہم انکے زبانی جمع خرچ کے باوصف پاکستان کی سالمیت کیخلاف امریکی جارحانہ عزائم میں کوئی کمی نظر نہیں آتی۔ امریکی ری پبلکن سینیٹر جان مکین آج بھی آئی ایس آئی پر حقانی نیٹ ورک کی معاونت کا الزام لگا رہے ہیں اور عندیہ دے رہے ہیں کہ مہمند ایجنسی میں نیٹو حملے کے بعد پاکستان اور امریکہ کے مابین جنگ کی سی کیفیت پیدا ہو چکی ہے۔ اسی طرح امریکی پینٹاگون کی جانب سے بھی پاکستان کےساتھ امریکی کشیدگی کی تصدیق کرتے ہوئے دنیا کو باور کرایا جا رہا ہے کہ پاک فوج کے ساتھ تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں۔ امریکی فوجی اور سول حکام کی جانب سے نیٹو حملوں پر افسوس کے اظہار کےساتھ ساتھ یہ باور کرانے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے کہ پاکستان کےساتھ اب پہلے جیسے تعلقات برقرار نہیں رہ سکتے۔ یہ امریکی سوچ پاکستان کی سالمیت کیخلاف انکے جارحانہ عزائم کی ہی غمازی کرتی ہے اس لئے باوجود اسکے کہ امریکہ کی جانب سے 11 دسمبر تک شمسی ایئربیس کو مکمل خالی کرنے کا یقین دلایا جا رہا ہے‘ ہمیں اپنی سالمیت کے تحفظ و دفاع کیلئے ہمہ وقت مستعد و چوکنا رہنا پڑیگا۔
اس تناظر میں ملک کی حکومتی اور عسکری قیادتوں نے اپنی پالیسیوں‘ فیصلوں اور اقدامات کے ذریعے بلاشبہ امریکہ کو دوٹوک اور سخت جواب دیا ہے تاہم ان سارے اقدامات پر قائم رہنے اور خود کو امریکی مفادات کی جنگ سے مکمل طور پر باہر نکالنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اب نہ نیٹو کو سپلائی کیلئے راہداری دینی چاہیے‘ نہ اپنے کسی بھی ایئربیس کو امریکہ کے زیر استعمال رہنے دینا چاہیے اور نہ ہی اب کسی امریکی ڈرون کو پاکستان کی آزاد سرزمین کے اندر اڑان بھرنے اور میزائل حملے کرنے کی جرا¿ت ہونی چاہیے۔ صدر زرداری نے اگر ملک کی سالمیت کو درپیش خطرات سے عہدہ برا¿ ہونے کے تقاضوں کے تحت پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کا فیصلہ کیا ہے تو اس فورم کو انہیں اپوزیشن پر چڑھائی اور اپنی پارٹی کی سیاست چمکانے کیلئے استعمال کرنے اور ٹکراﺅ پر مبنی حکومتی پالیسی کے تحت فوج اور عدلیہ کے مدمقابل لانے سے بہرصورت گریز کرنا چاہیے۔ ملک کی موجودہ‘ نازک اور سنگین صورتحال سیاسی محاذ آرائی کی متحمل نہیں ہو سکتی اسلئے صدر مملکت اپنی آئینی ذمہ داریوں کے تقاضوں کے تحت قومی اتحاد و یکجہتی کیلئے اپنا کردار بروئے کار لائیں اور اپنے خطاب میں ملک کی سالمیت کو لاحق بیرونی خطرات کو ہی فوکس رکھیں۔ آج یوم عاشور کا ان کیلئے یہی پیغام ہے کہ وہ ملک کی سلامتی اور اسلام کی سربلندی کی خاطر باطل قوتوں کے آگے ڈٹ جانے کی پالیسیوں پر کاربند رہیں اور ملک میں سیاسی اور دفاعی عدم استحکام کا کوئی تاثر پیدا نہ ہونے دیں‘ ورنہ امریکہ ہی نہیں‘ ہمارا ازلی مکار دشمن بھارت بھی ہمارا شیرازہ بکھیرنے کیلئے تلا بیٹھا ہے جو ہنود و یہود و نصاریٰ پر مبنی یزیدی باطل قوتوں کا مشترکہ ایجنڈہ ہے۔
بھارتی آبی جارحیت سے نمٹنے کیلئے جنگ سے بھی گریز نہ کیا جائے
بھارت آبی جارحیت کے تحت پاکستان کو ریگستان بنانے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے‘ اس منصوبے کے تحت وہ مقبوضہ کشمیر میں 60 چھوٹے بڑے ڈیم بنا رہا ہے جبکہ دریائے سندھ پر تین ڈیموں کی تعمیر کا کام تیز کردیا گیا ہے۔
بھارت نے پاکستان کو صحرا میں تبدیل کرنے پر کام تیزی سے شروع کر رکھا ہے‘ مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کی طرف سے آنیوالے دریاﺅں پر 60 چھوٹے بڑے ڈیم تعمیر کئے جا رہے ہیں‘ اسی طرح دریائے سندھ پر تین ڈیموں کی تعمیر کا کام تیزی سے تکمیل کے مراحل میں داخل ہو رہا ہے۔ بگلیہار ڈیم سے بھارت 25 روز تک چناب کے پانی کو روک سکے گا اور غیرقانونی ڈیموں کے خودکار گیٹ کھول کر پاکستان کو 48 گھنٹوں میں ڈبو سکتا ہے اور اسی طرح سارے گیٹ بند کرکے پاکستان پر قحط اور خشک سالی کا بم گرا سکتا ہے۔ دونوں صورتوں میں پاکستان تباہی کے دہانے پر ہے۔ 19 ستمبر 1960ءکو ہونیوالے سندھ طاس معاہدے کو بھارت سبوتاژ کر چکا ہے‘ تو پھر کیوں نہ ہم بھی تمام مصلحتوں اور معاہدوں کو چھوڑ کر بھارت کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کیلئے میدان میں نکلیں‘ ہماری حکومت بھارت کو پسندیدہ ترین قرار دینے کے درپے ہے جبکہ بنیا کے عزائم ہمیں نیست و نابود کرنے کے ہیں۔ گزشتہ روز پاکستان نے کہا ہے کہ وہ بھارت کیخلاف پانی کے مسئلے پر اقوام متحدہ میں جائیگا۔ اقوام متحدہ میں جانا صرف وقت کا ضیاع ہے۔ 63 سال سے مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر موجود ہے لیکن آج تک اس مسئلے کا کوئی حل نہیں نکلا تو پانی والا مسئلہ بھی جوں کا توں پڑا رہے گا اور بھارت ڈیم مکمل کرلے گا۔ اس لئے پاکستان سب سے پہلے کالا باغ ڈیم سمیت دیگر چھوٹے ڈیموں پر کام شروع کرے۔ عوام اپنا پیٹ کاٹ کر بھی اسکے اخراجات برداشت کرنے کیلئے تیار ہیں۔ بھارت کو قوت بازو سے ڈیموں کی تعمیر سے روکا جائے۔ اگر وہ باز نہ آئے تو ایٹمی جنگ سے بھی گریز نہ کیا جائے کیونکہ اسکے علاوہ اس کا کوئی حل نہیں ہے۔
اثاثوں کی چھان بین کیلئے سپریم کورٹ بہترین فورم ہے
تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے اپنے اثاثوں کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے چیلنج کیا ہے کہ اگر صدر زرداری، وزیر اعظم گیلانی اور نواز شریف نے اپنے اثاثوں کی تفصیل قوم کے سامنے پیش نہ کی تو تحریک انصاف ان کےخلاف سڑکوں پر آ جائےگی جبکہ اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن میں انکے اثاثے متنازعہ ہیں۔پاکستان کا اگر دیگر ممالک سے ٹیکس کے سلسلے میں موازنہ کیا جائے تو پاکستانی عوام کی ٹیکس دینے کی صورتحال انتہائی مایوس کن ہے، سیاستدان اور حکمران اپنے اصل اثاثوں کو ظاہر نہیں کرتے۔ الیکشن کمیشن کے پاس کم اثاثے ظاہر کرکے گوشوارے جمع کروائے جاتے ہیں۔ گزشتہ روز عمران خان نے پریس کانفرنس میں اپنے اثاثے ظاہر کیے اور اعلان کیا کہ اگر صدر، وزیر اعظم اور میاں برادران اپنے اثاثے ظاہر نہیں کریں گے تو ان کے خلاف سڑکوں پر دما دم مست قلندر ہو گا۔ جواباً میاں شہباز شریف نے کہا کہ جسے میرے اثاثوں پر شک ہے وہ عدالت جائے، میں عدلیہ کا سامنا کرنے کو تیار ہوں جبکہ انکے بیٹے سلمان شہباز شریف نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں اپنے کاروبار اور اثاثوں کے متعلق جوابات دے کر مخالفین کے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے۔ گویا ایک مرتبہ پھر اثاثوں کی چھان بین اور ٹیکسوں کی ادائیگی کے معاملہ میں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کی سیاست کو پروان چڑھانے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جس سے سیاسی ماحول مکدّر ہو سکتا ہے۔چوہدری نثار نے تو عمران خان کے گزشتہ روز ظاہر کئے جانےوالے اثاثوں کے متعلق بھی کہا ہے کہ وہ متنازعہ ہیں تو اس لئے ضروری ہے کہ تمام سیاستدان سپریم کورٹ کے روبرو اپنے اپنے اثاثے ظاہر کریں۔ یہی اس کا بہترین حل ہے۔ سیاستدانوں کے دامن کرپشن لوٹ مار اور اقرباپروری سے پاک ہونے چاہئیں، کیونکہ بیرونی دنیا میں وہ معاشرے کے ترجمان ہوتے ہیں اگر ان پر ہی انگلیاں اٹھائی جائیں گی تو عوام کا پھر اللہ حافظ ہے۔ سیاسی پارٹیوں کے سربراہان اپنے ایم این اے اور ایم پی اے حضرات کے اثاثوں پر بھی نظر رکھیں کہ سیاست میں آنے سے پہلے کتنے تھے اور اس میں کتنا اضافہ ہوا۔ ٹیکس کتنا دیا گیا، یقینی طور پر اگر یہ کام شروع ہو جائے تو ملک سے بہت جلد کرپشن اور لوٹ مار کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ تمام سیاسی رہنما اپنی اپنی جماعتوں میں کرپشن کی حوصلہ شکنی کریں اور ٹیکس کلچر کو فروغ دیں تاکہ کوئی بھی مخالف سیاستدان ان پر انگلی نہ اٹھا سکے۔
افغانستان میں امریکی اڈوں پر روسی تشویش
روسی صدر کے نمائندے نے کہا ہے کہ افغانستان میں اڈے بنانے کے امریکی ارادوں سے ہمارے مفادات خطرے میں ہیں، افغان سیکورٹی ادارے تاحال سلامتی پوری طرح یقینی بنانے کے قابل نہیں۔
روس کے خدشات وہی ہیں جو ہمارے ہیں، امریکہ کو آخر افغانستان میں اڈے بنانے کی کیوں ضرورت پیش آ رہی ہے۔ شاید اس لئے کہ پاکستان نے شمسی ایئر بیس خالی کرانے کی ڈیڈ لائن دے دی ہے اور اسکے علاوہ ہمارا شہباز ایئر بیس اور جیکب آباد ایئر بیس بھی امریکہ کے قبضے میں ہے، جو بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں نے خود انکے حوالے کئے ہیں۔ امریکہ کو معلوم ہے کہ پاکستانی اڈے زیادہ دیر اس کی تحویل میں نہ رہ سکیں گے‘ اس لئے اس نے اس خدشے کا سدباب کرنے کےلئے پاکستان، روس، چین اور ایران کو فکس اَپ کرنے کےلئے مناسب سوچا ہے کہ افغانستان میں مستقل ایئر بیس بنائے جائیں، روس جو امریکہ کا ڈسا ہوا ابھی تک پانی مانگنے کے قابل نہیں، ہر گز افغانستان میں مستقل امریکی اڈوں کے قیام پر راضی نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ خطرات محسوس کرنے لگا ہے، اس طرح یہ اڈے پاکستان کو نشانہ بنانے کےلئے نہایت مفید ثابت ہوں گے اور ایران بھی ان کی زدّ میں آئےگا، یہ معاملہ بہت گھمبیر ہے اور روس، پاکستان ،ایران کو یہ معاملہ سلامتی کونسل میں لے جانا چاہیے اور براہ راست بھی امریکہ کو ایسے عزائم سے باز رکھنے کےلئے سفارت کاری کی جائے، یہ اڈے روکے جا سکتے ہیں بشرطیکہ یہ چاروں ممکنہ متاثرہ ممالک یکجا ہو کر کوئی لائحہ عمل طے کر لیں وگرنہ انجام وہی ہو گا جس کا خدشہ روس نے ظاہر کیا ہے، چین اگرچہ ہنوز خاموش ہے لیکن اسے صورتحال کے خطرناک ہونے سے آگاہ کیا جا سکتا ہے۔روس، پاکستان، چین اور ایران چاروں افغانستان میں مستقل امریکی اڈوں سے متاثر ہو سکتے ہیں، کیونکہ امریکہ یہ اڈے کس لئے اور کن کےلئے بنا رہا ہے جن کو وہ اپنے ہدف تلے رکھنا چاہتا ہے۔ روس نے بروقت ایک انتہائی تشویشناک نکتہ اٹھایا ہے اس لئے اس سے غفلت امریکہ کا نشانہ بننے کے مترادف ہو گا۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں