یوم یکجہتی کشمیر..... ہائوس آف لارڈز میں نوائے وقت گروپ کی کشمیر کانفرنس
ـ 5 فروری ، 2010
برطانوی ہائوس آف لارڈز لندن میں نوائے وقت گروپ اور ہائوس آف لارڈز کے آل پارٹیز پارلیمانی گروپ کے زیر اہتمام مشترکہ طور پر منعقد ہونیوالی کشمیر کانفرنس میں ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جب تک کشمیر کا مسئلہ منصفانہ طور پر حل نہیں ہو گا‘ اس وقت تک جنوبی ایشیاء میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بین الاقوامی برادری کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا حق خودارادیت دلوائے۔ قرارداد میں باور کرایا گیا ہے کہ امن کی آشا کی تحریک اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی‘ جب تک کشمیریوں کو ان کا حق خوداختیاری نہیں دے دیا جاتا۔ پاکستان اور بھارت کے مابین کوئی دو طرفہ مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے‘ جسے حل کرنے کیلئے اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ قرارداد میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ اقوام متحدہ اپنا ایک خصوصی نمائندہ مقرر کرے‘ جو مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے یو این قراردادوں پر عملدرآمد کرائے کیونکہ جنوبی ایشیاء اور پورے خطے میں امن صرف کشمیر کا مسئلہ حل کرنے سے ہی قائم ہو گا۔ اس مسئلہ کے مستقل حل کیلئے کشمیریوں کو بھی مذاکرات میں شامل کیا جائے۔
یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر جو آج کشمیر اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں منایا جا رہا ہے اور اس موقع پر کشمیری عوام کے حق خودارادیت کیلئے انکے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جائیگا۔ برطانیہ کے ہائوس آف لارڈز میں نوائے وقت گروپ اور آل پارٹیز پارلیمانی گروپ کی جانب سے کشمیر کانفرنس کا انعقاد ایک بہت بڑا کارنامہ ہے‘ جس سے عالمی برادری میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے اور یو این قراردادوں کی بنیاد پر اس مسئلہ کے حل کی راہ ہموار کرنے میں مدد ملے گی۔ اس کانفرنس کے انعقاد میں لارڈز نذیر نے بنیادی کردار ادا کیا جن کی کوششوں سے برطانوی ہائوس آف لارڈز کی شکل میں ایک ایسا مؤثر پلیٹ فارم میسر آگیا جس کے ذریعہ کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے ساتھ ساتھ دنیا کو مسئلہ کشمیر کی اہمیت اور اسکے فوری حل کی ضرورت کا بھی مؤثر انداز میں احساس دلایا گیا ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنماء احسن اقبال کے علاوہ برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن اور برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان لارڈ نذیر‘ جان ہیمنگ‘ راب فلسیلو‘ جبرالڈنوف‘ ڈاکٹر برائن آئیڈن اور نیون میک میگرٹ نے یو این قراردادوںکی روشنی میں مسئلہ کشمیر کے حل کی ضرورت پر زور دیکر اس دیرینہ مسئلہ پر ہمارے اصولی مؤقف کو تقویت پہنچائی ہے۔ کانفرنس میں بھارتی افواج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور کشمیری عوام میں جاری ظلم و تشدد کا عالمی برادری کو سخت نوٹس لینے پر زور دیا گیا اور بھارت کی جانب سے پاکستان کے دریائوں کا پانی روکنے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے باور کرایا گیا کہ بھارت پاکستان کا پانی روک کر خطے میں کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے‘ اسے سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے حصے کا پانی فوری طور پر فراہم کرنا چاہئے اور کشمیر سے نکلنے والے دریائوں پر ڈیموں کی تعمیر فی الفور روک دینی چاہئے۔
یہ حقیقت ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین کشمیر ہی واحد تنازعہ ہے جو خود بھارت نے کشمیر پر اپنی اٹوٹ انگ کی ہٹ دھرمی کے باعث پیدا کیا ہے۔ پہلے بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو کشمیر پر اپنا کیس لیکر خود اقوام متحدہ گئے تھے‘ جبکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اپنی دو مختلف قراردادوں کے ذریعہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کو تسلیم کیا اور بھارت کو کشمیر میں استصواب کا اہتمام کرنے کی ہدایت کی مگر مکار ہندو بنیاء نے اپنے خبث باطن کی بنیاد پر یو این قراردادوں پر عملدرآمد کے بجائے مقبوضہ کشمیر پر اپنا تسلط جمانے کیلئے وہاں اپنی سات لاکھ فوجیں داخل کر دیں اور حق خودارادیت کیلئے جدوجہد کرنیوالے کشمیری عوام پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑنا شروع کر دیئے۔
اصولی طور پر تقسیم ہند کے فارمولے کے تحت تقسیم ہند کے وقت ہی کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق ہو جانا چاہئے تھا جو بانی ٔ پاکستان قائداعظمؒ کے فرمان کے مطابق شہ رگ پاکستان ہے اور پاکستان کا ’’ک‘‘ کشمیر ہی کے حوالے سے پاکستان کے نام میں شامل کیا گیا ہے۔ پانی جغرافیائی اور نظریاتی حوالے سے کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے بغیر پاکستان کا وجود ادھورا رہے گا جبکہ مکار ہندو بنیاء کے ہاتھوں پاکستان کی سالمیت بھی ہمیشہ خطرات میں گھری رہے گی کیونکہ کشمیر جنت نظیر پاکستان کے اقتصادی استحکام اور ترقی و خوشحالی کی بھی ضمانت ہے جسکی جانب سے آنیوالے دریا ہماری دھرتی کو سیراب کرتے ہیں۔ ہمارے مکار دشمن کے ہاتھ میں یہی ایک ایسا ہتھیار ہے‘ جس کی بنیاد پر وہ ہماری سالمیت کو چیلنج کرتا رہتا ہے۔ چنانچہ اسکی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہماری جانب آنیوالے دریائوں پر 62 سے زائد ڈیم تعمیر کرکے ہمارے حصے کا پانی روکنا اور اس تناظر میں ہمارے خلاف آبی دہشت گردی کا مرتکب ہونا بھی ہماری سالمیت کو پارہ پارہ کرنے کی مذموم بھارتی منصوبہ بندی کا ہی حصہ ہے جبکہ یو این قراردادوں کیمطابق مسئلہ کشمیر حل ہونے سے بھارت کو ہماری سالمیت پر وار کرنے کا موقع نہیں مل سکے گا اور پھر پرامن بقائے باہمی کے آفاقی اصول کی بنیاد پر پاکستان اور بھارت کے مابین دوستانہ مراسم بھی استوار ہو سکتے ہیں جس سے اس خطہ کیساتھ ساتھ عالمی امن کے قیام کی ضمانت بھی مل جائیگی۔ اس پس منظر میں مسئلہ کشمیر کا کشمیری عوام کی امنگوں اور یو این قراردادوں کی روشنی میں حل ہی علاقائی اور عالمی امن کی ضمانت بن سکتا ہے اور ہماری سالمیت کیخلاف بھارتی خبث باطن کے اظہار اور امریکی سرپرستی میں اسکی توسیع پسندانہ جنگی تیاریوں کی وجہ سے ایٹمی جنگ کا جو خطرہ لاحق ہے‘ وہ بھی ٹل جائیگا۔ بھارت کیساتھ ہمارا پانی کا تنازعہ بھی مسئلہ کشمیر حل نہ ہونے کی وجہ سے ہی پیدا ہوا ہے‘ جس کے بارے میں ہماری پارلیمنٹ کی خصوصی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمٰن نے بجا طور پر یہ باور کرایا ہے کہ بھارت مسئلہ کشمیر کو پانی کی جنگ میں تبدیل کرنا چاہتا ہے جبکہ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین طلحہ محمود نے بھی اسی خدشہ کا اظہار کیا ہے کہ بھارت ہمارا پانی بند کرکے پاکستان کو قحط کا شکار بنانا چاہتا ہے‘ اسلئے پانی کے مسئلہ پر پاکستان اور بھارت میں ایٹمی جنگ ہو سکتی ہے‘ کیونکہ ہم نے ایٹم بم پوجا کرنے کیلئے نہیں‘ اپنی سالمیت کے تحفظ کیلئے بنایا ہے۔
اس صورتحال میں ایٹمی جنگ کی تباہ کاریوں سے بچنے اور عالمی و علاقائی امن کو یقینی بنانے کیلئے جہاں پوری عالمی برادری کو ہماری سالمیت کیخلاف بھارتی جنونیت کو روکنے کیلئے اس پر دبائو ڈالنا چاہئے وہاں اقوام متحدہ کو بھی مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کرانے کے موثر اقدامات کرنا چاہئیں۔ اسی طرح ہماری حکوت کو بھی مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے دیرینہ اور اصولی مؤقف میں کوئی کمزوری پیدا نہیں ہونے دینی چاہئے اور یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے پوری دنیا کو یہ واضح پیغام دینا چاہئے کہ ہمارے دل کشمیری عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور کشمیر ہمارا جزو لاینفک ہے جس پر مکار ہندو بنیاء کا تسلط برقرار رہے گا تو اس ایشو پر دو طرفہ مذاکرات کامیاب ہو سکیں گے‘ نہ علاقائی اور عالمی امن کی ضمانت مل سکے گی۔ اگر دنیا کو عالمی امن مطلوب ہے اور ایٹمی جنگ کا خطرہ ٹالنا ہے تو پھر بھارت کو یو این قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کی راہ پر لانا ہو گا ورنہ یہ حقیقت ہے کہ ہم نے ایٹم بم شو کیس میں سجانے کیلئے حاصل نہیں کیا‘ کشمیر اور پانی پر جنگ ہو گی تو وہ ایٹمی جنگ ہی ہو گی۔
ڈاکٹر عافیہ ‘ مجرم قرار دیدی گئیں؟
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیخلاف امریکی عدالت میں چلائے جانیوالے مقدمہ میں عام امریکی شہریوں پر مشتمل جیوری کے 12 ارکان نے متفقہ طور پر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو سات الزامات کا مجرم قرار دیدیا۔ ان پر بنیادی الزام یہ لگا کہ انہوں نے ایف بی آئی ایجنٹ اور دیگر امریکی شہریوں کو قتل کرنے کی نیت سے ایم فور رائفل سے دو گولیاں چلائی تھیں‘ باقی چھ الزامات بھی اس مرکزی الزام کا حصہ ہیں جن میں گرفتاری کے وقت مزاحمت کرنا بھی شامل ہے‘ امریکی عدالت میں استغاثہ نے خود تسلیم کیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر جس رائفل کے ذریعہ فائرنگ کرنے کا الزام ہے‘ اس پر انکے فنگر پرنٹ بھی نہیں ہیں اور نہ ہی اس میں استعمال شدہ کارتوسوں کے خول محفوظ کئے گئے ہیں۔ امریکی عدالتوں میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو القاعدہ لیڈی کہا جاتا رہا ہے‘ امریکی معاشرہ میں غیرملکی افراد کو سزا دینے کیلئے انہیں دہشت گرد اور ملزم مشہور کیا جاتا ہے۔ ایک امریکی محاورہ ہے کہ ’’پہلے کسی کو پاگل مشہور کرو اور پھر مار ڈالو‘‘ امریکی میڈیا میں ایک کمزور سی خاتون کو جو کہ ڈاکٹر ہے‘ صرف اس تعصب کی وجہ سے کہ وہ مسلمان ہے‘ تین برسوں سے القاعدہ لیڈی کہا جا رہا ہے۔ امریکی میڈیا اسکے بارے میں من مانی کہانیاں بیان کر رہا ہے اور امریکی جیوری نے کسی ثبوت کا ملاحظہ کئے بغیر محض پروپیگنڈہ اور تعصب کے زور پر اس مظلوم خاتون کو ملزم قرار دے دیا۔ امریکی شہریوں نے اس مشرقی خاتون جو کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے‘ اپنے ہاں کی جرائم پیشہ خواتین کی طرح کی ہی ایک خاتون سمجھ کر اسے مجرم بھی قرار دے دیا ہے۔ اس سے دنیا بھر کے مسلمانوں کو اندازہ ہو جانا چاہئے کہ امریکی شہری مسلمان ’خواہ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ایک خاتون ہی کیوں نہ ہو‘ سے بھی خوفزدہ ہوتے ہیں اور انکی کوشش ہے کہ مسلمانوں کو دنیا بھر سے ختم کر دیا جائے۔ عراق‘ افغانستان کے بعدوہ پاکستان کے عوام کو بھی اپنے مشق ستم کا نشانہ بنانے کے درپے ہے اور پاکستان کے ساتھ ایران پر بھی آنکھیں جمائے بیٹھا ہے۔ عرب اسلامی ممالک سب کے سب امریکی اثر و نفوذ کے زیر اثر ہیں‘ انکے تیل پر امریکہ کا کنٹرول ہے‘ وسط ایشیاء کی مسلمان ریاستوں کو ڈالر دکھا کر وہاں اڈے حاصل کرلئے گئے ہیں۔ مسلمان ملکوں میں اب پاکستان ایٹمی قوت اور ایران متوقع ایٹمی قوت ہے‘ امریکہ ان دونوں ممالک میں ہر قسم کی ایٹمی صلاحیت کو ختم کرکے انہیں بھارت کے ہاتھوں تباہ کرانا چاہتا ہے۔ بات ایک عورت کی نہیں‘ ایک بیٹی کی ہے‘ غیرت کی ہے‘ مسلمانوں کی آن اور شان کی ہے‘ دیکھنا یہ ہے کہ اب اس خاک کے ڈھیر میں کوئی چنگاری بھی بچی ہے یا نہیں‘ جو ملک اپنی بیٹی اور اپنی غیرت کی حفاظت نہیں کر سکتے‘ وہ اپنی ایٹمی قوت‘ اپنی سرزمین اور اپنے عوام کی کیا حفاظت کر سکیں گے؟ وہاں ایک ایک دن میں بے شمار ڈرون حملے ہو سکتے ہیں‘ امریکی میزائل بے گناہ قبائلیوں کی ٹارگٹ کلنگ کر سکتے ہیں۔ اسکے حکمران اس لئے خاموش ہیں کہ وہ اس مار ڈھاڑ کے بدلے میں ملنے والے ڈالروں کو اپنے غیرملکی اثاثوں میں اضافہ کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔ ممکن ہے پاکستان کی بیٹی عافیہ کیلئے بھی کوئی حکمران چند ہزار ڈالر پکڑ چکا ہو۔ ڈاکٹر عافیہ کے بارے میں امریکی تعصب اور جرم بے گناہی میں اسکی سزا کیخلاف پوری امت مسلمہ کو صدائے احتجاج بلند کرنی چاہئے اور او آئی سی کو اب بے نیازی کا چغہ اتار کر مسلم امہ کیخلاف امریکی صہیونی عزائم کی راہ میں رکاوٹ بننا چاہئے۔
بھارت کی فوجی تیاریاں پاک فوج کو مستعد رہنے کی ضرورت
آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی کولڈ سٹارٹ حکمت عملی ایک جارحانہ فوجی حکمت عملی ہے جس سے ہم آنکھیں بند نہیں کر سکتے۔ بھارت کی فوجی تیاریاں بھی پاکستان کے حوالے سے ہیں۔ بھارت کی پاکستان دشمنی ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ خطے میں اگر وہ کسی ملک کو پنپتے نہیں دیکھ سکتا تو وہ پاکستان میں ہے‘ جس کیخلاف وہ تین مرتبہ جارحیت کر چکا ہے۔ کچھ غداروں کو ساتھ ملا کر پاکستان کو دولخت کر چکا ہے اور موجودہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ اب پاکستان کیخلاف آبی دہشتگردی کا ارتکاب کر رہا ہے۔ روایتی اور غیر روایتی ہتھیاروں کا انبار لگا چکا ہے‘ جس میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔ جنرل کیانی نے درست کہا کہ بھارت کی جنگی تیاریاں پاکستان کے حوالے سے ہیں‘ اگر ایسا ہے تو پاکستان اور پاک فوج اسکے مقابلے کیلئے تیار کر رہی ہیں۔ ہمارا اصل دشمن تو بھارت ہے۔ عسکریت پسند اور شدت پسند نہیں جبکہ ہماری فوج ان کیخلاف اپریشن کر رہی ہے۔ خود جنرل کیانی نے اعتراف کیا ہے کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں 8 برسوں میں نیٹو کی ہلاکتوں کی تعداد 1582 ہے۔ ہمارے صرف ایک سال میں 2273 افسر اور جوان جاں بحق ہوئے۔ نیٹو نے تو اپنی ان ہلاکتوں سے کچھ مقاصد حاصل کئے ہونگے‘ ہم نے ان سے بھی زیادہ تعداد میں اپنے فوجیوں کی قربانی دیکر کیا حاصل کیا؟ امریکہ‘ بھارت کو لگام دے سکتا ہے لیکن وہ اسے نہ صرف جدید ترین اسلحہ فراہم کر رہا ہے بلکہ پاکستان پر چڑھائی کی شہ بھی دے رہا ہے گذشتہ ماہ امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس بھارت کے دورے پر تھے۔ تو انہوں نے یہ درفنطنی چھوڑی ہے‘ ممبی حملے جیسی کارروائی دوبارہ ہوئی تو یہ بھارت کیلئے ناقابل برداشت ہو گا۔ اب امریکی سی آئی اے کی سربراہ لیون نیٹیا نے کہا ہے کہ لشکر طیبہ بھارت پر ایک اور حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
ایسی صورت میں جب بھارت پاکستان کیخلاف جارحیت کی تیاری کر رہا ہے اور امریکہ اسے تھپکی دے رہا ہے حکومت کو چاہئے کہ مغربی بازو سے اپنے لوگوں کیخلاف برسر پیکار فوج کو ہٹا کر مشرقی سرحد پر بھارت کی فوج کے سامنے لا کھڑا کیا جائے۔ شمالی علاقہ جات میں لڑی جانیوالی جنگ پاکستان کی نہیں بلکہ بھارت کوئی شرارت کرتا ہے تو وہ پاکستان کی جنگ ہو گی‘ جس کیلئے ہمہ وقت تیاری کی ضرورت ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں