نیٹو کمانڈر جنرل ایلن کا پاکستان کے اندر زمینی اور فضائی کارروائی کا عندیہ
ایساف اور نیٹو فورسز نے مشرقی افغانستان میں پاکستانی عسکریت پسندوں کےخلاف فضائی اور زمینی آپریشن کا منصوبہ بنالیا ہے۔ اس سلسلہ میں برطانوی اخبار نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں نیٹو کمانڈر جنرل جان ایلن کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں عسکریت پسندوں کو نشانہ بنانے کیلئے آپریشنز کا رخ مشرقی افغانستان کی جانب کیا جا رہا ہے۔ جنرل ایلن نے اس سلسلہ میں بتایا کہ نیٹو فورسز کی جانب سے سرحد پار زمینی اور فضائی کارروائی کا امکان مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ اخباری رپورٹ کے مطابق آئندہ دو سال میں پاکستانی عسکریت پسند گروہوں کا خاتمہ کیا جائیگا جن میں حقانی نیٹ ورک، ملا نذیر اور حافظ گل بہادر گروپ شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکی افواج ہلمند اور قندھار سے کم کرکے نیٹو فورسز مشرقی افغانستان کی جانب پیشقدمی کریں گی۔ اس سلسلہ میں پاکستانی فوج کو پیغام دیا جا رہا ہے کہ اس نے عسکریت پسندوں کے ٹھکانے ختم نہ کئے تو امریکہ یہ کام خود انجام دینے کی کوشش کریگا۔ جنرل جان ایلن نے کہا کہ وہ مشرقی افغانستان میں کارروائی کی تفصیل نہیں بتا سکتے تاہم کابل کے گرد سکیورٹی زون کا دائرہ بڑھائیں گے۔ گارڈین کے بقول مہمند ایجنسی میں ہونیوالا حملہ اسی نئی حکمت عملی کا حصہ ہوسکتا ہے۔
دہشت گردی کے خاتمہ کے نام پر مبینہ دہشت گردوں کے تعاقب کی آڑ میں پاکستان کے اندر نیٹو فورسز کی فضائی اور زمینی کارروائی کا منصوبہ نیا ہرگز نہیں بلکہ اسامہ بن لادن کیخلاف 2 مئی کے ایبٹ آباد آپریشن کی صورت میں امریکہ اس منصوبے پر عملدرآمد کا آغاز بھی کرچکا ہے جبکہ مہمند ایجنسی میں سلالہ چیک پوسٹوں پر امریکی نیٹو ہیلی کاپٹروں کے حملے کے بعد تو کسی شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں رہی کہ امریکہ افغانستان کی طرح پاکستان کو بھی تورا بورا بنانے کا نہ صرف عزم رکھتا ہے بلکہ اسکا آغاز بھی کرچکا ہے چنانچہ اپنے اس منصوبے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے وہ پاکستان کے اندر مہمند ایجنسی جیسی کارروائی کریگا تو اپنی اس جارحیت پر وہ بھلا پاکستان سے کیوں معافی مانگے گا۔ وہ تو الٹا اپنا کام آسان بنانے کیلئے منصور اعجاز جیسے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے پاکستان کی حکومت اور مسلح افواج کے مابین غلط فہمیاں پیدا کرکے انہیں آپس میں لڑانے کی مذموم سازشوں میں بھی مصروف ہے تاکہ حکومتی اور عسکری قیادتوں میں پیدا شدہ چپقلش سے فائدہ اٹھا کر وہ پاکستان کی سالمیت پر وار کرنے کے مذموم مقاصد پورے کرسکے۔ منصور اعجاز کے مبینہ قادیانی پس منظر میں اسکے سی آئی اے کا ایجنٹ ہونے اور اس ناطے سے پاکستان کی سالمیت کو کمزور کرنے کی سازشوں کے تانے بانے بُننے کے معاملہ سے صرفِ نظر نہیں کیا جاسکتا اور میمو سکینڈل سے مہمند ایجنسی کے حملے تک پاکستان امریکہ کشیدگی کے پس پردہ محرکات کا کھوج لگایا جائے تو ”کُھرا“ پاکستان کی سالمیت پر حملہ آور ہونے کی امریکی سازش کی ہی نشاندہی کرتا نظر آئیگا۔ اس صورتحال میں پاکستان کی حکومتی اور عسکری قیادتوں کو ہر حوالے سے محتاط، مستعد اور باخبر رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ امریکہ اس وقت ہر جانب سے ہمارے خلاف محاذ کھول چکا ہے۔ وہ کٹھ پتلی افغان حکومت کے ذریعہ اپنے پروردہ عسکریت پسندوں کو بھی ہماری سالمیت کیخلاف صف آراءکررہا ہے اور خود مزاحمت کار طالبان گروپوں کے ساتھ امن مذاکرات کی راہیں اختیار کرکے ہماری سکیورٹی فورسز کو انکے خلاف برسرپیکار رکھوانا چاہتا ہے تاکہ دہشت گردی کے خاتمہ کے نام پر ہماری افواج انکے ساتھ ہی الجھی رہیں اور اس صورتحال سے فائدہ اٹھا کر امریکی نیٹو افواج کو پاکستان کے اندر فضائی اور زمینی کارروائیوں کا موقع ملتا رہے۔
اس تناظر میں سابق آرمی چیف جنرل اسلم بیگ کا یہ بیان بھی نیٹو حملے کے اصل مقاصد کو بے نقاب کرتا نظر آتا ہے کہ سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو حملہ دانستہ کیا گیا ہے۔ انکے بقول وقوعہ کی رات سلالہ کے مقام پر واقع پاکستانی چوکی پر متعین فوجیوں نے تحریک طالبان ولی الرحمن اور فضل اللہ گروپ کے پچاس کے لگ بھگ ایسے عسکریت پسندوں کو اپنے گھیرے میں لے لیا تھا جو پاکستان دشمن کارروائیوں میں مصروف تھے۔ چنانچہ نیٹو اور امریکی طیارے ان عسکریت پسندوں کو چھڑانے کیلئے تیزی سے حرکت میں آئے اور دو پاکستانی چوکیوں کو بمباری کا نشانہ بنایا اور ان عسکریت پسندوں کو رہا کرانے کے بعد جب تک افغانستان میں محفوظ جگہ پر نہ پہنچا دیا گیا، پاکستان کی چیک پوسٹوں پر حملے جاری رکھے گئے۔
اگر مہمند ایجنسی میں نیٹو حملے کا یہی پس منظر ہے تو کیا اس سے امریکہ کا مکروہ چہرہ کھل کر سامنے نہیں آجاتا؟ تحریک طالبان کے یہی تو وہ گروپ ہیں جن کو ساتھ ملا کر امریکہ طالبان گروپوں کے ساتھ امن مذاکرات کے ذریعے افغانستان سے نیٹو فورسز کی محفوظ واپسی کا راستہ چاہتا ہے جبکہ انہی طالبان گروپوں کو وہ ایبٹ آباد آپریشن کے بعد افغانستان کے اندر سے پاکستانی چیک پوسٹوں پر حملوں کیلئے استعمال کررہا ہے جس پر پاکستان کی جانب سے کرزئی حکومت اور نیٹو فورسز سے باضابطہ احتجاج بھی کیا جاچکا ہے۔ امریکہ پہلے اپنے پروردہ طالبان کے ذریعے پاکستان کی چیک پوسٹوں کو بالواسطہ نشانہ بنا رہا تھا جبکہ مہمند ایجنسی پر وہ براہ راست اسلئے حملہ آور ہوا کہ جنرل اسلم بیگ کے بقول امریکہ کے آلہ کار افغان طالبان پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے قابو آگئے تھے جنہیں زندہ بچا کر لے جانا مقصود تھا کہ کہیں وہ اپنی حراست کے دوران پاکستان کی سالمیت پر حملہ آور ہونے کی امریکی منصوبہ بندی سے متعلق سارے راز نہ اگل دیں۔
نیٹو کمانڈر جنرل جان ایلن تو پاکستان کے اندر باقاعدہ زمینی کارروائی کیلئے نیٹو فورسز کو مستعد کرکے افغانستان میں جاری انکے آپریشن کی سمت بھی تبدیل کرچکے ہیں اور اب یہ آپریشن مشرقی افغانستان میں پاک افغان سرحد کے قریب منتقل ہوچکا ہے تاکہ جیسے ہی کوئی نادر موقع دستیاب ہو، نیٹو فورسز کی پاکستان کے اندر زمینی اور فضائی کارروائی کیلئے انہیں کسی دِقّت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ یقینا اسی منصوبہ بندی کے تحت پاکستان اور افغانستان کیلئے برطانوی خصوصی نمائندے مارک سیڈول نے بھی پاکستان کو یہ باور کرانا ضروری سمجھا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے دہشت گردوں کے مراکز کے خاتمہ کیلئے اقدامات بروئے کار لائے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز تو شائد پاکستان کی سالمیت کیخلاف امریکی جارحیت کا ارتکاب کرانے کیلئے بہت جلدی میں ہے جس کی حالیہ اشاعت میں ایک خصوصی مضمون کے ذریعہ امریکی پینٹاگون اور واشنگٹن انتظامیہ کو مشورہ دیا گیا ہے کہ انہیں اب روس کے ذریعہ نیٹو فورسز سپلائی لائن فعال بنانی چاہئے تاکہ اس سے نیٹو فورسز کی سکیورٹی میں بہتری آنے کے ساتھ ساتھ اسلام آباد کو یہ پیغام بھی مل سکے کہ واشنگٹن اسکا محتاج نہیں۔
اس صورتحال میں اب کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہونی چاہئے کہ امریکہ اب پاکستان کی دھرتی کو بھی افغان یا عراق دھرتی جیسے انجام سے دوچار کرنے کیلئے تلا بیٹھا ہے اس لئے ہماری حکومتی اور عسکری قیادتوں کو امریکی فرنٹ لائن اتحادی والے اپنے کردار کے باب کو مستقل طور پر بند کردینا چاہئے اور امریکہ کو پاکستان کا حقیقی دشمن قرار دیکر اسکے جارحانہ عزائم کا ٹھوس اور بروقت توڑ کرنے کی جامع منصوبہ بندی کرلینی چاہئے۔ اس وقت ملک کی سالمیت ہی ہماری اوّلین ترجیح ہے جس میں کسی مصلحت، مجبوری اور مفاد کو آڑے نہیں آنے دینا چاہئے۔ امریکہ بہادر ایران کو بھی جوہری طاقت بننے کی سزا دینے کی سوچ رہا ہے۔اس کا مطلب یہی لیا جاسکتا ہے کہ وہ دنیائے اسلام کے خلاف تلا بیٹھا ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتا کہ اس طرح اس کا اپنا کیا حشر ہوگا!
پہلے ملکی عدالتوں کو تو تسلیم کریں
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق نے کہا ہے کہ پاکستان کی سالمیت و خود مختاری پرکوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ حکومت نیٹو حملے کا معاملہ عالمی عدالت میں لے جائےگی جبکہ وزیراعظم گیلانی نے کہا ہے کہ میمو سکینڈل انکوائری کا سامنا کرنے کو تیار ہوں۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے میمو سکینڈل کی صاف شفاف تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ کے دروازے پر دستک دی کیونکہ انکے بقول پارلیمنٹ اور حکومت اپنا وقار کھو چکی ہے اس پر پیپلز پارٹی کی قیادت سیخ پا ہوئی ۔ بابر اعوان ، قمرالزمان کائرہ ،خورشید شاہ اور فردوس عاشق اعوان نے اسکے ردعمل میں پریس کانفرنس کرکے شدید ردعمل ظاہر کیا اور اگلے روز گورنر پنجاب لطیف کھوسہ نے بھی میاں نواز شریف کا نام لیکر عدلیہ پر چڑھائی کی۔ حکومتی اعتراضات کی بنا پر میمو کیس تحقیقاتی کمشن کے سربراہ طارق کھوسہ نے استعفیٰ دیدیا ہے لیکن وفاقی وزیر اطلاعات کا یہ منطقی بیان سمجھ سے بالاتر ہے کہ حکومت نیٹو حملے کے معاملے کو عالمی عدالت میں لے جائیگی پہلے اپنی عدالتوں پر تو اعتماد کریں ،سپریم کورٹ کے فیصلوں پر کبھی سندھ میں احتجاج ہوتا ہے کبھی عدالت پر جانبدار ہونے کے الزامات عائد کئے جاتے ہیں، وزیراعظم سپریم کورٹ کے این آر او پر فیصلے کو ماننے سے انکار کرتے ہیں جبکہ اب وہ کہہ رہے ہیں کہ میمو سکینڈل کی انکوائری کا سامنا کرنے کو تیار ہوں۔ یہ طرفہ تماشا نہیں ؟سانحہ ایبٹ آباد کے واقعہ کی ابھی تک انکوائری مکمل نہیں ہوئی جس حکومت کو اپنی عدالتوں پر اعتماد نہیں وہ عالمی عدالتوں کے فیصلوں کو خاک تسلیم کریگی حکومت اگر ملک کا نظم و نسق چلانے میں واقعی مخلص ہے تو اسے سب سے پہلے اپنی ہی عدالتوں کے فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بناناچاہئے ،حکومت نے پونے چار سال میں اگر سپریم کورٹ کے فیصلوں کو تسلیم کیا ہوتا تو آج وفاقی وزیر اطلاعات کی نیٹو حملوں پر عالمی عدالت جانے والی بات کو درست تسلیم کیاجاتا لیکن عدلیہ کے احترام کے حوالے سے حکومت کے ماضی کاجائزہ لیاجائے تو یہ عالمی عدالتِ انصاف جانے کی بات محض گونگلوﺅں سے مٹی جھاڑنے کے مترادف ہے، حکومت سب سے پہلے اپنی اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کو تسلیم کرے اگر ان پر عمل کیاجائے تو یقینی طورپر پاکستان کے 90فیصد بڑے مسائل دنوں میں حل ہوسکتے ہیں لیکن حکومت اس بارے میں پونے چار سال میں کچھ نہیں کرسکی اور آئندہ بھی کیا توقع کی جاسکتی ہے۔
بھارت کی افغان فوجیوں کوتربیت سے مزید مسائل جنم لیں گے
امریکہ نے افغانستان سے اپنی فوج کے انخلا کے منصوبے کو حتمی شکل دیدی ہے جبکہ بھارتی حکام نے آئندہ تین سال کے دوران30 ہزار افغان فوجیوں کو تربیت دینے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ پاکستان نے افغان فوجیوں کو تربیت دینے کی پیشکش کی تھی لیکن امریکہ نے بھارت کو ترجیح دی ہے۔ عجب ستم ظریفی ہے کہ 70لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کا بوجھ تو پاکستان برداشت کرے اور جب فوجی تربیت کا معاملہ آئے تو افغان حکومت پاکستان کے ایک روایتی دشمن کا انتخاب کرے آج بھی لاکھوں افغانی پاکستان میں پناہ گزین ہیں۔ افغان صدر حامد کرزئی خود پاکستان میں رہ چکے ہیں۔پاکستان نے افغانستان کی ہر سطح پر مدد کی ہے لیکن سابق افغان صدر ظاہر شاہ کے دور سے آج تک ماسوائے طالبان کے دو سالہ اقتدار کے افغانستان کی جانب سے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا نہیں آیا۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کیخلاف واحد ووٹ افغانستان کا تھا لیکن اس کے باوجود پاکستان نے افغانیوں کو تنہا نہیں چھوڑا۔ کچھ عرصہ قبل استنبول میں افغانستان کے حوالے سے منعقد کانفرنس میں ترکی کے صدر عبداللہ گل نے زرداری اور کرزئی کے مابین ایک ملاقات کا اہتمام کیا اس میں آرمی چیف جنرل کیانی کو بھی خصوصی طورپر مدعو کیا گیا۔جنرل کیانی نے دلائل کے ساتھ کرزئی کو باور کرایا کہ انکی بھارت نواز پالیسی سے پاکستان کے مفادات خطرے میں پڑ رہے ہیں۔افغانستان اپنی فوج کی تربیت بھارت کی بجائے پاکستان سے کرائے تو یہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہوگا دوسرا کئی اسلامی ممالک کے فوجی پاکستان ہی سے تربیت حاصل کر رہے ہیں اور افغان نیشنل آرمی کی پاکستان کی نسبت بھارت میں تربیت مہنگی بھی پڑے گی اسکے ساتھ ساتھ بھارتی فوج افغان آرمی کو تربیت کے ساتھ ساتھ پاکستان مخالف سوچ بھی منتقل کریگی جس سے مزید مسائل جنم لیں گے لیکن یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ پاکستان افغانوں کو زندہ رہنے کیلئے مکان اور روزگار مہیا کرے لیکن انکی ترجیحات پاکستان دشمن بھارت کے ساتھ وابستہ ہوں، افغانوں کی روایت ہے کہ انہوں نے آج تک کسی بیرونی طاقت کے اثرورسوخ کو قبول نہیں کیا لیکن بھارت وہاں اپنا اثرورسوخ بڑھاناچاہتا ہے جس سے خطہ کے حالات مزید گھمبیر ہوسکتے ہیں۔لہٰذا افغان صدر حامد کرزئی عقل سے کام لیتے ہوئے افغان فوجیوں کو بھارت میں تربیت کا پروگرام فی الفور ختم کردیں۔
فاروق عبداللہ اور اسفند یارولی کی بو العجبی
اسفند یارولی نے کہا ہے پاکستان اور بھارت کشمیر پر مو¿قف تبدیل کریں جبکہ فاروق عبداللہ کہتے ہیں سرحدیں ختم ہونی چاہئیں اور سابق کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر حل ہوناچاہئے بھارت میں رہتا ہوں لیکن پاکستان سے نفرت نہیں کرتا۔ سرحدیں ختم کی جاسکتی ہیں بشرطیکہ بھارت اور مقبوضہ کشمیر کے تمام ہندومسلمان ہوجائیں، فاروق عبداللہ اور اسفند یارولی کے بیان میں انیس بیس کا فرق ہے،فاروق عبداللہ اپنے والد شیخ عبداللہ کی زبان بول رہے ہیں جنہوں نے بھارت کو کشمیر آنے کی دعوت دی اور اس طرح آج کشمیر مقبوضہ کشمیر بن گیا، اگر شیخ عبداللہ ایسا نہ کرتے تو کشمیر کا مسئلہ یو این قراردادوں کی روشنی میں کب کا حل ہوجاتا، اسفند یارولی بھی اپنے والد اوردادا کے مو¿قف کو دہرا رہے ہیں کیونکہ وہ حکمرانی پاکستان میں کرتے ہیں اور نظریاتی الحاق بھارت سے ہے اور عمر عبداللہ وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے کشمیر پر بھارتی تسلط مضبوط کرنے کے اپنے والد اور دادا کے مشن کی تکمیل پر ہی مامور رہے ہیںاب اُنہیں پاکستان اچھا لگنے لگا ہے اور وہ مسئلہ کشمیر بھی حل کرنے کے متمنی ہیں تو اس میں بھی کوئی بھارتی چال ہوسکتی ہے ۔ اگر وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے متمنی ہیں تومقبوضہ کشمیر کے آزادی سے محروم کشمیریوں کی قیادت سنبھال لیں اورمسئلہ کشمیر کے حل کیلئے جہاد کشمیر کے سالار بن جائیں۔ ہم ولی خان خاندان سے عرض کرینگے کہ وہ اگر ہنوز سیکولرازم سے وابستہ اور مسئلہ کشمیر کے حل کا مو¿قف تبدیل کرنے کے خواہاں ہیں تو وہ اپنے جَل میں چلے جائیں پاکستان دو قومی اسلامی نظریے کی بنیاد پر وجود میں آیا اور کشمیر ہماری شہ رگ ہے جسے چھڑانے کیلئے ہم کچھ بھی کرسکتے ہیں کیونکہ ہماری زندگی کو خطرہ ہے یہ الٹی گنگا بہانا چھوڑ دیں کہ کُڑ کُڑیہاں اور انڈے بھارت میں۔