حکمران بھارتی کانگرس کی چیئرپرسن سونیا گاندھی نے پہلی مرتبہ بھارتی خارجہ پالیسی میں براہ راست مداخلت کرتے ہوئے پاکستان کو وارننگ دی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں دراندازی بند کرے اور ممبئی حملوں کے حوالے سے تحقیقات میں سنجیدگی دکھائے۔ انہوں نے بھارتی اخبار ’’کانگرس سنڈیشن‘‘ میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کے بارے میں لکھے گئے اپنے کالم اور گزشتہ روز نئی دہلی میں ایک میڈیا بریفنگ میں واضح کیا کہ ہمیں پاکستان کے ساتھ دہشت گردی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کبھی نادم نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ہم اپنے اس ہمسائے کے ساتھ سرحد پار سے دہشت گردی سے متعلق تصفیہ طلب امور پر ہی مذاکرات کر رہے ہیں۔ انکے بقول بھارت نے پاکستان پر واضح کردیا ہے کہ دہشت گردی کیخلاف اسکے موثر اقدامات سے ہی دونوں ممالک کے مابین اچھے تعلقات بحال ہو سکتے ہیں۔
یہ دلچسپ صورتحال ہے کہ سونیا گاندھی کو مسئلہ کشمیر کے تناظر میں پاکستان بھارت تعلقات کے بارے میں یکے بعد دیگرے اور ایک دوسرے سے متضاد دو الگ الگ بیانات جاری کرنا پڑے‘ اس سے ایک روز پہلے انہوں نے تینوں فریقین پاکستان‘ بھارت اور کشمیری عوام کے اتفاق رائے والا مسئلہ کشمیر کا حل تجویز کیا مگر اگلے ہی روز انہیں جہاد کشمیر کے حوالے سے دہشت گردی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کے روایتی بھارتی موقف کی جانب واپس لوٹنا پڑا‘ جس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ متعصب ہندو بنیاء کو اپنے کسی لیڈر کی جانب سے بنیادی تنازعات پر بات چیت کے معاملہ میں پاکستان کیلئے نرم گوشہ رکھنا کسی صورت قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے شرم الشیخ کانفرنس کے موقع پر اپنے ہم منصب وزیراعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی کے ساتھ ملاقات میں بلوچستان کے معاملات میں بھارتی ایجنسیوں کی مداخلت کے الزامات کی صرف انکوائری کرانے کا عندیہ دیا تھا کہ انہیں اپنے ملک واپس لوٹتے ہی لینے کے دینے پڑ گئے اور انہیں بھارتی اپوزیشن اور میڈیا کی جانب سے تنقید کے اتنے نشتر لگے کہ انہیں اپنے اس بیان سے لاتعلقی کا اعلان کرنا پڑا‘ اس لئے سونیا گاندھی بھی مسئلہ کشمیر کے حل سے متعلق اپنے گزشتہ روز کے بیان پر اپنی پارٹی کے انتہائی متعصب لیڈران کی تند و تیز تنقید کے نتیجہ میں ہی پسپائی پر مجبور ہوئی ہونگی جبکہ اب انہیں متعصب ہندو بنیاء کی آنکھ سے دیکھتے ہوئے جہاد کشمیر بھی دہشت گردی نظر آنے لگا ہے اور مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کی جانب سے دراندازی کا الزام بھی ازبر ہو گیا ہے۔ انکے بقول دہشت گردی کیخلاف حکومت پاکستان کے موثر اقدامات سے ہی دونوں ممالک کے مابین اچھے تعلقات بحال ہو سکتے ہیں جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ یو این قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر پاکستان اور بھارت کے مابین دوستانہ تعلقات استوار ہو سکتے ہیں‘ نہ علاقائی اور عالمی امن کی ضمانت دی جا سکتی ہے۔
سونیا جی اگر اپنے پہلے بیان پر قائم رہتے ہوئے تینوں فریقین کی رضامندی سے مسئلہ کشمیر کے حل کی راہ پر آئیں تو یہ حل کشمیری عوام کو استصواب کا حق دینے والی اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد سے ہی ممکن ہے اور یہی حل قابل قبول اور قابل عمل ہو سکتا ہے جبکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل نے یہ حل بھارت کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی درخواست پر ہی اپنی دو الگ الگ قراردادوں کے ذریعہ پیش کیا تھا جس سے بعدازاں مکار ہندو بنیاء منحرف ہو گیا اور کشمیر میں اپنی سات لاکھ افواج داخل کرکے بندوق کے زور پر اپنا تسلط جمالیا پھر کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دے کر اس پر اپنا تسلط برقرار رکھنے کی خاطر بھارتی آئین میں ترمیم کرلی اور مقبوضہ کشمیر کو بھارتی ریاست کا درجہ دے دیا۔
اگر سونیا گاندھی کی تجویز کے مطابق تینوں فریقین کی رضامندی سے مسئلہ کشمیر کا حل نکالا جاتاہے تو اس کیلئے ہندو بنیاء کو اپنی اٹوٹ انگ والی ہٹ دھرمی ترک کرنا ہو گی جو اسے کسی صورت قبول نہیں اور اسی بنیاد پر بھارت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ ہونیوالے ہر نوعیت کے مذاکرات کو سبوتاژ کر دیا جاتا ہے جبکہ جہاد کشمیر کے حوالے سے پاکستان پر دہشت گردی کا ملبہ بھی اٹوٹ انگ والی بھارتی ہٹ دھرمی کو برقرار رکھنے کیلئے ڈالا جاتا ہے حالانکہ اس بھارتی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہی کشمیری عوام اپنی آزادی کی جدوجہد کیلئے میدان عمل میں آنے پر مجبور ہوئے‘ شری متی سونیا گاندھی کو اپنی پارٹی کے ہندو نیتائوں سے انگریز کیخلاف ہندوستان کی تحریک آزادی کے بارے میں بھی بریفنگ لینی چاہیے کیونکہ ممکن ہے سابقہ اطالوی شہری ہونے کے ناطے انہیں ہندوستان کی تقسیم ہند سے پہلے والی تاریخ سے مکمل آگاہی نہ ہو۔ آج وہ ہندو بنیاء کی زبان میں کشمیری عوام کی جس تحریک آزادی کو دہشت گردی کے زمرے میں شامل کر رہی ہیں‘ یہ بعینہ وہی تحریک آزادی ہے جیسے کانگرس نے قابض انگریز کیخلاف ہندوستان کی آزادی کی تحریک شروع کی تھی جبکہ متعصب ہندو کی ہٹ دھرمی کے نتیجہ میں برصغیر کے مسلمانوں کو مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر انگریز اور ہندو دونوں سے خلاصی پانے اور اپنے لئے الگ وطن حاصل کرنے کی تحریک چلانا پڑی تھی‘ جو قائداعظم کی مدبرانہ قیادت میں کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ اسی طرح بھارتی فوجوں کے جبرِ مسلسل نے کشمیری عوام کو بھی متعصب ہندو سے خلاصی حاصل کرنے کی خاطر کشمیر کی آزادی کی تحریک چلانے پر مجبور کیا‘ جو ہر قسم کے بھارتی جبر و تشدد کے باوجود پوری ثابت قدمی کے ساتھ نہ صرف جاری ہے بلکہ اب کامیابی سے ہمکنار ہونے کو ہے جس کا اعتراف خود بھارتی آرمی چیف بھارتی حکمرانوں کو یہ باور کراتے ہوئے کر رہے ہیں کہ بھارتی افواج مقبوضہ کشمیر کی جنگ ہار رہی ہیں‘ کیونکہ کشمیری عوام حریت پسندوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملائے کھڑے ہیں‘ جنہیں شکست دینا ممکن نہیں‘ اس لئے اس مسئلہ کا کوئی سیاسی حل نکالاجائے۔
بلاشبہ کشمیری عوام نے اپنی آزادی کی جدوجہد میں قربانیوں کی لازوال داستانیں رقم کی ہیں‘ بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ دو ماہ قبل سری نگر مقبوضہ کشمیر کے دورے کے دوران خود اعتراف کر چکے ہیں کہ گزشتہ پانچ برسوں میں 60 ہزار کشمیری باشندے بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں شہید ہوئے ہیں‘ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فوجیوں کی وحشت و بربریت سے شہید ہونیوالے کشمیری عوام کی تعداد ڈیڑھ لاکھ کے قر یب پہنچ چکی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم آج بھی جاری ہیں اور گزشتہ روز بھی بھارتی فوجوں کی فائرنگ سے آٹھ کشمیری باشندوں نے جام شہادت نوش کیا ہے جبکہ انکی جدوجہد آزادی کو دبانے کیلئے اب بھارتی حکومت نے کٹھ پتلی وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی درخواست پر اپنے پیراملٹری فورسز کے دو ہزار مزید اہلکار مقبوضہ کشمیر میں بھجوانے کا اعلان کیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں اس وقت بھی عملاً کرفیو کی صورتحال ہے‘ اسکے باوجود کشمیری عوام کے حوصلے پست نہیں ہوئے اور وہ ظالم بھارتی افواج کے سامنے سینہ سپر ہیں‘ اس لئے آزادی کی جنگ جہاد کشمیر کو دہشت گردی بنا کر نہ دنیا کی توجہ اس تحریک آزادی سے ہٹائی جا سکتی ہے‘ نہ کشمیر پر پاکستان کے دیرینہ اور اصولی موقف کو کمزور کیا جا سکتا ہے۔ کشمیر نے بالآخر کشمیری عوام کی اس عظیم جدوجہد کے نتیجہ میں ہی آزاد ہونا ہے‘ اس لئے سونیا گاندھی اپنی پارٹی کی ہندو بنیاء لیڈر شپ کے تعصبات سے خود کو بالاتر رکھ کر ان حقائق کی بنیاد پر جو بھارتی آرمی چیف جس نے کہا تھا‘ مسئلہ کشمیر کا حل فوجی نہیں ہے‘ کی زبانی انہیں معلوم ہو رہے ہونگے‘ مسئلہ کشمیر کے قابل قبول حل کی جانب آئیں جو انکی اپنی تجویز کی روشنی میں یو این قراردادوں پر عملدرآمد کے ذریعہ ہی ممکن ہے‘ اسکے بغیر علاقائی اور عالمی امن و سلامتی انکے اور انکے سرپرست امریکہ کیلئے خواب ہی بنی رہے گی۔
یہ کام پاکستان میں بھی ہوسکتا تھا
صدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی آنکھوںمیں آنکھیں ڈال کر بتائوں گا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے سب سے زیادہ جانی قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے فرانسیسی اخبار’’ لی موندے‘‘ کو ایک انٹرویو میں کہا کہ افغانستان میں دل جیتنے کی کوشش نہیں کی گئی جس کی وجہ سے اتحادی فوج افغانستان میں جنگ ہار رہی ہے اور جنگ پر طالبان کی گرفت مضبوط ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے نام نہا د دہشت گردی کیخلاف امریکی جنگ میں نیٹو اور اتحادیوں کو تو لپیٹ کرایک کونے میں کھڑا کردیا ہے اگر واقعی امریکی اتحادی یہ جنگ ہار چکے ہیں تو پھر ہم انکے ساتھ فرنٹ لائن اتحادی… کس حساب میں بنے ہوئے ہیں…؟اور انکے ڈرون حملوں پر کیوں خاموش ہیں؟ پاکستان کواس جنگ میں شامل ہی نہیں ہوناچاہئے تھا، صدر آصف علی زرداری اگر پاکستان میں رہ کر برطانوی وزیراعظم کی بات کا جواب دینا پسند کرتے تو یہ زیادہ بہتر تھا۔مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں نواز شریف کی رائے میں صدر زرداری افغان جنگ اور برطانوی وزیراعظم کے بارے میں یہاں بیٹھ کر بات کرتے تو زیادہ موثر ہوتی کیونکہ فرانس اور لندن کے اخبارات میں خبریں اور تبصرے شائع ہوئے ہیں کہ صدر زرداری اپنی پریشان حال قوم اور سیلاب میں ڈوبے ہوئے ملک کو چھوڑ کر فرانس میں اپنے محلات کی سیر کرتے پھر رہے ہیں اور ظاہر یہ کر رہے ہیں کہ وہ فرانس اور برطانیہ کے دورے پر قوم کی کوئی لڑائی لڑنے آئے ہیں۔ حالانکہ یہ حقیقت نہیں ہے بلکہ ایں گل ِدگر شگفت والا معاملہ ہے۔
صدر آصف زرداری ان تیزو تند بیانات اور سخت موقف کے باوجود جو کہ بظاہر ایک بہتر رویہ ہے‘ پاکستان کے 17کروڑ عوام میں اپنے تاثر کو بہتر بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکے اور پورے ملک میں یہی تاثر ہے کہ مصیبت کی گھڑی میں وہ یہاں عوام کودلاسہ دینے اور انکے ساتھ کھڑے ہونے کی بجائے فرانس اور انگلینڈ کی سیر کر رہے ہیں۔کسی عوامی سیاسی جماعت کے سربراہ اور منتخب صدرِ مملکت کیلئے یہ کوئی مثبت تاثر نہیں ہے۔ وہ بلاول کی سیاسی زندگی کا آغاز بھی برمنگھم کی بجائے پاکستان میں کرتے تو ہزار درجہ بہتر نہ ہوتا؟ بلاول نے سیاست پاکستان میں کرنی ہے‘ برمنگھم میں نہیں۔
گورنر تاثیر اور کالاباغ ڈیم
گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے کہا ہے کہ میری ذاتی رائے میں کالاباغ ڈیم ملک کیلئے ضروری ہے‘ یہ ہوتا تو آج سیلاب کے باعث اتنی تباہی نہ ہوتی‘ مالیاتی ایوارڈ اور 18ویں ترمیم کی طرح کالاباغ ڈیم پر بھی بات ہو سکتی ہے۔
گورنر ہائوس لاہور سے کوٹ ادو کے متاثرین سیلاب کیلئے امدادی اشیاء کے دس ٹرک بھجوانے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان تاثیر نے کہا کہ سیلاب زدگان کی مدد کیلئے ٹرکوں کا ایک اور قافلہ بھی بھجوا دیا جائیگا اور ہر دوسرے روز امدادی قافلے جاتے رہیں گے۔ گورنر پنجاب سلمان تاثیر بنیادی طور پر مالیاتی انتظام و انصرام کے ماہر ہیں‘ معیشت اور اسکے تقاضوں کو خوب سمجھتے ہیں‘ انہوں نے بالکل درست کہا کہ اگر پاکستان کی حکومت نے کالاباغ ڈیم تعمیر کیا ہوتا تو سیلاب سے ہونیوالی یہ تباہی نہ ہوتی۔ بارش اور سیلاب کا پانی کالاباغ ڈیم میں جمع ہو جاتا اور اس سے ہم دو برس تک کم قیمت بجلی پیدا کرتے اور ملک بھر میں جہاں زرعی مقاصد کیلئے پانی کی ضرورت ہوتی‘ پانی استعمال کرتے۔ ہماری زراعت بھی سیلاب سے تباہ نہ ہوتی اور ملک میں کارخانے‘ فیکٹریاں بھی سستی بجلی سے چلتی رہتیں۔
گورنر تاثیر نے کالاباغ ڈیم کے بارے میں جو کچھ کہا ہے‘ اس سے محسوس ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی کے بالائی حلقوں میں کالاباغ ڈیم اور ملک میں دیگر بڑے ڈیموں کی اہمیت کا احساس پیدا ہو گیا ہے۔ اب مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کو بھی چاہیے کہ وہ ملک میں بڑے ڈیموں کی تعمیر خصوصاً کالاباغ ڈیم کی اہمیت کے بارے میں لب کشائی فرمائیں۔ یہ ڈیم پنجاب یا پیپلز پارٹی کی ضرورت نہیں‘ پاکستان کے مستقبل اور معیشت کے استحکام کیلئے ضروری ہیں اور انکی ضرورت پاکستان کے سترہ کروڑ عوام کو ہے۔ لوڈشیڈنگ سے غریب عوام تنگ ہیں‘ فیکٹریوں اور کارخانوں کے بند ہونے سے غریب عوام ہی بے روزگاری کا شکار ہیں‘ ان ڈیموں کی تعمیر سے پاکستان میں بے روزگاری ختم ہو گی‘ خط غربت سے نیچے رہنے والے لوگوں میں کمی ہو گی اس لئے ضروری ہے کہ ڈیموں کی تعمیر کو صرف قومی بہبود کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے‘ ان پر سیاست نہ کی جائے۔