تازہ ترین:

کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے افسوسناک واقعات.... صدر زرداری وفاق کی علامت کا کردار ادا کریں

ـ 4 فروری ، 2010
کراچی میں گذشتہ ایک ماہ سے وقفے وقفے سے جاری ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پر ابھی تک قابو نہیں پایا جا سکا، گذشتہ روز بھی کراچی کے مختلف مقامات پر فائرنگ سے 13 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ ٹارگٹ کلنگ کے حالیہ واقعات میں ہلاک ہونیوالوں کی تعداد پچاس کے قریب ہو گئی ہے اور جلائو گھیرائو، توڑ پھوڑ، ہوائی فائرنگ کا سلسلہ بدستور جاری ہے جبکہ بدامنی اور خونریزی کے واقعات روکنے کیلئے رینجرز کو بغیر وارنٹ کے چھاپوں اور گرفتاریوں کے اختیارات دے دئیے گئے ہیں اور ایسٹ اور ویسٹ کے 26 پولیس تھانوں کی حدود میں رینجرز کو تعینات کرکے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کو کراچی پہنچ کر امن و امان قائم کرنے میں مدد دینے کی ہدایت کی جنہوں نے گذشتہ روز گورنر ہائوس میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد سے ملاقات کرکے امن و امان کے سلسلہ میں ضروری ہدایات جاری کیں جبکہ وزیر داخلہ سندھ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے گذشتہ روز سندھ اسمبلی کے اجلاس میں دھواں دھار تقریر کرکے شرپسندوں کو وارننگ دی کہ وہ بے گناہوں کا قتل عام بند کر دیں ورنہ کراچی میں فوج بلا لی جائے گی۔
یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے کہ یوم عاشور کے موقع پر اہل تشیع کے تعزیہ پر دہشت گردی کی واردات کے بعد سے اب تک عروس البلاد کراچی میں آگ اور خون کا کھیل جاری ہے جس میں دہشت گردی کی واردات سمیت ان واقعات میں ڈیڑھ سو کے قریب بے گناہ انسان لقمہ اجل بن چکے ہیں اربوں روپے مالیت کی سرکاری اور نجی املاک جلائی اور تباہ کی جا چکی ہیں اور کاروبار زندگی مفلوج کرکے رکھ دیا گیا ہے مگر سندھ اور کراچی کے مخلوط حکمرانوں کو ایک دوسرے پر الزام تراشی کے سوا امن و امان کی بحالی کیلئے قابل عمل ٹھوس اقدامات بروئے کار لانے کی اب تک کوئی فکر لاحق نہیں ہوئی۔ حکومتی اتحادی پیپلز پارٹی اور اے این پی نے ٹارگٹ کلنگ کی ذمہ داری اپنی اتحادی ایم کیو ایم (متحدہ) پر ڈالنے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے جبکہ ایم کیو ایم نے بھی اپنی توپوں کا رخ اپنے ان دونوں حکومتی اتحادیوں کی جانب ہی کیا ہوا ہے۔ گذشتہ روز بھی سندھ اسمبلی کے اندر اور باہر ان تینوں جماعتوں کے قائدین ایک دوسرے کیخلاف جوشیلی بیان بازی اور الزام تراشی کا شوق پورا کرتے نظر آئے اور ایک دوسرے کی ذات پر حملے کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جس سے بادی النظر میں اس حکومتی اتحاد کے قائم و برقرار رہنے کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا۔ متحدہ کے ارکان نے گذشتہ روز سندھ اسمبلی کی کارروائی کا بھی بائیکاٹ کیا اور پیپلز پارٹی کی صوبائی قیادت سے معافی مانگنے کا تقاضہ کیا بصورت دیگر حکومتی اتحاد سے الگ ہونے کی دھمکی دی گئی جبکہ پیپلز پارٹی کے وفاقی اور صوبائی وزراء نبیل گبول اور ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے بھی ایم کیو ایم متحدہ کے بارے میں جارحانہ پالیسی بدستور جاری رکھی۔ اسی طرح اے این پی نے بھی کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کیخلاف سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے علیحدگی کی دھمکی دی ہے اور کراچی میں تین روز سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلہ میں اے این پی کی اپیل پر گزشتہ روز کراچی میں یوم سیاہ بھی منایا گیا۔ اے این پی کے قائدین زاہد خان‘ حاجی عدیل اور شاہی سید کے بقول اگر ٹارگٹ کلنگ میں پختونوں کی نعشیں آتی رہیں تو اسکے بھیانک نتائج برآمد ہونگے۔ انہوں نے ہلاکتوں کے ذمہ داروں کو منظر عام پر لانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ کراچی میں دہشت گردی اور تخریب کاری کی وارتوں اور ٹارگٹ کلنگ میں اے این پی اور پیپلز پارٹی کے علاوہ ایم کیو ایم متحدہ اور حقیقی کے کارکن بھی نشانہ بنے ہیں‘ جبکہ ایک دوسرے پر الزام تراشی کے سوا اب تک ان افسوسناک واقعات کے پس منظر کا کھوج نہیں لگایا جا سکا اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کراچی میں حکومت نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔ حکومتی اتحادی ان واقعات کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے کیونکہ سندھ اور کراچی میں بالخصوص پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم (متحدہ) کی سندھ اور سٹی حکومت میں کم و بیش مساوی نمائندگی ہے جبکہ ایم کیو ایم (متحدہ) وفاقی حکومت میں بھی شامل ہے‘ اس بنیاد پر کراچی اور سندھ میں امن و امان قائم کرنے اور شہریوں کی زندگیوں اور جائیداد کو تحفظ فراہم کرنے کی ان دونوں جماعتوں پر مساوی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اگر اب تک ٹارگٹ کلنگ کو نہیں روکا جا سکا اور کراچی کے شہریوں کا امن و سکون غارت ہے تو یہ فضا انتظامی امور پر حکومت کی گرفت ڈھیلی پڑنے اور حکومتی اتحادیوں کی ایک دوسرے کے معاملہ میں کمزوریاں سامنے آنے کے باعث ہی پیدا ہوئی ہے اور اگر ان کمزوریوں پر قابو نہ پایا گیا تو ملک کی سالمیت سے کھیلنے کیلئے موقع کی تاک میں بیٹھے ہمارے مکار دشمن بھارت کے حوصلے مزید بلند ہونگے جس کا اولین مقصد ہی یہی ہے کہ پاکستان میں امن و امان کو تہہ و بالا کرکے اس وطن عزیز کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے دیرینہ خواب کی تکمیل کی جائے۔
اگر حکومتی اتحادیوں کو ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنے اور ایک دوسرے کی خبر لینے سے فرصت ہو تو وہ دشمن کی سازشوں کی جانب متوجہ ہوں‘ جبکہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں بھی بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ اور ہماری سرزمین پر دندنانے والے امریکی بلیک واٹر کے ارکان کے عمل دخل کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جا سکتا مگر حکومتی اتحادی سیاسی مقابلہ بازی میں کراچی کے دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے روح فرسا واقعات کا ملبہ بھی ایک دوسرے پر ڈالنے میں ہی مصروف ہیں جس سے سیاسی کشیدگی بڑھے گی تو ہمارے مکار دشمن کو یہاں بدامنی پھیلانے کا مزید موقع ملے گا۔
دہشت گردی کے خاتمہ کے نام پر امریکی مفادات کی جنگ میں الجھ کر ملک کی معیشت کا پہلے ہی بیڑہ غرق کردیا گیا ہے‘ ملکی و بیرونی سرمایہ کاری کا عمل جامد ہو چکا ہے اور ملکی سلامتی سخت خطرات میں گھری ہوئی ہے‘ اس صورتحال میں ہم کسی اندرونی کمزوری یا سیاسی محاذ آرائی کے قطعاً متحمل نہیں ہو سکتے۔ اگر حکومتی اتحادیوں میں بداعتمادی بڑھے گی تو اس سے قومی یکجہتی کی فضاء کو بھی سخت دھچکا لگے گا اور ہر جگہ پر ملک اور سماج دشمن عناصر کو حکومت کی رٹ چیلنج کرنے اور من مانیوں کا موقع ملے گا۔
اس تناظر میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم متحدہ کی جانب سے اپنے حکومتی اور جماعتی عہدے داروں کو وقتی طور پر ایک دوسرے کیخلاف بیان بازی سے روک دینا اس سنگین مسئلہ کا کوئی حل نہیں‘ اس لئے صدر آصف علی زرداری جو پاکستان کھپے کا نعرہ لگاتے ہوئے بھی خود کو سندھ کا بیٹا کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں‘ صدر مملکت کا وفاق کی علامت کا کردار بروئے کار لا کر سندھ اور کراچی میں حکومت کی رٹ قائم کرائیں‘ کراچی کے واقعات کے پس منظر میں اے این پی کے تحفظات بھی دور کریں اور ایم کیو ایم (متحدہ) کو بھی مطمئن کریں۔ محض ایک دوسرے کو مطعون کرکے نہ حالات کی سنگینی کو ٹالا کیا جا سکتا ہے‘ نہ ملک اور عوام کی کوئی خدمت کی جا سکتی ہے اور نہ ہی ملک کی سالمیت کیخلاف دشمن کی سازشوں کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔
مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر بھارت سے رابطے بحال نہیں ہو سکتے
بھارت نے پاکستان کو باہمی روابط بحال کرنے کی باضابطہ پیشکش کی ہے۔پاکستان کیساتھ مذاکرات کا سلسلہ خود بھارت نے منقطع کیا تھا۔ وہ سلسلہ بھی کوئی پائیدار نہیں تھا بلکہ مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے ایک ٹال مٹول کا ذریعہ تھا۔ گھمبیر سے گھمبیر مسائل کا حل بھی مذاکرات ہیں کامیابی کیلئے فریقین کا مذاکرات کیلئے پرخلوص ہونا اہم ترین ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت کی طرف سے رابطوں کی بحالی کی پیشکش خوش آئند ہے لیکن ساتھ ان کے ہم منصب ایس ایم کرشنا نے روابط کی بحالی کے حوالے سے بھارت کے خبثِ باطن کا بھی اظہار کر دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے دروازے کبھی بند نہیں ہوئے۔ مذاکرات کا محور دہشت گردی اور ممبئی حملوں کی تحقیقات ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے مابین سب سے بڑا تنازعہ کشمیر کا ہے جس پر دونوں ممالک 3 جنگیں لڑ چکے ہیں موجودہ حالات میں بھارت کی طرف سے پاکستان آنیوالے دریائوں پر 62 ڈیموں کی تعمیر اور بچے کھچے پانی کا رخ موڑ کر پاکستان کو بنجر بنانے کی سازش ہو رہی ہے ان حالات میں تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق بھارت نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو چوتھی جنگ بھی ناگزیر ہے۔ بھارتی صحافی سدھارتو نے بھی واضح کیا ہے کہ پانی کے مسئلے پر بھارت کی پاکستان اور چین سے جنگ ہو سکتی ہے۔ حالات پر قابو نہ پایا گیا تو جنگ بے قابو ہو کر ایٹمی تصادم تک پہنچ سکتی ہے۔ سدھارتو نے اعتراف کیا ہے کہ بھارت کی طرف سے پانی روکے جانے پر پاکستان کی زرخیز زمینیں بنجر ہو جائیں گی۔ پاکستان اور بھارت کے مابین روابط مسئلہ کشمیر کے حل تک قائم نہیں ہو سکتے لیکن بھارت اس مسئلہ کے حل میں سنجیدہ نہیں ہے۔ وہ اسے اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر بھرپور طریقے سے اٹھائے اور ساتھ ساتھ بھارت پر یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کیمطابق حل کرنے پر زور ڈالے اور اسکی ہٹ دھرمی کی صورت میں کسی بھی روایتی اور غیر روایتی اقدام کی تیاری کرے۔
کیا امریکہ کو ’’لائسنس ٹوکل‘‘ دے دیا گیا ہے؟
شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ، دتہ خیل روڈ پر 18 امریکی جاسوس طیاروں نے 5 جگہوں پر 18 میزائل حملے کئے جس کے نتیجے میں 17 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے، جبکہ میزائل حملوں سے کئی گھروں کو بھی نقصان پہنچا۔ ذرائع کیمطابق منگل کی شام شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں دریقان، توت نرائی، محمد خیل میں 18 میزائل حملے کئے گئے۔ زخمی ہونیوالے افراد میں سے بعض کی حالت نازک ہے جس سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ دریقان میں 5، توت نرائی میں 5، محمد خیل میں 2 اور امدادی کاموں میں مصروف قبائلیوں پر 2 میزائل حملے کئے گئے۔ بعض علاقوں میں مواصلاتی نظام درست نہ ہونے کی وجہ سے صحیح نقصان کی اطلاعات نہیں پہنچیں۔ 2010ء میں ہونیوالا یہ 13 واں اور سب سے بڑا حملہ ہے۔ امریکی جاسوس طیاروں کے 18 میزائل حملے ایک انتہائی سنجیدگی کا حامل واقعہ ہے اور شاید بات یہ بھی درست ہے کہ پاکستان میں ڈرون طیاروں کا یہ سب سے بڑا حملہ تھا۔ امریکہ کی طرف سے ان حملوں میں القاعدہ یا طالبان کے اہم لیڈروں کی ہلاکت کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے البتہ 17 پاکستانی شہری کے جاں بحق اور بہت زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں سے متعدد افراد کی حالت نازک ہے۔ 17 افراد جو کہ پاکستان کے عام شہری تھے انکی ہلاکت کوئی معمولی واقعہ نہیں یہ انتہائی ظالمانہ اور غیر انسانی فعل ہے۔ پاکستان کے حکمران امریکی حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ڈرون حملے بند کئے جائیں۔ مگر امریکی حکومت نے حملوں کو تیز اور زیادہ ہلاکت خیز کر دیا ہے۔ اسکے جواب میں بہتر تو یہی ہے کہ قبائلی عوام کی طرح حکمران بھی ڈرون طیاروں کو مار گرائیں۔ امریکہ کی اس اندھا دھند میزائل مار مہم کو بھی پاکستانیوں کی ٹارگٹ کلنگ قرار دیا جا سکتا ہے اور پاکستان کے صدر اور وزیراعظم کو اس سلسلہ میں امریکہ سے شدید احتجاج کرنا چاہیے۔ حکومت پاکستان کی اس پراسرار خاموشی اور کمزور احتجاج سے محسوس ہوتا ہے کہ حکومت نے امریکہ کو پاکستانیوں کیخلاف ’’لائسنس ٹوکل‘‘ دے رکھا ہے جو کہ پاکستان کی خودمختاری آزادی اور جمہوریت کی نفی ہے پاکستان کے عوام حکومت کی طرف سے شدید احتجاج کے منتظر ہیں۔
قرضہ خوروں کی فہرست سپریم کورٹ میں
سٹیٹ بنک نے 1971ء سے 2009ء تک ملکی بنکوں سے معاف کرائے گئے قرضوں کی فہرست سپریم کورٹ میں پیش کر دی گئی جس کیمطابق38 سالوں کے دوران 256ارب 66کروڑ50لاکھ روپے کے قرضے معاف کرائے گئے۔ عدالت عظمیٰ نے 5بنکوں کی جانب سے مقدمہ میں فریق بننے کی درخواست پر انہیں نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی۔بنکوں سے قرضے لیکر معاف کرانے کی روایت پاکستان میں رشوت خوری‘ بدعنوانی اور قومی دولت کو چور دروازوں سے لوٹنے کے مترادف ہے۔ فاضل عدالت نے 1971ء سے اسکی فہرست منگوا لی ہیں۔ ان سے اور انکے اہل خاندان سے یہ قرضے سود سمیت وصول کئے جائیں اگر قرضے لینے والے زندہ نہیں ہیں تو انکی املاک کے ورثاء یقیناً موجود ہیں۔ انہیں یہ قرضے واپس کرنے چاہئے اور جو لوگ موجود ہیں انہیں اپنے کارخانے املاک بیچ کر یہ قرضے ادا کرنے پر مجبور کیا جائے قرضہ خوروں کیلئے علیحدہ علیحدہ بنچ بنا دیا جائے تاکہ نئے قرضہ خوروں کو بھی اپنے روزِ حساب کیلئے زیادہ انتظار نہ کرنا پڑے۔ پانچ پرانے بنکوں کی طرف سے اس مقدمہ کا فریق بن جانا بھی ایک بہتر اقدام ہو گا۔ اس سے قرضوں کو معاف کرنیوالے اصل ذمہ دار افراد کا سراغ لگانے میں بھی عدالت کو آسانی ہو جائے گی اور اب چونکہ بنکوں کے مالکان کی حیثیت میں بھی فرق آ چکا ہے۔ اس سے یہ ادارے پرانے ریکارڈ سے فاضل عدالت کی بہتر مدد کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے اس لئے ان مقدمات کی سماعت کیلئے سپریم کورٹ کو مستقل بنچ قائم کر دینے چاہئیں تاکہ یہ اہم کام کسی تاخیر کے بغیر جاری رہ سکے۔ ان قرضہ خوروں سے قومی دولت کی واپسی سپریم کورٹ کا ایک ایسا اقدام ہو گا جو تاریخ میں سنہری الفاظ سے لکھا جائے گا۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter