قومی سلامتی کمیٹی کی طرف سے دفاعی کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق .... سیاسی و عسکری قیادت کو مزید تلخ فیصلے کرنا ہونگے

ـ 4 دسمبر ، 2011
رضا ربانی کی زیر صدارت قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی نے کثرت رائے سے بون کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کے کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے فیصلے کی توثیق کردی ہے۔ بون کانفرنس میں کسی بھی سطح پر پاکستان کا نمائندہ شرکت نہیں کریگا۔ نیٹو کو سپلائی بدستور معطل رہے گی‘ شمسی ایئربیس مقررہ وقت میں خالی کرایا جائیگا۔ قومی سلامتی کمیٹی نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے پر اتفاق کیا ہے۔ اجلاس کے دوران جارحیت روکنے کیلئے پاک فوج کے اقدامات کی حمایت کی گئی۔ اجلاس میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی‘ وزیر خارجہ حنا ربانی کھر‘ وزیر دفاع احمد مختار‘ سیکرٹری خارجہ اور سیکرٹری دفاع بھی شریک ہوئے۔ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ڈی جی ملٹری آپریشنز 12 دسمبر کو کابینہ کو نیٹو حملے کے بارے میں بریفنگ دینگے۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں ہمیں پاکستان کا مفاد دیکھنا ہے‘ پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں پاک فوج کے عمل کو سراہا گیا‘ نیٹو حملے میں شہید فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ اجلاس میں ظہیرالدین بابر نے پیپلز پارٹی‘ اسحاق ڈار نے (ن) لیگ‘ حیدرعباس رضوی نے ایم کیو ایم کی نمائندگی کی۔ وزیراعظم نے قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کو بریف کیا۔ اجلاس ان کیمرہ ہوا‘ ڈی جی ایم او نے نیٹو حملے کے حوالے سے بریفنگ دی۔ کمیٹی نے یکجا ہو کر کہا کہ ملکی سلامتی کے موقع پر ہم ایک ہیں۔ پاکستان کے مفاد کو سب سے مقدم رکھنے پر اتفاق ہوا۔ جارحیت کیلئے آرمی چیف کے فیصلوں کی حمایت کی گئی اور فوجی جوانوں کو دی گئی ہدایات کو سراہا گیا۔
پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں دو باتیں واضح طور پر سامنے آئی ہیں‘ اول یہ کہ اس میں ملکی خودمختاری کیلئے فوج کے ہر اقدام کی حمایت کرنے کا عزم کیا گیا ہے‘ دوسرا افغانستان کے حوالے سے بون کانفرنس میں کسی بھی سطح پر شرکت نہ کرنے کے فیصلے کی بھرپور تائید اور توثیق کی گئی۔ اس اجلاس کے نتیجے میں فوج اور حکومت کے مابین خلیج کا جو تاثر پایا جانا تھا‘ وہ ختم ہو گیا اور ملکی سلامتی کے حوالے سے مکمل اتفاق رائے بھی سامنے آیا۔ جہاں تک بون کانفرنس میں شرکت کا تعلق ہے‘ امریکہ اور اسکے اتحادی کسی بھی سطح پر پاکستان کی شرکت پر اس لئے زور دے رہے ہیں کہ پہلے سے طے شدہ اعلامیہ کو سفارتی حیثیت دی جا سکے اور دنیا کو یہ باور کرایا جائے کہ پاکستان ان تمام فیصلوں میں شامل ہے۔
حالیہ نیٹو حملوں کے بعد یہ اشد ضروری سمجھا گیا کہ سرحدی علاقوں میں تعینات مسلح افواج کے کمانڈروں کو یہ اختیار دے دیا جائے کہ وہ آئندہ کسی حملے کی صورت میں اعلیٰ سطح سے احکامات کا انتظار کئے بغیر اپنے طور پر حملہ آور سے نبٹیں۔ ایسا صرف حالتِ جنگ میں ہی کیا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ امریکہ کے جارحانہ اقدامات کے باعث پاکستان عرصہ سے حالتِ جنگ میں ہے۔ فوجی کمانڈروں کو یہ اجازت پہلی امریکی جارحیت کے روز ہی دے دینی چاہیے تھی۔ اجلاس میں اس بات کی وضاحت بھی ضروری سمجھی گئی کہ پاکستان کی شرکت کے بغیر افغانستان میں امن قائم نہیں ہو سکتا اور اگر پاکستان کے عدم استحکام کی کوئی بھی سازش کی گئی تو اس سے اس خطے میں خونریزی کو روکنا ممکن نہیں ہو گا۔
کانفرنس کے اندر کی روداد سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ اس میں شریک بعض افراد نے بون کانفرنس میں عدم شرکت پر تحفظات کا اظہار کیا‘ ان کا جواز تھا‘ پاکستان کانفرنس میںعدم شرکت سے عالمی سطح پر مزید تنہا ہو جائےگا۔ ایسے حضرات ذہن میں رکھیں کہ پاکستان کو تنہا کرنے کی سازشیں کافی عرصے سے جاری ہیں اور اس سال کے اوائل میں ہونیوالے انٹرا افغان ڈائیلاگ سے پاکستان کو خارج کردیا گیا تھا اور اسلام آباد کے علم کے بغیر طالبان کو دوحہ میں اپنا دفتر قائم کرنے کی دعوت بھی امریکہ کی طرف سے دی گئی تھی۔ بون کانفرنس میں شرکت کے حامی اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں کہ کہیں انکے ضمیر پر امریکی ڈالروں کا بوجھ تو نہیں پڑ گیا۔
نیٹو حملے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ایک بریفنگ میں ڈی جی ایم او نے واضح الفاظ میں یہ کہا تھا کہ امریکہ سے فوجی تعاون صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ وہ اس حملے میں ملوث افراد کو جن میں حملے کی منصوبہ بندی کرنیوالے اور حملہ کرنیوالے شامل ہیں‘ کی نشاندہی کرے اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔ درحقیقت ہمیں بھی ان افراد کیخلاف حوالگی کا دعویٰ کرنا چاہیے جیسا کہ امریکہ ماضی میں ہم سے کرتا رہا ہے جس کی واضح مثال یوسف رمزی‘ ایمل کانسی اور عافیہ صدیقی ہیں۔
عسکری یا عوامی دباﺅ پر بظاہر یوں لگتا ہے کہ پاکستانی حکومت مستقبل میں امریکہ سے تعلقات کی ایک نئی بنیاد رکھنا چاہتی ہے کیونکہ بون میں کانفرنس سے پہلے ایک سہ فریقی اجلاس منعقد ہونا تھا جس میں پاکستان‘ امریکہ‘ افغانستان کے سینئر حکام نے شرکت کرنا تھی جس میں امن فارمولے کے مسودے کی منظوری دی جانی تھی۔ پاکستان نے اس میں بھی شرکت سے معذرت کرلی ہے۔ دریں اثناءشمسی ایئربیس کو امریکی افراد اور اسلحہ و آلات سے خالی کرانے کا عمل تندہی سے جاری و ساری ہے۔ ایسے شواہد بھی سامنے آئے ہیں کہ پاکستان جلد جیکب آبا کا شہباز ایئربیس خالی کرانے کا مطالبہ بھی کر سکتا ہے جو امریکہ کےلئے بہت بڑا دھچکا ہو گا کیونکہ یہ اڈہ ری فیولنگ اور اسلحہ کی افغانستان ترسیل کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ اس بیس میں کسی پاکستانی کو داخل ہونے کی اجازت نہیں۔ علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ امریکہ کا ایئربیس بن کر رہ گیا‘ جہاں امریکیوں کیلئے رہائش گاہیں بھی تعمیر کی جا رہی ہیں‘ اس طرح اسے سیاہ و سفید کرنے کا پورا موقع فراہم کیا جا رہا تھا‘ جس سے اب نجات ممکن ہے۔
امریکہ سے چھٹکارا حاصل کرنے کی غرض سے اور افغانستان میں دیرپا قیام کی خاطر پاکستان کی حکومت اور مسلح افواج کو مزید تلخ فیصلے کرنا پڑیں گے۔ دس سال سے زائد امریکی خدمت کے باوجود ہمیں ڈومور کے تقاضوں اور اپنے ہی جانی و مالی نقصان حتٰی کہ ملک کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ کچھ نہیں ملا جس امداد اور جنگی نقصان پورا کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا‘ اس کا دسواں حصہ بھی امریکہ نے ادا نہیں کیا اور جو تھوڑی بہت امداد دیتا ہے‘ اسے بھی سخت شرائط کے ساتھ مشروط کر دیتا ہے۔ ملکی معیشت اپریشنز کی وجہ سے 70 ملین ڈالر کا نقصان برداشت کر چکی ہے۔ یہ سودا کسی صورت بھی پاکستان اور اسکے عوام کیلئے سودمند نہیں۔ لہٰذا پاکستان کو امریکہ کی طفیلی ریاست بنانے کے بجائے ایک خودمختار ملک کی حیثیت سے زندہ رکھنا ہو گا۔ اجلاس میں جو تلخ فیصلے کئے گئے ہیں‘ ان پر بغیر کسی مصلحت کے عملدرآمد کیا جائے۔ پارلیمنٹ کے وہ فیصلے اور قراردادیں بھی ریکارڈ پر موجود ہیں جو اتفاق رائے اور کثرت رائے سے ڈرون حملوں کےخلاف منظور کی گئیں مگر حکمرانوں کی مصلحت کیشی کا شکار ہو گئیں۔ پاکستان کی سالمیت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ قوم امید رکھتی ہے کہ اجلاس کے ان فیصلوں پر من و عن عملدرآمد کیا جائیگا اور بدمعاش امریکہ اور اسکے اتحادیوں کو خطے سے بھاگنے پر مجبور کیا جائیگا۔
مہاتیر کا صائب مشورہ مسئلہ کشمیر کا واحد حل یو این قرار دادیں
ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم مہاتیر محمد نے دہلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ کے حل کیلئے پاکستان اور بھارت کی ملک کی بجائے اقوام متحدہ سے ثالثی کرائے، علاوہ ازیں پاکستان نے بھارتی آبی جارحیت کیخلاف اقوام متحدہ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے مابین مسئلہ کشمیر 63سال سے وجہ تنازع بنا ہوا ہے۔ پاکستان کشمیر کو اپنی شہ رگ جبکہ بھارت اٹوٹ رنگ قرار دیتا ہے، اس وجہ سے پاکستان اور بھارت کے مابین چار جنگیں لڑی جا چکی ہیں۔ 1948ءمیں بھارت مسئلہ کشمیر کو لیکر خود اقوام متحدہ گیا تھا اقوام متحدہ نے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کی تجویز دی تھی لیکن آج 63 سال گزرنے کے باوجود بھارت اس مسئلے کو جوں کا توں رکھے ہوئے ہے۔ ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم مہاتیر محمد نے بڑی جرات کے ساتھ بھارتی سرزمین پر مسئلہ کشمیر کے حل پر زور دیا ہے۔ ہم ان کی جرات کو سلام اور ان کی رائے کا احترام کرتے ہیں لیکن اقوام متحدہ ثالثی کا کردار ادا کرنے کی بجائے سلامتی کونسل میں موجود قرار دادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلائے اور مسلم ممالک پاکستان کے ساتھ مل کر اس کیس کو مضبوطی سے لڑیں۔
پاکستانی حکام جس طرح بھارتی آبی جارحیت کے خلاف اقوام متحدہ میں جا رہے ہیں، بالکل اسی طرح مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بھی سلامتی کونسل کے فورم پر آواز بلند کریں، کیونکہ محض بیان بازی اور قرار داد مذمت سے بھارت کشمیر کو آزاد نہیں کرے گا۔ اس کے دو ہی حل ہیں یا تو ہندوﺅں کی مرمت کی جائے یا اقوام متحدہ موجودہ قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خود ارادیت دے جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا اس وقت تک اس خطے میں امن و امان کا قائم ہونا مشکل ہے۔
ادھر اسفندیار ولی نے مشورہ دیا ہے کہ پاکستان اوربھارت ہر دو اپنے اپنے موقف سے ہٹ جائیں۔ اسفندیار ولی بتائیں اسکے بعد مسئلہ کا کیا حل ہو گا؟ پاکستان تو صرف یہ چاہتا ہے کہ بھارت یواین گیا تھا‘ یہ مسئلہ لے کر۔ انہوں نے استصواب کا فتویٰ دیا۔ اب کشمیریوں کو موقع دیا جائے کہ انہوں نے پاکستان کے ساتھ رہنا ہے یا بھارت کے ساتھ؟ متحدہ ہندوستان کی کسی ریاست کو آزاد رہنے کا حق نہیں دیا گیا تھا۔
” ملک اور عوام بچاﺅ تحریک “ شروع کی جائے
پیپلز پارٹی نے ”گو زرداری گو“ مہم کے جواب میں وفاق بچاﺅ تحریک کا اعلان کر دیا، گورنر پنجاب نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے سازشیں شروع کر دیں ہیں، عوام کو آگاہ کریں گے۔
پیپلز پارٹی کو اقتدار سنبھالے پونے چار سال ہونے کو ہیں لیکن عوامی خدمت کی دعویدار حکومت نے اپنے روٹی کپڑا اور مکان کے منشور کو تبدیل کرکے ” عوام کش“ پالیساں ترتیب دے رکھی ہیں۔ اس نے اپنی جبین کو عوامی دہلیز پر رکھنے کی بجائے امریکی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہونے میں عافیت سمجھی ہے، آج ملک میں چار سُو لگی آگ اس کی ملک اور عوام دشمن پالیسیوں کا نتیجہ ہے، زمین کی اتھاہ پستیوں کی طرف لڑھکتی معیشت اور آسمان کی لامحدود نعمتوں کو چھوتی کرپشن اس کی مفاہمتی پالیسیوں کا ثمر ہے، کرپشن سکہ رائج الوقت بن چکی ہے۔ حکومتی صفوں میں موجود اکثر محب وطن رہنما اور وزیر اپنی ہی حکومت کےخلاف سپریم کورٹ میں پیش ہو رہے ہیں۔ حکمرانوں نے انتہائی چالاکی اور ہوشیاری سے سیاسی جماعتوں کے قائدین کو حالات کی خرابی کا رونا رو کر اپنے مفاہمتی سیٹ اَپ میں شامل کر رکھا ہے، اپنی قائد محترمہ بینظیر بھٹو کے نامزد قاتل اور سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی پالیسیوں کو جاری رکھا ہوا ہے جس کے باعث خود کش حملوں، بم دھماکوں نے ملک کے درودیوار کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ آج مہنگائی کے باعث لوگ خودکشیاں کر رہے ہیں۔ بجلی اور گیس کی عدم فراہمی پر مظاہرے ہو رہے ہیں، ملکی سرحدیں غیر محفوظ ہو چکی ہیں۔
ان حالات میں پیپلز پارٹی کو اپنی تباہ ہوتی ساکھ کو بچانے کیلئے ملک اور عوام بچاﺅ تحریک شروع کرنی چاہیے تھی۔ اور اپنی غلطیوں پر قابو پانا چاہیے تھا لیکن نااہل مشیروں کے شکنجے میں جکڑے پی پی کے حکام نے وفاق بچاﺅ تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جو کہ ان کی ناکام پالیسیوں کا ایک تسلسل ہی ہے۔ اس وقت پیپلز پارٹی کو عوام اور ملک بچاﺅ تحریک شروع کرنی چاہیے جس سے وفاق بھی مضبوط ہوتا اور پیپلز پارٹی کے بارے بھی اچھا تاثر قائم ہوتا، پیپلز پارٹی کی اپنی صفوں میں بھی اس وقت دراڑیں پڑ چکی ہیں۔ گزشتہ روز گورنر ہاﺅس پنجاب میں وزیر اعظم کی زیر صدارت پارلیمانی اجلاس میں پی پی کے 50 فیصد ایم پی اےز نے شرکت نہ کرکے ثابت کر دیا ہے کہ عوام کش پالیسیوں کو تبدیل کئے بغیر پیپلز پارٹی کو قائم نہیں رکھا جا سکتا، حالانکہ وزیر اعظم نے اس اجلاس میں سات سات کروڑ فی ایم پی اےز کو گرانٹ پانچ ممنوع اور دس عام اسلحہ کے لائسنس دینے کا اعلان کیا ہے لیکن اسکے باوجود ایم پی اےز کا اپنی جماعت کے اجلاس میں نہ آنا خطرے کی گھنٹی بجنے کے مترادف ہے، وزیر اعظم کو گزشتہ روز کے اجلاس کو سامنے رکھتے ہوئے حکومتی پالیسیوں کو عوام کے حق میں بہتر بنانا چاہیے، جب عوام حکومت سے خوش ہونگے تو کسی قسم کی سازش حکومت کیخلاف کامیاب نہیں ہو سکے گی۔ اس لئے پیپلز پارٹی وفاق بچاﺅ تحریک کی بجائے عوام اور ملک بچاﺅ تحریک شروع کردے، یہی اسکے مفاد میں بہتر ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں