کراچی کے حالات کی سنگینی اور رحمان ملک کی غیرذمہ داری.... صدر فی الفور ملک واپس آئیں اور امن و امان کنٹرول کریں
ـ 4 اگست ، 2010
ایم کیو ایم متحدہ کے رکن سندھ اسمبلی سید رضا حیدر، انکے محافظ اور ایک کارکن کو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی جانب سے اندھا دھند فائرنگ کرکے قتل کرنے کے افسوسناک سانحہ کے بعد کراچی بدترین فسادات کی لپیٹ میں آگیا ہے جبکہ کراچی کے علاوہ سندھ کے شہروں حیدر آباد، سکھر، کوٹری اور نوابشاہ میں بھی گھیرائو جلائو جاری ہے جس کے باعث صوبہ سندھ میں سخت خوف و ہراس کی فضا پیدا ہوچکی ہے۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کے واقعات میں اب تک 45 کے قریب افراد جاں بحق اور ایک سو سے زیادہ زخمی ہوچکے ہیں جبکہ گھیرائو جلائو کے واقعات میں درجنوں گاڑیاں نذرآتش ہوچکی ہیں اور ایک پٹرول پمپ اور شاپنگ پلازہ کو بھی آگ لگا دی گئی۔ کراچی کے مختلف علاقوں بلدیہ ٹائون،اورنگی ٹائون، ابوالحسن اصفہانی روڈ، لانڈھی، لیاقت آباد، ناظم آباد، کلفٹن، شاہ فیصل کالونی، گلستان جوہر اور کورنگی سمیت مختلف علاقوں میں فائرنگ کرکے درجنوں افراد کو قتل کیا گیا جبکہ بسوں، ٹیکسیوں، کاروں، رکشائوں، ہوٹلوں، فرنیچر مارکیٹوں اور قالین کی دکانوں کو نذرآتش کیا گیا۔ ایم کیو ایم کی جانب سے سید رضا حیدر کے قتل کیخلاف پورے سندھ میں تین روزہ سوگ منانے کا اعلان کیا گیا اور انتہائی کشیدہ صورتحال میں گزشتہ روز جناح گرائونڈ کراچی میں سید رضا حیدر اور دیگر مقتولین کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔
مختلف ذرائع سے موصول ہونیوالی اطلاعات کے مطابق کراچی میں اس وقت عملاً خانہ جنگی کی کیفیت ہے۔ تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے اور مارکیٹیں بند ہیں جبکہ پٹرول پمپ اور پبلک ٹرانسپورٹ بھی بند کی جاچکی ہے۔ لوگ اپنے گھروں میں محصور ہوچکے ہیں جن کے پاس کھانے پینے کی اشیاء بھی ختم ہورہی ہیں اور عروس البلاد کراچی میں خوف و وحشت نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے لندن میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے انہیں کراچی میں امن و امان کی بحالی کیلئے اپنا قائدانہ کردار بروئے کار لانے کیلئے کہا ہے جبکہ انہوں نے سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد سے بھی ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور کراچی کے حالات کی بہتری کیلئے سیاسی قوتوں کے اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔ دوسری جانب وزیر داخلہ رحمان ملک نے پہلے کالعدم سپاہ صحابہ اور پھرکالعدم تحریک طالبان پر سید رضا حیدر کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ کراچی میں دو حلیف جماعتوں کو آپس میں لڑانے کی سازش کی جا رہی ہے جو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دی جائیگی۔ ان کے بقول گھیرائو جلائو کے الزام میں 20 افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔
یہ انتہائی تشویشناک صورتحال ہے کہ گزشتہ چند ماہ سے کراچی میں وقفے وقفے سے ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے جس میں یکدم تیزی آنا اب روزمرہ کے معمولات میں شامل ہوچکا ہے۔ کراچی میں امن و امان کو کنٹرول کرنے کیلئے حلیف حکومتی جماعتوں پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم متحدہ، اے این پی اور فنکشنل لیگ کے نمائندگان پر مشتمل ایک کور کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری بھی وقفے وقفے سے کراچی میں قیام کرکے کور کمیٹی کے ارکان سے ملاقاتیں کرتے ہیں اور صورتحال کا جائزہ لیکر ضروری ہدایات بھی جاری کرتے ہیں مگر یوں محسوس ہورہا ہے جیسے کراچی میں قیام امن کی بحالی کا کوئی نسخہ کامیاب نہیں ہورہا اور بدامنی کے واقعات کی آڑ میں لوگ اپنے مخالفین کو ہدف بناکر اپنا ذاتی غصہ بھی نکال رہے ہیں اور انتقام بھی لے رہے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ کراچی میں امن و امان کو کنٹرول کرنے کیلئے حلیف جماعتوں کی کور کمیٹی اپنا موثر کردار ادا کرپائی ہے نہ صدر زرداری کی کراچی میں آمد موثر ثابت ہورہی ہے بلکہ ان کی کراچی آمد کے بعدتو لاقانونیت اور غنڈہ گردی کا راج ہوتا ہے اور ساری حکومتی مشینری بے بس تماشائی کا کردار ادا کرتی نظر آتی ہے جبکہ حکومتی حلیف ٹارگٹ کلنگ روکنے اور امن و امان کو کنٹرول کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کے بجائے ایک دوسرے پر الزام تراشیوں میں مصروف ہیں اور ان افسوسناک واقعات میں بھی ایک دوسرے پر سیاسی پوائنٹ سکور کرتے نظر آتے ہیںجبکہ عوام کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اب تک صرف کراچی میں ہلاک ہونیوالوں کی تعداد دو سو سے تجاوز کرچکی ہے جو لمحہ فکریہ ہی نہیں، مخلوط حکومت کی گڈگورننس پر بھی بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ایسے ناگوار حالات میں وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کراچی آتے ہیں۔ گورنر، وزیراعلیٰ اور پولیس حکام سے ملاقاتیں کرتے ہیں اور کوئی نہ کوئی سنسنی خیز بے سروپا بلا ثبوت انکوائری متنازعہ بیان دیکر کراچی کو پھر بدامنی کی جانب دھکیل دیتے ہیں۔
ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی سید رضا حیدر کا سانحہ قتل انتہائی افسوسناک ہے اور حکومت کی کوشش تو یہ ہونی چاہئے کہ اس واقعہ کی آڑ میں ملک دشمن عناصر کو اپنے مخصوص مفادات کے تحت مزید بدامنی پھیلانے کا موقع نہ ملے مگر وفاقی وزیر داخلہ نے بغیر کسی تحقیق اور ثبوت کے اس واقعہ کی ذمہ داری کالعدم سپاہ صحابہ اور تحریک طالبان پر ڈال دی جو انکی غیرسنجیدگی ہی نہیں، امن و امان کو کنٹرول کرنے میں ان کی نااہلی کا بھی بین ثبوت ہے۔ پہلے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں بھتہ مافیا اور قبضہ مافیا کے حوالے سے کراچی میں آباد پٹھانوں اور ایم کیو ایم کے مابین غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں جبکہ اب ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی کے قتل میں دو کالعدم مذہبی تنظیموں کو ملوث کرکے دانستہ یا نادانستہ فرقہ ورانہ کشیدگی کی فضا ہموار کرنے کی کوشش کی گئی جس کے موجودہ صورتحال میں انتہائی سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔
اس وقت جبکہ بدترین سیلاب کی صورت میں ملک میں پہلے ہی آفت ٹوٹی ہوئی ہے اور سیلابی ریلہ ملک کے دوسرے صوبوں میں تباہ کاریاں پھیلاتا ہوا سندھ میں داخل ہوچکا ہے۔ اس قدرتی آفت سے لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کے اقدامات کرنے پر حکومت کی توجہ ہونی چاہئے جبکہ اب حکومتی بے تدبیریوں اور ذمہ دار حکومتی ارکان کی غیرسنجیدہ بیان بازی کے نتیجہ میں کراچی اور سندھ کے دوسرے شہروں میں خانہ جنگی کی کیفیت بھی پیدا ہوگئی ہے۔ صدر مملکت تو سیلاب کی آفت میں ملک کے عوام کو بے یارومددگار چھوڑ کر پہلے ہی اپنے بیٹے کی ڈگری کا جشن منانے برطانیہ پدھار چکے ہیں جبکہ اب سندھ حکومتی عاقبت نااندیشوں کے پیدا کردہ حالات کے نتیجے میں آگ اور خون کی بھی لپیٹ میں آچکا ہے۔ اس صورتحال میں یقینا ملک کی سلامتی کو بھی سخت خطرہ لاحق رہے گا کیونکہ ہماری سلامتی کے درپے امریکہ اور بھارت کی ایجنسیوں کے تربیت یافتہ دہشت گرد پہلے ہی یہاں اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے سرگرم ہیں اور یہ خبر بھی زیر گردش ہے کہ بلیک واٹر کے 80’’ کوبرا‘‘ ایجنٹ پاکستان میں داخل ہوچکے ہیں۔ اگر حکومت کو ملک کے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کیلئے اپنے فرائض کی ادائیگی میں بھی ناکامی کا سامنا ہے تو وہ ملک کی سالمیت کے تقاضے کیسے پورے کرپائیگی۔
اس صورتحال میں بہتر یہی ہے کہ صدر آصف علی زرداری اپنا بیرونی دورہ ختم کرکے فی الفور ملک واپس آجائیں، سندھ کے ابتر ہوتے ہوئے حالات پر قابو پانے کیلئے تمام قومی سیاسی قائدین کی میٹنگ بلائیں اور سانحہ کراچی کی آڑ میں ملک میں کہیں بھی فرقہ ورانہ فسادات کی نوبت نہ آنے دیں ور نہ حالات قابو سے باہر ہوئے تو امن و امان کو کنٹرول کرنا کسی کے بھی بس میں نہیں رہے گا جبکہ ملک کو منتشر اور غیرمستحکم کرنا ہی تو ہمارے مکار دشمن کا ایجنڈہ ہے۔
پاکستان کی توہین، وزیر خارجہ کیا کر رہے ہیں؟
برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے پاکستان پر دہشت گردی کے فروغ کا الزام واپس لینے اور معافی مانگنے سے انکارکردیا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود نے برطانوی ہائی کمشنر ایڈم تھامسن کو دفتر خارجہ طلب کرکے ان سے شدید احتجاج کیا ہے دریں اثناء ایک برطانوی اخبار ’’ دی انڈپینڈنٹ‘‘ نے پاکستانی پرچم کی شکل بگاڑ کر توہین آمیز انداز میں اسے شائع کیا ہے۔برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کا خبثِ باطن سامنے آگیا ہے۔ ٹونی بلیئر کی طرح یہ بھی امریکی انتہا پسند اور اسلام دُشمن آقا کا ’’ پوڈل‘‘ ثابت ہوا ہے اور یہ بات سامنے آگئی ہے کہ اسلامی ممالک کے ساتھ انگریزوں اور امریکیوں کی دشمنی پر قابو پانا ممکن نہیں ہے۔ مگر اس رویہ پر ہمارے وزیر خارجہ کی کئی روز تک خاموشی حیرت ناک ہے اور پاکستانی یہ سوچ رہے ہیں کہ مخدوم شاہ محمود، وزارت خارجہ جیسے حساس منصب کے اہل بھی ہیں…؟ جو ہلیری کلنٹن کے ساتھ سر جوڑنے کے نشہ میں ابھی تک مست ہیں اور اُنہیں اس بات کا احساس نہیں ہے کہ وہ ایک اسلامی ایٹمی قوت کے وزیر خارجہ ہیں۔ وہ اپنے صدرِ مملکت کو اس حساسیت سے بھی آگاہ نہیں کرسکتے کہ کشیدگی کے اس موقع پر وہ برطانیہ نہ جائیں اور بلاول کو سیاست میں انٹری دلانے کا جشن پاکستان میں منعقد کریں۔ اس ساری صورتحال میں صرف برطانوی وزیراعظم ہی پاکستان کا مُنہ چڑاتے ہوئے نظر نہیں آرہے بلکہ اس میں ہلیری کلنٹن پاکستان کے خلاف بڑھکیں لگا رہی ہیں اور امریکی وزیر دفاع اس بات کا تاثر دے رہے ہیں کہ افغانستان کی طرح پاکستان میں بھی آپریشن کرنا ہوگا اور حال ہی میں پاکستان سے جانے والے کینیڈین سفیر نے بھی اپنے ملک واپس جاکر پاکستان کے خلاف انتہائی خطر ناک انداز میں ہرزہ سرائی کی ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ پاک فوج افغانستان میں گوریلا جنگ کرارہی ہے۔سفارتی سطح پر پاکستان کے خلاف زہر آلود گفتگو کرنے والوں کی اتنی کثرت پہلے کبھی نہ تھی۔ موجودہ صورتحال کاتقاضہ ہے کہ اول تو پاکستان کی حکومت امریکی حکومت سے معذرت کرتے ہوئے نام نہاد دہشت گردی کی جنگ سے پیچھے ہٹ جائے اور اپنے بارڈر کو مضبوط بنائے افغان مہاجرین کو افغانستان بھیجنے کا اہتمام کرے اور دوسرا اقدام یہ کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کو کسی بہتر وزیر خارجہ کا اہتمام کرناہوگا۔ شاہ محمود قریشی صاحب کو کوئی اور منصب دے دیاجائے۔ امریکہ میں پاکستانی سفیر کو بھی تبدیل کیاجائے کیونکہ مبینہ طوپر انہوں نے بلیک واٹر کے ایک سو اسی 180 کوبرا ایجنٹوں کو پاکستان کے ویزے دے دئیے ہیں جو پاکستان میں تخریب کاری کیلئے لاہور، کراچی اور اسلام آباد پہنچ گئے ہیں اور خطرہ ہے کہ آئندہ دنوں میں پاکستان میں وہ خطرناک کارروائیاں کریں گے۔
اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کی مدد کیجئے!
وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے سیلاب زدگان کیلئے قائم فنڈ میں اپنے خاندان شریف فیملی کی طرف سے ایک کروڑ روپے کے عطیہ کا اعلان کیا ہے وفاقی کابینہ اور سپریم کورٹ کے فاضل ججوں اور اعلیٰ حکام کی طرف سے سیلاب فنڈ میں دو دن کی تنخواہ دینے کا اعلان بھی ہوچکا ہے۔نوائے وقت گروپ کی رابطہ کاری کے ساتھ کنسرن سٹیزن آف پاکستان نے متاثرین سیلاب کیلئے دو سے زائد ٹرک عطیات اکٹھے کئے ہیں جو سیلاب زدہ علاقوں کی جانب روانہ ہوچکے ہیں۔عوام کے پُر زور اصرار پر یہ کیمپ آج بدھ کے روز بھی جاری رہے گا۔یہ کیمپ رائونڈ ابائوٹ مین مارکیٹ گلبرگ لاہور میں لگایاگیا ہے۔سیلاب اور طوفانی بارشوں نے ہمارے دور افتادہ ہم وطنوں کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے اور ہمارے بعض علاقوں میں سیلاب کی شدت بہت زیادہ تھی جس کی وجہ سے بتایا گیا ہے کہ سیلاب سے متاثر ہونے کی تعداد تیس لاکھ افراد سے بڑھ گئی ہے تیس لاکھ افراد کھلے آسمان تلے پڑے ہیں۔ان سب کی روزمرہ کھانے پینے کی ضروریات کے علاوہ دوائیاں اورانہیں سر چھپانے کیلئے بارشوں اور دھوپ سے بچنے کیلئے خیموں کی بھی ضرورت ہوگی اورپھر جب سیلاب سے تباہ شدہ بستیوں، شہروں اور دیہات میں یہ لوگ واپس جائیں گے تو انہیں اپنے ہنستے بستے گھروں کی تباہی و بربادی دیکھنے کو ملے گی۔ ہمارے ان مصیبت زدہ بھائیوں کو اپنی روزمرہ زندگی شروع کرنے کیلئے بھی حکومت اورقوم کی طرف سے فراخدلانہ امداد کی ضرورت ہوگی تاکہ سیلاب اور طوفانی بارشوں میں برباد ہونے والی ان کی زندگی کو سہارا مل سکے اور اس کیلئے ضروری ہے کہ پاکستان کا ہرفرد اپنے بھائیوں کیلئے دل کھول کر اپنا حصہ ادا کرے۔ اس کیلئے مسلمانوں کو انصارِ مدینہ کی قربانی اور ایثار کو بھی سامنے رکھنا ہوگا کہ رسول اللہﷺ کے ساتھ ہجرت کرنے والوں یا بعد میں آنے والوں کیلئے انصارِ مدینہ نے کس طرح دل اور گھروں کے دروازے کھول دئیے تھے۔ پاکستان میں ایسے ایثار پیشہ مخیر حضرات کی کمی نہیں ہے مصیبت زدہ بھائی اپنے ان مسلمان بھائیوں سے ہر ممکن فیاضی اور فراخدلی کی توقع کرتے ہیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں