صدر آصف علی زرداری نے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں متاثرین سوات و مالاکنڈ کی بحفاظت واپسی کیلئے فوج کے جامع منصوبہ کی منظوری دیدی ہے جس کے تحت پاک فوج متاثرین کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنائیگی۔ صدر آصف علی زرداری‘ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے درمیان ملاقات میں سیاسی و عسکری قیادت نے اس امر پر اتفاق کیا کہ شدت پسندوں کے مکمل خاتمہ تک جنگ جاری رہے گی‘ اس میں واپسی کا کوئی آپشن نہیں۔
مالاکنڈ ڈویژن اور سوات میں فوجی آپریشن اگرچہ حکومتی دعوئوں کے مطابق آخری مراحل میں ہے اور صدر نے بے گھروں کی واپسی کیلئے فوج کی طرف سے پیش کردہ جامع منصوبہ کی منظوری دیدی ہے لیکن چونکہ فوج جنوبی وزیرستان میں بھی ایک نیا محاذ کھول چکی ہے‘ جس کی وجہ سے نہ صرف نقل مکانی کا سلسلہ رکنے میں نہیں آرہا بلکہ یہ خدشہ بھی محسوس کیا جا رہا ہے کہ شاید آپریشن کے جلد اختتام کی امیدیں پوری نہ ہوں‘ بے گھروں کی واپسی میں مزید تاخیر ہو جائے۔ امریکہ کے ڈرون حملے بھی جاری ہیں‘ جن میں بیشتر بے گناہ شہری نشانہ بنتے ہیں‘ اس لئے عوام کے دل جیتنے کی حکومتی کوششیں بھی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو رہیں اور یہ اطلاعات بھی گشت کر رہی ہیں کہ مالاکنڈ ڈویژن میں مقامی طالبان نے پسپائی ایک حکمت عملی کے تحت اختیار کی ہے اور اس امر کی کوئی ضمانت نہیں کہ جونہی فوج اپنی کارروائیاں بند کرے اور سول انتظامیہ معاملات سنبھالے‘ شدت پسند دوبارہ سر اٹھا کر ساری کامیابیوں پر پانی پھیر دیں۔ فوج یا مقامی سول انتظامیہ کیلئے ایک ایک گھر اور شہری کو تحفظ فراہم کرنا آسان نہیں‘ اس ضمن میں نقل مکانی کرنے والے بھی ذہنی تحفظات کا شکار ہیں اور وہ موجودہ امن کو عارضی وقفہ سے تعبیر کرتے ہیں۔
اگر یہ یقین کر بھی لیا جائے کہ آپریشن راہ راست واقعی کامیابی سے ہمکنار ہوا ہے اور رچرڈ ہالبروک نے اعلان فتح کے ضمن میں جن خدشات کا اظہار کیا ہے‘ انہیں مکمل طور پر رد کردیا جائے تو بھی اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ فوجی آپریشن کی وجہ سے مالاکنڈ اور سوات میں شہری آبادیاں مسمار ہو چکی ہیں۔ لوگوں کے کاروبار تباہ ہو گئے ہیں اور بجلی‘ پانی وغیرہ کی سہولتیں ناپید ہیں۔ انفراسٹرکچر کی تباہی کی وجہ سے لوگوں کا وہاں جا کر آباد ہونا‘ خاصہ مشکل ہے جبکہ سول ادارے بھی اس قابل نہیں کہ وہ فوری طور پر وہاں جا کر اپنے فرائض انجام دے سکیں‘ انکی اہلیت و صلاحیت بھی مشکوک ہے۔ بے گھروں کیلئے کیمپوں کی زندگی اگرچہ خاصی مشکل اور تکلیف دہ ہے لیکن یہاں انہیں کم از کم دو وقت کا کھانا تو مل رہا ہے اور علاج معالجے کی سہولتوں سے بھی کسی حد تک فیضیاب ہو رہے ہیں۔ کھنڈرات میں جا کر بسنا جبکہ روزگار کے مواقع ختم ہو چکے ہیں‘ کسی کے بس کی بات نہیں‘ فوج نے آبادکاری کیلئے جو منصوبہ پیش کیا ہے‘ جب تک اس کے خدوخال سامنے نہیں آتے‘ اسکے قابل عمل ہونے پر بات نہیں ہو سکتی لیکن اس منصوبے میں یقینا زمینی حقیقتوں کو سامنے رکھا گیا ہو گا اور آباد کاری سے پہلے انفراسٹرکچر کی تعمیر‘ شہری سہولتوں کی فراہمی اور واپس آنے والے خاندانوں کے تحفظ کیلئے اقدامات پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے اور جب تک معقول انتظامات نہیں ہوتے‘ لوگوں کو اپنے گھروں میں واپس جانے پر مجبور نہ کیا جائے۔
صدر‘ وزیراعظم اور آرمی چیف کی ملاقات کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات سے مترشح ہوتا ہے کہ آباد کاری کے منصوبے کو فوج پایۂ تکمیل تک پہنچائے گی۔ جس کا مطلب ہے کہ سول ادارے یہ کام کرنے کے اہل نہیں اور قدرتی آفات سے نمٹنے اور تعمیرنو کے حوالے سے جو ادارے وجود میں آچکے ہیں‘ انہیں بھی شاید یہ کام نہ سونپا جائے۔ پاک فوج یقیناً یہ کام خوش اسلوبی سے انجام دے سکتی ہے لیکن اس وقت جبکہ مشرقی سرحدوں پر بھی حالات بہت زیادہ اطمینان بخش نہیں۔ مغربی سرحد سے تخریب کاروں اور دہشت گردوں کی آمد و رفت جاری ہے اور متذکرہ ملاقات میں بیرونی مداخلت کو روکنے کیلئے بعض تجاویز پر غور ہوا ہے جبکہ فوج جنوبی وزیرستان میں بھی مصروف ہے۔ آبادکاری کا کام اسکے ذمہ لگانا محل نظر ہے اور اس سے سول حکومت اور اداروں کی افادیت بالکل ختم ہو کر رہ جاتی ہے۔ اگر وفاقی اور صوبائی حکومت آباد کاری کا کام بھی خود کرنے کے قابل نہیں اور فوج سے مدد لیتی ہے تو کل کلاں کو یہی چیز اس کی کارکردگی کے حوالے سے سوالیہ نشان بن سکتی ہے۔ لہٰذا ہر کام حکمت و دانش اور سیاسی بصیرت کو بروئے کار لا کر کیا جائے لیکن مسئلہ کا پائیدار حل اس وقت ممکن ہے کہ جب امریکہ افغانستان سے فوج نکال کر پاکستان میں ڈرون حملے بند کرے‘ جو نفرت‘ اشتعال اور انتقام کو جنم دے رہے ہیں اور اس کا نشانہ پاکستان کی حکومت اور ادارے بن رہے ہیں۔ شدت پسندوں سے حکومت کی رٹ منوانے کیلئے طاقت کے ساتھ مذاکرات اور سیاسی عمل کے آپشن پر بھی غور کیا جائے اور امریکہ کی مداخلت بند کی جائے تاکہ ہر طرح کے طالبان امریکہ دشمنی میں اکٹھے ہو کر ہمارے قومی مفادات کیلئے خطرہ نہ بنیں۔ جنگ کا دائرہ محدود سے محدود کیا جائے اور مزید نقل مکانی روکنے کیلئے یہ ازحد ضروری ہے۔ امید کرنی چاہئے کہ بے گھروں کی واپسی میں ان غلطیوں کا اعادہ نہیں ہو گا‘ جو زلزلہ زدگان کی بحالی کے حوالے سے حکومت نے کیں اور طویل عرصہ گزرنے کے باوجود تعمیرنو کا عمل مکمل نہیں ہو سکا۔
پھر مسئلہ کشمیر کے حل سے کیوں بِدکتے ہیں ؟
بھارت کے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے کہا ہے کہ نئی دہلی پاکستان کے ساتھ بات چیت سے خوفزدہ نہیں تاہم پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف ٹھوس کارروائی کا ثبوت دینا ہو گا۔ گزشتہ روز نئی دہلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔
لالہ جی کو پاکستان سے بات چیت جاری رکھنے کا خوف نہیں ہے تو وہ کشمیری عوام کی مرضی و منشا کے مطابق انہیں یو این کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت دے کر مسئلہ کشمیر حل کیوں نہیں کر دیتے جبکہ یہ حقیقت ہے کہ یو این قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر پاکستان بھارت کے مابین کسی قسم کے تعلقات استوار ہو سکتے ہیں نہ اعتماد کی فضا مستحکم ہو سکتی ہے۔ اس صورتحال میں اگر بھارت مسئلہ کشمیر حل کرنے میں سنجیدہ اور مخلص نہیں تو مذاکرات کس ایشو پر ہوں گے۔ اگر بھارت کشمیر پر اپنی ہٹ دھرمی برقرار رکھے‘ کشمیری عوام کو یو این قرارداوں کے ساتھ استصواب رائے کا حق دینے کے بجائے ان پر انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری رکھے جیسا کہ گزشتہ روز بھی مقبوضہ کشمیر میں ظالم بھارتی فوجوں کی بے دریغ فائرنگ سے چار نوجوان شہید ہو گئے جس کے خلاف پورے مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال ہے اور بھارتی مظالم کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جن میں ’’ہم آزادی چاہتے ہیں‘‘ کے نعروں کو فوقیت حاصل ہے۔ اگر بھارت کا یہی طرز جاری رہا تو اس کی ہمارے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کی بات ڈھکوسلے یا کسی نئے ٹریپ کے مترادف ہو گی۔
افغان جنگ ہار رہے ہیں تو اپنی افواج واپس لے جائیں
ایک سینئر برطانوی سفارتکار نے اعتراف کیا ہے کہ امریکہ اور نیٹو سمیٹ تمام غیر ملکی فوجیں افغانستان میں شکست سے دوچار ہیں۔ اس سفارتکار پیڈی ایچ ڈائون نے گزشتہ روز اپنے بیان میں باور کرایا کہ افغان جنگ میں ان کے فوجی جوان مارے جا رہے ہیں اور اگر مشترکہ حکمتِ عملی اپنا کر اپریشنل تبدیلیاں نہ کی گئیں تو امریکہ اور نیٹو کی زیر قیادت بین الاقوامی فوج یہ جنگ ہار جائے گی۔
متذکرہ برطانوی سفارتکار ہی نہیں‘ افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کے کمانڈرز بھی متعدد مواقع پر اس حقیقت کا اعتراف و ادراک کر چکے ہیں کہ افغان دھرتی پر جنگ جیتنا نیٹو افواج کے لئے ممکن نہیں ہے اور وہ یہ جنگ ہار رہی ہیں۔ اس کے باوجود امریکی انتظامیہ کی جانب سے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے افغانستان میں نیٹو افواج کے مزید فوجی دستے بھجوائے جا رہے ہیں اور آخری ’’دہشت گرد‘‘ کے مارے جانے تک نیٹو افواج کی جانب سے جنگ جاری رکھنے کا اعلان کیا جا رہا ہے جس کے لئے امریکی صدر اوبامہ اپنے پیشرو جارج ڈبلیو بش سے بھی دو ہاتھ آگے نظر آتے ہیں۔
چاہیے تو یہ کہ متذکرہ سینئر برطانوی سفارت کار اور افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کے کمانڈروں کی رائے کی بنیاد پر نیٹو افواج کی افغانستان سے واپسی کی کوئی سبیل نکالی جائے کیونکہ اس کے بغیر پاکستان اور افغانستان میں امن قائم ہو سکتا ہے نہ مستحکم حکومت‘ اس لئے بہتر یہی ہے کہ اس خطہ کے بہترین مفاد کے تحت اس دھرتی پر ڈرون حملوں کا سلسلہ فی الفور ختم کر دیا جائے اور امریکی اتحادی افواج کو افغانستان سے واپس لے جانے کی فوری تدابیر ڈھونڈنی چاہیے۔ اس صورت میں پاکستان افغانستان دونوں ممالک کے سروں پر لٹکی ہوئی خطرے کی تلوار ٹل جائے گی اور وہ سکون و اطمینان سے اپنی اپنی حکمرانی کو مضبوط و محفوظ بنا سکیں گے ورنہ امریکہ یہاں صدیوں براجمان رہے تو بھی وہ غیور افغان باشندوں سے جنگ جیت نہیں پائے گا۔
مکئی کی درآمد پر ڈیوٹی
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں مکئی کی درآمد پر 25 فیصد ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ اس نے پاکستان کو سونا اگلنے والی زرخیز زمینوں سے نوازا ہے، لیکن یہ زمینیں حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے بنجر ہو رہی ہیں۔ آج ملک میں پانی کی شدید قلت ہے جس کی وجہ کشمیر سے آنے والے دریاؤں پر بھارت کی طرف سے 62 ڈیموں کی تعمیر ہے۔ اب تو اس نے کرگل میں دنیا کے تیسرے بڑے ڈیم کی تعمیر بھی شروع کر دی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی تکمیل سے دریائے سندھ سے پاکستان کو ایک قطرہ پانی بھی میسر نہیں ہو گا۔ اس سے بھارت کی پاکستان کو تباہ کرنے سازش بغیر کوئی جنگ لڑے کامیاب ہو جائے گی۔ حکومت کو بھارتی مذموم اور مکروہ عزائم کی تکمیل سے قبل کوئی لائحہ عمل ترتیب دینا ہو گا۔ اس کے لئے بہترین فورم اقوام متحدہ ہے اگر وہاں شنوائی نہیں ہوتی تو اپنی بقاء کے لئے نئی نسلوں کی خاطر انتہائی اقدام سے بھی گریز نہیں کرنا چاہئے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس پانی کو بچانے کے لئے کالا باغ ڈیم کی بھی اشد ضرورت ہے جو بغیر استعمال کے سمندر میں جا گرتا ہے۔ پاکستان زرعی ملک ہے اگر ہم نے گندم،چنے، چینی اور مکئی جیسی اجناس درآمد کرنا ہیں تو کیا پاکستان صرف نام کا ہی زرعی ملک ہے؟ حکومت کو ہر جنس کی پیداوار کے لئے اپنے کسانوں پر بھروسہ کرنا چاہئے اور اسے تمام ممکنہ سہولتیں کی جائیں۔ کھادوں اور زرعی ادویات سستے داموں فراہم کی جائیں ایک طرف لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے تو دوسری طرف ڈیزل پٹرول سے بھی مہنگا کر دیا گیا جو عام پاکستانی خصوصاً کسانوں کے اوپر ظلم کے مترادف ہے۔ مکئی یا کسی بھی دوسری جنس کی درآمد پر ڈیوٹی کی نہیں اس کی مکمل درآمد پر پابندی لگانے کی ضرورت ہے اور خود انحصاری کیلئے یہ ناگزیر ہے۔
زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں پولیس کی استعداد کار بڑھانے کا منصوبہ
صوبہ سرحد کے زلزلہ زدہ علاقوں میں عام شہریوں اور ملکی و غیرملکی این جی اوز کے تحفظ اور امن و امان کے قیام کیلئے خصوصی منصوبہ بنایا گیا ہے جس کے تحت ان علاقوں میں محکمہ پولیس کی استعداد کار کو بڑھایا بلکہ مضبوط بنایا جائیگا۔ اس مقصد کیلئے 24 کروڑ 73 لاکھ روپے کی رقم بھی مختص کردی گئی ہے۔ پروگرام کے مطابق زلزلہ سے متاثرہ علاقوں ایبٹ آباد‘ مانسہرہ‘ بٹگرام‘ کوہستان‘ شانگلہ میں پولیس جوانوں کی بھرتی کی جائیگی اور انہیں خصوصی تربیت دے کر جدید اسلحہ سے لیس کیا جائیگا۔ اس پراجیکٹ پر اس ہفتہ عملدرآمد شروع ہو رہا ہے اور اس کا دورانیہ 2011ء تک رکھا گیا ہے۔
پولیس سٹیشنوں اور پولیس لائنز کی تعمیرنو کیلئے تو نیا منصوبہ بنا لیا گیا ہے اور نئی بھرتی بھی شروع کی جا رہی ہے مگر بحالی کے ترقیاتی اداروں کو متاثرین کی مکمل بحالی کا بھی جائزہ لینا چاہئے۔ وہ زندگی کی جن سہولتوں سے قدرتی آفت کی وجہ سے محروم ہو گئے تھے‘ ان کی مکمل طور پر فراہمی کو بھی ممکن بنانا چاہئے۔ پولیس کی استعداد کار ضرور بڑھائی جائے مگر محکمہ پولیس جن لوگوں کی دیکھ بھال کریگا‘ انہیں بھی ہر حالت میں مطمئن کرنے کی کوشش کی جائے۔