جناب وزیراعظم! حکومت کو شاپنگ مال سمجھ کر مت چلائیں

ـ 2 جنوری ، 2012
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ جمہوریت نہ رہی تو سب کی دکانیں بند ہو جائینگی۔ میاں صاحب کرپشن کے الزامات لگالیں مگر انکے اقتدار میں آنے کا کوئی چانس نہیں ہے۔ انہوں نے گزشتہ روز ٹی وی پروگرام ”پرائم منسٹر آن لائن“ میں اظہار خیال اور گورنر ہاﺅس لاہور میں پیپلز پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس سال غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ پر قابو پالیا جائیگا‘ انکے بقول حکومت کیخلاف سازشیں سینٹ الیکشن رکوانے کیلئے کی جا رہی ہیں مگر راتوں رات بننے والی جن جماعتوں کا کوئی نظریہ نہیں‘ وہ عوام کو کیا دے سکیں گی؟ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کو ہمیشہ کرپشن کے الزمات لگا کر لپیٹا گیا ہے جبکہ اس الزام پر جمہوریت کی بساط لپیٹے جانے کے بعد کوئی سابق وزیراعظم نہیں‘ بلکہ آمر اقتدار میں آتے ہیں اس لئے منتخب جمہوری حکومتوں کو کام کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں تو تصادم نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ”فرشتوں“ کو متحرک کیا جا رہا ہے مگر ہم ان کا جمہوری انداز میں مقابلہ کرینگے۔
اپنے اقتدار کے ساڑھے تین برس سے زائد سے عرصے کے دوران وزیراعظم گیلانی بار بار بیان تبدیل کرنے اور کھڑے پاﺅں اپنے بیان سے مکرنے کا عالمی ریکارڈ قائم کر چکے ہیں۔ ایک روز وہ اپنی کرسی مضبوط ہونے اور حکومت کو کسی قسم کا خطرہ لاحق نہ ہونے کی قوم کو نوید سناتے ہیں تو اگلے ہی روز وہ حکومت کیخلاف سازشوں کی نشاندہی کرکے انکی کڑیاں جمہوریت کی بساط لپیٹے جانے سے ملا رہے ہوتے ہیں۔ ابھی گزشتہ روز ہی ان کا بیان منظر عام پر آچکا ہے کہ صدر مملکت اور آرمی چیف کے مابین باہمی اعتماد پر مبنی تعلقات قائم ہیں اس لئے جمہوریت کیخلاف سازشیں کرنیوالے ہاتھ ملتے رہ جائینگے جبکہ ایک ہی روز بعد انہیں جمہوریت کیخلاف سازشوں کے انبار نظر آگئے جس کی بنیاد پر وہ اپوزیشن کے سیاست دانوں بالخصوص میاں نواز شریف کو مطعون کر رہے ہیں کہ جمہوریت نہ رہی تو سب کی دکانیں بند ہو جائینگی۔ انکی اس بات سے اس تاثر کو بھی تقویت ملتی ہے کہ حکومت دکانداری کی طرز پر کی جا رہی ہے جبکہ میاں نواز شریف نے گوجرانوالہ کے جلسہ عام میں خطاب کرتے ہوئے دو روز قبل ہی الزام عائد کیا تھا کہ جس طرح حکومت چلائی جا رہی ہے‘ اس طرح تو کوئی دکان اور گھر بھی نہیں چل سکتا۔ وزیراعظم تو درحقیقت کاروبار حکومت کو تجارت اور دکانداری سے ہی تعبیر کر رہے ہیں اس لئے اگر انکے بقول جمہوریت کے جانے سے سب کی دکانیں بند ہو جائیگی تو اس میں خود حکومتی پارٹی کیلئے سب سے بڑا خسارہ ہے جس کی محض ایک دکان نہیں‘ پورا شاپنگ مال بند ہو سکتا ہے‘ اگر تو وزیراعظم کے بقول اقتدار کے حصول کا مقصد اپنے کاروبار اور دکانداری کو چمکانے کا ہے تو ایسی نیت لے کر آنیوالے حکمرانوں سے ملک اور قوم کی بہتری کے اقدامات کی کیا توقع کی جا سکتی ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے اقتدار کا انداز یہ کھلی چغلی کھا رہا ہے کہ اس اقتدار میں حکمرانوں کا مطمح نظر محض اپنے مفادات کا تحفظ کرنا‘ اپنے اللے تللوں کو فروغ دینا‘ اپنے کمیشن اور کک بیکس کی راہیں نکالنا اور اپنی کرپشن کیخلاف قانونی اور عدالتی استثنیٰ حاصل کرنا ہے جبکہ انہیں عوام کے روٹی روزگار سے متعلق گوناں گوں مسائل کے حل میں کوئی دلچسپی ہے‘ نہ ملک کو بجلی‘ گیس کے سنگین بحران سے نکالنے کی کوئی منصوبہ بندی طے کرنے کی فکر ہے اس لئے حکمران طبقات کی ذاتی تجوریوں میں تو ضرور اضافہ ہوا ہے مگر عوام عملاً زندہ درگور ہو گئے ہیں۔
ایسی ساہوکارانہ سوچ کی بنیاد پر اقتدار کے مزے لوٹے جائینگے تو غربت‘ مہنگائی‘ بے روزگاری اور دوسرے روزمرہ کے سنگین مسائل میں جکڑے عوام ایسے حکمرانوں کو بھلا کیوں ٹکنے دینگے اور ان کیلئے تنگ آمد بجنگ آمد کی نوبت کیوں نہیں لائینگے؟ جب حکمران خود ہی اپنی بے ضابطگیوں‘ من مرضی‘ اقرباءپروری‘ میرٹ اور انصاف کے قتل اور اپنی بدترین حکمرانی سے عوام میں ہیجان و خلفشار پیدا کرکے انہیں اپنے مدمقابل لائینگے تو ”فرشتوں“ کو حکمرانوں کیخلاف کوئی سازش کرنے کی بھلا کیا ضرورت ہے؟ اس تناظر میں اگر وزیراعظم کو حکومت کےخلاف کسی قسم کی سازشیں پروان چڑھتی نظر آرہی ہیں جن کی بنیاد پر وہ جمہوریت کی بساط لپیٹے جانے کا ڈراوا دے رہے ہیں تو حکومت کیخلاف ایسے حالات پیدا کرنے میں کسی اور کا نہیں‘ خود حکمرانوں کا عمل دخل ہے اور اگر جمہوریت کیخلاف کوئی سازش ہو رہی ہے تو حکمران طبقات ہی اسکے محرک ہیں....ع
اے باد صبا ایں ہمہ آوردہ تست
اگر موجودہ حکمرانوں کے اب تک کے اندازِ اقتدار کا جائزہ لیا جائے تو اس میں کوئی ایک سمت بھی درست نظر نہیں آتی۔ عوام نے تو مشرف کی جرنیلی آمریت کے پیدا کردہ ملکی‘ قومی اور عوامی مسائل سے عاجز آکر ہی اپنے ووٹ کی طاقت سے سلطانی جمہور کی راہ ہموار کی تھی جبکہ عوام کے موجودہ حالات جرنیلی آمریت کے دور سے بھی بدتر ہو چکے ہیں جس کا تذکرہ بیرون ملک بیٹھ کر خود مشرف بھی تضحیک آمیز لہجے میں کرتے اور اس بنیاد پر ملک واپس آکر عوام کی قیادت کے اعلانات کرتے نظر آتے ہیں حد تو یہ ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے اقتدار کے چار سال پورے ہونے کو آئے ہیں مگر گھمبیر ہوتے ہوئے توانائی کے بحران پر قابو پانے کا کوئی قابل عمل قلیل المیعاد یا طویل المیعاد منصوبہ اب تک سوچا ہی نہیں گیا۔ نتیجتاً بجلی کی لوڈشیڈنگ کے ساتھ ساتھ اب گیس کے ناپید ہونے کا عذاب بھی ملک اور قوم پر مسلط ہو چکا ہے جس کے باعث صنعتوں کا پہیہ بھی جامد ہو رہا ہے اور سڑکوں پر ٹرانسپورٹ کا پہیہ بھی چلنے کے قابل نہیں رہا۔ لوگوں کے روزگار چھن رہے ہیں اور کاروبار بند ہو رہے ہیں‘ اندرونی اور بیرونی سرمایہ کاری کا عمل رک چکا ہے اور ہر شعبے میں ترقی ءمعکوس کا عمل جاری ہے۔ اس صورتحال میں وزیراعظم اس سال غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی نوید سناتے ہیں تو قوم کے ذہنوں میں پانی اور بجلی کے سابق وزیر راجہ پرویز اشرف کا تین سال قبل کئے گئے ایسے ہی دعوے کا انجام تازہ ہو جاتا ہے‘ اس دعوے کی روشنی میں تو آج سے تین سال قبل کے دسمبر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم ہو جانی چاہیے تھی جبکہ اب وزیراعظم اس سال کو بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خاتمہ کا سال قرار دے رہے ہیں۔ جب محض دعوے اور وعدے کرکے عوام کو فریب دینے کی کوشش کی جائیگی اور عملاً عوام کو ریلیف دینے والی کوئی پیش رفت نظر نہیں آئیگی تو زندہ درگور ہونیوالے عوام اپنے حکمرانوں کیلئے رطب اللسان ہونگے یا جرنیلی آمریت کی طرح انکے اقتدار کے خاتمہ کی بھی دعائیں مانگیں گے؟
ان حالات میں عوام اگر اپنے مسائل کے حل کے معاملہ میں اپوزیشن کے کسی مقبول لیڈر‘ عدلیہ یا افواج پاکستان سے توقعات وابستہ کرتے ہیں تو یہ حکومت کیخلاف اسٹیبلشمنٹ یا فرشتوں کی سازش کیسے قرار پائے گی؟ جبکہ عدلیہ‘ افواج‘ اسٹیبلشمنٹ اور اپوزیشن تو آج بھی جمہوریت کو بچانے کے عہد پر کاربند ہے۔ اگر انہوں نے حکومت کیخلاف ماضی جیسی ماورائے آئین اقدام والی کوئی سازش کرنا ہوتی تو حکومت کی بساط کب کی لپیٹی جا چکی ہوتی جس کیلئے حکمرانوں نے خود نادر مواقع بھی فراہم کئے اور اس کا جنرل (ر) مشرف بھی گزشتہ روز اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں یہ کہہ کر تذکرہ کر رہے تھے کہ آج حکومت کے پیدا کردہ ملک کے حالات 12 اکتوبر 1999ءکے حالات سے بھی بدتر ہیں۔
اس تناظر میں وزیراعظم گیلانی کو کسی اور کو مطعون کرنے کے بجائے اپنی چارپائی کے نیچے بھی جھانک لینا چاہیے اور اب دانشمندی کا یہی تقاضہ ہے کہ حکمران سلطانی جمہور کو اپنی دکانداریاں چمکانے اور بڑھانے کیلئے استعمال کرنے کے بجائے عوام کے روٹی روزگار اور بجلی گیس کی لوڈشیڈنگ کے مسائل حل کریں اور برانگیخت ہونیوالے عوامی جذبات کے آگے بند باندھنے کی کوشش کریں ورنہ بپھرے عوامی جذبات کا ریلہ انہیں خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے جائیگا۔
بھارت کے ساتھ ایٹمی تنصیبات اور قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ
پاکستان اور بھارت نے نئے سال کے پہلے روز جوہری تنصیبات اور قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کیا۔ بھارتی ہائی کمیشن کے سینئر اہلکار نے پاکستانی دفتر خارجہ آ کر بھارت میں موجود پاکستانی قیدیوں اور بھارتی جوہری تنصیبات کی لسٹیں پاکستانی حکام کے حوالے کیں۔ یہی کام دہلی میں پاکستانی سفارتخانے کے حکام نے کیا۔
بھارت پاکستان کا دوست نہیں انتہائی چالاک اور مکار دشمن ہے۔ وہ پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے اور دشمنی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ بھارت اور پاکستان کے مابین جوہری تنصیبات کے حوالے سے معلومات کا معاہدہ 1988ءمیں ہوا۔ اب تک 21 بار یہ تبادلہ ہو چکا ہے۔ کیا بھارت اس قدر قابل اعتبار ہے کہ آپ اپنی جوہری تنصیبات کے حوالے سے معلومات اسکے حوالے کر دیں؟ بھارت 1998ءمیں تین ایٹمی دھماکے کئے تو کیا ان کی بھنک اس نے پاکستان کو پڑنے دی؟ قیدیوں کے حوالے سے بھی اسکا رویہ انتہائی ظالمانہ رہا ہے۔ پاکستان میں تو اسکے دہشت گردوں تک کو بڑے پروٹوکول کے ساتھ رہا کر دیا جاتا ہے، جو بدستور اپنی سزا بھگت رہے ہیں ان کو بھی ہر قسم کی آسائش فراہم کی جاتی ہے جبکہ بھارت عزیز رشتہ داروں کو ملنے اور علاج کی غرض سے بھارت جانےوالوں کےساتھ دہشت گردوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اکثر قیدی تو سکیورٹی والوں کے تشدد سے مارے جاتے، جو بچ رہتے ہیں ان کی زندگی مرنے والوں سے بدتر بنا دی جاتی ہے۔ پاکستان سے بھارت جانے کے خواہش مند ہندو کے رویے کو مدنظر رکھیں۔
بھارت کو اسلحہ، فوج اور دیگر دفاعی معاملات میں پاکستان پر برتری حاصل ہے سوائے نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے۔ پاکستان کا نیوکلیئر پروگرام بھارت کے مقابلے میں زیادہ معیاری اور کارآمد ہے۔ بھارت خود تو اپنے ایٹمی پروگرام میں توسیع کر رہا ہے لیکن پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خاتمے کےلئے کوشاں رہتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل سمیت بہت سے مغربی ممالک کی بھی پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں بھارت ایسی سوچ ہے۔ ایٹمی پروگرام نے ہی پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بنایا ہے ہمیں یہ پروگرام انتہائی مقدم ہے جس کی حفاظت کےساتھ ساتھ اس میں حالات کی مناسبت سے توسیع بھی ہونی چاہئے۔ یہ اُسی صورت ممکن ہے جب آپ دشمن سے اپنے ایٹمی پروگرام اور اس کی تنصیبات کو خفیہ رکھیں گے۔ بھارت کےساتھ مسئلہ کشمیر کے حل تک دشمنی کا خاتمہ نہیں ہو سکتا، کم از کم مسئلہ کشمیر کے حل تک تو اسکے ساتھ ایٹمی معلومات کا تبادلہ کیا جائے نہ اسے پسندیدہ ملک کا درجہ دیا جائے اور نہ ہی اس کےساتھ گاجر مولی کی تجارت کی جائے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کا دورہ ترکی
وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف 5 روزہ دورے پر وفد کے ہمراہ ترکی روانہ ہو گئے ہیں جہاں وہ ترکی کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کرینگے۔
ترکی پاکستان کا برادر اسلامی ملک ہے جس نے ہر مشکل میں پاکستان کی مدد کی ہے۔ خادمِ پنجاب کا ترکی کا دورہ نہایت حوصلہ افزا اور نیک شگون ہے کیونکہ ترکی ہمارا آزمایا ہوا دوست ہے۔ ہمیں مختلف شعبوں میں ترکی سے مدد لے کر آگے بڑھنا چاہئے۔ 18ویں ترمیم کے تحت تو صوبے کافی کاموں میں خودمختار ہو چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کو ترکی سے جدید ٹیکنالوجی لا کر پنجاب میں بہنے والی نہروں اور دریاﺅں پر جدید سسٹم نصب کر کے بجلی پیدا کرنی چاہئے۔ اسی طرح کوڑا کرکٹ کو استعمال میں لا کر بھی بجلی پیدا کرنے کے پلانٹ نصب کئے جائیں جس سے ایک طرف صفائی کا انتظام بہتر ہو سکے گا، دوسرا انرجی کے حوالے سے بحران پر قابو بھی پایا جا سکے گا۔ پنجاب حکومت نے صوبائی دارالحکومت کی سڑکوں کو بہتر کیا ہے، اب ترکی سے ٹریفک پلان لے کر بے ہنگم ٹریفک کو خوبصورت پیرائے میں لانے کی سعی کی جائے۔ ترکی سے بہتر کوالٹی کی سولر انرجی کی ٹیکنالوجی حاصل کر کے بڑے بڑے شہروں میں سڑکوں پر لگی لائٹوں کا انتظام شفٹ کیا جائے۔ سرکاری دفتروں کی بلڈنگوں پر سولر انرجی ٹیکنالوجی لگا کر بجلی کی ضرورت کو پورا کیا جائے۔ ترک حکام خوشدلی سے پاکستان کی مدد کرنے کیلئے تیار ہو جائینگے۔
اس سے قبل جنوبی پنجاب میں جب سیلاب آیا تو ترکی نے پاکستانیوں کی دل کھول کر مدد کی اور متاثرہ علاقوں میں ماڈل ویلیجز بنا کر بے گھر لوگوں کو چھت مہیا کی۔ ترکی کی وزارت عظمیٰ کے تعاون سے مظفر گڑھ میں 1274، راجن پور میں 500، جام پور میں 346 گھر تعمیر کئے۔ خوبصورت مساجد، ہسپتال، سکول اور تجارتی مراکز تعمیر کر کے پاک ترک عوام کے دلوں میں محبت کے رشتوں کو مضبوط کیا۔ اس طرح ترک این جی او نے 1800 کمرے، 500 گھر مظفر گڑھ میں تعمیر کئے۔ یہ پاکستانی عوام سے لازوال محبت کی نشانی ہے۔ خادم پنجاب اس تعاون پر پوری پاکستانی قوم کی طرف سے ترک حکام اور انکے عوام کا شکریہ ادا کریں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے اس دورے سے تعلقات کو مزید وسعت ملے گی۔ امید ہے کہ ترک حکام پاکستان کو انرجی بحران سے نکلنے کیلئے مدد فراہم کرینگے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں