مبینہ دہشتگردی کا خاتمہ، قومی مفادات یا ڈالروں کے حصول کی جنگ؟.......... اس نازک ایشو پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے

ـ 3 فروری ، 2010
چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویزکیانی نے کہا ہے کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں عالمی برادری کو پاکستان پر اعتماد کرنا چاہئے۔ پاکستان نے اپنے قومی مفاد میں دہشت گردی کیخلاف لڑنے اور اسے ختم کرنے کا عہد کررکھا ہے، گزشتہ روز برسلز سے واپسی پر راولپنڈی میں غیرملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے باعث پاکستان کو بڑے پیمانے پر انسانی اور اقتصادی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے لیکن تمام تر نقصانات کے باوجود پاکستانی قوم کے عزم کو نہیں توڑا جاسکا۔ انکے بقول 2009ء میں ہونیوالے وزیرستان آپریشنز کے باعث افغانستان میں صورت حال بہتر ہوئی ہے، پاکستان نے افغانستان میں امن اور استحکام کیلئے اپنا کردار ادا کیا ہے۔
اس وقت جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادی خود افغانستان اور اس خطہ میں شروع کی گئی اپنے مفادات کی جنگ سے گلوخلاصی کرانے کے راستے تلاش کر رہے ہیں اور امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے گزشتہ روز امریکہ اور طالبان کے مابین براہ راست مذاکرات کا عندیہ بھی دے دیا ہے جن کے بقول افغانستان میں امریکی ملٹری کمانڈر طالبان سے مذاکرات کا بھرپور عزم رکھتے ہیں جبکہ انہوں نے گزشتہ ماہ 6جنوری کو دبئی میں بعض طالبان رہنمائوں اور اقوام متحدہ کے نمائندے کے مابین ہونے والی ملاقات کی بھی تصدیق کر دی ہے اور افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کے کمانڈر میک کرسٹل بھی گزشتہ ہفتے طالبان سے مذاکرات کے ذریعے افغان مسئلہ کے سیاسی حل کی ضرورت پر زور دے چکے ہیں۔ ہمارے آرمی چیف امریکی مفادات کی اس جنگ کو پاکستان کی جنگ قرار دے رہے ہیں اور یہ تسلیم کرتے ہوئے بھی کہ اس جنگ میں پاکستان ہی کا سب سے زیادہ جانی اور مالی نقصان ہوا ہے، وہ حکومتی زبان میں اعلان کر رہے ہیں کہ ہم نے اپنے قومی مفاد میں دہشت گردی کے مکمل خاتمہ کا عہد کررکھا ہے۔
اگر امریکہ خود افغان دھرتی پر غیور افغان باشندوں کی گزشتہ 9 سال سے سخت مزاحمت کا سامنا کرتے ہوئے اور ویت نام کی جنگ سے بھی بڑا اپنا جانی اور مالی نقصان کرکے ذہنی طور پر پسپائی اختیار کر چکا ہے اور طالبان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے واپسی کا محفوظ راستہ لینا چاہتاہے تو یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ہمارے آرمی چیف جن کی ذمہ داری ملک کے دفاع کو یقینی بنانے اور اسکی جغرافیائی سرحدوں پر جارحانہ عزائم رکھنے والے مکار دشمن کے دانت کھٹے کرنے کی حکمت عملی طے کرنے کی ہے‘ اس خطہ میں امریکی مفادات کا دفاع کرنے اور افغانستان میں امن و استحکام کیلئے کیوں فکرمند نظر آتے ہیں جبکہ امریکہ اپنے مفادات کی اس جنگ میں ہماری سالمیت کے بھی درپے ہے اور ہماری مسلح افواج کو اپنے ہی شہریوں کیخلاف صف آراء کرنے کے باوجود خود بھی آئے روز کے ڈرون حملوں کے ذریعے ہمارے بے گناہ شہریوں بشمول خواتین، بچوں اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کا خون ناحق بہا رہا ہے اور افغانستان بھی ہمیں غیر مستحکم کرنے کی بھارتی سازش میں برابر کا شریک ہے جہاں دو درجن سے زائد بھارتی قونصل خانوں کے ذریعہ بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کے تربیت یافتہ دہشت گردوں کی سرپرستی کر کے انہیں دہشت گردی کی وارداتوں کیلئے پاکستان بھجوایا جاتا ہے۔
اس نازک صورتحال میں تو ہمارے آرمی چیف کو وطنِ عزیز کی سالمیت کے درپے اسکے متذکرہ تینوں دشمنوں سے ملک کو بچانے کیلئے دفاع وطن کے تقاضے پورے کرنا چاہئیںچہ جائیکہ وہ اس دشمن کے مقاصد اور مفادات کی تکمیل کیلئے اپنے ہی ملک کی سرزمین پر اپنے ہی شہریوں کیخلاف فوجی آپریشن جاری رکھیں اور اس آپریشن اور اسکے ردعمل میں ہونیوالے خودکش حملوں کے ذریعہ ملک کا مزید جانی و مالی نقصان کرائیں۔ انکے بیان سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ ملک کے مفادات کے بجائے امریکی ڈالروں کو پیش نظر رکھ کر مبینہ دہشت گردی کو ہر صورت ختم کرنے کے عزم کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ ان کا یہ بیان بھی عین اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر اوبامہ نے امریکی کانگرس کو پاکستان کی افواج کیلئے طالبان کیخلاف جنگ کے عوض ایک عشاریہ دو ارب ڈالر امداد فراہم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس سے لازمی طور پر قوم کے ذہنوں میں یہ تاثر پیدا ہو گا کہ امریکی مفادات کی جنگ میں ملک کی مسلح افواج کو ملوث کرنا قومی مفادات کا نہیں ڈالروں کے حصول کا تقاضہ ہے اس لئے پاک فوج کیلئے امداد کی تجویز پر آرمی چیف نے اوبامہ کو یہ یقین دلانا ضروری سمجھا ہے کہ امریکہ کی یہ امداد اس کے مفادات کے تحفظ کیلئے ہی بروئے کار لائی جائیگی۔
آرمی چیف کو اصولی طور پر حکومت کے پالیسی معاملات میں کسی قسم کی بیان بازی سے گریز کرنا چاہئے اور اپنی توجہ اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی پر ہی مرکوز رکھنی چاہئے۔ اگر حکومت بھارت کی سرپرستی کرنیوالے امریکی رویے کو بھانپ کر اپنی پالیسی پر نظرثانی کرتے ہوئے کسی نئے فوجی آپریشن سے گریز کر رہی ہے جس کا عندیہ ہمارا دفتر خارجہ کا ترجمان دیتا رہتا ہے تو آرمی چیف دہشت گردی کے مکمل خاتمہ تک جنگی جاری رکھنے کے عزم کا کس بنیاد پر اظہار کر رہے ہیں جبکہ انہیں تو وطن عزیز کی سرزمین پر آئے روز بمباری اور میزائل حملے کرنیوالے امریکی ڈرون جہازوں کو گرانے کی حکمتِ عملی طے کرنی چاہئے۔ آرمی چیف کا یہ بیان قوم کی دل آزاری کا باعث بنے گا اس لئے انہیں آئندہ اس معاملہ میں محتاط رہنا چاہئے۔ اور جہاں تک فوجی آپریشن اور امریکہ کے فرنٹ لائن اتحادی کا کردار جاری رکھنے یا نہ رکھنے کا معاملہ ہے اس بارے میں مناسب یہی ہے اور قومی مفادات کا بھی یہی تقاضہ ہے کہ حکومت پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر اس ایشو پر اپنے اور اپوزیشن کے منتخب ارکانِ قومی اسمبلی و سینٹ کی سیر حاصل بحث کرائے اور پھر اس بحث سے اخذ ہونیوالے نتیجہ کی روشنی میں پارلیمنٹ کی ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کرا کے اسکی بنیاد پر حتمی فیصلہ کرے۔ قومی سلامتی سے متعلق کسی معاملہ پر اب وطن عزیز کسی معمولی سی غلطی کا بھی متحمل نہیں ہو سکتا۔
بھارتی اشیاء بغیر کسٹم افغانستان تک جا رہی ہیں
پاکستان کے بار بار انکار کے باوجود بھارتی اشیاء بہت بڑی مقدار میں پاکستان کے راستے افغانستان پہنچ رہی ہیں‘ جنہیں امریکی اور نیٹو فوجی استعمال کرتے ہیں حتٰی کہ ان اشیاء کو پاکستان میں چیک بھی نہیں کیا جاتا۔ سابق صدر کی بنائی گئی پالیسی کے تحت بسوں سے لے کر چھوٹی اشیاء تک افغانستان پہنچ رہی ہیں۔
اس سلسلہ میں قومی اسمبلی کی لائبریری میں موجود دستاویزی شواہد کے حوالے سے ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ تمام اشیاء کسٹمز ڈیوٹی سے مستثنیٰ ہیں۔ بھارت سے اربوں ڈالر کی اشیاء افغانستان بھیجی جا رہی ہیں۔ افغانستان بھیجے جانیوالے اس سامان کو پاکستانی حدود میں بھی تجارتی مقاصد کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ حکومت پاکستان کے ذمہ دار حکام کو علم ہے کہ افغانستان کیلئے بھارت کو راہداری نہیں دی گئی‘ یہ سارا سامان بندرگاہوں اور کسٹم پوائنٹس پر چیک ہونا چاہئے۔ بھارتی سامان کو چیکنگ پوائنٹس سے ہی واپس کر دینا چاہئے مگر غیرذمہ دار حکام اس سامان کو چیک کرنے کی زحمت ہی گوارہ نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ہول سیل مارکیٹیں بھارتی سازوسامان سے بھری ہوئی ہیں اور اربوں روپے کا سامان پاکستان کی مختلف منڈیوں سے ملک بھر میں پھیلایا جا رہا ہے۔ افغانستان جانیوالے سامان پر کسٹم ڈیوٹی نہ لگا کر پاکستان کے کسٹم حکام نہ صرف قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں بلکہ پاکستان کی معیشت کو بھی بہت زیادہ نقصان پہنچا رہے ہیں اور پاکستان میں بھارتی سامان پھیلا کر پاکستان کی صنعتوں کو بھی نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ حکومت کے ذمہ دار حلقوں کو فوری طور پر اس کا نوٹس لینا چاہئے اور اس سلسلہ میں فوری اقدامات کئے جائیں۔ بھارت کو راہداری دینے کے یہ شواہد اگر قومی اسمبلی کے ریکارڈ میں موجود ہیں تو پھر ارکان پارلیمنٹ کیوں خاموش ہیں؟
قرضوں کی ناگفتہ بہ صورتحال
پیپلز پارٹی کے دو سالہ دور حکومت میں پاکستان کے ذمے بیرونی قرضوں میں 14 ارب 89 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے یہ انکشاف وفاقی وزارت خزانہ کی پارلیمنٹ میں پیش کی گئی نئی مالیاتی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ اس کیمطابق دو برس قبل ملک کے ذمہ بیرونی قرضوں کا حجم 40 ارب 32 کروڑ 55 لاکھ ڈالر تھا۔ جو رواں مالی سال 2009-2010ء تک بڑھ کر 55 ارب 21 کروڑ 60 لاکھ ڈالر ہو گیا ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ اس مدت میں آئی ایم ایف کے قرضے میں 5 ارب 3 کروڑ 51 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا جو ایک ارب 40 کروڑ 69 لاکھ ڈالر سے بڑھ کر 6 ارب 44 کروڑ 20 لاکھ ڈالر ہو گیا۔ بتائی گئی تفصیلات کیمطابق حکومت کے ذمہ اندرونی قرضہ 40 کھرب 10 ارب روپے ہے‘ قرضہ مجموعی قومی پیداوار کا 54.1 فیصد کے برابر ہے وزارت خزانہ کیمطابق پاکستان کے ذمے قرضے کل وسائل سے 370 فیصد زائد ہیں۔
پاکستان پر قرضوں کی صورتحال انتہائی شرمناک ہے اور پاکستان اس وقت اچھے اکنامک منیجرز کے ہاتھ میں نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے حالات خراب سے خراب تر ہو رہے ہیں۔ اس وقت پاکستانی کرنسی کی قیمت اتنی کم ہو چکی ہے کہ اس سے کم قیمت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کیونکہ حکومت پیداواری وسائل کو بہتر بنانے کی بجائے صرف قرضوں کی معیشت پر انحصار کر رہی ہے اور یہ واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے کہ ملک میں کوئی معاشی ماہر نہیں ہے۔ حکمران جس طرح بھی ہو قومی معیشت کی لوٹ مار کر رہے ہیں اور پاکستانی دولت غیر ملکی بنکوں میں جمع کرا رہے ہیں۔ پاکستان کے قومی ادارے روبہ زوال ہیں اور مملکت خداداد اپنی تاریخ کے انتہائی نازک حالات کا سامنا کر رہی ہے۔
پاکستان کے محب وطن حلقے اس نازک صورتحال کی وجہ انتہائی تشویش کا شکار ہیں۔ قوم کی نظریں پارلیمنٹ اور عدالت عظمیٰ پر ٹکی ہوئی ہیں۔ عوام محسوس کر رہے ہیں ملک کی معیشت کو بہتر بنانے کیلئے انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے۔
کرکٹ بند ہوتی دکان!
دورہ آسٹریلیا میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کو میچ فیس کی مد میں کروڑوں روپے ملنے کے باوجود ٹیسٹ اور ون ڈے میں اسکی کارکردگی صفر رہی۔ پاکستانی ٹیم کو میزبان ٹیم کیخلاف تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں تین صفر جبکہ ون ڈے سیریز میں پانچ صفر سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سیریز میں قومی کھلاڑیوں کے میچ فیس کی مد میں 2 کروڑ 25 لاکھ پچاس ہزار روپے بنے ۔ دورہ آسٹریلیا میں پاکستان ٹیم کے ساتھ 7 آفیشلز بھی موجود ہیں جن کو 100 ڈالر ڈیلی الاؤنس دیا جاتا ہے۔ پاکستان ٹیم 6 دسمبر کو آسٹریلیا پہنچی تھی جبکہ اسکی واپسی 6 فروری کو ہو گی۔ کوچ انتخاب عالم بورڈ سے ماہانہ پانچ لاکھ روپے تنخواہ لیتے ہیں۔ ٹیم آفیشلز کے دو ماہ کے ڈیلی الاؤنس کی مد میں پی سی بی کو 41 لاکھ 28 ہزار روپے ادا کرنا پڑے ہیں۔
آسٹریلیا میں قومی ٹیم نے جس کارکردگی کا مظاہرہ کیا‘ اگر پاکستانی بی ٹیم یا انڈر 19 اسکی جگہ گئی ہوتی تو شاید کچھ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر پاتی۔ جو کچھ قومی کرکٹ ٹیم نے کیا‘ اس سے زیادہ بری کارکردگی کی تو گنجائش ہی نہیں ہے۔ ٹیسٹ اور ون ڈے تمام کے تمام میچوں میں شکست شرمناک کارکردگی ہے۔ اسکے باوجود سلیکشن کمیٹی موجود‘ کوچ موجود اور مالشیئے تک ٹیم کے ساتھ ہیں‘ سب کو قومی خزانے سے بڑی بے رحمی سے ادائیگیاں کی جاتی ہیں اور کرکٹ بورڈ میں اربوں کی کرپشن الگ ہے۔ اگر کارکردگی بہتر ہو تو کمزوری چھپ جاتی ہے‘ بری کارکردگی پر عوام کا مشتعل ہونا فطری امر ہے۔ چیف سلیکٹر اقبال قاسم نے کسی حد تک خودداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا‘ اسکے باوجود ان سے ٹیم کی کارکردگی سے حوالے سے بازپرس ہونی چاہئے اور ٹیم کی کارکردگی کے حوالے سے کوچ اور پوری سلیکشن کمیٹی اور ایڈوائزر وغیرہ کو بھی مستعفی ہو جانا چاہئے۔ کرکٹ کی تباہی میں بورڈ کے چیئرمین سرفہرست ہیں‘ سب سے پہلے ان کو فارغ کیا جانا چاہئے۔ پارلیمنٹ کی سپورٹس کمیٹی کے سربراہ جمشید دستی سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے ان کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ ہمارے ہاں کرکٹ کے حوالے سے بڑے بڑے نام ہیں تو ذمہ داریاں ان کو سونپی جائیں نہ کہ اپنے دور کے ناکام کھلاڑیوں کو بورڈ کا کرتا دھرتا بنا کر اسکا بیڑہ غرق کردیا جائے۔ ان عہدیداروں کے ہوتے ہوئے کرکٹ ایسی دکان بن چکی ہے جو چلتی نظر نہیں آرہی۔ ایسی دکان بند کرنے سے بہتر ہے عملہ بدل دیا جائے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter