پاکستان کی سالمیت کیخلاف امریکی بھارتی جنگی تیاریاں اور آرمی چیف کی دفاعی حکمت عملی .... سرحدوں کی حفاظت بہرصورت افواج پاکستان نے ہی کرنی ہے

ـ 3 دسمبر ، 2011
آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی نے افغانستان کے ساتھ سرحد پر متعین افواجِ پاکستان کو احکام جاری کئے ہیں کہ سرحد پار سے آنےوالے حملہ آور آئندہ بچ کر نہ جانے پائیں۔ اس سلسلہ میں آرمی چیف کی جانب سے گزشتہ شب پاک افغان سرحد پر تعینات افواج پاکستان کے افسروں اور جوانوں کو ایک مراسلہ کے ذریعہ پیغام دیا گیا ہے کہ کسی جارحیت کی صورت میں تمام دستیاب وسائل کے ساتھ فوری اور منہ توڑ جواب دیا جائے اور فوری کارروائی کیلئے اوپر کی ہدایات کا انتظار نہ کیا جائے۔ اس معاملہ میں چین آف کمانڈ ختم کی جاتی ہے اور اب جارح کیخلاف علاقے میں موجود افسر کارروائی کرنے کا مجاز ہو گا‘ جو تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے کارروائی کریگا اور اسے جو بھی مدد درکار ہو گی‘ فراہم کی جائیگی۔ عسکری ذرائع کے مطابق آرمی چیف نے افغانستان کی جانب سے نیٹو فورسز کی مسلسل جارحیت سے تنگ آکر یہ احکام جاری کئے ہیں جس کے بعد اگر نیٹو اتحادی افواج نے احتیاط نہ کی تو سرحد پار پاکستان اور اتحادی افواج میں جھڑپ کا احتمال بھی موجود ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ آئین کے تحت افواج پاکستان اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی بجاآوری کے سلسلہ میں مجاز سول اتھارٹیز کے تابع ہوتی ہیں اور عام حالات میں افواج پاکستان کو امور حکومت و مملکت میں کسی قسم کی مداخلت کرنی بھی نہیں چاہیے‘ اس حوالے سے آرمی چیف جنرل کیانی نے پہلے ہی افواج پاکستان کو پابند کر رکھا ہے کہ وہ صرف ملک کی سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری تک محدود رہیں یا اگر آئین کے تقاضے کے تحت سول اتھارٹی کو امن و امان کے قیام کے سلسلہ میں فوج کے تعاون کی ضرورت محسوس ہو تو اس سلسلہ میں بھی مجاز اتھارٹی کے احکام کی تعمیل کی جائے۔ معمول کے حالات میں تو افواج پاکستان کا یہی کردار ہونا چاہیے تاہم جب ملک کی سرحدوں پر کسی بیرونی جارحیت کا خطرہ موجود ہو جس سے بہرصورت افواج پاکستان نے ہی اپنی آئینی ذمہ داریوں کے تقاضے کے تحت عہدہ برا ہونا ہے تو پھر جارحیت کی نوعیت کے حساب سے اس کا فوری توڑ کرنے کیلئے کیا حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے‘ اس کی بہترین جج موقع پر موجود افواج پاکستان ہی ہو سکتی ہیں۔ اگر وہ مجاز اتھارٹی کے احکام کی منتظر رہیں گی تو کوئی جوابی کارروائی نہ ہونے کی صورت میں دشمن کو مدمقابل فورسز پر غلبہ پانے کا موقع مل جائیگا۔
اس وقت بالخصوص مہمند ایجنسی میں سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو افواج کے حملہ کے بعد ملک کی سرحدوں کو چاروں جانب سے جو سنگین خطرات لاحق ہو چکے ہیں‘ اسکے پیش نظر سرحدوں کی حفاظت اور جارح فورسز کے دانت کھٹے کرنے کیلئے ہر لمحہ کی حکمت عملی طے کرنے اور اس پر فوری عملدرآمد کی ضرورت پیش آتی رہے گی۔ اگر اس ہنگامی صورتحال میں بھی ”چین آف کمانڈ“ کے تقاضوں کو پیش نظر رکھا جائے تو پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ سکتا ہے۔ چنانچہ اس تناظر میں آرمی چیف کا موقع پر موجود افسر کو ازخود کارروائی کا اختیار دینا بہترین حربی حکمتِ عملی ہے۔ ممکن ہے اس فیصلے سے ایوان اقتدار میں موجود بعض ان شخصیات کے ماتھے پر بل پڑیں جو ملک کی سالمیت کو درپیش موجودہ سنگین خطرات کو سامنے پا کر بھی امریکہ کے فرنٹ لائن اتحادی کا کردار ترک کرنے کو تیار نہیں اور نیٹو کی سپلائی بحال کرنے اور دوسری لاجسٹک معاونت فراہم کرنے کیلئے عوام کے جذبات ٹھنڈے پڑنے کے منتظر ہیں۔
اصولی طور پر تو 2 مئی کے ایبٹ آباد اپریشن کے بعد بدلتے ہوئے امریکی تیور دیکھ کر ہی اسے دشمن ملک کا درجہ دے دیا جانا چاہیے تھا اور اس مناسبت سے مسلح افواج کو کسی بھی جارحیت کی صورت میں جارح کا نشہ ہرن کرنے کیلئے ازخود اور فوری جوابی کارروائی کرنے کا اختیار مل جانا چاہیے تھا۔ اگر پاک افغان سرحدوں پر تعینات افواج پاکستان کو پہلے ہی ازخود کارروائی کے اختیارات مل چکے ہوتے تو مہمند ایجنسی میں نیٹو کے حملے اور اس سے پہلے کے نیٹو حملوں کی یقیناً نوبت نہ آتی۔ مہمند ایجنسی کے حملے میں افواج پاکستان کو یقیناً ناقابل تلافی جانی نقصان اٹھانا پڑا جو فوری طور پر محض اس لئے جوابی کارروائی نہ کر سکیں کہ انہیں اوپر سے ہدایات موصول نہیں ہوئی تھیں اور جب انہوں نے جوابی کارروائی شروع کی‘ اس وقت تک نیٹو ہیلی کاپٹر اپنی کارروائی کرکے افغانستان واپس جا چکے تھے۔ اس سے لازمی طور پر افواج پاکستان کی کمزوری کا تاثر بھی پیدا ہوا جو دفاعی حکمت عملی کی ناکامی کا غماز ہوتا ہے۔ اس تاثر کی وجہ سے ہی اگلے روز ہمارے پیارے پسندیدہ ترین ملک کی بھارتی افواج کو کنٹرول لائن پر افواج پاکستان کیخلاف فائرنگ کا نادر موقع ملا جبکہ موقع سے مزید فائدہ اٹھانے کی خاطر بھارت نے پاکستان کی سرحد کے قریب جنگی مشقوں کی تیاریاں بھی شروع کر دی ہیں اور اس سلسلہ میں ہزاروں فوجی اور لڑاکا طیارے راجستھان پہنچا دیئے گئے ہیں۔ سراشان شکتی کے نام سے شروع کی جانیوالی بھارت کی ان جنگی مشقوں کو دو ماہ تک مسلسل جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے اور بکتر بند گاڑیاں اور ٹینک بھی ان جنگی مشقوں کا حصہ بنائے گئے ہیں تاکہ سرحدوں پر جیسے ہی بھارت کو نادر موقع نظر آئے‘ وہ ان جنگی مشقوں کو پاکستان پر حملہ میں تبدیل کرکے اپنے توسیع پسندانہ جنونی عزائم پورے کر سکے۔
دوسری جانب نیٹو حملے کیخلاف پاکستان کی حکومتی اور عسکری قیادتوں کے سخت موقف کے ردعمل میں امریکہ نے اپنی غلطی کا اعتراف کرنے اور معافی مانگنے کے بجائے مزید سخت طرز عمل اختیار کرلیا ہے اور نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق صدر اوباما کی جانب سے بھی عندیہ دیا گیا ہے کہ وہ مہمند ایجنسی میں نیٹو حملے پر پاکستان سے رسمی افسوس بھی نہیں کرینگے۔ حد تو یہ ہے کہ نیٹو فورسز نے گزشتہ روز بھی پاکستان کے سرحدی علاقے میں بمباری سے گریز نہیں کیا اور پاکستان افغانستان سرحد پر چاغی میں بی بی جان کے مقام پر نیٹو طیاروں کی بمباری سے دو افراد جاں بحق ہو گئے۔ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حربی طاقت کے نشے میں چور امریکہ ہمارے ساتھ کیا کرنا چاہتا ہے۔ پوری دنیا پہلے ہی مہمند ایجنسی میں نیٹو فورسز کی جارحیت کے حوالے سے امریکہ پر لعن طعن کر رہی ہے۔ چین اور روس نے اسکی جارحیت کا ٹھوس جواب دینے کا بھی اعلان کردیا ہے اور سلامتی کونسل کے ارکان کی غالب اکثریت بھی امریکہ کی مذمت و مرمت کیلئے پاکستان کی قرارداد کی منتظر ہے۔ اسکے باوجود امریکہ پاکستان کی سالمیت کیخلاف طے کی گئی اپنی حکمت عملی پر عملدرآمد سے باز نہیں آرہا چنانچہ یہ حقیقت اب کھل کر سامنے آچکی ہے کہ امریکہ پاکستان سے منہ کی کھائے بغیر واپس نہیں پلٹے گا اور کوئی نہ کوئی گل کھلا کر ہی چھوڑے گا۔
اس صورتحال میں افواج پاکستان کو ملک کی سرحدوں کے دفاع کے سوا کوئی ذمہ داری ادا نہیں کرنی چاہیے اور اب ملک و قوم کے مفادات کا بھی تقاضہ ہے کہ قبائلی علاقوں میں اپریشن میں مصروف افواج پاکستان کو بھی اس بادل نخواستہ ادا کی جانےوالی اس ذمہ داری سے ہٹا کر سرحدوں کی حفاظت کی اصل ذمہ داری پر مامور کردیا جائے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت نے تو چونکہ اپنی طرز کی حکمرانی کا ہی ایجنڈہ طے کر رکھا ہے اور وہ افواج پاکستان اور عدلیہ سمیت تمام آئینی اداروں کو اپنا حریف سمجھ کر ٹکراﺅ کی پالیسی پر عمل پیرا ہوتی نظر آرہی ہے جس کا عندیہ صدر زرداری‘ گورنر پنجاب سردار لطیف کھوسہ اور سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر بابر اعوان کے گزشتہ روز کے بیانات سے بھی ملتا ہے جس کے باعث دفاع وطن کے تقاضے نظرانداز ہو سکتے ہیں جبکہ مسلح افواج نے بہرصورت دفاع وطن کی ذمہ داریاں ادا کرنی ہیں۔ اس تناظر میں آرمی چیف کی جانب سے افواج پاکستان کو کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے فوری طور پر خود کارروائی کرنے کا اختیار دینا ملکی اور قومی سلامتی کے تقاضوں کے عین مطابق ہے جس کے بعد اب جارح قوتوں کو ، چاہے وہ امریکہ ہو یا بھارت۔ سرحد عبور کرکے پاکستان پر جارحیت کا ارتکاب کرنے سے پہلے سو بار سوچنا پڑیگا جبکہ دشمن کو اپنے دفاع کا سوچنے پر مجبور کرنا ہی بہترین جنگی حکمت عملی ہوتی ہے۔ قوم اس معاملہ میں افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
میمو سکینڈل‘ حکومت تحقیقات میں رخنہ اندازی کے بجائے تعاون کرے
میمو کیس میں عدالت عظمی نے صدر اور آرمی چیف سے 15 روز میں جواب طلب کرتے ہوئے کیس کے اہم کردار حسین حقانی کے ملک چھوڑنے پر پابندی لگا دی۔ سپریم کورٹ نے سابق ڈی جی ایف آئی اے طارق کھوسہ کی سربراہی میں تحقیقاتی کمشن بنا دیا۔ پہلے روز کیس کی سماعت کے دوران میاں نواز شریف نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ سول اور کریمنل کیس ہے۔ معاملہ پارلیمنٹ میں اٹھایا جاتا تو نتیجہ برآمد نہ ہوتا تھا۔
میمو کیس عدالت میں جانے اور اسکی سماعت پر دیگر ساتھیوں کے ساتھ پریس کانفرنس میں بابر اعوان خوب برسے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو کبھی انصاف نہیں ملا۔پھر بنگال کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ گورنر پنجاب لطیف کھوسہ نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شدید ردّ عمل کا اظہار کیا۔میمو کیس انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ وزیر اعظم گیلانی نے اسکی اہمیت کے پیش نظر ہی امریکہ میں پاکستانی سفیر حسین حقانی سے استعفیٰ لیا تھا۔ وزیر اعظم گیلانی کے بقول یہ کیس پیپلز پارٹی کی حکومت کےخلاف سازش ہے۔ اگر یہ سازش ہے تو سازشیوں کو بے نقاب کرنے کےلئے جس دن حسین حقانی سے استعفیٰ لیا گیا اسی روز ایک بااختیار جوڈیشنل کمشن بھی تشکیل دے دینا چاہیے تھا لیکن وزیر اعظم نے ایسے کیس کی تحقیقات کا کام کافی دنوں بعد پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی کے سپرد کر دیا جس کے اکثر ارکان آئندہ الیکشن میں پارٹی ٹکٹ کےلئے صدر زرداری اور وزیر اعظم گیلانی کے محتاج ہونگے جن کا اپنا نام بھی اس سکینڈل میں لیا جا رہا ہے۔ اس کمیٹی سے غیر جانبداری کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ اپوزیشن معاملہ پارلیمنٹ میں اٹھاتی تو اس کا حشر بھی پارلیمنٹ کی ان قرار دادوں جیسا ہوتا جو ڈرون حملوں کےخلاف متفقہ طور پر منظور ہو چکی ہیں۔ اس سکینڈل کی تحقیقات کا بہترین فورم عدلیہ ہی ہے۔ حکمران اپنی اصلاح کے بجائے عدلیہ پر طعن تشنیع کے تیر برسا رہے ہیں۔ بابر اعوان کے اس بیان سے کہ ”پھر بنگلہ طرز کا ایکٹ کھیلا جا رہا ہے“ کیا نتیجہ اخذ کیا جائے؟ کہیں بابر اعوان خود تو بنگلہ حکمرانی فارمولا کی راہ ہموار نہیں کر رہے؟ حکومتی پارٹی کی طرف سے میمو سکینڈل کی عدالتی تحقیقات پر واویلا چور کی داڑھی میں تنکے کے مترادف ہے۔ حکومتی پہلوان بے قصور ہیں تو تحقیقات میں رخنے ڈالنے کی بجائے عدلیہ کےساتھ تعاون کریں۔
مہنگائی کے ستائے عوام کہاں جائیں؟
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اربن ٹرنسپورٹرز نے از خود سٹاپ ٹو سٹاپ کرائے میں تین روپے کا اضافہ کر دیا، ریلوے حکام نے پسنجر اور فریٹ سیکٹر کے گروپوں میں 15سے 25 فیصد اضافے کی تجویز تیار کر لی۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے کے ساتھ ہی ٹرانسپورٹرز نے من چاہے کرائے بڑھا دیئے ہیں۔ اشیاءخوردونوش کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کر رہی ہیں جبکہ حکومت کی طرف سے کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، مہنگائی کا طوفان غریبوں کے منہ سے کھانے کا نوالہ چھین رہا ہے، لوگ مہنگائی سے تنگ آ کر خودکشیاں کر رہے ہیں۔ کوئی پرسان حال نہیں، اب صورت حال یہ ہو چکی ہے کہ پٹرول کی قیمتیں بڑھنے کے ساتھ ہی رکشہ اور ٹیکسی مالکان نے مسافروں کو لوٹنا شروع کر دیا ہے، اگر پٹرول کی قیمتیں بڑھانے کے ساتھ ہی حکومت ٹرانسپورٹروں کے کرائے بھی متعین کر دے تو عوام کیلئے بہت آسانی پیدا ہو جائے گی۔ کرائے پر صبح و شام کے جھگڑے ختم ہو جائیں گے۔ اسی طرح اشیاءخورد ونوش کی قیمتیں بھی متعین کر دیں تو حکومت کا عوام پر یہ احسان عظیم ہو گا۔
ریلوے حکام نے بھی پسنجر اور فریٹ سیکٹر کے کرایوں میں 25فیصد تک اضافے کی تجویز تیار کر لی ہے، جبکہ وزارت پانی و بجلی بھی بجلی کے نرخوں میں مزید چار فیصد اضافہ کی تیاریاں کئے بیٹھی ہے، انہیں تو خوف خدا بھی نہیں رہا۔ٹرین تو کہیں چلتی نہیں، ریلوے ٹریک پر اُلو بول رہے ہیں، آخر مسافروں سے 25 فیصد اضافی کرایہ کہیں ریلوے اسٹیشن دیکھنے کیلئے تو نہیں لیا جا رہا۔ ریلوے حکام کو مہنگائی کے تناسب سے کرائے بڑھانے کا حق حاصل ہے لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ ٹرینوں کو بھی ٹریک پر لائیں، عوام کو سہولیات فراہم کریں، یہاں تو 24گھنٹے تک ریل کا لیٹ ہونا معمول بن چکا ہے۔ عوام اسٹیشنوں پر بیٹھے اپنی منزل پر پہنچنے کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔ اسی طرح بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے عوام کو موسم سرما میں بھی نجات نہیں مل سکی مگر بجلی کے نرخ بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔حکومت کو اس سلسلے میں بھی اقدامات کرنے چاہئیں۔ وہ عوام پر صرف عذاب ہی مسلط نہ کرے، انہیں ریلیف دینے کا بھی سوچے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں