متاثرین سیلاب کی امداد میں حکومتی عدم دلچسپی..... صدر کو بیرونی دورے کی کیا مجبوری تھی؟
ـ 3 اگست ، 2010
صوبہ خیبر پی کے‘ بلوچستان‘ پنجاب‘ کشمیر اور قبائلی علاقوں میں تباہ کاریوں کے اثرات چھوڑتا ہوا سیلابی ریلا اب سندھ میں داخل ہو گیا ہے۔ یہ بلاشبہ قدرت کی طرف سے ایک آزمائش ہے‘ جس سے عہدہ براء ہونے کیلئے ملتِ واحدہ والے اتحاد و یکجہتی اور ایک دوسرے کیلئے ایثار و قربانی کے جذبے کی ضرورت ہے۔ قوم نے تو اس جذبے کے اظہار کیلئے ہر مشکل گھڑی میں کبھی کوئی کسر نہیں چھوڑی‘ 2005ء کے قیامت خیز زلزلہ کے موقع پر بھی متاثرین زلزلہ کی بحالی کیلئے قوم کے ہر فرد اور ادارے سے جو بھی بن پڑا‘ اس نے اپنا کردار ادا کیا اور مختلف این جی اوز کے علاوہ جماعت الدعوۃ جیسی دینی تنظیموں نے بھی امدادی کاموں کی نئی مثالیں پیش کیں‘ اسی طرح اب سیلاب کی شکل میں آنیوالی قدرتی آفت کا سامنا کرنے اور اس سے متاثر ہونیوالے افراد اور خاندانوں کی بحالی و کفالت کیلئے بھی قوم کی جانب سے مثالی ایثار و قربانی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے‘ مگر سیلاب کی تباہ کاریاں اتنی زیادہ ہیں اور بے بس انسانوں کے دکھ اتنے وسیع ہیں کہ پوری قوم اور ساری حکومتی مشینری مل کر ہی ان دکھوں کا ازالہ کرنے کے قابل ہو سکتی ہے۔ یہ کسی ایک گھر کا نہیں‘ لاکھوں گھروں کا صدمہ اور نقصان ہے‘ ایک اندازے کے مطابق اب تک 30 لاکھ سے زائد افراد سیلاب کی زد میں آکر اپنے گھر بار‘ روزگار‘ کاروبار سے محروم ہوئے ہیں‘ زراعت پیشہ لوگ بھی تباہ حال ہیں اور تاجر اور صنعت کار بھی برباد ہو چکے ہیں جبکہ یہ نقصان ان کا صرف ذاتی نہیں‘ اس سے ملکی اور قومی معیشت کی حالت بھی دگرگوں ہے‘ سڑکیں اور پل تباہ ہونے اور مواصلاتی نظام نیست و نابود ہونے کے باعث لوگوں کا رابطہ بھی ایک دوسرے سے کٹ چکا ہے‘ کھانے پینے کی اشیاء بھی مارکیٹوں میں لانا ناممکن ہو چکا ہے‘ سبزی‘ اناج‘ گیہوں بھی سیلاب میں بہہ گئے ہیں اور کاشت شدہ نئی فصلیں بھی اجڑ گئی ہیں‘ اس لئے سیلاب کے مابعد اثرات سیلاب زدگان پر انتہائی مضر اثرات مرتب کرینگے‘ جنہیں پہلے ہی خوراک اور ادویات کی عدم دستیابی کا سامنا ہے‘ جب نئی فصلیں بھی مارکیٹ میں نہیں آئینگی تو صرف سیلاب زدگان نہیں‘ پورا ملک اس سے متاثر ہو گا کیونکہ اس صورتحال میں قوم کو قحط کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس وقت عملاً یہ صورتحال ہے کہ پاک فوج کی امدادی کارروائیوں کے سوا حکومت کی سطح پر متاثرین سیلاب کی امداد و بحالی کیلئے اب تک کوئی سنجیدہ کوشش بروئے کار نہیں لائی گئی‘ لوگ سیلاب کے پانی میں گھرے اپنے گھروں کی چھتوں پر یا خشکی پر پہنچنے کے بعد کھلے میدانوں میں آسمان کی چھت کے نیچے پڑے امداد کے منتظر ہیں‘ خواتین اور بچے نڈھال ہیں‘ جلدی وبائی امراض بھی پھوٹ رہے ہیں مگر بے بس انسانوں کو ادویات و خوراک سمیت کچھ بھی دستیاب نہیں۔ مختلف فلاحی تنظیموں اور اداروں کے علاوہ انفرادی حیثیت میں بھی لوگوں نے اپنے اپنے شہروں میں ریلیف کیمپ لگائے ہوئے ہیں مگر ابھی تک وہاں سے بھی امدادی سامان سیلاب زدہ علاقوں میں پہنچانے کا سلسلہ شروع نہیں ہوا‘ نتیجتاً سیلاب میں گھرے لوگوں کی زندگیاں دن بہ دن اجیرن ہو رہی ہیں۔
اس سیلاب میں جاں بحق ہونیوالے دو ہزار کے قریب افراد تو اپنے مصائب سے خلاصی پا گئے ہیں مگر جو لاکھوں افراد امداد کی آس میں کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں‘ انکے دکھوں کا مداوا کرنا اور انہیں زندگی کی بنیادی سہولتیں فراہم کرنا‘ حکومت کے اولین فرائض میں شامل ہے۔ پنجاب اور سرحد کی حکومتوں نے اپنے وسائل کی کمی کے باوجود اپنے اپنے صوبہ میں سیلاب زدگان کی امداد اور بحالی کیلئے اقدامات کئے ہیں‘ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف تو اس سلسلہ میں وزیر اعلیٰ خیبر پی کے سے مسلسل رابطے میں بھی ہیں اور امدادی کارروائیوں میں ان کا ہاتھ بٹا رہے ہیں مگر قوم کو انکے وفاقی حکمرانوں نے انتہائی مایوس کیا ہے‘ جنہیں سیلاب کی تباہ کاریوں میں لٹے پٹے عوام کے مسائل میں کوئی دلچسپی ہی نظر نہیں آتی۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی آزمائش کی اس گھڑی میں بھی اپنے امیدوار کے انتخابی حلقوں میں تقاریر کرنے اور اپنے سیاسی مخالفین پر ملبہ ڈالنے کا شوق پورا کر رہے ہیں اور صدر مملکت کو سیلاب زدگان کی خبر گیری کی بجائے اپنے صاحبزادے بلاول کی ڈگری کے حصول کیلئے خود برطانیہ کا طواف کرنے کی فکر لاحق ہے‘ پوری دنیا اس قیامت خیز سیلاب پر پاکستان سے اظہار ہمدردی کر رہی ہے اور سیلاب زدگان کی بحالی کیلئے امدادی سامان بھجوا رہی ہے‘ امریکہ کی جانب سے متاثرین سیلاب کیلئے ایک کروڑ ڈالر کی امداد کا اعلان کیا گیا ہے‘ جس کے دو جہاز امدادی سامان لے کر اسلام آباد پہنچ بھی گئے ہیں جبکہ برادر پڑوسی ملک چین بھی اظہار ہمدردی کے ساتھ ساتھ امدادی سامان بھجوانے میں پیچھے نہیں رہا‘ اس کی جانب سے بھی سیلاب زدگان کیلئے 14 لاکھ 80 ہزار ڈالر کی امداد کا اعلان کیا گیا ہے مگر یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے کہ اس نازک گھڑی میں سیلاب زدگان کو پرسہ دینے اور امدادی سامان بھجوانے والے بیرونی ممالک کیلئے شکریہ کے دو الفاظ ادا کرنے کیلئے ہمارے صدر مملکت ملک میں موجود ہی نہیں‘ انہیں اپنوں نے ہی نہیں‘ بیرون ملک بیٹھے انکے خیرخواہوں نے بھی یہی مشورہ دیا تھا کہ وہ مصیبت کی اس گھڑی میں اپنی قوم کو تنہا نہ چھوڑیں اور ملک میں رہ کر امدادی کاموں کی نگرانی کریں اور مصیبت زدگان کی ہمت بندھائیں‘ انکے حلیف ایم کیو ایم کے الطاف حسین نے بھی لندن سے انہیں یہی پیغام بھجوایا۔ برطانوی کابینہ کے پاکستانی نژاد رکن شاہد ملک نے بھی سیلاب کی تباہ کاریوں اور برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے شرانگیز بیان کی بنیاد پر صدر زرداری کو یہی مشورہ دیا کہ وہ اپنا دورۂ برطانیہ منسوخ کردیں۔ برطانوی ہائوس آف لارڈز کے رکن لارڈ نذیر احمد بھی اسی پس منظر میں صدر زرداری کو دورۂ برطانیہ منسوخ کرنے کا کہہ چکے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی بھی ان کیلئے یہی رائے سامنے آئی ہے کہ موجودہ حالات میں ان کا برطانیہ جانا مناسب نہیں‘ مگر انہوں نے اپنوں یا بیگانوں کسی کی بھی نہیں سنی اور اپنے پہلے سے طے شدہ بیرونی دورے پر روانہ ہو گئے جس میں پہلے مرحلے پر وہ فرانس پہنچ چکے ہیں اور آج 3؍ اگست کو انہوں نے فرانس سے برطانیہ سدھار جانا ہے‘ جس سے ملکی اور قومی معاملات میں انکی دلچسپی کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ انکے بیٹے کی گریجویشن کا جشن ملک کے اندر بھی منایا جا سکتا تھا جیسا کہ انکی اپنی پارٹی کے اندر سے بھی انہیں یہی مشورہ دیا گیا جبکہ سیلاب میں تباہ و برباد ہونیوالے پاکستان کے شہریوں کی حالت زار دیکھ کر تو انہیں اپنی ذاتی خوشیاں ویسے ہی بھول جانی چاہئیں تھیں‘ چہ جائیکہ وہ ان خوشیوں کا اہتمام کرنے برطانیہ جاتے۔
کیا ہی اچھا ہوتا کہ صدر مملکت قومی جذبات کی پاسداری کرتے ہوئے اپنا بیرونی دورہ بالخصوص دورۂ برطانیہ منسوخ کر دیتے اور سیلاب زدگان کی بحالی کیلئے اپنی نگرانی میں امدادی کام کا آغاز کرتے‘ اب امدادی کاموں میں انکی عدم دلچسپی دیکھ کر حکومتی مشینری بھی بھلا کیوں پاپڑ بیلے گی‘ اس لئے سیلاب زدگان تو حالات کے رحم و کرم پر پڑے کسی غیبی امداد کے منتظر ہیں یا قوم کی جانب سے ہونیوالی امدادی کارروائیوں کے اثرات ان تک پہنچنا شروع ہونگے تو ان کی ڈھارس بندھے گی۔ اگر حکمرانوں نے مصیبت میں گھرے عوام کے دکھوں کا مداوا ہی نہیں کرنا تو عوام کو بھی انکی حکمرانی میں بھلا کیا دلچسپی ہو سکتی ہے؟ اس لئے موجودہ صورتحال حکمرانوں کیلئے لمحۂ فکریہ ہے‘ سیلاب کی تباہ کاریاں تو ابھی جاری ہیں‘ اب بھی حکمران بالخصوص وفاقی حکمران ہوش کے ناخن لیں اور عوام سے منہ پھیرنے والی اپنی پالیسیاں ترک کر دیں ورنہ عوام کو بھی ان سے منہ پھیرنے کا پورا حق حاصل ہے۔
کشمیری عوام کی تحریک آزادی پاکستانی لیڈروں کی بے حسی
امریکی کانگریس کے رکن جوئے پٹس نے کہا ہے کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر ظلم و ستم‘ تشدد اور ریاستی جبر کی وجہ سے ایک اندوہناک تصویر بن چکا ہے‘ امریکی صدر باراک اوبامہ‘ امریکی انتظامیہ اور پاکستان‘ افغانستان کیلئے امریکہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ ہالبروک کا مسئلہ کشمیر پر اب تک بات نہ کرنا‘ قابل افسوس ہی نہیں‘ شرمناک بھی ہے۔ امریکی کانگریس کے رکن جوئے پٹس نے واشنگٹن میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر انسانی مظالم کی اندوہناک تصویر بن چکا ہے اور امریکہ سمیت تمام عالمی قوتوں کی فوری توجہ کا طالب ہے۔
پاکستانی وزارت خارجہ‘ قومی اسمبلی اور ہمارے ارکان پارلیمنٹ کی نسبت امریکی رکن کانگریس جوئے پٹس کی انسانی و جمہوری حقوق کیلئے ذمہ دارانہ تقریر قابل تحسین ہے‘ ہماری کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمٰن تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ مسئلہ کشمیر پربستر بچھا کر سو گئے ہیں۔ انہیں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی نہتے کشمیریوں پر فائرنگ کا کوئی احساس نہیں اور نہ ہی انہیں آٹھ سے زائد شہید ہونیوالے کشمیری نظر آرہے ہیں اور پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی‘ کشمیری عوام کی پرجوش جدوجہد پر مہر بلب ہیں۔ ارکان پارلیمنٹ کو گویا سانپ سونگھ گیا ہے اور ان سب کو اس بات پر کوئی شرم نہیں آتی کہ مقبوضہ کشمیر میں 80 سالہ بوڑھا شیر سید علی گیلانی تحریک آزادی کشمیر کیلئے سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہے اور مقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام نے بھارتی فوج کو ناکوں چنے چبوا دیئے ہیں۔ بھارتی فوج کا چیف اپنی حکومت سے کہہ رہا ہے کہ فوج کشمیری عوام کی جدوجہد کو سنبھال نہیں سکتی‘ اس کا کوئی سیاسی حل نکالیں۔ بھارتی فوج شدید نفسیاتی دبائو کا شکار ہے‘ ایک گیلانی کشمیری مسلمانوں کی تحریک آزادی کا لیڈر ہے اور ہمارے گیلانی صاحب جعلی ڈگری ہولڈرز کی انتخابی مہم چلانے میں مصروف ہیں۔ انہیں مسئلہ کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر احتجاج کرنے کی بھی توفیق نہیں۔ اوبامہ اور ہلیری کلنٹن کی غلامی کا طوق ہمارے لیڈروں کو اس قدر بے حس بنا دیگا‘ اس پر 17 کروڑ پاکستانی عوام شرمندہ ہیں اور مقبوضہ کشمیر کے حریت پسند لیڈروں اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔
کالا باغ ہی نہیں‘ دیگر ڈیموں کی تعمیر بھی ضروری ہے
وفاقی وزیر تجارت مخدوم امین فہیم نے کہا ہے کہ کالاباغ ڈیم کے بارے میں فیصلہ ہو چکا ہے‘ تاہم ابھی اسے اوپن کرنا مناسب نہیں ہے۔
لاہور ایئرپورٹ پر انہوں نے کہا کہ چاروں صوبوں کے اتفاق رائے کے بعد ہی کالاباغ ڈیم بن سکتا ہے‘ مخدوم امین فہیم اور پیپلز پارٹی کے دیگر تمام لیڈر کالاباغ ڈیم پر بات کرتے ہیں تو ان کا دم نکلتا ہوا محسوس ہوتا ہے اور وہ خوف کے مارے زبان ہی نہیں کھولتے‘ حالانکہ انہیں بخوبی علم ہے کہ جب منگلا اور تربیلا ڈیم بن رہے تھے‘ یہی سب لوگ اس وقت بھی واویلا مچا رہے تھے مگر دونوں ڈیم بن جانے کے بعد بقول انجینئر شمس الملک سندھ کو ملنے والا پانی دوگنا ہو چکا ہے اور کالاباغ ڈیم بننے کے بعد سندھ کو ملنے والے پانی میں اور بھی زیادہ اضافہ ہو جائیگا۔ دریائے سندھ کا بہائو بھی جاری رہے گا اور ذخیرہ شدہ پانی سے حسب ضرورت چاروں صوبوں کی ضروریات بھی پوری ہو سکیں گی۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ کالاباغ ڈیم میں بارشوں اور سیلاب کا پانی جمع ہو گا‘ اگر آج کالاباغ ڈیم تعمیر ہو چکا ہوتا تو صوبہ سرحد اور پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریاں نہ ہوتیں اگرچہ غلام محمد بلور صاحب وزیر ریلوے نے اسکے بالکل برعکس دعویٰ کیا ہے‘ صوبہ سندھ بھی سیلاب کی تباہ کاریوں کا شکار ہے۔ یہ انسانوں کیلئے تکلیف دہ صورتحال اور افسوسناک ہے مگر اس کا علاج کالاباغ ڈیم کی تعمیر ہی ہے۔ بھارت 62 ڈیم پاکستانی دریائوں پر اسی لئے بنا رہا ہے کہ یہ پانی ہم سمندر میں پھینک رہے ہیں اگر یہ پانی پاکستان میں سستی بجلی پیدا کرنے اور قومی زراعت کو ترقی دینے کیلئے استعمال ہو جائے تو نہ کراچی اور سندھ میں لوڈشیڈنگ ہو گی اور نہ ہمارے پورے پاکستان میں گندم‘ چاول‘ کپاس‘ گنا اور دیگر فصلوں کی پیداوار کم ہو گی۔ کالاباغ ڈیم بھاشا ڈیم‘ منڈا ڈیم‘ داسو ڈیم اور دیگر ڈیموں کی تعمیر پاکستان کو آباد اور خوشحال رکھنے کے منصوبے ہیں‘ صرف وطن سے محبت کرکے سوچنے کی ضرورت ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں