امریکی سینٹ کام کے دورے پر جانیوالا پاک فوج کا دستہ ڈلاس ایئرپورٹ پر امریکی سیکورٹی حکام اور ایئرپورٹ کے عملے کے نامناسب رویے کے باعث جہاز سے اتر آیا۔ امریکی اخبار کے مطابق پاک فوج کے 9 رکنی دستے کے ساتھ یہ ناخوشگوار واقعہ ڈلاس ایئرپورٹ پر جہاز میں فلائٹ اٹینڈنٹ کی جانب سے نامناسب کلمات ادا کرنے کے باعث پیش آیا۔ واقعہ کے بعد پاکستانی فوجی وفد نے احتجاجاً امریکی سنٹرل کمانڈ کا دورہ منسوخ کر دیا اور پاکستان واپس جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع نے اس واقعہ پر معذرت کرلی ہے۔
امریکی حکام کی جانب سے ایئر پورٹس پر پاکستانی وفود یا شخصیات کے ساتھ ناروا سلوک کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے‘ نائن الیون کے خودساختہ واقعہ کے بعد ہمارے سابق جرنیلی حکمران مشرف نے نام نہاد دہشت گردی کے خاتمہ کی آڑ میں امریکی مفادات کی جنگ میں اس کا فرنٹ لائن اتحادی بن کر اور اسکے ہر حکم کی تعمیل کی روش اختیار کرکے قومی مفادات کو بھی بٹہ لگایا اور ایسے حالات بھی پیدا کر دیئے کہ امریکہ ہمارے ہر شہری کو مشکوک سمجھ کر اسکے ساتھ غلاموں سے بھی بدتر سلوک روا رکھے۔ بدقسمتی سے جرنیلی آمریت کے بعد ہمارے منتخب جمہوری حکمرانوں نے بھی امریکہ کے فرنٹ لائن اتحادی والی پالیسی برقرار رکھی اور اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے پاکستان آنیوالے ہر امریکی ایرے غیرے کی یوں آئوبھگت کی جیسے کوئی آقا اپنے غلام ملک میں مٹرگشت کرنے آیا ہو‘ جس کی خدمت و اطاعت ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہو۔
ہمارے حکمرانوں کی پیدا کردہ ان کمزوریوں کا ہی یہ نتیجہ برآمد ہوا ہے کہ امریکہ کے سرکاری دورے پر گئے ہمارے فوجی حکام سے بھی ناروا سلوک کرنے سے گریز نہیں کیا جا رہا۔ اس سے پہلے سرکاری دورے پر گئے ہمارے وفاقی وزراء تک امریکی ایئرپورٹس پر جوتے اور کپڑے اتار کر جامہ تلاشی کے اذیت ناک مراحل سے گزرتے رہے ہیں مگر انکی جانب سے کبھی ہلکے سے احتجاج کی بھی ضرورت محسوس نہ کی گئی۔ امریکہ جانیوالے ہمارے عام شہریوں کے ساتھ تو جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا ہے جنہیں جامہ تلاشی کے بہانے کئی کئی گھنٹے ایئرپورٹ پر محبوس رکھا جاتا ہے۔ انکی متعلقہ دستاویزات کو مشکوک سمجھ کر مین میخ نکالی جاتی ہے‘ انکی ہر نقل و حرکت کی مانیٹرنگ کی جاتی ہے اور امریکہ میں ان کیلئے آزادانہ گھومنا پھرنا بھی مشکل بنا دیا جاتا ہے۔
اسی پر ہی اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ امریکی ایئرپورٹس پر بطور خاص پاکستانی خواتین کی سکیننگ مشینوں کے ذریعہ جامہ تلاشی کا توہین آمیز طریقہ کار بھی اختیار کیا گیا جو باپردہ خواتین کا تقدس پامال کرنے کے مترادف ہے۔ اس نام نہاد مہذب مغربی معاشرے میں مسلمان عورت کے حجاب کو بھی تنقید و تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ہر باریش مسلمان مرد کو دہشت گرد سمجھا جاتا ہے اور ہر پاکستانی شہری کو بکائو مال سمجھ کر اسکی تحقیر کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا جاتا۔ امریکہ کے سپرپاور ہونے کے زعم نے اسے شرف انسانیت کی پاسداری کے احساس سے بھی محروم کر دیا ہے۔ اسکی نگاہ میں صرف امریکی شہری ہی مقدس و معزز ہیں جن کے جملہ انسانی حقوق پر وہ کوئی حرف بھی نہیں آنے دیتا اور انکی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے وہ دہشت گردی کے خاتمہ کی آڑ میں پوری دنیا کو تہس نہس کرنے کے راستے پر چل نکلا ہے اور ہم سے ڈومور کے تقاضے کرتے کرتے اس نے ہمیں اپنی کھیتی سمجھ لیا ہے جسے چرنا اور اجاڑنا وہ اپنا حق سمجھتا ہے۔
امریکہ کو یہ موقع ہمارے حکمرانوں کے فدویانہ کردار نے ہی فراہم کیا ہے‘ یہ طرفہ تماشہ ہے کہ کوئی چھوٹے سے چھوٹا امریکی اہلکار بھی پاکستان آتا ہے تو اسے اتنا پروٹوکول ملتا ہے کہ وہ خود کو آقا سمجھ لیتا ہے اس لئے جب ہر امریکی ایرے غیرے کی ناز برداری کی جائیگی اور اسے آسمانی مخلوق کا درجہ دیا جائیگا تو وہ اپنے اور ہمارے مابین آقا اور غلام کافرق ہی رکھے گا۔ امریکی فوجی حکام تو ہماری سرزمین پر آکر بھی ہم پر حکم چلانا اور ڈکٹیشن دینا اپنا حق سمجھتے ہیں‘ وہ اپنے لائولشکر کے ساتھ ہماری سرزمین پر اترتے ہیں اور حفاظتی حصار میں ہمارے اقتدار کے ایوانوں سے جی ایچ کیو تک دندناتے نظر آتے ہیں‘ جن کی جی حضوری اور تابعداری ہمارے حکام نے اپنے فرائض کا حصہ بنا رکھا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ ہمارے حساس مقامات پر مشکوک انداز میں گھومنے پھرنے اور دخل درمعقولات کرنیوالے امریکی میرینز اور بلیک واٹر کے اہلکاروں سے کسی قسم کی پوچھ گچھ بھی شجر ممنوعہ بن چکی ہے۔ وہ چاہے دہشت گردی کی کسی گھنائونی واردات میں ملوث ہوں‘ انہیں ہماری پولیس روک سکتی ہے‘ نہ تفتیش کر سکتی ہے۔ رچرڈ ہالبروک ہر ہفتے دو ہفتے بعد اس انداز میں پاکستان آتے ہیں‘ جیسے یہ ملک انکی ذاتی جاگیر ہو۔ جنرل مائیک مولن ہوں یا ڈیوڈ پیٹریاس‘ پاکستان آکر انکے تیور ہی بدلے نظر آتے ہیں جبکہ ہمارے حکمرانوں اور حکام کی ان کیلئے آئوبھگت انکے مزاج مزید بگاڑ دیتی ہے۔
اگر ہماری جانب سے بھی کسی امریکی اہلکار کے ساتھ ایئرپورٹ پر ایسا ہی طرز عمل اختیار کیا جائے جو امریکہ جانیوالے ہمارے سرکاری وفود کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے تو کم از کم شرف انسانیت کا احترام کرنا تو وہ سیکھ جائیں گے۔ امریکی سنٹرل کمانڈ کے دورے پر جانیوالا پاک فوج کا دستہ سیر وسیاحت کیلئے تو امریکہ نہیں آیا تھا‘ جبکہ سفارتی آداب بھی اسکے متقاضی نہیں کہ کسی کو خود مدعو کیا جائے اور پھر اسکے ساتھ اہانت آمیز رویہ اختیار کیا جائے۔ میزبان اور مہمان کے درمیان بھی ادب و آداب والا تعلق ہوتا ہے‘ جبکہ امریکی حکام تو انسانی قدروں سے بھی آشنا نظر نہیں آتے‘ اس لئے پاک فوج کے دستے نے جہاز کے فلائٹ اٹینڈنٹ کے اہانت آمیز رویے پر بروقت اور مناسب احتجاج کرکے اور سنٹرل کمانڈ کا دورہ منسوخ کرکے پاکستانی قوم کے جذبات کی بھی ترجمانی کی ہے اور بدمست امریکہ کو سبق بھی سیکھایا ہے۔ اس سے قبل بھی ہمارا ایک پارلیمانی وفد امریکی ایئرپورٹ پر روا رکھے جانیوالے سلوک پر احتجاج کرتے ہوئے اپنا سرکاری دورہ منسوخ کرکے ملک واپس آگیا تھا جبکہ اب سرکاری دورے پر گئے پاک فوج کے دستے نے بھی امریکی گماشتے کو ٹھوس جواب دے کر ملک و قوم کیلئے نیک نامی کمائی ہے۔
ہمارے حکمرانوں کو بھی اس امریکی رویے کا سخت نوٹس لینا چاہیے اور اس پر واضح کر دینا چاہیے کہ کسی پاکستانی شہری کے ساتھ آئندہ ایسی بدسلوکی ہرگز برداشت نہیں کی جائیگی۔ بہتر ہے کہ ہمارے سرکاری وفود کے پہلے سے طے شدہ امریکی دورے احتجاجاً منسوخ کر دیئے جائیں تاکہ امریکہ کا برتر انسانی معاشرے کا زعم توڑا جا سکے۔
سیلاب کی بدترین صورتحال کے باوجود بھارتی امداد قبول نہیں
پاکستان میں خوفناک سیلاب کی تباہ کاریاں ابھی ختم نہیں ہوئیں‘ سیلابی ریلے جہاں جہاں سے بھی گزر رہے ہیں‘ وہاں تباہی و بربادی کی نئی داستانیں جنم لے رہی ہیں اور سیلاب سے برباد علاقوں میں سیلاب کے بعد کی کیفیات قیامت ڈھا رہی ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ سیلاب کی تباہی ناقابل بیان ہے‘ انہوں نے مخیر حضرات کو متاثرین کی بحالی میں کردار ادا کرنے کیلئے اپیل کی ہے۔
سیلاب کے بعد سب سے متاثرہ علاقے عجیب ویرانی اور تباہی کا منظر پیش کر رہے ہیں‘ جہاں غلاظت اور کیچڑ کے بے تحاشہ ڈھیروں میں سے شدید تعفن اٹھ رہا ہے۔ کیچڑ میں سے جانوروں‘ مویشیوں اور انسانوں کی لاشیں برآمد ہو رہی ہیں اور ایسے میں ضرورت ہے کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کو تیزی سے امدادی رقوم منتقل کرے تاکہ سیلاب زدگان کی امداد اور سیلاب کے نشانات مٹانے کیلئے موثر انداز میں کام کیا جا سکے اور سیلاب زدگان بھی عیدالفطر کی خوشیوں میں شرکت کرسکیں۔
بھارتی حکومت نے سیلاب زدگان کیلئے پانچ ملین ڈالر کی امداد میں 20 ملین ڈالر کی مزید امداد شامل کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ نقصانات اندازے بڑھ گئے ہیں۔ یہ رقم پاکستانی عوام کی فوری ضروریات کیلئے ہے‘ اس کے علاوہ دو کروڑ ڈالر اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کو بھی دی ہے۔
اگرچہ بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے پاکستان کو دنیا بھر سے بہت زیادہ امداد کی ضرورت ہے‘ مگر بھارت کی ہر ذریعہ سے ملنے والی امداد پاکستان کے عوام کو منظور نہیں۔ جب تک بھارتی حکومت کشمیری عوام پر ظلم و ستم بند کرکے انہیں اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں استصواب کا حق نہیں دیتی اور کشمیری عوام کو آزادی نہیں دیتی‘ اسکی کوئی امداد قبول کی جا سکتی ہے‘ نہ اسکے ساتھ کوئی تعلق رکھا جا سکتا ہے۔ حکومت امریکہ کے دبائو کو مسترد کرکرکے بھارتی امداد قبول کرنے سے شکریے کے ساتھ انکار کر دے۔ پاکستان کے حکمرانوں کو اس سلسلہ میں عوام کے جذبات کا خیال رکھنا ہو گا وگرنہ حکومت پاکستان کیلئے بہت مشکل صورتحال پیدا ہو جائیگی۔
ان معاہدوں میں بھارتی شمولیت ناقابل قبول ہے
ترکمانستان اور افغانستان نے کافی عرصہ سے التواء میں پڑے ہوئے ایک معاہدہ پر دستخط کر دیئے ہیں‘ جس کے تحت ترکمانستان سے افغانستان کے راستے قدرتی گیس پاکستان اور بھارت کو فراہم کی جائیگی۔
ترکمانستان کے ساتھ گیس کی فراہمی کے اس معاہدہ کی ابتدائی بات چیت کے دوران ہی حکومت پاکستان کو کہا گیا تھا کہ اس معاہدہ میں بھارت کو شامل نہ کیا جائے‘ اسی طرح ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن معاہدہ میں بھی بھارت کو شامل کیا گیا اور بھارت اس معاہدہ سے امریکی دبائو پر فرار بھی ہو گیا۔ اب ترکمانستان کے ساتھ ہونیوالے معاہدہ میں بھی بھارت کو شامل کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
بھارت کو ایسے معاہدوں میں شامل کرنے کا مطلب یہ ہو گا کہ ہم اپنے ازلی دشمن ملک کو اس طرح ساتھ رکھیں کہ اس کو مالی و اقتصادی طور پر استحکام ملے اور وہ بھارتی مسلمانوں اور مظلوم کشمیری عوام پر زیادہ قوت کے ساتھ اپنا سامراجی شکنجہ مضبوط کرے اور پاکستان کیخلاف بھی اپنی تیاریوں میں وہی استحکام استعمال کرے۔ پاکستان کے عوام کا بڑی سنجیدگی سے مطالبہ ہے کہ بھارت کو پاک ایران گیس اور پاک ترکمانستان معاہدہ سے بالکل علیحدہ کیا جائے‘ اس کو کسی صورت بھی ان معاہدوں میں شامل نہیں رہنا چاہیے اور اگر بھارت ان معاہدوں میں شامل رہتا ہے تو ہمیں ایسے معاہدوں سے معذرت کرلینی چاہیے کیونکہ مسئلہ کشمیر کے یو این قراردادوں کے مطابق حل تک ہماری اسکے ساتھ دوستی نہیں ہو سکتی۔
مہنگائی … حکومت اپنے پائوں پر خود کلہاڑی مار رہی ہے
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان کرتے ہوئے پٹرول48 پیسے لٹر سستا اور دیگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا دی ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مسلسل گر رہی ہیں۔ مگر پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات میں کمی کرنے کی بجائے اس میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔ باخبر حلقوں کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر کے حکومت کا خسارہ پورا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور حکومت کے ذمہ داران بخوبی یہ بات جانتے ہیں کہ ملک میں پہلے ہی مہنگائی اور بے روز گاری کا ایک خوفناک طوفان بپا ہے ایسے حالات میں پٹرولیم مصنوعات خصوصاً ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ سے ملک کی پوری معیشت متاثر ہوتی ہے۔ بازار میں آٹا، دال چاول اور سبزی کی قیمتوں سے لے کر رکشہ ٹیکسی بسوں اور ویگنوں تک کے کرائے متاثر ہوئے ہیں۔ پاکستان میں مہنگائی جس نکتہ عروج پر ہے اس سے زیادہ مہنگائی تو حکومت کیلئے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ جیسا کہ خفیہ تفتیشی اداروں نے ایوان صدر اور وزیراعظم ہائوس کو متعدد بار وارننگ بھیجی ہے کہ حکومت فوری طور پر آٹا، چینی، دالیں، گھی، دودھ، جان بچانے والی ادویات سمیت صرف18 اشیا کی قیمتوں پر فوری طور پر قابو پا کر غریب عوام کی دسترس میں لائے ورنہ یہ صورتحال اور سیلاب حکومت کو بھی بہا کر لے جائے گا۔ خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت کو اس سلسلہ میں بارہ سے زائد وارننگز دی گئی ہیں کہ چھ وزراء پر مشتمل ٹاسک فورس بنائے اور اس صورتحال کو بہتر بنایا جائے مگر افسوس کہ 250 سے زائد صوبائی اور وفاقی وزراء اس ساری صورتحال سے لاتعلق نظر آ رہے ہیں اور ان حالات میں بعض وزیر تو حکومت مخالف بیانات بھی دے رہے ہیں جو حکومت کو گرانے کے ہی مترادف ہے۔