اب ”روکھی سُوکھی کھا“ کا کلچر اپنائیں اور امریکہ سے خلاصی پائیں

ـ 2 جنوری ، 2012
امریکہ کی جانب سے پاکستان کی ہر قسم کی امداد کی غیراعلانیہ بندش اور ہمارے قومی مفادات
امریکہ نے پاکستان کی ہر قسم کی امداد غیراعلانیہ طور پر بند کردی ہے۔ اس سلسلہ میں دفتر خارجہ پاکستان کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اتحادی سپورٹ فنڈ کی آخری قسط گزشتہ جون میں ادا کی گئی تھی جبکہ کیری لوگر بل کے تحت سال 2011ءمیں پاکستان کو صرف 450 ملین ڈالر جاری کئے گئے اور وہ بھی براہ راست حکومت کو نہیں دئیے گئے اور امریکہ نے ابھی اس مد میں 205 ملین ڈالر ادا کرنے ہیں۔ ذرائع کے مطابق امریکہ نے 2011ءمیں واجب الادا فوجی امداد کے 700 ملین ڈالر بھی ادا نہیں کئے۔ اس سلسلہ میں امریکی سفارتخانے کی جانب سے شانِ بے نیازی سے جواب دیا گیا ہے کہ انہیں یاد نہیں کہ پاکستان کو اتحادی سپورٹ فنڈ کی آخری قسط کب جاری کی گئی تھی۔ امریکی سفارتخانے کی وضاحت میں کہا گیا ہے کہ 2010ءمیں پاکستان کو 1.5 ارب ڈالر اور 2011ءمیں ایک ارب ڈالر امداد دی گئی جبکہ 2012ءمیں بھی یہ سلسلہ برقرار رہے گا جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ جون سے اب تک اتحادی سپورٹ فنڈ اور کیری لوگر بل کے تحت منظور کردہ امداد کا ایک دھیلا بھی پاکستان کو ادا نہیں کیا گیا جس کی نشاندہی خود وفاقی وزیر خزانہ حفیظ شیخ گزشتہ ماہ اپنے بیان میں کرچکے ہیں۔
اس حقیقت سے بھی پوری دنیا آگاہ ہے اور خود امریکی حکام اعتراف کرچکے ہیں کہ دہشت گردی کے خاتمہ کی جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی کا کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان کی معیشت کو 60 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچ چکا ہے جبکہ امریکی مفادات کی اس جنگ میں پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے ارکان سمیت ملک کے 36 ہزار کے قریب بے گناہ شہریوں کی جانیں بن مول ہی ضائع ہوچکی ہیں۔ صرف یہی نہیں، امریکی جنگ کا حصہ بن کر ہمارے سابق جرنیلی اور موجودہ سول حکمرانوں نے ملک کے امن و امان کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جبکہ اس فضا میں نہ بیرونی اور اندرونی سرمایہ کاری ہوپائی اورنہ معیشت کا پہیہ چل سکا نتیجتاً عوام کو غربت، مہنگائی، بیروزگاری کی سزا الگ بھگتنا پڑی۔ اس طرح امریکی نائن الیون کے بعد سے 2011ءکے اختتام تک دس سال کے عرصے میں امریکی اتحادی کا کردار ادا کرتے ہوئے ہمارے حکمرانوں نے امریکی امداد کے ان حقیر ٹکڑوں کی خاطر پورے ملک کا انجر پنجر ہلا دیا جو خودغرض اور طوطا چشم امریکہ وعدوں اور قانون سازی کے باوجود ہمارے حکمرانوں کے پھیلائے گئے کشکول میں ڈالنے سے گریزاں ہے۔
یہ طرفہ تماشہ ہے کہ نہ صرف امریکہ نے خود امداد کے معاملہ میں ہمارے ساتھ سنگین مذاق کیا بلکہ فرینڈز آف پاکستان کے نام سے ایک امدادی گروپ تشکیل دیکر ان سے پاکستان کی امداد کے دل خوش کن اعلانات کرائے جو ہنوز تشنہ¿ تکمیل ہیں جبکہ اس امداد کی امید میں گزشتہ دو وفاقی میزانیوں میں شامل کئے گئے ترقیاتی منصوبے بھی ادھورے رہ گئے اور بجٹ کا خسارہ بڑھنے سے اضافی ٹیکسوں کا بوجھ بھی عوام الناس کو اٹھانا پڑا۔ امریکہ کی جانب سے یہ سنگین مذاق اس فرنٹ لائن اتحادی کے ساتھ کیا گیا جو اسے مبینہ دہشت گردی کے خاتمہ کی جنگ میں اس خطے میں لاجسٹک سپورٹ فراہم نہ کرتا تو نہ صرف اس خطے میں امریکی نیٹو افواج کے قدم نہ جم پاتے بلکہ افغان دھرتی امریکیوں کا قبرستان بن جاتی۔ اسکے بدلے پاکستان کو قومی اور ملی ہزیمتوں اور اپنی تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہیں ملا جبکہ ”ڈومور“ کے امریکی اشاروں اور احکامات پر ہمارے حکمرانوں نے خود بھی قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن سے ارضِ وطن کو ادھیڑا اور انسانی خون میں نہلایا، اپنے ہی ملک کے 30 لاکھ سے زیادہ شہریوں کو اپنے ہی ملک میں ہجرت پر مجبور کیا۔ انکے آباد گھرانوں اور کاروباری مراکز کو کھنڈرات میں تبدیل کیا اور ردعمل میں خودکش حملہ آوروں کی کھیپ کی کھیپ تیار ہونے کی راہ ہموار کی جبکہ اس آپریشن پر اعتبار اور ہمارے حکمرانوں پر اعتماد نہ کرتے ہوئے ڈرون حملوں اور دوسرے زمینی، فضائی آپریشن کے ذریعے امریکہ نے بھی ہماری دھرتی پر جنگی جنون کو آزمایا اور وحشت و بربریت کی نئی داستانیں رقم کیں۔ اس طرح ہماری ملکی اور قومی سلامتی بھی داﺅ پر لگی اور خوف و ہراس کی فضا میں عوام کا بھی جینا دوبھر ہوا جو آج بھی امریکی جنگ کے پیدا کردہ حالات میں غربت و افلاس کی چکی میں پستے ہوئے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر زندگی بسر کررہے ہیں۔
اس امریکی جنگ میں ہونیوالے نقصانات کا اندازہ پاک فضائیہ کے سربراہ کی دوبئی کانفرنس میں کی گئی اس تقریر سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ اس جنگ کا حصہ بنتے ہوئے فضائیہ نے قبائلی علاقوں میں دس ہزار سے زیادہ حملے کئے جن میں کتنی کثیر تعداد میں گولہ بارود استعمال ہوا ہوگا اور اس سے ارضِ وطن کے متعلقہ علاقوں کی دھرتی اور وہاں آباد شہریوں کا کیا حشر ہوا ہوگا، یقینا اس کا ریکارڈ بھی ہماری سکیورٹی ایجنسیز کے پاس موجود ہوگا۔ کیا یہ سب کچھ اس امریکی امداد کی خاطر کیا گیا جس کا ایک دھیلا بھی اب تک پاکستان کو فراہم نہیں کیا گیا۔ الٹا پاکستان کے ساتھ دشمن ملک جیسا سلوک کرتے ہوئے اسکی سالمیت کیخلاف گھناﺅنی سازشیں تیار کرکے انہیں عملی جامہ پہنایا گیا۔ ایبٹ آباد آپریشن میں پاکستان کی خودمختاری کو چیلنج کیا گیا اور پھر مہمند ایجنسی میں پاکستان کی سلالہ چیک پوسٹوں پر امریکی نیٹو فضائی حملوں کے ذریعے پاکستان کی سلامتی پر وار کرنے میں بھی کوئی کسر نہ چھوڑی گئی جبکہ ایبٹ آباد آپریشن کے بعد پاکستان پر دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے کے بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہوئے اسے عالمی برادری میں تنہاکرنے کی بھی سازش کی گئی اور ساتھ ہی ساتھ اسی جواز کی بنیاد پر کیری لوگر بل کے تحت مختص کی گئی 9 ارب ڈالر کی سول اور فوجی امداد میں کٹوتی کرنے اور پھر یہ امداد معطل کرنے اور مستقل طور پر بند کرنے کے متعدد بل امریکی سینٹ اور ایوان نمائندگان میں آگئے جن پر بحث کی آڑ میں بھی پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کی گئی، اسے امداد کے عوض بے حمیتی پر مبنی شرائط کے ساتھ باندھنے کے فیصلے بھی کئے گئے اور اب عقدہ یہ کھلا ہے کہ گزشتہ جون سے اب تک پاکستان کو امریکی امداد کی مد میں ایک دھیلا بھی نہیں ملا جبکہ پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے ایجنڈے پر متحد ہنود و یہود و نصاریٰ کی طاغوتی طاقتیں اس مقصد کیلئے آج پہلے سے بھی زیادہ سرگرم ہیں اور امریکہ و برطانیہ کی یہودی لابی نے پاکستان کی سلامتی کے ضامن اسکے ایٹمی پروگرام کیخلاف پروپیگنڈہ مہم بھی تیز کردی ہے جسکا بنیادی مقصد یہی ہے کہ پاکستان کو آزاد، خودمختار اور اسلامی دنیا کے پہلے ایٹمی ملک کی حیثیت سے اقوام عالم میں سر نہ اٹھانے دیا جائے۔
اس تناظر میں قومی غیرت کا بھی یہی تقاضہ ہے اور ملک کی سلامتی کے تحفظ کیلئے بھی ضروری ہے کہ امریکی جنگ سے خود کو فی الفور باہر نکال لیا جائے اور اس کی گھناﺅنی سازشوں کو ناکام بنانے اور منہ توڑ جواب دینے کیلئے مسلح افواج کو سرحدوں پر ہمہ وقت چوکس رکھا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ کیلئے امریکی امدادپر تکیہ کرنے کے بجائے خودانحصاری کی راہ اختیار کی جائے۔ حکمران طبقات اپنی عیاشیاں اور اللے تللے ختم کریں، غیرترقیاتی اخراجات میں کٹوتی کی جائے، غیرضروری پروٹوکول پر کثیر اخراجات کرکے سرکاری خزانے کو بٹہ نہ لگایا جائے، اقتدار کے تمام وفاقی اور صوبائی ایوانوں کے صوابدیدی فنڈز روک لئے جائیں، وزراءاور مشیروں کی فوج ظفر موج اور ان کے بے جا الاﺅنسز میں کمی کی جائے اور اپنے وسائل پر تکیہ کرتے ہوئے ”روکھی سوکھی کھا اور ٹھنڈا پانی پی“ کا کلچر فروغ دیکر قومی معیشت کو ترقی کی جانب گامزن کیا جائے۔ یہ سب کچھ اسی صورت ممکن ہوگا جب ہم امریکی کمبل سے جان چھڑائیں گے اور اس کیلئے یہی نادر وقت ہے۔ افواج پاکستان نے پہلے ہی امریکہ کی فوجی امداد دھتکار دی ہے اس لئے اب سول انتظامیہ کو بھی اس امریکی امداد کو پاﺅں کی ٹھوکر پر رکھنا چاہئے جو ہمیں دستیاب بھی نہیں ہورہی۔
وقت نیوز کی نشریات کی جبری بندش کیا یہ آزادی اظہار کا احترام ہے؟
آفاق احمد کے انٹرویو کے دوران کراچی میں وقت نیوز کی نشریات کیبل اپریٹروں پر دباﺅ ڈال کر جبراً بندکرادی گئیں۔ ایک طرف میڈیا کو آزاد کرنے کا کریڈٹ لینا اوردوسری جانب یہ ستم ظریفی کہ کراچی میںمہاجر قومی موومنٹ کے لیڈر کے انٹرویو کوبند کرنے کیلئے وقت چینل کراچی کا گلا گھونٹ دیا گیا۔ اگر الطاف حسین کی لندن سے ٹیلی فونک گفتگو نشر کی جاسکتی ہے اور سارے چینلز اُس کیلئے آزاد چھوڑے جاتے ہیں تو پھروقت نیوز چینل جوآزاد میڈیا کا ایک بھرپور حصہ ہے اُسے بند کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت صرف اپنے اتحادیوں کی پجاری ہے جن سے اختلافِ رائے برداشت نہیں ہوتالیکن بات آفاق احمد یا الطاف حسین کی نہیں بات میڈیا کی آزادی کے تحفظ کی ہے حکومت اپنے اس طرح کے مکروہ اقدامات کو روکے کہ یہ سراسر میڈیا کی آزادی میں مداخلت اور حکومت کی متعصبانہ تنگدلی کا ثبوت ہے ، ذرائع ابلاغ پر قدغن کا یہ امتیازی رویہ حکومت کو زیب نہیں دیتا ۔کیبل آپریٹرز کی مجبوری ہے کہ اگر اُنہیں کوئی غنڈہ بھی آکر کہہ دے کہ فلاں پروگرام بند کردو تو وہ بند کردیتے ہیں لیکن حکومت کے ہوتے ہوئے اگر ایک چینل کو بطور خاص کسی پروگرام کو بند کرنے کو کہاجائے تو یہ حکومت کی کمزوری ہے کہ اُس نے اس ناکردنی کا نوٹس نہیں لیا ۔اب بھی اس کی تحقیقات کرکے نوٹس لیا جاسکتا ہے کہیںایسا تو نہیں کہ متحدہ کی یاری عزیز ہے میڈیاکی آزادی کی پرواہ نہیں،بہرصورت وقت نیوز چینل کی اچانک بندش پر ناظرین نے سخت احتجاج کیا کیونکہ یہ حرکت انہیںاظہار رائے کے حق سے محروم کرنے کے مترادف ہے حکومت اس معاملے کی تحقیقات کرائے اور آئندہ ایسے جبری ہتھکنڈے کا اعادہ نہ ہونے دے۔ وقت نیوز آفاق احمد کی طرح الطاف بھائی اور ان کے ساتھیوںکو اسی طرح دکھاتا ہے بلکہ زیادہ!
بھارت کے خبث باطن پر حکومت کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں
بھارت نے سرحد پار سے حملوں کے خطرات کے پیش نظرپاکستان کے ساتھ ملحقہ سرحدوں پر سیکورٹی ہائی الرٹ کا فیصلہ کیا ہے، بھارتی وزیر داخلہ چدمبرم نے کہا ہے کہ جموں کشمیر اور پنجاب میں دہشت گردی کی اطلاعات ہیں جبکہ بھارتی حکومت نے کشمیری حریت پسندوںکو ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے۔64 سال سے اس نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔1965 اور 1971 میں جارحیت کرکے پاکستان کی سلامتی پر حملہ آور ہوا اب بھی سرحدوں پر سیکورٹی ہائی الرٹ کرنا اسکا خبث باطن ہے وہ خطے کا چوہدری بننے کے خواب دیکھ رہا ہے ۔ امریکہ ،برطانیہ، جاپان اور روس کے ساتھ ایٹمی معاہدے کرکے وہ خطے میںہتھیاروں کے حصول کی دوڑ شروع کرنے کی تگ و دو میں ہے وہ لوگ جن کے دماغوں پر بھارت کو موسٹ فیورٹ قرار دینے کا خبط سوار ہے انکی آنکھیں کھل جانی چاہئیں ۔وفاقی وزیر تجارت امین فہیم بھارت سے اشیاءدرآمد کرکے اپنی منڈیوں کا بیڑا غرق کر رہے ہیں انہیں اپنے کیے پر قوم سے معافی مانگنی چاہئے کہ وہ جس سانپ کے بچے کودودھ پلا کر بڑا کرنے کی کوشش میں ہے وہ ڈنگ مارنے کی جانب بڑھ رہا ہے ،پاکستان کو بھی دشمن کی سرگرمیوں کا جائزہ لیتے ہوئے مشرقی سرحد پر فوج کو الرٹ رکھناچاہئے۔ بنیا جس کا یار، دشمن اسکو کیا درکار، آج ہندو بنیادوستی کا لبادہ اوڑھ کر وار کرنیکی کوشش میں ہے جبکہ پاکستان کی شہ رگ کشمیر پر قبضہ کرکے قتل و غارت کا بازار گرم کئے ہوئے ہے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے وہ دو چار مہینے بعد کشمیر کے حریت پسندوں کو مذاکرات کی دعوت دیکر اپنے قبضے کو طول دے رہا ہے جبکہ اقوام متحدہ کے فورم پر موجود قراردادوں پر عمل کرنے سے بھاگتا ہے،کشمیری رہنما بھارت کی اس دعوت کو مسترد کرکے تحریک آزادی پُر جوش طریقے سے چلائیں تو بھارت خود بخود گھٹنے ٹیکنے پرمجبور ہوجائے گا، کشمیری رہنما بھارت کے فریب اور دھوکے میں نہ آئیں مذاکرات سے کشمیر آزاد نہیں ہوگا اس کیلئے منظم طور پر جدوجہد کی جائے اور طاقت سے بھارت کو وہاں سے بھگایاجائے۔
گیس اور پٹرول کی قیمتوں میںاضافہ نئے سال کا تحفہ
حکومت نے سال نو پرعوام کو ایک اور” تحفہ“ دیتے ہوئے گیس کے بعدپٹرول بم بھی گرا دیا پٹرول ایک روپے 65 پیسے لٹر مہنگا ایل پی جی کی قیمت میں بھی مزید9 روپے کلواضافہ کردیاگیا۔ جیسے ہی رات کے بارہ بجے سال نو کا آغاز ہوا تو حکومت نے قوم کو بجلی کی لوڈشیڈنگ اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کا تحفہ دیا یہ ابتداتھی2012کی اب ابتدا دیکھیں انتہا پر کتنے لوگ زندہ درگور ہوتے ہیں اور کتنوں کے گھروں میں فاقے، بھوک، غربت اور مایوسی ڈیرے ڈالتی ہے، نئی امیدیں، نئی توقعات اور نئے خدشات کب حقیقت بن کرسامنے آتے ہیں؟ امید ہے زیادہ دیر نہیں لگے گی اس وقت بجلی کی مسلسل بندش سے کاروبار ٹھپ ہوچکے ہیں۔2011 میں گیس بجلی کی لوڈشیڈنگ مہنگائی سے تنگ اور خراب حالات کے باعث 200 پاکستانی سرمایہ کاروںنے بنگلہ دیش میںصنعتیں لگائی ہیں،35 صنعتکار سری لنکا شفٹ ہوئے ہیں حکومت نے اگر گزشتہ سال کی غلطیوں پر قابو نہ پایا تو اس کے بھیانک نتائج برآمد ہونگے۔ ہمارے پاس تھرکول میں بے بہا کوئلہ پڑا ہے سندھ میں کوئلے کے ذخائر کو ابھی تک استعمال نہیں کیا جارہا ۔گیس کی مزید تلاش شروع نہیںکی گئی ،آج ذرا سی بات پرسندھ کارڈ استعمال کرنیکی بڑھکیں ماری جاتی ہیںکیا عوام نے 2008 میں کرپشن لوٹ مار، اقربا پروری کیلئے آپ کو منتخب کیا تھا۔تھر منصوبے کیلئے115ملین ڈالر منظور کیے گئے تھے لیکن ابھی تک صرف 10ملین جاری کئے گئے ہیں آخر کیوں؟ حکومت کسی بھی ملکی مفاد کے منصوبے کو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچے دے رہی۔ بینظیر انکم سپورٹ گولڈن فنڈ سکیم سمیت وزیراعظم اور وزراءکے صوابدیدی فنڈز منجمد کرکے ملکی ضروریات کو پورا کیا جائے۔ سیاسی بنیادوں پر معاف کیے گئے قرضوں کو وصول کرکے ان منصوبوں پر لگایاجائے۔ سردست حکومت اس بحران پر قابو پانے کیلئے ایران سے ہنگامی بنیادوں پر گیس لینے کا بندوبست کرے، ڈیم بنا کرملک کوبجلی میں خود کفیل کیا جائے اور مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند کرنے کیلئے کوششیں کی جائیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں