آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کیمطابق یکم فروری سے پٹرول کے نرخوں میں 6 روپے دس پیسے، ہائی سپیڈ ڈیزل کے نرخوں میں تین روپے 35 پیسے اور مٹی کے تیل کے نرخوں میں تین روپے 32 پیسے فی لٹر اضافہ ہو گیا‘ ان اضافہ شدہ نرخوں کے تحت اب پٹرول 71 روپے 21 پیسے ، ڈیزل 71 روپے 89 پیسے اور مٹی کا تیل 64 روپے سات پیسے فی لٹر فروخت ہو رہا ہے۔ قیمتوں میں متوقع اضافہ کے پیش نظر اوگرا کا نوٹیفکیشن جاری ہونے سے پہلے ہی لاہور، کراچی، اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت تمام شہروں میں گذشتہ رات پٹرول پمپ بند کر دئیے گئے تاکہ یکم فروری سے نئے نرخوں کے حساب سے پٹرول فراہم کیا جا سکے۔
اوگرا کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کے نرخوں میں اضافہ اور پاکستانی روپے کی ڈالر کے مقابلہ میں گرتی ہوئی قیمت کے باعث پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافہ کیا گیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ گذشتہ ایک ماہ کے دوران عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں سات ڈالر فی بیرل کی کمی ہوئی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں جنوری 2010ء کے دوران خام تیل کی قیمت 72 ڈالر 40 سینٹ فی بیرل کی کم ترین سطح پر رہی اس طرح عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں ایک ماہ میں 12 فیصد کم ہوئی ہیں۔
یہ طرفہ تماشا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں جس تناسب سے خام تیل کے نرخوں میں کمی ہوتی ہے، ہمارے ملک میں اس سے زیادہ تناسب سے پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافہ کر دیا جاتا ہے اور یہ احساس تک نہیں کیا جاتا کہ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافے سے ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان کھڑا ہو جاتا ہے اور عام آدمی کیلئے جو پہلے ہی مہنگائی در مہنگائی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، اپنے دستیاب وسائل میں زندگی گزارنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے، بالخصوص تنخواہ دار طبقہ اور مزدور پیشہ لوگوں کی زندگیاں اجیرن ہو جاتی ہیں۔
عوام نے جرنیلی آمریت اور نگران حکومت کی شکل میں اسکی باقیات کو 18 فروری 2008ء کے انتخابات میں اپنے روزمرہ کے مسائل بالخصوص مہنگائی سے عاجز آ کر ہی مسترد کیا تھا اور اپنے ووٹ کی طاقت سے خاموش انقلاب برپا کرکے سلطانی جمہور کی راہ ہموار کی تھی۔ عوام کو توقع یہی تھی کہ انکے منتخب نمائندے ایوانِ اقتدار میں پہنچ کر انکے روز افزوں مسائل کے تدارک، مہنگائی میں کمی، روزگار کی فراہمی، وسائل میں اضافہ اور پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں بے مہابا اضافہ روکنے کیلئے مثبت اور موثر اقدامات بروئے کار لائیں گے اور ملک کی معیشت کو مستحکم کرکے مفلوک الحال عوام کو مسائل کی دلدل سے باہر نکالیں گے اور ان کیلئے آبرومندی کے ساتھ زندگی گزارنے کی راہ ہموار کرینگے مگر موجودہ منتخب حکمرانوں نے نہ صرف جرنیلی آمریت کے پیدا کردہ گھمبیر مسائل سے ملک و قوم کو نجات نہیں دلائی بلکہ پٹرولیم مصنوعات میں ہر ماہ دو ماہ بعد اضافہ کرکے، یوٹیلٹی بلوں میں نئے ٹیکسوں کی بھرمار کرکے روزمرہ استعمال کی اشیاء بشمول چینی، گھی، آٹا، دالوں، سبزیوں اور گوشت کے نرخوں میں بھی شتر بے مہار اضافہ کی کھلی چھوٹ دے کر بے وسیلہ عام شہریوں کو عملاً زندہ درگور کر دیا ہے۔
گذشتہ سال آزاد عدلیہ کی بحالی کے بعد چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چودھری نے اپنے ازخود اختیارات کو بروئے کار لا کر اوگرا کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کے نرخ بڑھانے کے اقدامات کا نوٹس لیا اور عالمی مارکیٹ کے نرخوں کی بنیاد پر پٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل کے نرخوں میں معقول کمی کرنے کی ہدایت کی جس پر اس وقت کے مشیر خزانہ شوکت ترین نے پہلے مستعفی ہونے کی دھمکی اور پھر نرخوں میں چند پیسے کمی کرکے عدالتِ عظمیٰ کے فیصلہ کا مذاق اڑایا گیا جبکہ اس معمولی کمی کے بعد اگلے ہی مہینے نرخوں میں تین سے چار روپے فی لٹر اضافہ کرکے نہ صرف منافع میں ہونیوالا معمولی خسارہ پورا کیا گیا بلکہ پٹرولیم کمپنیوں کو اپنی تجوریاں مزید بھرنے کا موقع بھی فراہم کر دیا گیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ موجودہ منتخب حکومت کے دو سال کے عرصہ کے دوران اب تک پانچ بار پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اتنا اضافہ کیا جا چکا ہے کہ عام آدمی کی قوت خرید جواب دے گئی ہے، ہمارا یہ المیہ ہے کہ جس تناسب سے پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافہ ہوتا ہے اس سے زیادہ تناسب سے پبلک ٹرانسپورٹ، ریلوے، پی آئی اے کے کرایوں اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کے نرخوں میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس وقت جبکہ عام آدمی کیلئے روزگار کے دروازے بھی بند ہو چکے ہیں اور بجلی گیس کی مسلسل لوڈشیڈنگ کے نتیجے میں صنعتیں، فیکٹریاں، مارکیٹیں پہلے ہی بند ہو چکی ہیں، اب پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں کئے اضافہ سے ملک میں مہنگائی، بے روزگاری کا جو طوفان آئے گا وہ ملک کے عوام کیلئے ناقابل برداشت بھی ہو گا اور اسکے ردعمل میں اس خونیں انقلاب کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے جس کا وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اشرافیہ طبقات کو اکثر ڈراوا دیا کرتے ہیں۔
سیاسی اور عوامی حلقوں کی جانب سے بجا طور پر حکومت کے اس اقدام کو عوام پر ڈرون حملہ کرنے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اب ٹرانسپورٹ اور ریلوے کے کرایوں اور اشیائے خوردنی کے نرخوں میں بے مہابا اضافے کو بھی نہیں روکا جا سکے گا۔ اس فیصلہ سے لازمی طور پر سفید پوش تنخواہ دار طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو گا جن کی تنخواہوں میں تو آئندہ جولائی میں پندرہ بیس فیصد اضافہ کی نوید سنائی گئی ہے مگر چھ ماہ قبل ہی پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافے کی صورت میں ان پر ناقابل برداشت مہنگائی کا بوجھ لاد دیا گیا ہے۔ ڈیزل کے نرخوں میں اضافہ سے اب زمینداروں، کاشتکاروں کو بھی اپنی اجناس کے نرخوں میں اضافہ کا موقع مل جائیگا۔ چینی کا بحران پہلے ہی ناقابل برداشت ہو چکا ہے جبکہ اب گندم، چاول، دالوں اور سبزیوں کے نرخوں میں بھی اضافہ ہو گا تو عام آدمی کیلئے فاقہ کشی کی نوبت ہی آئے گی جبکہ بے وسیلہ افراد اب مٹی کے تیل کو لالٹین اور چولہا جلانے کیلئے نہیں، اپنے روزمرہ کے مسائل سے چھٹکارہ کی خاطر خودسوزی کیلئے ہی استعمال کر پائیں گے۔
اگر تو حکمرانوں نے زندہ انسانوں کے بجائے قبرستان کی آبادی میں اضافہ کرنے کی ٹھانی ہوئی ہے تو یہ الگ بات ہے ورنہ کوئی حکمران اپنے عوام کیلئے مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی کے گھمبیر مسائل پیدا کرکے اپنی حکمرانی کو مستحکم نہیں بنا سکتا۔ آج خلقِ خدا اپنے لامحدود دکھوں اور مسائل سے عاجز آ کر دہائی دے رہی ہے تو اہل اقتدار کو اپنی عاقبت کی فکر کرنی چاہئے کیونکہ کوئی معاشرہ کفر کی بنیاد پر تو قائم رہ سکتا ہے مگر ظلم کی بنیاد پر قائم نہیں رہ سکتا اور پٹرولیم مصنوعات میں آئے روز اضافہ کرکے عوام کو مہنگائی کے تھپیڑوں کے آگے ڈالنے سے بڑا ظلم اور کیا ہو سکتا ہے۔ حکومت کو پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافہ کے فیصلہ پر بہرصورت نظرثانی کرنی چاہئے اور چیف جسٹس پاکستان کو بھی عوام پر روا رکھے جانیوالے اس ظلم کا اپنے ازخود اختیارات کے تحت نوٹس لینا چاہئے کیونکہ حکومت کا یہ اقدام معاشرے کی ٹوٹ پھوٹ پر منتج ہو سکتا ہے۔
شمالی وزیرستان میں بھی اپریشن کی تیاری
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جنوبی وزیرستان کے بعد شمالی وزیرستان میں بھی اپریشن ہو گا‘ جس کیلئے اپنے وسائل اور دیگر امور پر غور کر رہے ہیں۔
سوات کے بعد جنوبی وزیرستان میں اپریشن کے نتائج پوری قوم ہلاکتوں اور تباہی و بربادی کی صورت میں بھگت رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس پاکستان کے دورے پر تھے‘ انہوں نے پاکستان پر شمالی وزیرستان میں بھی اپریشن کیلئے دبائو ڈالا جسے حکومت نے بڑی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسترد کر دیا تھا اور رابرٹ گیٹس پر واضح کر دیا تھا کہ بھارت نے اگر مشرقی سرحد پر جارحانہ رویہ جاری رکھا تو پاکستان مغربی سرحد پر خاطرخواہ توجہ نہیں دے سکے گا۔ حکومت کے اس موقف سے قوم کو امن کی شمع روشن ہوتی دکھائی دی تھی لیکن وزیر خارجہ نے شمالی وزیرستان میں بھی اپریشن شروع کرنے کا عندیہ دے کر قوم کو امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ حکمران خود تو محلات میں حفاظتی دستوں کی فوج کے جلو میں محفوظ ہیں‘ سڑکوں‘ گلیوں اور بازاروں میں خودکش حملوں کے باعث عام پاکستانیوں کا خون بہہ رہا ہے‘ یہ سب اپریشنوں کے ردعمل میں ہی ہے۔ امریکہ جس کی یہ جنگ ہمارے گلے میں پڑی ہوئی ہے‘ خود افغانستان میں طالبان سے مذاکرات کی بات کر رہا ہے اور ہم مذاکرات کا راستہ چھوڑ کر آخری ’’دہشت گرد‘‘ کے خاتمہ تک جنگ اور اپریشن جاری رکھنے کا عزم دہرائے چلے جا رہے ہیں۔ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں‘ نیٹو کمانڈر میکرسٹل بھی واضح کر چکے ہیں کہ افغانستان میں جنگ بہت ہو چکی ہے‘ اب اس کا سیاسی حل نکالنا ہو گا۔ اگر امریکہ افغانستان میں طالبان سے مذاکرات پر تیار ہے تو پاکستان کو بھی انہی خطوط پر شدت پسندوں کے ساتھ معاملات گولی اور اپریشنوں کے بجائے سیاسی انداز میں طے کرنے چاہئیں اور شمالی علاقوں میں مصروف کار فوج کو مشرقی سرحد پر لانا چاہئے جہاں بھارت کی جارحیت کا ہر وقت خطرہ موجود ہے۔
امریکہ کی بھارت کو کمپیوٹرائزڈ............. فائر کنٹرول توپخانے کی فراہمی
جدید دور اور غیرروایتی اسلحہ کی موجودگی جنگوںمیں روایتی اسلحہ‘ ٹینکوں اور توپوں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا‘ پاکستان بھی روایتی اور غیرروایتی اسلحہ کا حامل ہے لیکن اس کا مقابلہ جس دشمن سے ہے‘ وہ مکار اور عیار تو ہے ہی‘ اسکے پاس پاکستان کے مقابلے میں ہتھیاروں کے انبار کہیں زیادہ ہیں۔
دوسری طرف امریکہ دوہرے معیار کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کو اپنی دہشت گردی کیخلاف جنگ میں استعمال کررہا ہے‘ اس جنگ کی وجہ سے پورا ملک خودکش حملوں اور بم دھماکوں سے لرز رہا ہے۔ رہی سہی کسر ڈرون حملے پوری کر رہے ہیں‘ انسان مارے جا رہے ہیں‘ عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن رہی ہیں‘ بھارت پاکستان کی اس تباہی و بربادی پر خوش ہے‘ وہ پاکستان کو مشکلات میں دیکھ کر اوٹ پٹانگ الزامات لگاتے ہوئے کبھی سرجیکل سٹرائیک‘ کبھی محدود ایٹمی جنگ اور کبھی 96 گھنٹے میں قبضے کی دھمکیاں دیتا رہتا ہے۔ ایسے میں امریکہ کا فرض ہے کہ وہ پاکستان کیخلاف کسی بھی جارحیت کی دھمکی کا نوٹس لے‘ الٹا وہ بھارت کو جدید اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔ بھارت کے پاس روایتی اور غیرروایتی ہتھیار وافر مقدار میں موجود ہیں‘ جس سے خطے میں دفاعی توازن پوری طرح بگڑ چکا ہے۔ اب امریکہ کی طرف سے کمیپوٹرائزڈ فائر کنٹرول توپخانے کی فراہمی سے یہ مزید بگڑ جائیگا۔ بھارت خطے میں جس تھانیداری کے خواب دیکھ رہا ہے‘ اسلحہ کی بہتات کے گھمنڈ میں وہ کوئی بھی ایڈونچر کر سکتا ہے۔ حکومت پاکستان کو امریکہ سے بھارت کو جدید ترین توپخانے کی فراہمی پر شدید احتجاج کرتے ہوئے فراہمی رکوانی چاہئے اور مکار دشمن کے جارحانہ عزائم کا منہ توڑ کر جواب دینے کیلئے اپنے گھوڑے تیار رکھنے چاہئیں‘ شیطانی اتحاد ثلاثہ اعلانیہ جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔
اقبال منزل سیالکوٹ ............. حکمرانوں کی توجہ کی طالب
سیالکوٹ میں علامہ اقبال کی جائے پیدائش ایک قیمتی قومی یادگار اور اثاثہ ہے‘ گو حکومت نے اسے قومی یادگار قرار دے رکھا ہے‘ لیکن اس یادگار کی قومی ورثے کے طور پر وہ حفاظت نہیں ہو رہی جو اس کا حق ہے۔ اقبال منزل جس کی دیکھ بھال اب حکومت پاکستان نے اپنے محکمہ آثار قدیمہ کے سپرد کر رکھی ہے کی خستہ حالی کی طرف کبھی بھی کسی حکومت نے توجہ نہیں دی۔ اس تاریخی عمارت کو اس کی اصل حالت میں محفوظ رکھنا اور اقبال منزل میں علامہ اقبال کی زندگی اور افکار کے حوالے سے ایک جدید طرز کا تحقیقی مرکز قائم کرنا حکومت پاکستان کی وزارت ثقافت کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان کی عمارت جن دو ستونوں پر استوار ہوئی تھی ان میں سے ایک علامہ اقبال کی فکر اور دوسرا قائداعظم کا عمل تھا۔ ان دوگراں مایہ شخصیات کے احسانات اگر ہم فراموش کر دیتے ہیں تو پھر پاکستان کی تاریخ میں ہمارا قابل فخر سرمایہ کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔ اگر ہم قائداعظم اور علامہ اقبال سے منسوب تاریخی عمارات کو محفوظ نہیں رکھ سکتے اور دیگر کسی سیاسی شخصیت کی یاد میں (جس کا مقام و مرتبہ تاریخ میں قائداعظم اور علامہ اقبال سے کہیں کم ہے) اداروں کی بنیاد رکھتے چلے جائیں تو تاریخ ہماری اس ناانصافی کو معاف نہیں کرے گی اور ہمارا شمار محسن کش قوموں میں کیاجائے گا۔ اقبال منزل سیالکوٹ کو عالمی معیار کے مطابق اصل حالت میں محفوظ رکھنے کے لئے بہت زیادہ سرمائے کی ضرورت ہے‘ جس کا انتظام حکومت کیلئے مشکل ہرگز نہیں۔ اقبال منزل کو محفوظ رکھنے اور اسکی تزئین و آرائش کیلئے صرف سات آٹھ کروڑ روپے کی ضرورت ہے۔
اقبال منزل کی اہمیت کے پیش نظر اسکی توسیع بھی ناگزیر ہے‘ اس کیلئے جس قدر بھی رقم کی ضرورت ہے‘ وہ حکومت کو فراہم کرنا چاہئے۔اس طرح آنے والی نسلوں کیلئے علامہ اقبال کا تاریخی مقام پیدائش ایک یادگار کے طور پر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے محفوظ ہو جائیگا۔