سیلاب کی تباہ کاریاں اور حکومتی بے حسی..... قوم اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کو تنہائی کا احساس نہ ہونے دے

ـ 2 اگست ، 2010
ملک کے تمام صوبوں اور کشمیر میں حالیہ موسلا دھار بارشوں اور بھارت کی جانب سے دریائے چناب، جہلم اور سندھ میں زیادہ پانی چھوڑنے سے آنے والے سیلاب کی تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ہلاک ہونیوالوں کی تعداد 1500 سے تجاوز کر گئی ہے جن میں سے ایک ہزار سے زائد افراد صرف صوبہ خیبر پی کے میں جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ سینکڑوں افراد لاپتہ ہیں۔ ہزاروں افراد بے گھر ہوچکے ہیں، لاکھوں سیلاب میں گھرے ہیں جن کا رابطہ ملک کے دوسرے علاقوں سے کٹ چکا ہے۔ ہزاروں جانور بھی سیلاب میں بہہ گئے ہیں۔ اسی طرح لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں بھی سیلاب کی نذر ہوچکی ہیں۔ بجلی، پانی، گیس کی سپلائی معطل ہوچکی ہے۔ بجلی اور ٹیلیفون کے پول زمین بوس ہوچکے ہیں۔ متعدد نہروں اور دریائوں کے پل بھی پانی میں بہہ گئے ہیں۔ بڑھنے والے سیلابی ریلے سے متعدد ڈیمز بھی خطرے کی زد میں ہیں۔ سڑکیں تباہ اور ریلوے کی پٹڑیاں متاثر ہورہی ہیں، مواصلاتی سلسلہ منقطع ہوچکا ہے۔ گائوں کے گائوں صفحہ ہستی سے مٹ رہے ہیں، ہر طرف موت کا راج دکھائی دیتا ہے اور عذاب الٰہی کے سامنے انسانی بے بسی دیدنی ہے۔
سیلاب سے سب سے زیادہ نقصان صوبہ خیبر پی کے اور گلگت، بلتستان اور قبائلی علاقوں بشمول وادیٔ سوات کا ہورہا ہے جہاں انسانوں اور جانوروں کی اموات کا اندازہ لگانا بھی مشکل نظر آرہا ہے۔ دو ہزار سے زائد سیاح اس وقت بھی کالام اور بحرین میں پھنسے ہوئے ہیں۔ سوات اور شانگلہ میں سیلابی ریلے کے گزرنے کے بعد مزید 16 انسانی لاشیں نکالی گئی ہیں جبکہ سوات کے بالائی علاقوں میں لاکھوں افراد امدادی سرگرمیاں نہ ہونے کے باعث پھنسے ہوئے ہیں۔ شانگلا کے علاقے اوسندر کے ایک گائوں پر پہاڑی تودہ گرنے سے پورا گائوں ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔ کالام میں آٹھ ہوٹل اور تین سو مکان منہدم ہوگئے ہیں اور صوبہ خیبر پی کے کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین کی پریس بریفنگ کے مطابق اس صوبہ میں 567 مکانات اور 90 سڑکیں مکمل تباہ ہوگئی ہیں۔ 58 بڑی سڑکیں آمدورفت کیلئے بند ہیں جبکہ سیلاب کی تباہ کاریوں کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔
پاک فوج نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کردی ہیں اور سندھ میں ممکنہ سیلاب کے خطرے کے پیش نظر کشمور، لاڑکانہ اور نوشہرو فیروز میں بھی پاک فوج کے امدادی دستے روانہ کردئیے گئے ہیں مگر بیشتر سیلاب زدہ علاقوں میں ابھی تک امدادی سرگرمیاں شروع ہی نہیں ہوسکیں، نتیجتاً سیلاب میں بے گھر ہونیوالے خاندانوں کے خاندان بے یارومددگار کھلے آسمان تلے پڑے ہیں جنہیں ادویات تو کجا، خوراک بھی نہیں مل رہی چنانچہ اندیشہ ہے کہ سیلاب سے متاثر ہونے والے لوگ اب بھوک اور پیاس سے بھی جاں بحق ہوں گے اور متعددی بیماریاں پھیلنے سے بھی مزید انسانی ہلاکتوں کا اندیشہ ہے۔ ایک امریکی خبررساں ادارے کی اقوام متحدہ کے حوالے سے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق 1929ء کے بعد پاکستان میں آنیوالا حالیہ سیلاب اس خطے کا سب سے بڑا اور شدید سیلاب ہے جس کے نقصانات کا تخمینہ لگانا ابھی مشکل ہے تاہم اس سیلاب سے 10 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔
سیلاب کی تباہ کاریوں پر پوری دنیا کی جانب سے پاکستان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا جا رہا ہے تاہم سیلاب سے متاثرہ افراد کو فوری طور پر خیموں، ٹینٹوں، ضروری خوراک، پانی اور ادویات کی جو ضرورت ہے وہ پوری ہونا تو کجا، ابھی انہیں بہم پہنچانے کا سلسلہ بھی شروع نہیں ہوسکا۔ سیلاب زدہ علاقوں میں بھوک، پیاس سے نڈھال خواتین، بچے، بوڑھے اور نوجوان بے چارگی کی تصویر بنے امداد کے منتظر ہیں جبکہ انہیں پانی سے نکال کر خشکی پر لانے کا ابھی تک کوئی معقول انتظام نظر نہیں آرہا۔ بلاشبہ سیلاب کی تباہ کاریاں زیادہ ہیں جن سے عہدہ برآ ہونا تنہا حکومت کے بس کا کام نہیں مگر حکومت کی جانب سے جس سنجیدگی کے ساتھ امدادی سرگرمیوں کا آغاز ہونا چاہئے تھا وہ سنجیدگی کہیں نظر نہیں آتی، حتیٰ کہ وفاقی اور صوبائی وزراء اور منتخب نمائندوں کی جانب سے اپنے علاقوں میں سیلاب سے متاثرہ مقامات کا دورہ کرنے اور نقصانات کا تخمینہ لگانے کی زحمت بھی گوارہ نہیں کی گئی حالانکہ اس مصیبت کی گھڑی میں تو انہیں اپنی شب و روز کی تمام مصروفیات ترک کرکے خود کو اپنے سیلاب زدہ بھائیوں کی امداد کیلئے وقف کردینا چاہئے تھا۔ حد تو یہ ہے کہ حکومت کی سطح پر ابھی تک سیلاب زدگان کیلئے کوئی ریلیف فنڈ بھی قائم نہیں کیا گیا جبکہ نجی سطح پر مختلف این جی اوز اور فلاحی تنظیموں نے ملک بھر میں ریلیف کیمپ بھی لگائے ہیں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جاکر امدادی کام بھی شروع کئے ہیں جن میں کنسرن سٹیزن پاکستان بھی شامل ہے جس نے نوائے وقت گروپ کی رابطہ کاری کے ساتھ متاثرین سیلاب کیلئے امدادی کیمپوں کا اہتمام کیا ہے۔ عوام الناس تو اپنے سیلاب زدہ بھائیوں کی امداد کیلئے دل کھول کر عطیات، راشن، ادویات اور دوسرا امدادی سامان جمع کرا رہے ہیںاور دکھ کی اس گھڑی میں اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کو تنہائی کا احساس نہیں ہونے دینا چاہتے مگر حکومت کی سطح پر انہیں سوائے مایوسی کے اور کچھ نظر نہیں آرہا۔ ملک کی مسلح افواج تو سیلاب میں گھرے افراد کو انکے مال و اسباب سمیت خشکی پر لانے کیلئے دن رات اپنی کوششوں میں مگن ہیں۔ اس سلسلے میں آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے گزشتہ روز وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے پنجاب میں ان سے سیلاب کی تازہ ترین صورتحال پر آگاہی بھی حاصل کی ہے جبکہ حکومتی مشینری حکام بالا کے سیلاب زدہ علاقوں کے دوروں کے دوران انکے پروٹوکول کے تقاضے نبھانے میں مصروف نظر آتی ہے۔
یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے کہ خوفناک سیلابی ریلوں کی پیشگی اطلاعات ملنے کے باوجود وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے سیلاب کے نقصانات کو کم سے کم کرنے کیلئے کسی قسم کی پیش بندی نہ کی گئی، نتیجتاً صوبہ خیبر پی کے کے کئی شہر سیلاب میں ڈوب گئے اور وہاں کے مکین سیلابی ریلوں کے ساتھ ساتھ حالات کے تھپیڑوں کی بھی زد میں آگئے۔
چاہئے تو یہ تھا کہ مصیبت اور آزمائش کی اس گھڑی میں ہر قسم کی پیشگی سرکاری مصروفیات اور حکومتی عہدیداروں کے نجی و سرکاری اندرونی اور بیرونی دورے منسوخ کرکے صرف متاثرین سیلاب کی بحالی پر توجہ دی جاتی اور ان مصروفیات پر اٹھنے والے اخراجات سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی کاموں کیلئے وقف کردئیے جاتے مگر حکومتی بے حسی نے سیلاب زدگان کے گھائو اور بھی گہرے کردئیے ہیں۔ اس لئے اب پوری قوم کو ملی جذبہ کے ساتھ اپنے سیلاب زدہ بھائیوں کی امداد میں جُت جانا چاہئے اور انہیں اپنی زندگی کے موجودہ مشکل اور کٹھن لمحات سے عہدہ برآ ہونے کیلئے جس بھی چیز کی ضرورت ہو وہ بہم پہنچائی جانی چاہئے تاکہ ان کے دکھوں کا کچھ نہ کچھ مداوا ہوجائے، بالخصوص سیلابی ریلے گزرنے کے بعد سیلاب زدگان کیلئے زیادہ کٹھن لمحات آئینگے کیونکہ سیلاب کے مابعد اثرات زیادہ سنگین ہوتے ہیں اور وبائی امراض پھوٹنے کا اندیشہ بھی ہوتا ہے اس لئے قوم کو اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کو کسی بھی لمحے تنہائی کا احساس نہیں ہونے دنیا چاہئے۔ دامے، درمے، سخنے جو بھی ممکن ہو، ان کی امداد کو پہنچنا چاہئے اور کسی بھی امدادی کیمپ کو خالی نہ رہنے دیا جائے۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے تو امدادی کاموں کی نگرانی خود سنبھال لی ہے۔ وفاقی حکمرانوں اور دوسری صوبائی حکومتوں کو بھی ایثار سے کام لینا چاہئے کیونکہ موجودہ مشکل حالات سے محض زبانی جمع خرچ سے نہیں، عملی اقدامات سے ہی عہدہ براء ہوا جاسکتا ہے۔
مسئلہ کشمیر… برطانیہ کی دکانداری
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے بھارت میں دئیے گئے بیان پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیوڈ کیمرون نے پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کرکے بھارت کو تو خوش کردیا ہے لیکن انہیں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں جاری انسانی حقوق کی پامالی نظر نہیں آئی۔ دہشت گردی کے خلاف ہمار ی قربانیاں نیٹو سے زیادہ ہیں۔
برطانوی وزیراعظم بھارت کے کمرشل دورے پر آئے تھے وہ بھارت کے پاس برطانوی ہتھیار اور سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی اور برطانوی طیاروں کے سیلز مین بنے ہوئے تھے اپنا اسلحہ اوربرطانیہ کی اشیاء بیچنے کیلئے بھارتی حکمرانوں کے سامنے پاکستان پر ایسی بھونڈی اور بلا جواز تنقید کی کہ خود بھارتی کابینہ کے وزراء اس پر شرما گئے ہونگے۔ برطانیہ کی سابقہ حکومت کے وزیر خارجہ نے بجاطور پر ڈیوڈ کیمرون کے الزامات اور تنقید کو فضول اور غیر ضروری قراردیا ہے۔برطانوی وزیراعظم اور انکے بھاری بھرکم وفد کی موجودگی میں مقبوضہ کشمیر میں ’’ بھارتیو! جموں و کشمیر سے نکل جائو‘‘ کے تحت احتجاجی مہم چل رہی ہے۔ نہتے کشمیری عوام جلسوں جلوسوں اور ریلیوں کے ذریعہ جو کہ دنیا بھر میں مسلمہ سیاسی انداز ہے تحریک آزادی ٔکشمیر جاری رکھے ہوئے ہیں بزرگ راہنما اور کشمیر کے ایک نامور سیاستدان سید علی گیلانی نے اس تحریکِ آزادی کو ایک زبرست سیاسی تحریک بنا دیا ہے۔ انہوں نے نہتے کشمیریوں کو بم دھماکوں اور خود کش حملوں کی طرف آنے ہی نہیں دیا البتہ بھارتی فوج اور پولیس ریاستی دہشت گردی کر رہی ہے اُنہوں نے گزشتہ روز بھی چار نہتے کشمیری شہریوں کو گولیاں مار کر شہید کردیا ہے۔برطانوی وزیراعظم اگر بھارت میں موجود سفیر کو کہتے کہ گزشتہ ایک ماہ میں بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں کتنے افراد کو گولیاں مار کر شہید کیا ہے انکی فہرست دو۔ تو وہ اس فہرست کے علاوہ بھارت کے کئی صوبوں میں بھی بغاوت اور تحریکِ آزادی کے جھنڈے سر بلند کرنے والوں کی کئی سو افراد پر مشتمل لسٹ پیش کردیتے۔مسئلہ کشمیر تو برطانوی حکومت کا اپنا پیدا کردہ ہے۔ برصغیر سے جاتے وقت انہوں نے اس خطہ میں امن و امان کو تباہ کرنے اور اپنا اسلحہ مسلسل فروخت کرتے رہنے کیلئے ایک تنازعہ ایسا چھوڑا جو حل نہ کرایا گیا۔البتہ اس حوالے سے دونوں ملک برطانیہ اور امریکہ سے اسلحہ ضرور خریدتے رہیںگے۔
بلیک باکس ملنے کے بعد مزید تاخیر نہ کی جائے
اسلام آباد میں مارگلہ کی پہاڑیوں سے ٹکرا کر تباہ ہونے والے طیارے کے بلیک باکس اور کاک پٹ وائس ریکارڈ مل گئے، بلیک باکس کو ڈی کوڈ نگ کیلئے فرانس بھیجاجائے گا۔ مارگلہ کی پہاڑیوں سے ٹکرانے والے ہوائی جہاز کا المناک حادثہ پوری قوم کے دل رنجیدہ کرگیا ہے شہداء کے ورثاء اور سترہ کروڑ عوام بے تابی سے نتیجے کاانتظار کر رہے ہیں کہ آخر یہ حادثہ کیوں کر رونما ہوا کیونکہ بظاہر حادثے کے کوئی واضح اسباب موجود نہ تھے جہاز کیسے ریڈ زون میں چلا گیا یہ اپنی جگہ ایک معمہ ہے، آیا یہ تکنیکی خرابی تھی یا دہشت گردی اس بات کا تعین ہوناچاہئے، اب جبکہ بلیک باکس اور کاک پٹ وائس ریکارڈ مل گئے ہیں تو اس سلسلے میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہئے، ہمارے ہاں بالعموم تحقیقات زور شور سے ہوتی ہیں مگر نتائج سے قوم کو آگاہ نہیں کیاجاتا ڈی کوڈنگ کے بعد یہ ریکارڈنگ پوری قوم کو سنائی جائے اور حقائق سے مطلع کیاجائے ،وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ ڈی آئی جی نبی امین نے 45کمانڈوز کے ہمراہ آپریشن کرکے بلیک باکس تلاش کیا ہے جس پر انہیں انعام دیاجائے گا، وزارتِ دفاع کے ماہرین کی 15رکنی اور فرانس کی 5رکنی ٹیموں نے جائے حادثہ کا دورہ کرکے مزید شواہد اکٹھے کئے البتہ یہ بات باعث حیرت ہے کہ ہمارے پاس ڈی کوڈنگ ماہرین کیوں موجود نہیں؟
بھارتی فلمیں ایک شرانگیز تجویز
پنجاب حکومت نے پاکستانی فلموں کے بعد بھارتی اور انگریزی فلموں پر بھی عائد 65 فیصد تفریحی ٹیکس مزید تین سال کیلئے معاف کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ سینیٹر پرویز رشید کی زیر صدارت فلمی صنعت فلم ایگزابیٹرز ایسوسی ایشن اور دیگر متعلقہ افراد کا اجلاس ہوا جس میں یہ سفارش کی گئی۔سینیٹر پرویز رشید اور ضوریز لاشاری نے اس پر خوشی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس فیصلہ سے اب پنجاب میں مزید سینما گھر تعمیر ہونگے۔ اور لوگ تفریح سے محظوظ ہونگے عوام اس بات پر حیران ہیں کہ پاکستانی فلموں اور انگریزی فلموں پر ٹیکس معاف کردینے کا شاید کوئی جواز ہو۔ مگر بھارتی فلموں کی عام نمائش کی اجازت دینے اور اس پر ٹیکس معاف کردینے کا کیا جواز ہے…؟ بھارت ہمارا ازلی و ابدی دشمن ہے اُنکی ہر فلم میں پاکستان کے خلاف بڑے جارحانہ اور توہین آمیز ریمارکس ہوتے ہیں اور اس طرح تو بھارتی ثقافت کو پاکستان پر کھلے عام حملہ کردینے کی دعوت دی جارہی ہے جو پاکستان کی نظریاتی جڑیں کاٹنے کے مترادف ہے۔پاکستان کے محبِ وطن عوام اس تجویز کے شدید مخالفت ہیں۔اس طرح پاکستانی فلمی صنعت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ ہر سینما میں بھارتی فلمیں لگی ہونگی اور مقبوضہ کشمیر میں تحریکِ آزادی میں مصروف کشمیری عوام کا قتل عام بھی جاری رہے گا اور پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش بھی۔ جو پاکستانی بھارتی فلموں کے بغیر نہیں رہ سکتے وہ کسی نہ کسی طرح بھارتی فلمیں دیکھ لیتے ہیں۔مسلم لیگی حکومت پنجاب کو یہ انتہائی غیر موزوں فیصلہ نہیں لیناچاہئے۔ عوام توقع کرتے ہیں کہ مسلم لیگ کی حکومت پنجاب اور مسلم لیگی وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف اس شر انگیز تجویز کو نہ صرف مسترد کردیں گے ۔بلکہ یہ تجویز منظور کرنے والوں کو ایسی فیصلہ ساز کمیٹیوں سے بھی باہر نکال دیاجائے گا۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter