بھارت کی جانب سے کشمیری مجاہدین پر لیزر بلائنڈرز کا استعمال ..... ہندو بنیاء کا سفاک چہرہ بے نقاب کرنے کا یہی وقت ہے

ـ 1 ستمبر ، 2010
بھارتی حکومت کشمیری مجاہدین سے نمٹنے کیلئے جدید ترین لیزر ہتھیار (لیزر بلائنڈر) استعمال کر رہی ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے کشمیری مظاہرین کو منتشر کرنے اور مجاہدین سے نمٹنے کیلئے ایسی لیزر گن استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے جس کے استعمال سے مظاہرین کو عارضی طور پر اندھا کر دیا جاتا ہے تاکہ انہیں گرفتار کرنے میں آسانی رہے۔ اس سے قبل بھارت مقبوضہ کشمیر میں کلسٹر بم بھی استعمال کر چکا ہے جو وسیع پیمانے پر تباہی پھیلاتا ہے اور انسانی جسموں کے چیتھڑے اڑا دیتا ہے۔ یہ بم امریکہ اور نیٹو فورسز نے عراق اور افغانستان میں استعمال کئے تھے‘ جن کی تباہ کاریوں کا مشاہدہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ نے انکے استعمال پر پابندی عائد کر دی تھی‘ اسکے باوجود بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کی انتہاء کرتے ہوئے ان بموں کا استعمال کیا جبکہ اب وہ کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کو دبانے کیلئے انکے جلسے جلوسوں اور احتجاجی مظاہروں پر جدید ترین لیزر بلائنڈر استعمال کرنے سے بھی نہیں ہچکچا رہا۔
اس وقت جبکہ کشمیری عوام طویل عرصہ سے جاری اپنی جدوجہد آزادی میں نیا جوش اور ولولہ پیدا کرکے ’’بھارتیو! کشمیر چھوڑ دو‘‘ کے نعرے لگاتے ہوئے اس جدوجہد کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے پوری ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں‘ بھارتی فوجوں اور دوسری سیکورٹی فورسز نے ان پر ظلم و جبر کا ہر ہتھکنڈہ استعمال کرنا شروع کر دیا ہے‘ اسکے باوجود وہ بھارتی جبر کے آگے سینہ سپر ہیں اور قربانیوں کی نئی داستانیں رقم کر رہے ہیں۔ گزشتہ تین ماہ کے دوران بھارتی گولی‘ لاٹھی‘ شیلنگ کا سامنا کرتے ہوئے ایک سو سے زیادہ کشمیری باشندے شہید ہو چکے ہیں جبکہ لاتعداد زخمی ہوئے ہیں مگر اس ظلم و جبر کے آگے انکے حوصلے پست ہوئے ہیں‘ نہ انکے پائے استقلال میں کہیں ہلکی سی بھی لغزش پیدا ہوئی ہے۔ بھارتی فوجوں کی مار دھاڑ کا سلسلہ روزانہ جاری ہے اور گزشتہ روز بھی ضلع بارا مولا میں ریاستی دہشت گردی کے دوران چھ بیگناہ کشمیری نوجوانوں نے جام شہادت نوش کیا‘ جن میں ایک گیارہ سالہ بچہ بھی ہے۔ گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال تھی اور مختلف علاقوں میں ہزاروں کشمیری باشندوں نے بھارتی فوج کے مظالم کیخلاف احتجاجی مظاہرے کئے‘ جنہیں روکنے کیلئے بھارتی فوج نے کپواڑہ سمیت پوری مقبوضہ وادی میں دوبارہ کرفیو نافذ کر دیا۔ بی بی سی کے مطابق تجارتی مرکز لال چوک کے قریب بھارتی فوج نے نئے مہلک ہتھیاروں سے فائرنگ کی‘ جس کے نتیجہ میں کشمیری حریت پسند رہنما یٰسین ملک کے دو رشتہ داروں سمیت پانچ نوجوان زخمی ہو گئے۔
یہ حقیقت ہے کہ مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم میں جتنا اضافہ ہوتا ہے‘ اتنا ہی کشمیری مجاہدین اور عوام کے حوصلے بلند ہو جاتے ہیں اور وہ بھارتی فوجوں کے آگے سینہ سپر ہو کر انکے مظالم کو برداشت اور چیلنج کرتے ہیں‘ یہی وجہ ہے کہ کشمیری عوام کی اس پرعزم جدوجہد آزادی کے آگے اب بھارتی فوجوں کے حوصلے پست ہو رہے ہیں اور انکے پائوں اکھڑ رہے ہیں اس لئے بھارتی آرمی چیف مکار ہندو بنیاء لیڈر شپ کو باور کرارہے ہیں کہ مقبوضہ وادی میں بھارتی افواج کا جنگ جیتنا ممکن نہیں رہا اور وہ پسپائی اختیار کر رہی ہیں‘ اسلئے بہتر یہی ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے بھارتی افواج کو واپس بلوا کر اس مسئلہ کا کوئی سیاسی حل تلاش کیا جائے۔ بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو بھی اپنے دورۂ سرینگر کے دوران کشمیری عوام کی سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور وہ کرفیو کی سختیوں کے باوجود منموہن کی آمد پر احتجاج کیلئے سڑکوں پر نکل آئے اور منموہن سنگھ کی آزادانہ نقل و حرکت ناممکن بنا دی۔ کشمیری مجاہدین کی جانب سے بھارتی وزیراعظم کیلئے یہ واضح پیغام تھا کہ اب چاہے وہ ظلم و جبر کا کوئی بھی راستہ اختیار کرلیں‘ انکے جذبات کے آگے بند نہیں باندھا جا سکے گا اور آزادی اب انکا مقدر بن چکی ہے جس سے بھارت نے انہیں گزشتہ 64 برس سے محروم کر رکھا ہے۔ بعدازاں بھارتی آرمی چیف کے حقائق پر مبنی بیانات سامنے آئے تو منموہن نے کشمیری مجاہدین کو ٹریپ میں لانے کیلئے نئی دہلی میں آل پارٹیز کشمیر کانفرنس طلب کرکے مقبوضہ کشمیر کو خودمختاری دینے کا دانہ پھینکا جسے انکے کٹھ پتلی کشمیری لیڈران نے بھی قبول نہ کیا اور بیک زبان مقبوضہ کشمیر سے بھارتی افواج کے انخلاء کا مطالبہ کیا جبکہ بھارتی وزیر داخلہ چدم برم نے بھی صورتحال کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں فوجی کارروائی جاری رکھنے کے بجائے اس مسئلہ کے سیاسی حل کا تقاضہ کیا۔
یقینی بات ہے کہ مسئلہ کشمیر کا سیاسی حل کشمیری عوام کی یو این قراردادوں کی روشنی میں استصواب کا حق دینے میں ہی مضمر ہے‘ جس سے کم پر کشمیری عوام کسی صورت آمادہ نہیں ہو سکتے کیونکہ انہوں نے تو تقسیم ہند کے وقت ہی اپنے مستقبل کا تعین کرلیا تھا اور کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے حق میں ووٹ دینے کا فیصلہ کیا تھا‘ اسی لئے تو لالہ جی کی آنکھ میں میل آیا اور انہوں نے کشمیر میں بھارتی افواج زبردستی داخل کراکے پوری مقبوضہ وادی کو اپنی دستبرد میں لے لیا اور پھر بھارتی آئین میں ترمیم کرکے مقبوضہ وادی کو بھارتی ریاست کا درجہ دے دیا۔ کشمیری حریت پسند اور عوام مکار ہندو بنیاء کی اسی ہٹ دھرمی سے عاجز آکر اپنی آزادی کی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہوئے جس میں وہ اب تک ڈیڑھ لاکھ کے قریب انسانی جانوں کے نذرانے پیش کر چکے ہیں مگر انکی آزادی کی تڑپ بڑھتی ہی رہی اور بھارتی ریاستی دہشت گردی کا کوئی حربہ اور کوئی ترغیب و تحریص انکے راستے میں رکاوٹ نہیں بن سکی۔ اس وقت انکی آزادی کی جدوجہد نکتۂ عروج پر ہے اور انہوں نے مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں ہی نہیں‘ دنیا بھر میں حتٰی کہ وائٹ ہائوس کے سامنے آزادی کا فلوٹیلا چلا کر اور طویل دھرنا دیکر پوری دنیا کو بھارتی مظالم سے آگاہ کردیا ہے اور کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تسلیم کرالیا ہے۔ چنانچہ مکار ہندو بنیاء نے کشمیر کو ہاتھوں سے نکلتا دیکھ کر اب کشمیری عوام کو جدید لیزر بلائنڈر سے ڈھیر کرنے کی ٹھانی ہے مگر وہ ظلم و بربریت کی چاہے انتہا ہی کیوں نہ کر دے اور چاہے جو بھی حربہ اختیار کرلے‘ منزل کی جانب تیزی سے بڑھنے والے کشمیری عوام کے قدم اب روکے نہیں جا سکیں گے اور شکست بھارت کا مقدر بن چکی ہے۔ ’’بھارتیو! کشمیر چھوڑ دو‘‘ کے فلک شگاف نعرے بھارتی سیناپتی اور مکار ہندو بنیاء لیڈر شپ کو بھی لرزہ براندام کئے ہوئے ہیں۔ یہی بہترین موقع ہے مقصد حاصل کرنے کا اور منزل تک پہنچنے کا۔ کشمیری عوام نے تو اب کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اگر چپ کا روزہ رکھے ہوئے ہمارے حکمران بھی اس موقع کو غنیمت جان کر مصلحتوں‘ منافقتوں کا لبادہ اتار کر اور امریکی غلامی میں بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کے اسکے احکام کی تعمیل کی روش تبدیل کرکے دل و جان سے کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کا ساتھ نبھانا اور عالمی برادری کے سامنے انکی آواز کے ساتھ آواز ملانا شروع کر دیں تو لالہ جی کے اکھڑے لرزتے پائوں کشمیر کی دھرتی پر کبھی جم نہیں پائیں گے۔
صدر زرداری کو یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ انکے سسر ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے کشمیر کی خاطر ہندو بنیاء سے ہزار سال تک جنگ کرنے کا اعلان کیا تھا اور اس مقصد کیلئے یہ کہہ کر وطن عزیز کو ایٹمی قوت بنانے کا عہد کیا تھا کہ ہم گھاس کھا لیں گے‘ مگر ایٹم بم ضرور بنائیں گے۔ آج ایٹمی قوت ہو کر بھی امریکی ڈکٹیشن پر سانپ ہندو بنیاء کے ساتھ دوستی کے جتن کئے جا رہے ہیں تو یہ قومی غیرت ہی کے منافی نہیں‘ بھٹو کے عہد کو جھٹلانے کے بھی مترادف ہے اس لئے حکمرانوں کو پس و پیش سے کام لینے کے بجائے ہندو بنیاء کا ظالم و سفاک چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کرنا چاہیے‘ یہی موجودہ حالات اور ہمارے قومی مفادات کا تقاضہ ہے۔
فنڈز موجود ہیں تو امداد تقسیم کریں
صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان میں پیسے کی کوئی کمی نہیں متاثرین سیلاب خود کو تنہا محسوس نہ کریں حکومت نے اپنے تمام وسائل متاثرین کیلئے مختص کردئیے ہیں جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ میرا جینا مرنا غریب اور مصیبت زدہ لوگوں کیساتھ ہے جن علاقوں میں سیلاب کا پانی اُتر گیا ہے وہاں حکومت نے سروے شروع کرادیا ہے جس کی تکمیل کیساتھ ہی متاثرین سیلاب کو 20 ہزار روپے فی خاندان ادا کردئیے جائینگے۔صدر زرداری اور میاں شہباز شریف کے یہ بیانات بہت حوصلہ افزاء ہیں حیرت اس امر کی ہے کہ اگر حکومت کے پاس فنڈز موجود ہیں تو پھر سیلاب زدگان تکلیف اور پریشانی کے ان مراحل سے کیوں گزر رہے ہیں؟ سیلاب زدگان اور کیمپوں میں مقیم افراد میںغالب اکثریت ایسے افراد کی ہے جس کیلئے کیمپوںمیں رہنا اور حکومت اور روساء کی سخاوت سے استفادہ کرنا کوئی خوشگوار عمل نہیں ہے یہ لوگ جلد از جلد اپنے گھروں میں واپس جاکر اپنے کام، کاروبار کو دوبارہ شروع کرنے کے خواہش مند ہیں‘اس لئے زیادہ بہتر ہوگا کہ حکومت رمضان المبارک کے مقدس آخری عشرہ کے ختم ہونے سے قبل ان متاثرین سیلاب کو امداد دے کر انکے گھروں کو روانہ کردے یہ لوگ اپنی زمینوں پر لوٹ جائیں اپنے گھروں کو دوبارہ رہنے کے قابل بنائیں اور یہی انکی عید ہوگی۔وفاقی حکومت کو دنیا بھر کے ممالک سے جو امداد بھی ملی ہے اس امدادی رقم کو بنکوں میں پڑے نہیں رہناچاہئے۔ حکومت اس رقم کو صوبوں میں تقسیم کرے۔ باہر صوبائی نمائندوں کی رضامندی سے صوبوں کے سیلاب متاثرین میں تقسیم کردی جائے کیونکہ یہ سیلاب متاثرین کیلئے ہی ہے اور اسکی تقسیم کیلئے انتہائی شفاف طریقے اختیار کئے جائیں تاکہ دنیا بھر میں پاکستان کے بارے میں جو بھی منفی تاثر ہے وہ ختم ہوجائے۔
امریکہ اور افغان طالبان کے مذاکرات
امریکی نمائندوں افغان طالبان اور حزب اسلامی کے درمیان نئی ملاقاتوں کا انکشاف ہوا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کیلئے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک کے دو خصوصی نمائندوں نے 17 اور 21 اگست کے درمیان افغان طالبان اور حزب اسلامی کے رہنمائوں سے اسلام آباد اور پشاور میں اہم ملاقاتیں کی ہیں۔ ان ملاقاتوں کے دوران زیر بحث آنیوالے اہم مسائل میں افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد افغانستان میں طالبان کی اکثریتی قومی حکومت کی تشکیل دینے کے امکانات پر بات کی گئی ہے۔ امریکی حکومت پاکستان کے ساتھ ہمیشہ دہری چال چلتی ہے اور پاکستانی حکمرانوں کو الجھائے رکھ کر اپنے مقاصد پورے کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ امریکی حکام پچھلے دنوں گرجتے برستے رہے کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کیخلاف اقدامات کیوں نہیں کرتا اور خود امریکی نمائندے افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے لیڈروں سے مذاکرات بھی کر رہے ہیں۔ شاید اسکی وجہ یہ بھی ہو کہ قندھار میں تین روز کے اندر ہونیوالے دھماکوں میں چودہ امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکی یہاں سے اپنی گلوخلاصی کرانے اور پاکستان کو اپنی جگہ پھنسانے کا منصوبہ بنا چکے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کو چاہیے کہ وہ اس سلسلہ میںبہت زیادہ ہوشیار رہیں۔ افغانستان ہمارا برادر اسلامی ملک ہے‘ امریکہ نے پہلے بھی تبدیلی کے موقع پر پاکستان مخالف افغان لابی کو اقتدار سونپ دیا تھا۔ اب بھی امریکہ کی کوشش یہی ہو گی کہ بھارت کو فائدہ پہنچانے کیلئے پاکستان مخالفوں کو افغانستان میں قوت و اختیار سونپ دیا جائے اور نیٹو فورسز کی جگہ پاکستانی فوج کو پھنسا دیا جائے۔ پاکستان کے عوام کی خواہش ہے کہ افواج پاکستان امریکہ کے انخلاء سے قبل ہی اپنے آپ کو افغانستان کے معاملات سے دور کرے تاکہ امریکی انخلاء کے بعد افغان حکمرانوں کو کوئی شکایت بھی نہ ہو اور ہم صرف انکی خواہش پر انکی مدد کریں اور افغانوں کو یہ شکایت نہ ہو کہ ہم انکے معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں۔
عدلیہ سے متعلق حکومتی لاپرواہی
سپریم کورٹ نے کہا ہے‘ ایڈہاک ججز کو 18ویں ترمیم کے فیصلے تک کام کی ہدایت کی جاتی ہے‘ عدلیہ کا ایک عضو معطل ہو رہا تھا‘ حکومت کو پرواہی نہیں‘ سب جانتے ہیں بحران کیوں پیدا کیا جا رہا ہے۔ عدلیہ کا پورے ملک میں بھرپور انداز میں کام کرتے رہنا ہی ملک و قوم کے مفاد میں ہے۔ مگر حکومت اس معاملہ کو جس ڈھیلے ڈھالے انداز میں لے رہی ہے‘ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت ملک میں عدالتی بحران پیدا کر رہی ہے اور اسکے پس پردہ کچھ مقاصد ہیں۔ جن سے باخبر لوگ بے خبر نہیں‘ ہائیکورٹوں کے تقریباً 36 ایڈہاک جج آئندہ ماہ فارغ ہو رہے تھے مگر حکومت نے انکی مدت ملازمت میں توسیع یا نئے تقرر کے بارے میں ابھی تک کوئی فیصلہ ہی نہیں کیا تھا‘ اس لئے سپریم کورٹ کو مجبوراً عبوری دادرسی کرنا پڑی۔ سب سے ابتر صورتحال بلوچستان کی ہے‘ جہاں متعین تمام ججوں کی مدت ملازمت ختم ہونیوالی ہے۔ اگر سپریم کورٹ عبوری احکام جاری نہ کرتی تو بلوچستان ہائیکورٹ کا وجود ہی ختم ہو جاتا اسلئے چیف جسٹس سپریم کورٹ افتخار محمد چودھری نے انہیں کام جاری رکھنے کی اجازت دیدی ہے تاکہ وقتی طور پر عدالتی بحران پیدا نہ ہو۔ جبکہ فی الحقیقت یہ کام حکومت کا ہے کہ وہ ان حالات میں سپریم کورٹ کی ہدایات پر فوری توجہ دے اور جو کام اسکے کرنے کا ہے‘ کرے۔ اس وقت 18ویں ترمیم سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے‘ جب تک اس کا فیصلہ نہیں ہو جاتا‘ حکومت کو ممکنہ عدالتی بحران کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے جو بھی خط جاتے ہیں‘ ان کے جواب میں تاخیر کی جاتی ہے جو کام گورننس کا ہے‘ وہ اسے کرنا چاہیے اور عدلیہ کو اسکا کام کرنے دیا جائے۔ بہرصورت چیف جسٹس سپریم کورٹ نے سردست تو بحران پر قابو پالیا ہے‘ مگر حکومت کو اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا چاہئیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter