وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ غلط فہمی دور کرلیں، ان کا عدلیہ کے ساتھ کوئی تصادم نہیں ہے۔ عدلیہ سے ان کے اچھے تعلقات ہیں اور ججوں کی تقرری باہمی مشاورت سے کی جائے گی۔گزشتہ روز اسلام آباد کے ایک گرلز سکول کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم اداروں کے عدم استحکام والا کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے، حکومت قائم رہنے کیلئے آئی ہے،عوام نے ہمیں پانچ سال کا مینڈیٹ دیا ہے اس لئے ہمارے مخالفین ہمیں پانچ سال تک برداشت کریں۔ ان کے بقول پیپلز پارٹی نے اردو اور انگریزی والے دونوں ’’سفر‘‘ کئے ہیں جبکہ عدلیہ نے ماضی میں صرف انگریزی والا ’’سفر‘‘ کیا ہے۔
ملک کے عوام نے بلاشبہ موجودہ حکمرانوں کو پانچ سال کیلئے سلطانی ٔجمہور کا مینڈیٹ دیا ہے اور اس مینڈیٹ کی بنیاد پر ہی عوام نے موجودہ حکمرانوں سے توقعات وابستہ کی تھیں کہ وہ نہ صرف انہیں روز مرہ کے گوناں گوں مسائل سے نجات دلائیں گے بلکہ مشرف آمریت کا پیدا کردہ گند صاف کرکے قومی امنگوں کے مطابق ملکی و قومی مفادات کی نگہداشت کریں گے اور ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی، عدلیہ کی آزادی اور انصاف کی عملداری کے ذریعہ جمہوری نظام کو مستحکم بنائیں گے تاکہ آئندہ کسی طالع آزما جرنیل کو سیاستدانوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر منتخب جمہوری نظام پر اپنے ماورائے آئین اقدامات کے ذریعہ شب خون مارنے کی دوبارہ جرأت نہ ہوسکے۔
اگر آج ملک اور معاشرے میں ایسی فضاقائم ہے، عوام کو غربت، مہنگائی، بے روزگاری، اشیائے ضرورت کی کمیابی، بجلی، گیس کی لوڈ شیڈنگ، بدامنی اور لاقانونیت کے گھمبیر مسائل سے نجات مل چکی ہے، آئین و قانون کی حکمرانی قائم ہوچکی ہے۔ انصاف کا بول بالا ہے۔ شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ پر پانی پی رہے ہیں اور جمہوریت کی گاڑی بغیر کسی رکاوٹ کے اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہے تو پھر ملک اور معاشرے کیلئے اس سے بہتر صورت حال اور کیا ہوسکتی ہے اور حکمرانوں کے پانچ سالہ مینڈیٹ کو کیا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ مگر حکومت کے دور اقتدار کے موجودہ دو سالوں کا جائزہ لیا جائے تو متذکرہ تمام معاملات میں عوام کو سوائے مایوسی کے اور کچھ نظر نہیں آتا۔ عوام کو جرنیلی آمریت سے درپیش غربت، مہنگائی، بے روزگاری، یوٹیلیٹی بلوں میں اضافے، آٹے، چینی کی قلت، بجلی گیس کی لوڈ شیڈنگ اور بدامنی سے متعلق مسائل میں کمی کے بجائے متواتر اضافہ ہوا ہے جبکہ مہنگائی اور لوڈ شیڈنگ کے مسائل نے تو عوام کو زندہ درگور کر دیا ہے اور روٹی، روزگار کے مسائل سے عاجز آ کر وہ تنگ آمد بجنگ آمد کی راہ اختیار کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں جبکہ انصاف کی منزل آج بھی ان سے کوسوں دور نظر آرہی ہے۔
عوام کو توقع یہی تھی کہ ان کا مینڈیٹ لے کر سلطانیٔ جمہور کیلئے رونق افروز ہونے والے حکمران مشرف آمریت کی بابجولاں کی گئی عدلیہ کو آزاد کر کے اس کے ذریعہ آئین و قانون کی حکمرانی، انصاف کے بول بالا اور اداروں کے استحکام کی بنیاد رکھیں گے۔ آئین میں شامل جرنیلی آمریت کے تمام اختیارات سے ایوان صدر کی خلاصی کرا دی جائے گی۔ پارلیمنٹ کو فرد واحد کے ہاتھ کا کھلونا نہیں بننے دیا جائے گا اور جرنیلی آمریت میں فروغ پانے والے کرپشن کلچرسے ملک و قوم کو نجات دلا کرانصاف اور میرٹ کی بنیاد پر گڈ گورننس کا خواب پورا کیا جائے گا۔
بلاشبہ آئین و قانون کی حکمرانی کی بنیاد پر جمہوریت کی بقاء و استحکام ہی ہر درد مند پاکستانی اور قومی سیاسی قائدین کا مطمعٔ نظر ہے۔ اس وطنِ عزیز میں کم و بیش 35 سال پر محیط جرنیلی آمریتوں نے یہاں جمہوری قدریں مستحکم ہی نہیں ہونے دیں، آئین و قانون کی حکمرانی قائم ہی نہیں ہونے دی، عدلیہ کی آزادی اور پارلیمنٹ کی بالادستی کا تصور پختہ ہی نہیں ہونے دیا۔ اس لئے اگر اب سول سوسائٹی بشمول وکلاء اور سیاسی کارکنوں کی طویل اور صبرآزما جدوجہد کے نتیجہ میں جرنیلی آمریت کو مسترد کرکے سلطانی ٔ جمہور کی راہ ہموار کی جاچکی ہے تو کوئی سیاستدان اور قوم کا کوئی جمہوریت پسند طبقہ یہ نہیں چاہے گا کہ کسی طالع آزما کو پھر جمہوریت پر شب خون مار کر سلطانیٔ جمہور کو تاراج کرنے اور اپنے ماورائے آئین اقدام کے تحت عنانِ اقتدار پر براجمان ہونے کا موقع ملے۔ یقینا اسی جذبے کی بنیاد پر میاں نوازشریف آج بھی سسٹم کی بقاء کے نام پر موجودہ وفاقی حکمرانوں کیلئے ڈھال بنے ہوئے ہیں جبکہ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی بھی آئینی تقاضوں کے مطابق سول حکمرانی کی معاونت کے عزم پر کاربند ہیں۔ قوم کی بھی یہی خواہش ہے کہ ملک میں جمہوریت مستحکم ہو اور حکومت اپنے حاصل شدہ مینڈیٹ کے مطابق پانچ سال کی آئینی میعاد پوری کرے تاہم حکومت کی اپنی صفیں اس معاملہ میں اخلاص سے عاری نظر آتی ہیں، نہ صرف یہ کہ سلطانیٔ جمہور میں بھی جرنیلی آمریت کے صوابدیدی اختیارات اپنے پاس رکھنے کے جواز نکالے اور پیش کئے جا رہے ہیں بلکہ آمرانہ روش اختیار کرکے منتخب پارلیمنٹ کو اپنی مرضی کے تابع کرنے اور عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد سے دانستہ گریز کرکے اس آئینی ادارے کے ساتھ ٹکرائو کی راہ اختیار کرنے کی دانستہ یا نادانستہ کوشش کی جا رہی ہے۔
وزیراعظم کو بے شک یہ زعم ہوگا کہ ان کے عدلیہ کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں مگر حکمرانوں کے ساتھ عدلیہ کے اچھے تعلقات کی بات سے عدلیہ کو اپنی مرضی کے تابع رکھنے کا تاثر ہی پیدا ہوتا ہے جبکہ موجودہ عدلیہ پر یہ لیبل ہرگز نہیں لگایا جاسکتا کیونکہ موجودہ عدلیہ کو اپنی ماضی کی غلطیوں کا خود بھی احساس ہے اور اگر اس عدلیہ نے سول سوسائٹی کی طاقت اور عوامی جدوجہد سے اپنی آزادی کی منزل حاصل کی ہے تو وہ اب حکمرانوں سے اچھے تعلقات کی خاطر اپنا سفر کھوٹا نہیں کرے گی۔ اس لئے بجائے اس کے کہ وزیراعظم عدلیہ سے اچھے تعلقات کے زعم میں گورننس کے معاملہ میں حکومتی خرابیوں کی پردہ پوشی کرتے رہیں اور پھر اسی زعم میں اپوزیشن کو طعنے دیتے نظر آئیں کہ آپ جو چاہیں، کرلیں، ہمیں پانچ سال تک کوئی نہیں ہلاسکتا، انہیں حقیقی معنوں میں عدلیہ کے احترام کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے انصاف کی عملداری اور اداروں کے استحکام کیلئے اپنا کردار ادا کرناچاہئے۔ تاکہ جمہوریت پر پھر شب خون مارنے کا خناس ذہنوں میں پالنے والوں کو مایوسی ہو۔ اگر وہ صدر کے آئینی استثنیٰ کی تشریح کے چکر میں پڑنے کے بجائے این آر او کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد کا آغاز کرکے تمام این آر او یافتگان پر انصاف کی عملداری اور قانون کی حکمرانی قائم کرا دیتے ہیں تو سلطانی ٔ جمہور کے پانچ سالہ مینڈیٹ کی راہ میں کوئی جمہوریت مخالف حائل نہیں ہوسکتا ورنہ میاں نوازشریف بھی آخر کب تک اس حکومت کو سسٹم کی بقاء کے نام سہارا دے پائیں گے جو اپنے آمرانہ رویوں کی بنیاد پر خود ہی کدالیں تھامے سسٹم کو تہہ و بالا کرنے پر تلی نظر آتی ہے۔
مولانا! آپ سے یہی توقع تھی!!
قومی اسمبلی کی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین اور جمعیت علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن نے پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’پاکستان کی مغربی سرحد پر فوج کی توجہ مرکوز ہونے سے مسئلہ کشمیر پسِ منظر میں چلا گیا ہے‘‘
مولانا فضل الرحمن پاکستان پارلیمنٹ کی اہم ترین کشمیرکمیٹی کے چیئرمین بنائے گئے ہیں۔ یہ کمیٹی پاکستان کی شہ رگ کشمیر کے معاملات کے متعلق ہے۔ پاکستانی فوج مغربی سرحد پر اپنی توجہ مرکوز کئے رکھے یا جنوبی سرحد پر اس سے پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی کو کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ افواج پاکستان اور حکومت پاکستان نے کشمیر کے معاملہ کو کبھی نظرانداز نہیں کیا۔ کشمیر کے بارڈرز پر فوج اپنے فرائض احسن طریقے سے سرانجام دے رہی ہے۔ جس سیکٹر پر بھی بھارتی فوج فائرنگ کرتی ہے یا اپنی حدود سے تجاوز کرنی ہے تو پاکستانی فوج نے فوری طور پر اسکا جواب دیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں حریت پسند کشمیری نوجوان بھی متحرک ہیں اور وہ اپنی تحریک کو اپنا خون دے کر چلا رہے ہیں۔ اس لئے مولانا فضل الرحمن کی طرف سے یہ شکوۂ بے جا ہے البتہ پاکستان کے عوام کو شکایت ہے کہ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے مولانا فضل الرحمن اور کشمیر کمیٹی کے اراکین کو جس قدر متحرک اور بیدار ہونا چاہئے تھا وہ اتنے ہی خوابیدہ اور تھکے تھکے ہوئے نظر آتے ہیں۔ مولانا کے پس منظر کو ذہن میں لاتے ہوئے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ مولانا آپ کے ہوتے ہوئے کشمیر کے بارے میں یہ تغافل اور خاموشی بہت پراسرار اور مایوس کن ہے۔ گزشتہ پونے دو برسوں میں مسئلہ کشمیر کے سلسلہ میں کئی دفعہ اہم واقعات ہوئے۔ بھارتی حکومت نے متعدد سکینڈلزمیں پاکستان کو ملوث کیا۔ بھارت کی طرف سے کشمیر سے آنے والے دریاؤں کا پانی روکنے کے لئے 62سے زائد نئے ڈیم تعمیر کئے جا رہے ہیں۔ پاکستان کی طرف آنے والے تمام ندی نالوں کو روک کر بھارت اپنے زرعی مقاصد کے لئے استعمال کر رہا ہے۔ اگر بھارت کو روکا نہ گیا تو پاکستان جلد ہی ایک بے آب و گیاہ صحرا بن جائے گا۔ مولانا فضل الرحمٰن اس ساری صورتحال کو دیکھ رہے ہیں وہ خود کشمیر کمیٹی کے چیئرمین ہیں وہ خود اٹھیں پاکستان کی مسئلہ کشمیر پر بھرپور نمائندگی کریں۔ پاکستان اور پاکستان سے باہر جائیں وہاں پریس کانفرنس کریں اور اس سلسلہ میں عالمی میڈیا کو کشمیر کے مسئلہ پر بھارت کی چیرہ دستیوں سے آگاہ کریں مگر مولانا نے یہ سب کچھ نہیں کیا اور ان سے توقع بھی نہیں تھی۔ وہ بھی پاکستان کے اندر جاری سیاسی کھیل میں مصروف ہیں اور مسئلہ کشمیر کے بارے میں کوئی کام نہیں کر رہے۔ شائد وہ اس ملک خداداد کے بارے میں اپنے آبائو اجداد کا ایجنڈہ پورا کرنے کے متمنی ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ ان کے باس یہ سب کچھ دیکھ کر بھی کیوں خاموش ہیں؟
تعلیم و تربیت کیلئے نمایاں خدمات
پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں پنجاب ایجوکیشنل انڈوومنٹ فنڈ پروگرام کے تحت لمز کے منتخب طلبا و طالبات کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غربت غلامی اور بھیک کا طوق گلے سے اتارنے کا واحد طریقہ ایسی تعلیم ہے جس سے بچے بابو بننے کی بجائے سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر تکنیکی شعبوں میں خدمات سرانجام دے سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے فلاحی پروگراموں اور دانش سکولوں جیسے منصوبوں پر صرف اس لئے تنقید کی جا رہی ہے کہ یہ غریب عوام کے لئے ہیں۔
وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ سال لمز اور فاسٹ میں وظائف کی تعداد بڑھائی جائے گی اور ان اداروں کے ہونہار پچاس پچاس طلبا و طالبات کو پنجاب ایجوکیشنل انڈوومنٹ فنڈ سے وظائف دئیے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب ملک میں تعلیم کی ترقی کیلئے جو بھی کاوش کر رہے ہیں یہ ایک ایسا تعمیری کام ہے جس کے مثبت نتائج سے ملک و قوم کو اجتماعی حیثیت سے بے پناہ فوائد حاصل ہوں گے۔ کیونکہ تعلیم ایک ایسا شعبہ ہے جس میں معمولی سرمایہ کاری بھی ملک و قوم کیلئے فخرو انبساط کا باعث ہوتی ہے۔ وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف نے اپنی وزارت علیاکے دور اول میں جو اقدامات کئے تھے۔ ان کے نتائج اتنے طویل عرصہ کے بعد بھی نظر آرہے ہیں اور اس وقت وہ تعلیم کی ترقی کیلئے اور پنجاب کے ہونہار نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کیلئے دانش سکولوں جیسی مثبت سکیم چلا رہے ہیں یہ یقیناً تعمیر ملت کا ایک جامع پروگرام ہے اور اس طرح اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں لائق طلبا و طالبات کو وظائف عطا کرکے وہ ایک ایسی خدمت سرانجام دے رہے ہیں جو کبھی بھی مٹ نہیں سکے گی اور تاریخ میں اسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہیں سرکاری سکولوں کو این جی اوز کی دستبرد سے بچانا چاہئے کیونکہ یہ سکول ہی غریب خاندانوں کے بچوں کی تعلیم کا واحد ذریعہ رہ گئے ہیں۔
دانش سکولوں کے بارے میں حکومت کے جو بھی منصوبے ہیں انکے بارے میں بہت سی باتیں سنی گئی ہیں جو کہ بہت خوشگوار اور دلکش ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ دانش سکولوں کے لئے حکومت شہروں سے باہر سرکاری اراضی پر شاندار عمارتیں تعمیر کرے گی ان کے ساتھ وسیع و عریض گراؤنڈ ہونگے یہاں غریب اور لائق طلبا کو اکتساب علم کے ساتھ ساتھ جسمانی صحت قائم رکھنے کے لئے کھیلوں میں حصہ لینے کے وسیع مواقع بھی ملیں گے۔ ایک صحت مند جسم میں ہی صحت مند دماغ ہوتا ہے۔ ان دانش سکولوں کو بے شک شہروں سے باہر سرسبز ماحول میں بنائیں مگر کچھ دانش سکول شہروں کے اندر بھی ہوں۔ اس شہر میں سرکاری سکول شہروں میں موجود ہیں جو اس منصوبہ کے مطابق ہوں انہیں شہروں کے اندر بھی دانش سکول میں تبدیل کر دیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔