برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی جانب سے دورۂ بھارت کے دوران پاکستان کے مفادات کیخلاف دیئے گئے بیانات کے باوجود آصف علی زرداری 3؍ اگست سے برطانیہ کا چھ روزہ دورہ کرینگے‘ دوسری طرف آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل شجاع پاشا کی سربراہی میں جانیوالے چار رکنی وفد کا دورہ برطانیہ منسوخ کردیا گیا۔ ایوان صدر کے ذرائع کے مطابق صدر زرداری نے برطانوی وزیراعظم کے بیان پر شدید غصے کا اظہار کیا‘ ان کا دورہ تقریباً ملتوی ہو چکا تھا کہ خود صدر زرداری نے مقررہ تاریخ پر برطانیہ جانے کا فیصلہ کیا۔ سرکاری دورے کے دوران صدر صاحب وزیراعظم کیمرون سے ملاقات اور برطانوی پارلیمنٹ کے پاکستانی نژاد ارکان سے خطاب کرینگے۔ بتایا گیا ہے کہ کیمرون کے ساتھ ملاقات میں صدر زرداری انکے بھارت میں دورے کے دوران دیئے گئے پاکستان مخالف بیانات پر شدید احتجاج کرینگے۔
دہشت گردی کیخلاف جنگ میں برطانیہ امریکہ کا سب سے بڑا اتحادی ہے‘ امریکہ اور اسکے اتحادی دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کو فرنٹ لائن اتحادی قرار دیتے ہوئے بارہا کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کے تعاون کے بغیر یہ جنگ نہیں جیتی جا سکتی‘ پاکستانی اور برطانوی خفیہ ایجنسیوں کے مابین دہشت گردی کیخلاف جنگ کے حوالے سے تعاون جاری ہے۔ برطانیہ سمیت پوری دنیا کو علم ہے کہ جنوبی ایشیا میں بدامنی کی سب سے بڑی وجہ مسئلہ کشمیر ہے‘ جو بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے پچھلے 62 سال سے لاینحل ہے۔ اب تو بھارت پاکستان کے حصے کا پانی روک کر پاکستان کو بنجر کر دینے کی سازش پر عمل پیرا ہے‘ اس کی تازہ ترین سازش یہ ہے کہ اس نے اپنی مکاری اور پاکستان دشمنی کا مظاہرہ یوں کیا کہ مون سون کے اس موسم میں شدید بارشوں کی وجہ سے پاکستانی دریا پہلے ہی بپھرے ہوئے تھے‘ اس نے یکدم پاکستانی دریائوں میں وافر پانی چھوڑ کر ہمارے ملک میں تباہی کا مزید اہتمام کر دیا۔ بھارت نے ہی خطے میں روایتی اور غیرروایتی ہتھیار کے انبار لگا کر طاقت کا توازن بری طرح بگاڑ رکھا ہے‘ بجائے اسکے کہ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون بھارت کے ساتھ ان معاملات پر بات کرتے‘ انہوں نے بھارت کے دورے کے دوران پاکستان کیخلاف بے سروپا باتیں کرتے ہوئے وہ کچھ کہہ دیا جو سفارتی آداب کے سراسر خلاف اور ایک وزیراعظم کے شایان نہیں جو اپنے ملک کو برطانیہ عظمٰی کہتا ہو۔ دہلی میں 28؍ جولائی کو انٹرویو اور ایک تقریب سے خطاب کے دوران کیمرون نے کہا ’’پاکستان دہشت گردی کو فروغ دینے والے گروپوں کیخلاف کارروائی کرے‘ کسی کو یہ اجازت نہ دے کہ دوسرے ممالک میں دہشت گردوں کو بھیجے۔ یہ برداشت نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی ملک دہشت گردی کے حوالے سے دہرا رویہ اختیار کرے‘ پاکستانی انٹیلی جنس میں ایسے عناصر موجود ہیں‘ جو دہشت گردی کی حمایت کرتے ہیں۔ طالبان‘ حقانی نیٹ ورک اور لشکر طیبہ جیسی تنظیموں کو برطانیہ بھارت اور دوسرے ملک کے شہریوں کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔‘‘ بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے‘ پاکستان کا وجود اس کیلئے روز اول سے ناقابل برداشت ہے‘ ہماری شہ رگ پر اس نے ناجائز غاصبانہ قبضہ کیا ہوا ہے‘ اس ملک میں آکر برطانوی وزیراعظم کی پاکستان کے بارے میں اوٹ پٹانگ باتیں احمقانہ پن ہے‘ پاکستان خود بدترین دہشت گردی کا شکار ہے‘ وہ کسی دوسرے ملک میں دہشت گردی کو کیوں فروغ دیگا؟ نپولین بونا پارٹ نے برطانوی قوم کو دکاندار قرار دیا تھا‘ بھارت آکر کیمرون نے اسی ذہنیت کا مظاہرہ کیا‘ اپنے 57۔ ہاک طیارے اور نیوکلیئر ٹیکنالوجی بیچنے کی خاطر بھارت کو خوش کرنے کیلئے پاکستان کیخلاف زہر اگلا اور ہرزہ سرائی کر ڈالی۔
امریکہ کی جنگ لڑتے لڑتے پاکستان تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے‘ صدر آصف علی زرداری کے بقول اس جنگ میں پاکستان کو 45 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے‘ تین ہزار فوجیوں سمیت دس ہزار کے لگ بھگ شہری جاں بحق ہو چکے ہیں‘ معیشت ڈوب رہی ہے‘ اسکے باوجود کیمرون کو دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اپنے اور امریکہ کے دہرے کردار کے بجائے پاکستان کا دہرا کردار نظر آتا ہے۔ اس جنگ میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کے شہداء کی تعداد ساڑھے چھ سو ہے‘ کیمرون کو پھر بھی پاکستانی ایجنسیوں میں دہشت گردی کے حامی نظر آتے ہیں۔ طالبان اور حقانی نیٹ ورک افغانستان میں ہیں‘ یہاں امریکی اور اتحادی افواج قابض ہیں‘ وہاں جا کر کارروائیاںکرنا پاکستان کا کام نہیں‘ اگر ڈیڑھ لاکھ نیٹو افواج کے باوجود افغانستان میں طالبان اور حقانی نیٹ ورک سرگرم ہیں تو نیٹو افواج کی یہ واضح ناکامی ہے‘ اس ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنا شرمناک ہے۔
کیمرون نے بھارت میں بیٹھ کر جو یاوہ گوئی کی‘ اس کا پاکستان کی طرف سے سخت نوٹس لیا جانا چاہیے‘ افسوس کہ واجبی اور احتجاجی بیانات سے بات آگے نہ بڑھ سکی۔ جنرل پاشا کی سربراہی میں جانیوالے وفد نے احتجاجاً اپنا دورہ منسوخ کرکے قوم کے جذبات کی عین عکاسی کی ہے‘ صدر مملکت جا رہے ہیں‘ یہ افسوسناک ہے۔ کسی بھی پاکستانی سے زیادہ صدر مملکت کو وطن عزیز کے وقار کا خیال رکھنا چاہیے۔ ملکی مفادات کے حوالے سے صدر کا دورہ برطانیہ اہم نہیں‘ میڈیا رپورٹس کے مطابق بلاول بھٹو زرداری 7 اگست کو بحیثیت چیئرمین پیپلز پارٹی سیاسی کیریئر کا آغاز کرینگے‘ اس مقصد کیلئے برمنگھم میں جو تقریب ترتیب دی جا رہی ہے‘ بقول پاکستانی ہائی کمشنر واجد شمس الحسن صدر پاکستان کی اس تقریب کا خرچہ حکومت پاکستان برداشت کریگی‘ جس کا تخمینہ ہزاروں پائونڈ بتایا جارہا ہے۔ انٹر کنونشن سنٹر کا صرف ایک دن کا کرایہ 60 ہزار پائونڈ ہے‘ پاکستان اس وقت جن حالات سے دوچار ہے‘ سیلاب کی تباہ کاریاں عروج پر ہیں‘ پورا ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے‘ حکومت کی قومی مفادات کے بجائے ذاتی مفادات پر مبنی پالیسیوں کے باعث کاروبار ٹھپ‘ معیشت ڈانواں ڈول‘ لوگ مہنگائی سے تنگ ہو کر خودکشیاں کر رہے ہیں‘ کیا صدر پاکستان کی طرف سے برمنگھم جا کر اتنی مہنگی تقریب میں شرکت کا کوئی جواز ہے؟ جبکہ انکی پارٹی غریب عوام کی پارٹی ہونے کی دعویدار ہے۔
پاکستان کی طرف سے ڈیوڈ کیمرون کے پاکستان مخالف بیانات کے بعد خودداری وقار کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے‘ ڈیوڈ کیمرون اپنے بیانات پر ڈھٹائی سے بدستور قائم ہیں۔ اپنے بیانات واپس لینے اور معافی مانگنے تک پاکستان کے کسی بھی اعلیٰ آفیشل کو برطانیہ کا دورہ نہیں کرنا چاہیے۔ صدر زرداری کو بھی اپنا دورہ احتجاجاً منسوخ کر دینا چاہیے۔ بلاول بھٹو کی سیاست کا افتتاح برطانیہ میں ضروری نہیں‘ اس بچے نے سیاست اور بادشاہی پاکستان میں کرنی ہے‘ سیاست کا افتتاح بھی پاکستان سے ہی ہونا چاہیے۔ برطانیہ کو پاکستان مخالف بیانات واپس لینے پر مجبور کرنے کیلئے پاکستانی ہائی کمشنر کو مشورے کیلئے پاکستان بلایا جانا اور پاکستان میں موجود برطانوی ہائی کمشنر کو وزارت خارجہ میں طلب کرکے شدید احتجاج کرنا چاہیے۔ وزیر خارجہ کی سٹیٹ منٹ افسوسناک سے زیادہ شرمناک ہے جس میں کہا گیا ہے کہ برطانوی ہائی کمشنر کو مدعو کرکے وضاحت چاہوں گا‘ گویا وضاحت بھی ہاتھ باندھ کر طلب کی جائیگی؟ حکمرانوں کو ملک و قوم کی عزت و وقار کی خاطر غلامانہ ذہنیت کا اظہار نہیں کرنا چاہیے‘ پاکستان کے موقف کی بلاخوف اور بیباکی سے ترجمانی کرنی چاہیے۔
امریکی صدر اس فتنہ کو روکیں
امریکی ریاست فلوریڈا میں اسلام دشمنی کیلئے مشہور ایک چرچ نے نائن الیون کی برسی کے موقع پر قرآن مجید کے نسخے شہید کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
گینس ویلے فلوریڈا میں واقع ’’ڈوو‘ ورلڈ آئوٹ ریچ سنٹر‘‘ اپنی ویب سائٹ اور سوشل نیٹ ورکنگ کی ویٹ سائٹ پر قرآن مجید کے نسخوں کو (نعوذبااللہ) نذر آتش کرنے کی ترغیب دینے کیلئے مذموم مہم چلا رہا ہے اور نائن الیون میں ہلاک ہونیوالوں کی یاد میں ’’ایوری باڈی برن قرآن ڈے‘‘ کے نام سے گیارہ ستمبر کا دن منانے کا شیطانی منصوبہ بنا رہا ہے‘ اس چرچ نے گزشتہ برس اسلام مخالف نعرے والی شرٹیں بھی تقسیم کی تھیں اور اسلام دشمن افراد کی کتب بھی شائع ہو چکا ہے۔ امریکی عیسائیوں اور یہودیوں کی طرف سے مسلسل اسلام کیخلاف کوئی نہ کوئی اشتعال انگیزی کرنے کی مہم جاری ہے اور مسلمانوں کیلئے بہت زیادہ مشکل بات یہ ہے کہ وہ جواباً نہ تو بائیبل اور نہ ہی توریت و زبور کی توہین کے مرتکب ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ انہیں محترم الہامی کتب کا درجہ دیتے ہیں۔
اگر امریکہ میں یہ حرکت کی گئی تو اس سے اسلامی ممالک میں زبردست بحران پیدا ہو گا‘ امریکہ اور مغربی ممالک خلاف نفرت زیادہ گہری اور شدید ہو جائیگی اور یہ نہ صرف انسانی حقوق کی انتہائی خلاف ورزی ہو گی بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج تمام مذاہب کے احترام کیلئے قائم ضوابط کی بھی خلاف ورزی ہو گی۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور امریکی صدر باراک اوباما کو چاہیے کہ عیسائی چرچ کے ان انتہا پسندوں کو روکنے کی کوشش کریں‘ اگر ایسا نہ کیا گیا تو پوری دنیا میں امن و سکون اور مذاہب کے بارے میں رواداری بالکل ختم ہو جائیگی۔ امریکہ انتہا پسندوں کی طرف سے اس انتہائی خطرناک حرکت کو روک دے۔
خوفناک سیلاب بھارت کی ابلیسی شرارت
ملک کے مختلف علاقوں میں طوفانی بارشوں کا سلسلہ گزشتہ روز بھی جاری رہا‘ جس کے بعد دریائے سندھ‘ دریائے جہلم‘ دریائے چناب بپھر گئے جبکہ دریائے راوی میں بھی سیلاب ہے۔ پنجاب‘ خیبر پی کے‘ بلوچستان‘ آزاد کشمیر‘ جنوبی پنجاب اور سندھ میں کچے کے علاقوں میں بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچا دی‘ قبائلی علاقوں اور صوبہ خیبر پی کے کی تاریخ کے بدترین سیلاب میں جاں بحق ہونیوالے کی تعداد 500 سے زائد ہو گئی۔ بتایا گیا ہے کہ جہلم اور دریائے سندھ میں اونچے درجے کا سیلاب ہے‘ میانوالی اور عیسیٰ خیل سے آمدہ اطلاعات کیمطابق بھارت کی طرف سے دریائے سندھ میں آٹھ لاکھ کیوسک پانی چھوڑنے کے بعد دریا میں 9 لاکھ کیوسک سے زائد پانی کے دبائو کے باعث جناح بیراج اور جناح ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کو بچانے کیلئے بند توڑ دیئے گئے‘ میانوالی میں ہنگامی حالت کا اعلان کردیا گیا۔ فیڈرل پبلک سروس کمشن کے چیئرمین جسٹس (ر) رانا بھگوان داس اور انکے اہل خانہ تین ہزار دیگر افراد کے ساتھ ناران میں بارش سے متاثرہ علاقوں میں پھنس گئے‘ اسی طرح مسلم لیگ (ق) کے چودھری شجاعت حسین اور انکے صوبائی صدر امیر مقام خان جوکہ صوبہ خیبر پی کے کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین کے صاحبزادے کی شہادت پر تعزیت کے بعد واپس آرہے تھے کہ سیلابی ریلے میں پھنس گئے۔ انہوں نے بڑی مشکل سے ٹرکوں کی چھت پر چڑھ کر جان بچائی۔
مون سون کی ان غیرمعمولی بارشوں سے پیدا ہونیوالی اس انتہائی تباہ کن طوفائی صورتحال میں ہمارے پڑوسی بھارت کی طرف سے دریائوں میں پانی چھوڑنے کی ابلیسی شرارت سے ملک بھر میں تباہی و بربادی‘ کئی سو گنا بڑھ گئی ہے۔ بھارت پاکستان کا پانی روک کر ملک کو بنجر صحرا بنا دینا چاہتا تھا اور جب پانی ضرورت سے زائد ہو تو وہ پاکستان کی تباہی کے پیش نظر سیلاب کو ہماری طرف دھکیل دیتا ہے۔ اگر ہم نے پاکستان میں آبی ذخائر صوبہ سرحد میں منڈاڈیم‘ بھاشا ڈیم اور کالاباغ ڈیم تعمیر کئے ہوتے تو یہ سیلابی اور بارشوں کا پانی جمع کرکے کم از کم دو برس تک ہم سستی بجلی حاصل کرتے اور چاروں صوبوں کو زراعت کیلئے بھی حسب ضرورت پانی میسر رہتا۔ جو لوگ پاکستان میں ڈیموں کی تعمیر کی مسلسل مخالفت کر رہے ہیں‘ انہیں موجودہ صورتحال سے اندازہ ہو جانا چاہیے کہ ڈیموں کی تعمیر نہ کرکے ہم اپنے ازلی و ابدی دشمن کی سازشون کا نشانہ بنے ہوئے ہیں اور ہمارا دشمن امن کی آشا نہیں‘ بلکہ مسلمانوں کو بھوکا مارنے یا انہیں سیلاب میں فنا کر دینے کے سوا کوئی خواہش نہیں رکھتا۔
مطالعہ پاکستان پاکستانیوں کیلئے ضروری ہے
ماہرین تعلیم نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے کہ وزارت تعلیم حکومت پاکستان آئندہ تعلیمی سال سے انٹرمیڈیٹ کی سطح پر ’’مطالعہ پاکستان‘‘ کے لازمی مضمون کو ختم کرکے اسکی جگہ ’’ایڈوانس مطالعہ پاکستان‘‘ اختیاری مضمون کے طور پر متعارف یا رائج کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ منصوبہ سابق ڈکٹیٹر جنرل(ر) پرویز مشرف کے دور سے تکمیلی مراحل میں تھا اور اب جمہوری دور میں اس پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ 1980ء سے تمام کلاسز میں مطالعہ پاکستان ایف اے‘ ایف ایس سی تا ایم اے‘ ایم ایس سی لازمی مضمون کے طور پر شروع کیا گیا تھا جسکے نہایت مثبت اثرات سامنے آئے۔ ایم اے کی سطح پر یہ مضمون بہت پہلے ختم کردیا گیا تھا‘ اب آہستہ آہستہ اسے بالکل ہی ختم کرنے کے آثار نظر آرہے ہیں۔ نئی نسل کو مطالعہ پاکستان کی ضرورت و اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا‘ حکمرانوں کو اسکی اہمیت کا اندازہ کیوں نہیں ہے؟ کیا حکومت نئی نسل کے ذہنوں سے قیام پاکستان کے تمام نقوش مٹا دینا چاہتی ہے؟ جمہوری حکومت کیلئے ضروری ہے کہ مطالعہ پاکستان کے ضروری موضوع کو نظرانداز نہ کیا جائے کیونکہ یہ نظریہ پاکستان یا دو قومی نظریہ اور جمہوریت کی بنیاد ہے۔ مطالعہ پاکستان کا مضمون ختم نہ کیا جائے بلکہ اسے ہر سطح پر تعلیم کا اہم ترین حصہ سمجھا اور بنایا جائے۔