تازہ ترین:

مرنے والے قادیانیوں کے لئے سرکاری امداد؟

ڈاکٹر محمد اجمل نیازی ـ 31 مئی ، 2010
9 برس سے دہشت گردی ہو رہی ہے بلکہ کرائی جا رہی ہے۔ اور کبھی قادیانیوں پر حملہ نہیں کیا گیا۔ اس پر سوچا جائے مگر یہ سوچنے سے پہلے میں روتا ہوں۔ میں تو صرف رو سکتا ہوں۔ میں جب سے پیدا ہوا ہوں رو رہا ہوں۔ پاکستان میں عبادت گاہوں کو ہی کیوں دہشت گردی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جمعے کا دن اس کے لئے مرغوب ہے۔ مسیحیوں کے چرچ کے لئے اتوار کا دن منتخب کیا گیا۔ یورپ اور امریکہ کا منصوبہ ہے کہ مذہب سے لوگوں کی وابستگی ختم کر دی جائے۔ اس طرح تو یہ وابستگی ایک وارفتگی بنتی چلی جا رہی ہے۔ مذہب کے نام پر ہمیں تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس سے پہلے شیعہ کافر سنی کافر کے نعرے کیوں لگوائے گئے۔ امام بارگاہوں پر حملے ہوئے۔ مسجدوں میں نماز پڑھنے والوں کو نمازہ جنازہ کے لئے تیار کر دیا گیا۔ خون کی ہولی کہاں نہیں کھیلی گئی۔ عبادت میں مصروف بے خبر بے قصور اور بے ضرر لوگوں پر قیامت توڑ دینا ان لوگوں کا کام نہیں جو قیامت پر یقین رکھتے ہوں۔ آخر دہشت گردوں کو اب تک قادیانیوں پر حملے کا خیال کیوں نہ آیا۔ یہ کیسے دہشت گرد ہیں۔ کیا سو بندوں کو سفاکانہ طریقے سے قتل کر دینے کے بعد جنت حاصل ہو جائے گی۔ یہ لوگ ان کے ساتھ بھی یہی بے رحمانہ سلوک کرتے ہیں جو قادیانی نہیں ہیں۔ اگر یہ طالبان ہیں تو جب تک ان کی حکومت افغانستان پر تھی تو انہوں نے ایسا نہیں کیا تھا۔ ان کی طرف سے قادیانیوں کے خلاف کوئی بیان بھی نہ آیا تھا۔ یہ سب کچھ نائن الیون کے بعد ہو رہا ہے۔ مگر امریکہ اپنے ارادوں میں کبھی کامیاب نہ ہو گا۔ کہتے ہیں کہ ایک دہشت گرد کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے۔ تو وزیراعظم مخدوم گیلانی اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا تعلق بھی جنوبی پنجاب سے ہے۔ مجھے یقین ہے کہ قادیانیوں پر حملے کرنے والے نوجوان دہشت گردوں کو معلوم بھی نہ ہو گا کہ قادیانی کون ہیں۔ عقیدے سے بالاتر ہو کر دیکھا جائے تو اس دنیا میں اربوں غیرمسلم ہیں۔ وہ بھی ہیں جو شان رسالت میں گستاخی کرتے ہیں۔ وہ بھی ہیں جو مذہب کو مانتے ہی نہیں۔ وہ اسی دنیا میں ہیں جو اللہ کی دنیا ہے۔ اللہ نے انہیں قبول کیا ہوا ہے بلکہ وہ زیادہ بہت زیادہ اچھی زندگی گزار رہے ہیں۔ خدا صرف ماننے والوں کا خدا نہیں وہ نہ ماننے والوں کا بھی خدا ہے۔ سکھ بھی تو ہیں۔ سکھ دھرم کے بانی بابا جی گورونانک کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ مسلمان تھے۔ ہر کسی کا اپنا عقیدہ ہے اور اسے اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے کا حق ہے۔ قادیانیوں کے خلاف انفرادی طور پر کئی واقعات ہوئے ہیں مگر یہ سانحہ دل ہلا دینے والا ہے۔
میں نجانے کیا کچھ کہنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ میں بہت غمزدہ ہوں۔ عبادت کرتے لوگوں کے ساتھ یہ سلوک کیا کوئی مسلمان کر سکتا ہے۔ کوئی انسان بھی نہیں کر سکتا۔ دہشت گردی کرتے وقت کوئی بھی کچھ بھی نہیں ہوتا۔ وہ یہ کام خود نہیں کر رہا ہوتا۔ اس سے کرایا جا رہا ہوتا ہے۔ اگر یہ مذہبی جنونی ہیں تو پھر بھی وہ مذہب کے حق میں نہیں ہیں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ اس طرح لوگوں کو عبادت کرنے سے روکا جا سکتا ہے۔ اس طرح کسی کو اپنا مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ قادیانیوں کے لئے ماحول اب تو بالکل ایسا نہ تھا کہ صرف قادیانی ہونے کی وجہ سے یہ واقعہ کیا گیا ہو۔ ان لوگوں کے مقاصد کچھ اور ہیں اور لگتا ہے کہ وہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہو رہے ہیں کیونکہ اس ملک کے حکام ان کے ساتھ ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ عوام ہمارے ساتھ ہیں۔ میں مذہبی بحث سے بالاتر ہو کر یہ سوچ رہا ہوں کہ قادیانی پاکستانی تو ہیں۔ اس ملک کے شہری تو ہیں۔ پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ سر ظفراللہ خان نامور پاکستانی تھے۔ بانی پاکستان قائداعظمؒ نے انہیں خط میں مائی سن (میرے بیٹے) لکھا۔ کیا قائداعظمؒ کے ساتھیوں میں سے کسی نے کہا کہ یہ کس کو وزیر خارجہ بنایا جا رہا ہے۔ نامور سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام نے کبھی پاکستان کے لئے کوئی ایسی ویسی بات نہیںکی۔ انہوں نے مرنے کے بعد پاکستان میں دفن ہونا پسند کیا۔ میں دل سے کہہ رہا ہوں کہ دہشت گردوں کا یہ حملہ قادیانیوں پر حملہ نہیں یہ پاکستان پر حملہ ہے اور ایک عالمی سازش ہے۔ پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش۔ قادیانیوںکو اقلیت قرار دیا گیا۔ اقلیتیں تو اور بھی ہیں۔ دہشت گردی مسیحیوں کے ساتھ بھی ہوئی۔ کبھی کبھی جھگڑے بھی ہوئے۔ اس میں مذہبی اختلاف سے زیادہ مفادات کے رنگ بھی تھے لیکن دہشت گردی تو سب کے خلاف ہے۔ پاکستان کے خلاف ہے۔ مون مارکیٹ لاہور میں مرنے والوں میں ایک بھی قادیانی نہ تھا۔ تو پھر ہم اس واقعے کو کیا کہیں گے۔ اس بے رحمانہ واردات پر سب غمزدہ ہیں۔
معروف عالم دین اور دانشور حافظ طاہر محمود اشرفی لکھتے ہیں کہ میں ختم نبوت کے لئے جدوجہد کرنے والے اکابرین کے جوتے اٹھاتا رہا ہوں مگر ان میں سے کسی کی زبان سے یہ راستہ اختیار کرنے کا ایک لفظ بھی نہ سنا۔ مرنے والوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ چند دن پہلے خادم ختم نبوت مولانا سعید احمد جلالپوری کو ان کے صاحبزادے کے ہمراہ شہید کر دیا گیا۔ لاکھوں کے جنازے میں امن کی بات کی گئی۔ ان کا قاتل دہشت گرد تھا۔ کسی کا دھیان کسی قادیانی بھائی کی طرف نہ گیا ہو گا۔ اس مقصد کے لئے 28 مئی کو یوم تکبیر کو منتخب کیا گیا کہ پاکستان والو! تمہارے حکام ہمارے غلام ہیں اور تم کمزور ہو۔ یہ بات دکھ دینے والی ہے کہ گڑھی شاہو اور ماڈل ٹاﺅن میں سکیورٹی کا کوئی انتظام نہ تھا۔ دو سپاہی اونگھ رہے تھے اور ان کی بندوقیں ان کے پاس لیٹی ہوئی پڑی تھیں۔ قادیانی جماعت کے امیر نے بتایا ہے کہ ان سے کسی حکومتی آدمی نے رابطہ نہیں کیا۔ دہشت گردی میں مرنے والوں کے لئے امداد کا اعلان ہوتا ہے۔ اس موقع پر ابھی تک نہیں ہوا۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے حکمرانوں کے بیانات پڑھیں تو شرم آتی ہے۔ جماعت قادیانی کے اکابرین نے جس صبروتحمل کا مظاہرہ کیا ہے قابل تحسین ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں
Twitter