قوم زرداری کے ساتھ ہے ۔۔۔؟

طیبہ ضیاء ـ 31 جنوری ، 2010
طیبہ ضیاءچیمہ (نیویارک)
کچھ جھوٹ اسقدر کڑوے ہوتے ہیں کہ انہیں نگلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ موجودہ حکومت کے جھوٹ اس قدر بھیانک ہیں کہ انہیں برداشت کرنا ایک آزمائش ہے ۔”نواز شریف الطاف سمیت پوری قوم میرے ساتھ ہے۔۔۔؟ صدر پاکستان کا ڈھٹائی پر مبنی ایک اور زبردست بیان ۔۔۔میاں نواز شریف اور الطاف تو شاید زرداری کے ساتھ ہوں البتہ زرداری انکے ساتھ نہیں ہیں۔میاں نواز شریف کو غیرمقبول کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا جا رہا ہے۔مسلم لیگ نون کی مانسہرہ میں ناکامی کے بعد پنڈی میں شیخ رشید کو جتوانے کےلئے مشرف کی باقیات کے ساتھ تعاون میں جوش و خروش پیدا ہو گیاہے۔ شیخ رشید کو جتوانا حکومت کا نصب العین بن چکاہے۔ آمر کی جوتیاں سیدھی کرنے والوں کو پھر سے بنایا جا رہاہے۔مشرف ابھی گیا نہیں۔۔۔
” قوم میرے ساتھ ہے“ کے جھوٹ کا گراف ناپنے کےلئے انتخابات بہترین پیمانہ ہے۔آصف علی زرداری کو قوم چیلنج کرتی ہے کہ وہ اپنی مقبولیت کا اندازہ لگانے کےلئے الیکشن میں حصہ لیں ۔مشرف بھی اسی قسم کی ہانکنے لگا تھا اور قوم نے اسے بھی یہی مشورہ دیاتھا مگر وہ بھاگ گیا۔۔۔صدرزرداری محترمہ شہید کے شوہر ہیں اس قوم کے لیڈرنہیں۔۔۔انہیں صدر کے عہدے کےلئے منتخب کرنے والے مفاد پرست تھے۔ملک و قوم کے سگے ہوتے تو آصف علی زرداری کو صدر منتخب کرتے ۔۔۔؟پوری دنیا کا میڈیا صدر پاکستان کے ماضی کا ریکارڈ بجاتا رہا ۔۔۔امریکہ کے اخبارات انکی فہرستیں چھپواتے رہے۔۔۔ انکی کرپشن اور الزامات گنواتا رہا۔۔۔تمام ثبوت پہنچاتا رہا۔۔۔چونکہ پاکستان کے سیاسی کلچر میںجرائم کو ایوارڈ اور الزامات کو اعزازسمجھا جاتا ہے لہذاووٹ دینے والے اپنے ضمیر کا گلہ گھونٹ دیتے ہیں ۔ پاکستان میں سب سے بڑا سیاستدان وہ ہوتاہے جس نے لمبی لمبی جیلیں کاٹی ہوں وہ الگ بات ہے کہ شہزادوں کی جیلیں بھی وی آئی پی ہوتی ہیں۔وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بھارت کی سب سے زیادہ فلمیں جیل میں اپنے لیپ ٹاپ پر دیکھی تھیں۔جاوید ہاشمی کے پاس کئی کئی موبائل فون ہوتے تھے۔ اس ملک میںسیاسی مستقبل روشن کرنے کےلئے زبردستی جیل جاتے ہیں تا کہ میڈیا کی خبر بن سکیں۔جب تک جیل کا ٹھپہ نہ لگے تو سیاستدان نہیں مانا جاتا ۔۔۔شریف برادران قید و بند کی صعوبتوں کو برداشت نہ کر سکنے کی وجہ سے بدنام تھے جبکہ آصف علی زرداری کی قید نے انہیں مرد حُر بنا دیا ۔۔۔انہوں نے بارہ سالہ قیدو بند کی صعوبتوں کا ریکارڈ قائم کر دیا ۔۔۔اسکے باوجودمرد حر قوم کے ہیرو نہ بن سکے۔۔۔؟ جیلوں اور جملوں سے لیڈر شپ ملتی تو زرداری صاحب پاکستان کے مقبول ترین لیڈر ہوتے ۔۔۔زمینی حقیقت تو یہ ہے کہ مقبولیت پانے کےلئے جیل کا قیدی نہیںقوم کے دل کا قیدی ہونا پڑتا ہے۔۔۔اس ملک کی سیاست کی طرح قوم بھی ایک پہیلی ہے۔پہلے ووٹ دیتی ہے اور پھر گالیاں دیتی ہے ۔زرداری صاحب کی اپنی پارٹی انکے ساتھ نہیں ہے اور وہ پوری قوم کے ساتھ کی بات کرتے ہیں۔۔۔؟ پیپلز پارٹی میں بڑ ے وفادار موجود ہیں جو اپنی پارٹی کا مستقبل اپنی آنکھوںکے سامنے ڈوبتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔حکومتی ٹولے پر شدید تنقید کرتے ہیں ۔بلاول کی بے حسی پر کڑھتے ہیں کہ کیسا جوان خون ہے جو اپنی ماں کے قتل کا انتقام نہیں لے سکتا۔۔۔؟جوان لہو تو آتش فشاں ہوتا ہے ۔ماں بے نظیر ہو اور بیٹا قاتلوں کو جانتے ہوئے بھی خاموش رہے ۔۔۔؟پاکستان اس وقت منافقوں کے جال میں پھنس چکا ہے۔ایک طرف ازلی دشمن کےلئے”امن کی آشا“ کے دئے جلائے جارہے ہیں اور دوسری جانب ڈرون حملوں میں اضافہ ہو رہاہے۔ہندو ہمیشہ پیٹھ پیچھے وار کرتاہے جبکہ گورا سینے پر لات رکھتا ہے۔بھارت کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھایا جا سکتاہے تو امریکہ کے ساتھ کیا دشمنی ہے۔۔۔؟آئی پی ایل کا فیصلہ” امن کی آشا“ کے منہ پرزوردار طمانچہ ہے۔متعصب ہندو بھارت کے مسلمانوں کو برداشت نہیں کر سکتا تو پاکستانیوں کو کیونکر قبول کر یگا؟بھارت کے انتہاءپسند اپنے ہیرو شاہ رخ کو بھی آئی پی ایل میں پاکستانی کھلاڑیوں کی حمایت پر پاکستان چلے جانے کو کہہ رہے ہیں۔اسکی بنائی ہوئی فلم کی سکریکنگ کےلئے رکاوٹ بن رہے ہیں۔ امریکہ کو نفرت کا پیغام دینے کی بجائے پاکستان اپنے ملک کی معاشی حالت بہتر بنانے کی طرف توجہ دے۔امریکہ کے خلاف نفرت بھرے بیانات اور نعروں سے پاکستانی قوم کی نفسیات تو جیتی جا سکتی ہے مگر حالات پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔ہندو ازلی دشمن ہے البتہ کشمیر کو آزاد کر دے تو اسکے ساتھ دشمنی ہے اور نہ ہی نفرت ۔ دوستی توامریکہ بھارت کی ہے۔۔۔امریکہ نے بھارت کو جدید ترین گنیں فراہم کرنے کے فیصلے کو کانگریس سے منظور کرا لیا ہے جبکہ پاکستان کو ڈرونز ٹیکنالوجی فراہم نہیں کی جا تی ہے اور نہ ہی ڈرونز پر پابندی عائد کی جا تی ہے۔پاکستان جب سے بنا ہے غیروں کے کاندھے استعمال کرتا چلا آرہا ہے جبکہ بھارت کی آزادی کوبھی اتنا ہی عرصہ ہو ا ہے مگر وہ امریکہ کے شانہ بشانہ کھڑا ہے ۔پاکستان میں سیاستدانوں کی چور بازاری کی وجہ سے اس ملک میں تعلیم عام ہو سکی اور نہ ہی کسی ایک شعبہ میں ترقی حاصل کر سکا۔بھارتی عوام امریکہ میں بھی ہر شعبے میں نمایاں عہدوں پر فائز ہیں۔ ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق ڈرائیوروں میں پاکستانی اور اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد میں بھارتی باشندے نیویارک کے تمام تارکین وطن پر بازی لے گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق نیویارک شہر کے ڈرائیوروں کا 20فیصدپاکستانیوں پر مشتمل ہے اور پاکستانی اس شعبے میں پہلے نمبر پر ہیں جبکہ اعلیٰ عہدوں جن میں ایگزیگٹو،انتظامیہ اور مینجمنٹ کے عہدے شامل ہیں ان میں بھارتی اور کوریائی باشندے پہلے نمبر پر ہیں۔امریکہ ایک طرف تو پوری دنیا میں امن کا داعی ہے جبکہ دوسری طرف وہ ہتھیاروں کی خریدو فروخت کا سب سے بڑا بیوپاری ہے۔ایک تازہ رپورٹ کے مطابق امریکہ ہتھیاروں اور بارود کی کل عالمی تجارت میں سے 47 فیصد پاکستان اور بھارت کو فروخت کرتا ہے۔ رابرٹ گیٹس کا حالیہ دورہ پاکستان اور بھارت ہتھیاروں کے ڈیل کا ہی سلسلہ تھا۔پاکستان کے حکمران بادشاہ لوگ ہیں۔۔۔بیانات پر سیاست کرتے ہیں۔۔۔وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان کو سکریننگ والے ممالک کی لسٹ سے نکالا جائے۔۔۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو پاکستان کے حوالے کیا جائے۔۔۔غلاموں کے مطالبات بھی ترلے منت ہوتے ہیں۔۔۔آصف علی زرداری کا دعویٰ کہ قوم انکے ساتھ ہے حقیقت پر مبنی ہے تو پھر خوف کیسا اور غلامی کیسی۔۔۔؟ خود کو عدالت میں پیش کر دیں ۔۔۔احتساب ہوا تو قوم انکے ساتھ کھڑی ہو گی۔۔۔کہ انکا دعویٰ ہے کہ قوم انکے ساتھ ہے۔۔۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں