اتحاد اور مفاد!.....حسب توفیق
توفیق بٹ ـ 31 دسمبر ، 2008
کچھ لوگوں کا خیال اور کچھ کو یقین تھا جنرل مشرف کی وردی اترنے کے بعد مسلم لیگ ق ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گی‘ یہ خیال مسلم لیگ ن کے حوالے سے جنرل ضیاء الحق کی وفات کے بعد بھی پیدا ہوا تھا مگر نواز شریف کی خوش قسمتی کہ ضیاء الحق کی وفات کے بعد ان کا سیاسی قد پہلے سے بھی بلند ہو گیا۔ مسلم لیگ کو ازسرِ نو منظم کرنے میں ان کی محنت اور محبت بھی شامل تھی مگر اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا حکومتیں بنانے گرانے اور سیاسی جماعتوں کو اپنے ’’نیک مقاصد‘‘ کے لئے استعمال کرنے والی اندرونی و بیرونی قوتیں ان کے پیچھے نہ ہوتیں تو صورتحال مختلف ہوتی۔ جناب نواز شریف کو یہ ’’کریڈٹ‘‘ بھی جاتا ہے کہ جنرل ضیاء الحق کے ساتھ آخری وقت تک مخلص رہے‘ ان کی وفات کے بعد ان کا مشن پورا کرنے کا اعلان بھی فرماتے رہے۔ مسلم لیگ ق کا معاملہ ذرا مختلف ہے۔ اس کے کچھ قائدین آخری لمحے تک جنرل مشرف کے ساتھ چمٹے رہنے کا تاثر ضرور دیتے رہے مگر درپردہ وہ ایک دوسرے کی حمایت سے محروم ہو چکے تھے۔ بہت سے ’’قافئے‘‘ تو اسے اپنے حق میں بہتر بھی سمجھتے تھے‘ یہاں تک کہ انہوں نے اس حقیقت کا کھلم کھلا اعتراف بلکہ جنرل مشرف پر تنقید بھی شروع کر دی۔ ’’قافیوں‘‘ کا خیال تھا اس سے انتخابات میں ان کی پوزیشن کچھ بہتر ہو جائے گی مگر صدر کو دس بار وردی میں منتخب کروانے کا نعرہ اتنا باآواز بلند تھا کہ اس کی گونج انتخابات میں بھی لوگوں کے کانوں کے پردے پھاڑتی رہی لہٰذا جنرل مشرف کی مخالفت کے باوجود وہ نتائج برآمد نہ ہو سکے قاف لیگیوں کو جس کی توقع تھی حالانکہ چودھری پرویز الٰہی کے کچھ کارناموں کی وجہ سے امید کی جاتی تھی کہ بے شمار قباحتوں کے باوجود صاف شفاف انتخابات کے نتیجے میں مسلم لیگ ق کی پوزیشن کچھ بہتر ہی رہے گی۔ اصل میں جرنیلی سرپرستی کا تاثر رکھنے والی جماعت کے ساتھ ایک ٹریجڈی یہ بھی ہوئی کہ وہ جنرل مشرف کی رخصتی کے بعد حکومتیں بنانے اور گرانے والی قوتوں کی حمایت سے بالکل ہی محروم ہو گئی۔ یہ دلچسپ امر ہے کہ مسلم لیگ ق کے کچھ رہنما اپنی مقبولیت میں کمی کا باعث ان قوتوں کو قرار دیتے تھے جبکہ قوتوں کا خیال تھا کہ یہ لوگ جنرل مشرف سے زیادہ ان کی بدنامی کا باعث بنے ہیں۔ لہٰذا ان قوتوں نے انتخابات میں جرنیلی لیگ کی رتی بھر حمایت نہ کی بلکہ بعض اضلاع میں تو صاف شفاف انتخابات کے لئے ایسی سخت ہدایات جاری کیں کہ وہاں تعینات افسروں کو تاثر ملا جیسے ق لیگ کو ہروانا ہے۔ ان حقائق کے باوجود پنجاب میں مسلم لیگ ق کا قابل ذکر نشستیں حاصل کر لینا کچھ لوگوں کی سمجھ سے بالاتر تھا حالانکہ پرویز الٰہی کے کچھ اچھے کارناموں کے باعث یہ واقعہ اتنا غیر متوقع بھی نہیں تھا۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ مسلم لیگ ق کے کچھ رہنما الیکشن محض ’’ذاتی شناخت‘‘ کی وجہ سے جیتے‘ یہ بات درست ہوتی تو انہیں ایک انتہائی غیر مقبول جرنیل کی حمایت کا تاثر رکھنے والی جماعت کا پلیٹ فارم استعمال کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ مسلم لیگ ق کے رہنما اتنے ’’چوچے‘‘ نہیں تھے کہ جنرل مشرف کی وردی اترنے کے بعد سیاسی معاملات کا ادراک بھی نہ کر سکتے۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جنر ل مشرف کی ’’سیاسی موت‘‘ کے بعد مسلم لیگ ق کا کسی نہ کسی حالت میں زندہ رہنا ایک معجزہ تھا اور اب جبکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن دونوں اس کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے اس کے سابقہ سارے گناہ معاف کرنے پر تیار کھڑے دکھائی دیتے ہیں تو اس کی سیاسی اہمیت اور بھی بڑھتے ہوئے دکھائی دیتی ہے۔ ایک وقت تھا مسلم لیگ ن کے قائدین باآواز بلند نعرے لگایا کرتے تھے ’’مشکل وقت میں ساتھ چھوڑ کر جانے والے کسی لوٹے کو جماعت میں واپس نہیں لیں گے‘‘ پھر بدلتے ہوئے سیاسی حالات کے باعث اس نعرے کی آواز ذرا نرم پڑتی گئی‘ اور اب جبکہ بہت سے ’’سیاسی پرندے‘‘ مسلم لیگ ن کی ’’ثمر آور ٹہنیوں‘‘ پر آن بیٹھے ہیں تو یہ آواز بالکل ہی سنائی نہیں دیتی۔ حیرت اس بات پر ہے کہ اب پوری کی پوری ق لیگ کو ن لیگ کا حصہ بنانے پر آمادگی ظاہر کی جا رہی ہے۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی ق لیگ کو قاتل لیگ کہا کرتی تھی‘ اپنی سیاسی مجبوریوں کے باعث اب یہ پارٹی بھی ق لیگ کے سامنے جھولی پھیلائے کھڑی ہے۔ اس ساری صورتحال سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سیاست میں اخلاقیات نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ اپنی اپنی ضرورتوں کے مطابق سیاست کے رنگ گرگٹ کی طرح بدلتے ہی رہتے ہیں۔ کسی زمانے میں سیاست کو عبادت کا درجہ دیا جاتا تھا‘ اب کوئی کسی کے ساتھ جھوٹ بول رہا ہو‘ فراڈ کر رہا ہو تو کہا جاتا ہے ’’میرے ساتھ سیاست نہ کرو‘‘ مسلم لیگ ن کے ایک رہنما نے فرمایا ’’صدر کو دس بار وردی میں منتخب کروانے کے نعرے لگانے والوں کو جماعت کا حصہ کسی صورت میں نہیں بنائیں گے‘‘ پہلا سوال تو یہ ہے صدر کو دس بار وردی میں منتخب کروانے کا نعرہ لگانے والے مسلم لیگ ن کا حصہ بننے کے خود خواہش مند ہیں یا مسلم لیگ ن کی یہ اپنی ضرورت ہے؟ دوسرا اہم سوال ذہنوں میں یہ آتا ہے کہ مسلم لیگ ق کے پلیٹ فارم سے الیکشن جیت کر آنے والے بے شمار ’’لوٹے‘‘ فارورڈ بلاک کی صورت میں مسلم لیگ کے ’’غسل خانے‘‘ میں پہلے سے موجود ہیں۔ ان میں سے کون ہے صدر کو دس بار وردی میں منتخب کروانے کے نعرے کی حمایت جس نے نہ کی ہو؟ گر اس حمام میں سبھی ننگے ہیں تو آدھے ننگوں کو پارٹی کا حصہ بنانے اور آدھوں کو نہ بنانے میں کیا مصلحت ہے؟
میں سمجھتا ہوں مسلم لیگ ق کو دیگر جماعتوں کا حصہ بننے کے بجائے اب اپنی الگ شناخت ہی برقرار رکھنا چاہئے۔ پہلی بار کوئی تیسری بڑی جماعت میدان سیاست میں جدوجہد کرتے ہوئے دکھائی دینے ہی لگی ہے تو اسے نظر آتے رہنا چاہئے‘ جمہوریت کے لئے یہ نیک شگون ہے۔ یہ حقیقت ہے چودھری برادران ماضی میں دو چار ارکان اسمبلی پر مشتمل گروپ کی حیثیت رکھتے تھے‘ اب ان کی شناخت سیاسی جماعت کے سربراہان کی ہے مسلم لیگ ن میں شامل ہو کر اپنی اس شناخت کو وہ کیسے برقرار رکھیں گے؟ مسلم لیگیوں کا اکٹھے ہونا یقیناً ملک و قوم کے مفاد میں ہے مگر اپنے مفادات کی خاطر اکٹھی ہونے والی مسلم لیگیں کب تک اکٹھے رہ سکتی ہیں؟ اس سوال کا جواب ہمیں ماضی میں بھی ملتا رہا آئندہ بھی ملتا رہے گا۔ ملک و قوم کی بھلائی تو اسی میں ہے تمام سیاسی جماعتیں اپنے اپنے مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جمہوریت کی ایسی خدمت کریں کہ آئندہ کسی جرنیل کو منتخب حکومت پر شب خون مارنے کی جرات نہ ہو۔ کاش وطن عزیز کی سیاسی جماعتیں ماضی سے سبق سیکھ لیں۔ کاش ’’مجھے دھکا کس نے دیا تھا‘‘ کی آواز اب اپنے کانوں میں کبھی نہ گونجے۔ کاش سیاستدان ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے‘ ایک دوسرے کو لوٹا بنانے کے عمل پر لعنت بھیجیں۔ کاش محض اقتدار کو اوڑھنا بچھونا بنانے کا سلسلہ ہمیشہ کے لئے دم توڑ جائے۔ کاش مروت‘ محبت‘ حیا اور سچائی سیاست کے اصول ہوں۔ کاش لوٹ مار کے بجائے سیاستدان ملک و قوم کی خاطر ایسی خدمات سرانجام دینے لگیں کہ لوٹ مار کرنے والے جرنیلوں‘ جرنلسٹوں اور ججوں کے سر شرم سے جھکتے ہوئے دکھائی دیں۔ کاش یہ ’’معجزے‘‘ ہماری زندگی میں ہوں!
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں