کیوں جھکیں قوم کے سر؟ ”چند کمینوں“ کے سوا
میچ فکسنگ کا نہیں جرم کروڑوں نے کیا
قوم کے پیسے سے ابھرے جو کھلاڑی بن کر
فرض تھا ان کا میدان میں رہتے تن کر
بے حیاوں نے جو ملت کا بھرم بیچ دیا
ہم پہ لازم ہے کہ دیں ان کو کڑی اسکی سزا
کرکٹر قوم کے ہیرو جو ہوا کرتے تھے
کب بھلا حرکتیں ایسی وہ کیا کرتے تھے
ٹیم کے ناظم و نگران کہاں سوئے تھے
وہ بھی ان کی طرح عیاشی میں کیا کھوئے تھے
ہے ضروری کہ کٹہرے میں سبھی کو لائیں
سب کو اب کیفر کردار تلک پہنچائیں
ورنہ امید نہ بہتر رکھیں نسل نو سے
کیسے نکلے گی وہ بے راہروی کی رو سے
ہم نے کرکٹ میں کمایا تھا بڑا نام‘ گیا
اب اگر آخری اقدام بھی ناکام گیا
حشر کیا کھیل کی دنیا میں ہمارا ہو گا
داغ بدنامی کا کیا ہم کو گوارا ہو گا
صرف کرکٹ میں نہیں کار سیاست میں بھی
بہتری لانی ہے اب طرز حکومت میں بھی
اب بھی ہم نے نہ کرپشن کی اگر جڑ کاٹی
ہم پہ برسے گی کمر توڑ خدا کی لاٹھی
ایسا سیلاب کرپشن کا یہاں آئے گا
صبر اور حوصلہ باقی ہے جو بہہ جائے گا