اخوت
ڈاکٹر محمد اجمل نیازی ـ 31 اگست ، 2010
وقت نیوز سمیت سارے نجی ٹی وی چینلز پر سیلاب زدگان کے لئے پروگرام ہو رہے ہیں۔ وہ امداد کیلئے بھی بات کرتے ہیں۔ ڈاکٹر امجد ثاقب کی تنظیم ”اخوت“ کے حوالے سے بھی بات ہوئی ہے۔ ڈاکٹر امجد ثاقب لوگوں کو قرض دیتے ہیں۔ انہوں نے قرض کو امداد کی صورت دے دی ہے۔ آج کل پوری دنیا کو سودی نظام نے اپنے شکنجے میں لیا ہوا ہے۔ اس بات کا تصور ہی نہیں کہ قرض دیا جائے اور اس پر سود نہ لیا جائے۔ پاکستان میں قرض دینے کے حوالے سے ہمارا بنکنگ نظام بدنظمی کا شکار ہے۔ سیاست دانوں، صنعتکاروں اور کرپٹ لوگوں نے کروڑوں کے قرضے معاف کرائے ہیں۔ سود تو ایک طرف وہ تو اصل زر بھی کھا گئے ہیں۔ قرض دینے والی اور بھی کمپنیاں ہیں جن میں روشانے ظفر کی ”کشف“ بہت اہم ہے۔ وہ قرض دیتے ہیں مگر اس پر سود بھی ہوتا ہے۔ ڈاکٹر امجد ثاقب نے ایک فلاحی اور اسلامی روایت کو زندہ کیا ہے۔ وہ سیلاب زدہ علاقوں میں بہت سے غریب دور آباد اور پسماندہ علاقے راجن پور سے اپنی مہم کا آغاز کر رہے ہیں۔ ہر آغاز کا ایک راز ہوتا ہے اور نتائج پر نظر رکھنے والے اس راز سے واقف ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر امجد ثاقب تو صاحب دل ہیں اور صاحب راز بھی ہیں۔ ایک عجیب حقیقت سامنے آئی ہے کہ ”اخوت“ سے قرض لینے والے واپس بھی کر دیتے ہیں۔ قرض کی واپسی کیلئے بعض بینکوں اور کئی مالیاتی اداروں نے غنڈے پالے ہوتے ہیں۔ قرض حسنہ کو تو قرض ہی نہیں سمجھا جاتا۔ قرض حسنہ کے بارے میں پوچھا گیا تو جواب ملا کہ مقروض سے قرض واپس مانگا جائے تو وہ آگے سے ہنسنا شروع کر دے مگر ”اخوت“ کے معاملات دس ہزار سے شروع کئے گئے اور اب 70 کروڑ روپے تک رقم ہو گئی ہے جو اصل میں لوگوں کے پاس ہے اور وہ ایک سے دوسرے تک گردش کرتے رہتے ہیں اور یہ روپیہ بڑھتا رہتا ہے اور ضرورت مند لوگوں کے کام آتا رہتا ہے۔
اب یہ روپیہ سیلاب زدگان کی امداد کا سب سے شفاف اور منصفانہ ذریعہ بننے والا ہے۔ اس میں کسی ہیری پھیری کی گنجائش ہی نہیں۔ پہلے بھی لوگ ”اخوت“ کیلئے تعاون کرتے رہتے ہیں اور بیشمار تنظیمیں اور لوگ میدان میں آگئے ہیں جو مصیبت کے ماروں کے نام پر فنڈز جمع کر رہے ہیں مگر یہ امداد ان تک کبھی نہیں پہنچے گی۔ حکومت پر بھی لوگوں کا اعتبار اٹھ گیا ہے۔ ”اخوت“ جیسے اداروں کو پروموٹ کر کے ایسا ماحول بنایا جا سکتا ہے کہ لوگ اپنی عزت نفس بھی بچا سکیں اور اپنے پاﺅں پر کھڑے ہونے کیلئے جدوجہد کریں۔ اب تک کئی لوگ نئی زندگیوں کی چوکھٹ پار کر چکے ہیں۔ سیلِ بلا میں پھنسے لوگ بھی کسی اچھی زندگی کیلئے جدوجہد کر سکتے ہیں۔ ”اخوت“ نے بھائی چارہ کا ایک نیا انداز دیا ہے۔ہم سب ”اخوت“ کے لئے تعاون بڑھا کر رسول کریم کی اس بات کو اپنے لئے مزید بامعنی بنا سکتے ہیں کہ ”تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں“۔ مقروض ہونا بھکاری ہونے سے بہت افضل ہے، اس طرح ہاتھ پھیلانے نہیں پڑتے، ایک معاہدے میں شریک ہوتے ہیں۔ ”اخوت“ کا پیغام یہ بھی ہے کہ مقروض ہونامجبور ہونا نہیں ہے۔ اس طرح ہم ایک برادری بن سکتے ہیں۔
سیلاب زدگان کیلئے ایک امدادی پروگرام میں ”اخوت“ کیلئے ڈاکٹر امجد ثاقب خاص مہمان تھے۔ ڈاکٹر رسول بخش رئیس اور میں نے بھی شرکت کی۔ کمپیئر شازیہ نے بتایا کہ وہ وقت نیوز میں ”نوائے وقت ٹوڈے“ کی میزبان وردہ شہامت کی دوست ہیں۔ دونوں بڑے جذبے اور اعتماد سے گفتگو کو آگے بڑھاتی ہیں۔
”اخوت“ کے ذریعے ایک سسٹم بنایا گیا ہے۔ ایک پلاننگ سے نظم و ضبط کے ساتھ سارے امور کو چلایا جاتا ہے۔ حکومت اس لئے ناکام ہے کہ کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے اور کرپشن کے بھی بہت خدشات ہیں۔ ابھی تک سرکاری امداد کا آغاز نہیں ہوا جبکہ باہر سے کروڑوں روپے کی امداد آچکی ہے۔ زکوٰة ایک فلاحی نظام ہے۔ مدینے کی گلیوں میں لوگ زکوٰة لے کے پھرتے تھے اور کوئی لینے والا نہ تھا۔ وقت آئے گا کہ ”اخوت“ والے آوازیں دیں گے اور کوئی قرض لینے والا نہ ہوگا۔ یہ انوکھا جذبہ ہے کہ قرض دینے والے، لوگوں کے پاس جا رہے ہیں، پھر وہ یہ قرض واپس کیوں نہ کریں! ”اخوت“ کے مقروض ایسے بھی ہیں کہ جو ”اخوت“ کی مدد کرنے والے بن گئے ہیں۔ مزا تو یہ ہے کہ مدد لینے والے مدد دینے والے بن جائیں۔ !
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں