خدا کا شکر ، روٹی پیٹ میں اور چھت بھی حاصل ہے
توانا جسم ہے روزی کما کھانے کے قابل ہے
اگر سیلاب کے ریلے میں میرا گھر گھرا ہوتا
مرا کیا حال ہوتا، آج زندہ یا مرا ہوتا
مری آنکھیں بھی ہیلی کاپٹر کی منتظر ہوتیں
نہ چھوٹا دکھ کا دن ہوتا نہ راتیں مختصر ہوتیں
تڑپتے بھوک سے بچے مرے رو رو کے مرجاتے
مویشی جان سے پیارے مرے جاں سے گزر جاتے
کھڑا ہوتا کسی برُد آب ہوتے بند پر تنہا
”گھڑے“ پر لیٹ کر اوندھا اگر کرتا سفر تنہا
تو پھر مجھکو سوائے رب کے کس کا آسرا ہوتا
کہ میرا حکمراں تو آسماں پر اڑ رہا ہوتا
میں جس کا ووٹ ہوں اب ہاتھ میرا تھامنے آئے
نہ اب نظریں چرا کر لوٹ جائے‘ سامنے آئے
خدا کا شکر ہے محفوظ گھر اور کارخانہ بھی
بدیسی بنک میں موجود دولت کا خزانہ بھی
ڈبو کر بستیاں میں نے بچالیں اپنی جاگیریں
ہٹاﺅ سامنے سے میرے بربادی کی تصویریں
میں طاقت ور ہوں ان کمزور لوگوں سے ہے کیا رشتہ
مرا بھوکوں کی ان بیماریوں روگوں سے کیا رشتہ
لگاﺅ بھارتی مووی ”کرینہ“ کی جھلک دیکھوں
میں ”میرا “اور ”ریما“ کا بڑھاپا کب تلک دیکھوں
بنائے ڈیم پچھلوں نے نہ ہرگز ہم بنائیں گے
ہم اگلے سال سے پہلے یہاں سے بھاگ جائیں گے