آئیں ۔ نیا پاکستان تعمیر کریں!
بشری رحمن ـ 30 اگست ، 2010
کلام پاک میں باری تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میں دنوں کا الٹ پھیر کرتا رہتا ہوں۔ اس الٹ پھیر میں قوموں کی تدبیر اور تعمیر کا امتحان بھی مضمر ہوتا ہے ۔۔۔ سیلاب کے بعد تاحدِ نظر تباہی و بربادی اور ویرانی نظر آ رہی ہے، بے سر و سامانی بھی ہے ۔۔۔ بے یقینی اور بے سکونی تو ایک لازمہ ہے۔ جو کل تک اپنے چھوٹے بڑے گھروں میں رہتے تھے جن کی کچی کٹیا تھی یا پکا کوارٹر تھا وہ سب کے سب آج درختوں تلے، سڑکوں کے کنارے پر اور کھلے میدانوں میں آ بیٹھے ہیں۔ کوئی نہ کوئی آسرا انہوں نے ڈھونڈ لیا ہے یا بنا لیا ہے۔ یہ انسان ہے ۔۔۔ یہ ہر حادثے سے بڑا ہو جاتا ہے اور ہر حادثے سے باہر نکل آتا ہے۔ کل ایک ٹی وی نے دکھایا ٹھٹھہ کے بہت سے متاثرین مکلی قبرستان میں آ بیٹھے ہیں، قبروں کے درمیان انہوں نے چادریں بچھا لیں اور اپنے ٹھکانے بنا لئے ہیں۔ وہ سہارا انہوں نے مُردوں سے مانگا جو زندہ مہیا نہ کر سکے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ ابتلا کے اس وقت میں قبرستان بھی پناہ گاہیں بن گئے۔ درختوں نے بھی بازو پھیلا دیے۔ جس جس طرح پانی پھیلتا جا رہا ہے خلقت بھی خشک ٹھکانے ڈھونڈتی جا رہی ہے۔
ایسا نہیں کہ ان کی مدد کی تدبیر نہیں کی جا رہی ۔۔۔ ملک کے اندر چاروں طرف سے سیلاب زدگان کی امداد جاری ہے۔ سرکاری طرح پر بھی اور پرائیویٹ طور پر مخیر حضرات ہر قسم کی امداد بھیج رہے ہیں۔ کئی امدادی کھاتے کھل چکے ہیں، باہر سے بھی امدادی جہاز آنا شروع ہو گئے ہیں ۔۔۔ مسئلہ کہاں ہے ۔۔۔؟
مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں کرائسس میں منصوبہ بندی کرنے کی نہ تو عادت ہے اور نہ سلیقہ ہے حالانکہ مصیبت شروع ہوتے ہی منصوبہ بندی شروع کر دینی چاہیے۔ مثال کے طور پر ہم ٹی وی میں دیکھ رہے ہیں کہ خوراک تقسیم کرنے کا انداز کیا ہے۔ ایک ٹرک بھرا ہوا آتا ہے اور بھوکی پیاسی خلقت اس پر چڑھ دوڑتی ہے۔ ٹرک والے اس ہجوم بے پایاں میں چیزیں تقسیم کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں، پھر وہ چیزیں اور تھیلے باہر پھینکنے شروع کر دیتے ہیں کیونکہ اس بپھرے ہوئے ہجوم کو کنٹرول کرنا کم از کم ان کے بس میں نہیں ہوتا ۔۔۔ معاف کیجئے! مصیبت کے دنوں کے علاوہ بھی یہ مجمع کبھی کنٹرول کے قابل نہیں تھا۔ ان کو ڈسپلن سکھایا ہی نہیں گیا تھا اب ان سے قطار بندی کی توقع رکھنا فضول ہے جبکہ ان کی اور ان کے بچوں کی جان پہ بنی ہے۔
ایک منظر حج کے دوران ہم نے منیٰ اور عرفات میں دیکھا تھا۔ ان دنوں خادمین حرمین شریفین کی جانب سے ٹرکوں پر سارے حاجیوں کے لئے کھانے کے ڈبے آتے ہیں۔ ٹرک کے اندر آتے ہی سارے حاجی قطاریں بنا لیتے ہیں اور کھانا آرام سے تقسیم ہو جاتا ہے۔ سوائے پاکستانیوں کے ۔۔۔ یہ ہجوم بن جاتے تھے اور ہاتھ اوپر کر کے لپکتے تھے۔ انہوں نے بس کے دروازے بند کر دیے اور اعلان کیا کہ جب تک آپ قطار نہیں بنائیں گے کھانا نہیں ملے گا۔ اس کے بعد پاکستانیوں نے بھی قطار بنا لی مگر یہ انہیں ہر بار کہنا پڑا۔ سیلاب زدگان کا تعلق جس قسم کے کلچر سے ہے اور جس قسم کی ان کی ذہنی حالت ہے ان کو کچھ بھی سکھایا نہیں جا سکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کھانے کی چیزیں لے جانے والے ٹرک جب ایک دن سب جگہ پر کھڑے ہو جائیں تو ہجوم کو قریب آنے دیں مگر تقسیم کا دروازہ نہ کھولیں، قریب آنے کے بعد انہیں ان کی زبان میں بیٹھ جانے کو کہیں ۔۔۔ کہ سب لوگ بیٹھ جائیں، جب تک بیٹھیں گے نہیں کھانا تقسیم نہیں ہو گا۔ وہ بھوکے اور لاچار ہیں بیٹھنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ ٹرک کے اندر بھی پانچ چھ تقسیم کار ہونے چاہئیں، جن میں سے دو نیچے اتر جائیں اور وہ بیٹھے ہوئے مرد یا عورت یا بچے کو کھانے کا تھیلا پکڑاتے جائیں اگر وہ کھڑا ہونے کی کوشش کریں تو تقسیم بند کر دیں۔ یہی کہیں کہ جب تک ہم تقسیم کرتے ہیں سب لوگ بیٹھے رہیں ۔۔۔ جب یہ لوگ ہجوم بن کر ٹرک کے پیچھے دوڑتے ہیں تو ٹرک والے چیزیں پھینکنا شروع کر دیتے ہیں۔ چاولوں والے پلاسٹک کے لفافے پھٹ جاتے ہیں، آٹے کی تھیلیاں بھی پھٹ جاتی ہیں اس لئے ان کی طرف سے مسلسل بے سکونی کا اظہار ہو رہا ہے۔
یہ تو ابھی کھانے پینے کا مرحلہ ہے جو انتظامیہ سے سنبھالا نہیں جا رہا لیکن اس کے بعد اس سے بڑا مرحلہ ان کی آبادکاری کا ہو گا۔ اس وقت بڑا شور مچے گا کیونکہ انسانی فطرت ہے وہ کم یا زیادہ کسی پر مطمئن نہیں ہوتی۔
سرکاری محکموں کو چاہیے کہ آپس میں لڑنے کی بجائے اکٹھی ہونے والی امداد کو خرچ کرنے کے منصوبے بنانے شروع کر دیں۔ بعض شہر اور بستیاں بالکل نیست و نابود ہو گئی ہیں مگر لوگوں کے گھر جہاں جہاں تھے ان کو یاد ہیں۔ ہر شہر اور ہر بستی کے لئے علیحدہ کمیٹی ہونی چاہیے۔ وہ اس بستی اور شہر کا سروے ابھی سے شروع کر دیں، وہاں کتنے مکان تھے وہاں کتنے مکین تھے ان کی فہرستیں بنانی شروع کر دیں۔ پٹواریوں کی مدد سے خسرہ نمبر نکالیں ان کے گھروں پر نشان لگائیں، نئے نقشے بنائیں ۔۔۔ نئی پلاننگ میں انہیں رہائش کی ساری جدید سہولتیں مہیا کریں۔ نئے سرے سے سڑکیں بنائیں، سکول ادارے اور مسجدیں تعمیر کریں یہ بہت بڑا کام ہے ۔۔۔ اس کے لئے ہفتوں مہینوں بیٹھنا پڑے گا ۔۔۔ خدا خوفی اور خدا ترسی کے طورپر یہ کام کرنا ہو گا۔ یاد رکھیں! متاثرین کبھی مطمئن نہیں ہوتے انہیں ہمیشہ کسی کمی کا احساس رہ جاتا ہے ۔۔۔ مگر منتظمین کو چاہیے کہ وہ بیرونی اور اندرونی امداد کو خلوص نیت سے خرچ کریں ۔۔۔ تھوڑے تھوڑے پیسے دے کر ان کو ٹرخا دینا اور خود بستیاں آباد نہ کرنا ایک ظلم ہو گا۔
گویا یوں سمجھئے کہ یہ پاکستان کی تعمیر نو ہے۔ خیبر پی کے کے ایک وزیر کہہ رہے تھے کہ یہ صوبہ پچاس سال پیچھے چلا گیا ہے تو اب اس صوبے کو دوبارہ آباد کریں مگر آج کے زمانے کی جدید سہولیات کے ساتھ منصوبہ بندی کریں۔ یہ ظلم ہو گا اگر آپ تازہ بستیاں بھی قدیم طرز پر انہیں بنا کر دیں۔ ہو سکتا ہے اس کام میں دیر بھی ہو جائے۔ مگر لوگوں کو اطمینان دلاتے رہیں، ابھی سیمنٹ اور اینٹ بنانے والوں کو تنبیہ کریں۔ لوہے لکڑی والوں کو تنبیہ کریں کہ وہ اپنا کام تیز کر دیں۔ ہم نے دیکھا ہے ایسے ابتلا کے دنوں میں ناقص کام کرنے والے اور منافع خور ٹڈی دل کی طرح نکل آتے ہیں۔ کسی کی چاندی ہو جاتی ہے، کسی کا سونا ۔۔۔ ہم انہیں کچھ نہیں کہہ سکتے ۔۔۔ مگر یہاں اچھے لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے ۔۔۔ درخواست ہی کر سکتے ہیں کہ اپنی اپنی صلاحیتیں لیکر لوگ آگے آئیں اور پاکستان کو تعمیر کریں۔ قوموں پر مشکل وقت آتے رہتے ہیں، مشکل وقت میں دور اندیشی مستقل مزاجی اور اعتماد کام آتا ہے۔
اگر ہم یہ تباہ شدہ بستیاں خوبصورتی سے تعمیر کر لیں گے تو باہر کی دنیا میں بھی اعتماد بحال ہو جائے گا۔ لوگ جو مدد بھی کرنا چاہتے ہیں اور مدد کرنے سے گھبرا بھی رہے ہیں وہ خوشی خوشی ہاتھ بٹائیں گے۔ اس وقت سب سے بڑی آزمائش اس اکثریت والی جمہوری حکومت کی ہے ۔۔۔ اسی پر اس کے مستقبل کا انحصار بھی ہے
اُتھ درد منداں دے دیرے
جتھ کرڑ کنڈا بوئی ڈھیرے
(خواجہ غلام فرید)
ترجمہ : تیرے دردمند اور تباہ حال، خاردار ببول، کریر اور جھاڑیوں کی اوٹ میں رہتے ہیں اور تجھے دیکھتے ہیں۔!
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں