غیرتِ ملی… مرحبا… سبحان اللہ؟

بشری رحمن ـ 30 اگست ، 2009
24اگست کے نوائے وقت میں جناب ڈاکٹر سعید احمد ملک کا مضمون پی ٹی وی گلوبل… کے نام سے شائع ہوا ہے۔ میں ڈاکٹر صاحب کی ممنون ہوں‘ اور ان کی سلامتی کی دعا کرتی ہوں‘ ڈاکٹر صاحب نے صرف پی ٹی وی کا دکھڑا رویا ہے‘ اگر وہ 14 اگست کے حوالے سے پاکستان کے 62 پرائیویٹ چینلز کے پروگرام دیکھ لیتے۔ تو نہ جانے ان پر کیا گزرتی…
پہلے دیکھئے پی ٹی وی گلوبل پر 14 اگست کے پروگرام دیکھ کر ڈاکٹر سعید ملک کیا لکھتے ہیں۔ ’’…(حوالہ) وائے ناکامی کہ خود پاکستانی چینل ہی اپنی تاریخ کو مسخ کر کے بھارت کی خواہشات کے مطابق ڈھال کر پاکستانی نظرین کے سامنے پیش کر رہا ہے۔ بدقسمتی سے ہماری قوم نے تاریخ کے مضمون کو نصاب سے خارج کر دیا ہے‘ حتیٰ کہ پاکستان سٹڈی پڑھانے والے اساتذہ کو خبر نہیں کہ 1947ء میں مسلمانوں پر کیا قیامت بیت گئی……‘‘
اس کے بعد انہوں نے بڑی دردمندی سے ان ڈراموں کا ذکر کیا ہے جو 14 اگست کے دوران پی ٹی وی گلوبل پر چلتے رہے۔ جن کے لکھنے والے پاکستانی تھے۔ اور دیکھنے والے بھی پاکستانی تھے‘ مگر جن کے اندر دو قومی نظریہ کی بار بار نفی کی گئی۔ تخلیق پاکستان کی نفی کی گئی‘ اور نظریۂ پاکستان کا مذاق اڑایا گیا۔
ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں عرض ہے‘ پاکستان کے اندر بھی یہ سلسلہ بین السطور جاری ہے۔
پاکستان میں میڈیا کو آزادی دی گئی۔ مگر دنیا بھر میں ہر آزادی کے ساتھ اخلاقیات کی پابندی بھی ہوتی ہے پاکستان کے پرائیویٹ میڈیا کو 10 فیصد بین الاقوامی پروگرام دکھانے کی اجازت دی گئی اور پیمرا کو اسکی جانچ کے لئے وضع کیا گیا۔ مقصد یہ تھا کہ خصوصیت سے جن مسلمان ملکوں کے ساتھ روحانی اور ثقافتی رشتے ہیں‘ ان کے پروگرام بھی دکھائے جائیں‘ انگریزی کے پروگرام تو ہر دور میں دکھائے جاتے رہے‘ ذرا سی چھوٹ دینے کی دیر تھی‘ پتنگ آسمانوں پر پہنچ گئی اور حکومت کے ہاتھ سے ڈور چھوٹ گئی۔ کچھ پرائیویٹ چینل اس دوڑ میں اتنا آگے نکل گئے… خدا گواہ ہے ہمیں تو ان پر انڈین چینل کا گمان ہونے لگا۔ وہ انڈین فلمیں‘ انڈین ڈرامے‘ انڈین ایوارڈ فنکشن‘ انڈین سٹارز کے انٹرویو‘ انڈین گانوں پر رقص… اور انڈین ایکٹروں کی روزمرہ زندگی کے واقعات نشر کرنے میں لگ گئے۔ گویا میڈیا کی دنیا میں انڈین کلچر اور انڈین تاریخ کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہے۔ ٹی وی پر بعض انیکر پرسن‘ سنسکرت سے اسقدر متاثر ہوئے ہیں کہ باقاعدہ اپنی گفتگو میں ہندی کے لفظ استعمال کرنے لگے ہیں حالانکہ ہندی کے مقابلے میں اردو خوبصورت ترین زبان ہے اور اردو کا سہارا لئے بغیر کوئی انڈین فلم کامیاب نہیں ہو سکتی۔ انڈین کلچر کا اثر ہماری نوجوان نسل پر اس بری طرح سے ہو رہا ہے کہ ہماری نوجوان لڑکیوں نے اسی سٹائل کے کپڑے پہننے شروع کر دئیے ہیں۔ مہندی کی بجائے ہولی اور رنگولی کی رسمیں ہونے لگ گئی ہیں۔ انڈین سٹائل پر فیشن شو ہونے لگے ہیں۔ مسلمان لڑکیوں کو نیم برہنہ ملبوسات کی پریڈ میں دیکھ کر سر شرم سے جھک جاتے ہیں۔
چھوٹے بچے گھر میں ماتا پتا اور بھگوان کہنے لگے ہیں۔ علی الصبح کسی گھر میں جا کر دیکھ لیجئے سنکھ بج رہا ہو گا کیونکہ کسی امیر گھرانے کے بیڈ روم میں انڈین فلم چل رہی ہو گی۔
بات ہو رہی تھی اگست کے مہینے کی… جو پاکستان کی خون آلود مگر سنہری تاریخ کے صفحات میں لپٹا ہوا مہینہ ہے۔ دستور کے مطابق پاکستان کے اندر یکم اگست سے لیکر 14 اگست تک ہر سکرین پر پاکستان کا سبز جھنڈا نظر آتا ہے‘ یہی جھنڈا ہر انائونسر اور کمپیئر کے کندھے پر لگا نظر آتا ہے‘ اور اس کے ساتھ تحریک پاکستان‘ تخلیق پاکستان کے مناظر دکھائے جاتے ہیں‘ تاریخ ساز ہستیوں کے انٹرویو پیش کئے جاتے ہیں۔ نئی نسل کے بچوں کو دو قومی نظریہ کا مطلب سمجھایا جاتا‘ الغرض اس قسم کے سینکڑوں خیال آفریں پروگرام پیش کئے جاتے ہیں۔
لیکن اب کے برس ان گنہگار آنکھوں نے دیکھا‘ بعض چینلز پر جہاں پاکستان کا سبز جھنڈا لگا تھا‘ اس کے بالکل نیچے نیم برہنہ کم لباس انڈین ایکٹرسیں اور ایکٹر ڈانس کرتے نظر آئے… ہر نئی فلم دکھائی جاتی رہی… ہر نئے گانے پر تبصرہ ہوتا رہا… اس حد تک فحاشی دکھائی گئی کہ میرے جیسے جنونی چیخ اٹھے۔ کم از کم اتنے دن تو یہ فحش پروگرام نہ دکھائے جاتے جتنے دن سکرین پر سبز جھنڈا لگا تھا۔
میں نے 11 اگست کو نیشنل اسمبلی میں ایک کالنگ اٹینشن (Calling attention) نوٹس پیش کر دیا۔ وزیر اطلاعات و نشریات قمر الزماں کائرہ نے میرا ساتھ دیا‘ اور میں نے چند ارکان کو ساتھ ملا کے پرزور انداز میں اپنا موقف پیش کیا۔ میں نے یہ بھی کہا کہ برسوں پہلے سونیا گاندھی نے کہا تھا‘ ہم نے فلموں اور ٹیلی ویژن کے ذریعے پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کو ختم کر کے دم لینا ہے۔ ہم نے اس کے ارادے کی مذمت میں بے شمار چینل کھول دئیے… ان میں سے کئی انڈین کلچر کے پیروکار بن گئے… دن کو دیکھو انڈیا… رات کو دیکھو انڈیا… بات کو دیکھو انڈیا… فن کو دیکھو انڈیا… کس بدنصیب نے کہہ دیا ہے کہ پاکستان میں فنون لطیفہ کا کال ہے‘ کیوں پاکستان کی اس طرح سے نفی کی جا رہی ہے… کیوں پاکستان کی تاریخ کو مسخ کرکے پیش کیا جا رہا ہے۔ ایک انتہائی بے ہودہ انڈین فلم ’’جودھا اکبر‘‘ جس کا تاریخی حقائق سے کوئی تعلق نہیں‘ کیوں پاکستان میں بار بار دکھائی گئی…
دل صاحب اولاد سے انصاف طلب ہے
آپ کے سامنے تاریخ بدلی جا رہی ہے اور شہنشاہ اکبر کو ایک کٹھ پتلی ہونق بادشاہ بنا کے پیش کیا جا رہا ہے‘ جس نے سارے کام ایک ہندو دھرم کی پتنی کے عشق میں کئے‘ واہ بھئی واہ…
ہمارے ہاں ٹیلی ویژن پر کچھ اینکر پرسن ابھی تک انڈین مزاج کے ہیں‘ دیا پاکستان کا کھاتے ہیں اور نام انڈیا کا لیتے ہیں‘ دو خواتین مجھ سے الجھ پڑیں اور کہنے لگیں‘ پاکستان کا تو کوئی کلچر ہی نہیں ہے‘ کلچر تو سارا انڈیا کا ہے… میں نے کہا‘ ہر گھر کا کلچر ماں ہوتی ہے… اگر کسی ماں نے اپنے بچوں کو کلچر نہیں سونپا تو اس میں میرا کوئی قصور نہیں ہے۔
حیرت ہے‘ ایسی خواتین و حضرات کو پاکستان ٹیلی ویژن پر کثیر تنخواہیں دے کر ملازمیں دی جاتی ہیں جو سرعام انڈین کلچر کو بہترین کہتے ہیں‘ اور پاکستان کا مذاق اڑاتے ہیں‘ یہ ٹھیک ہے کہ ٹیلی ویژن انڈسٹری میں سے کمرشل عنصر نہیں نکالا جا سکتا‘ مگر تباہی کا عنصر تو نکالا جا سکتا ہے…
ہمارا کوئی بھی وفد انڈیا جائے تو وہ ایک سوچا سمجھا سوال ہر ایک سے پوچھتے ہیں‘ آپ کو ادھر یا ادھر میں کوئی فرق تو نہیں لگتا نا؟ تو پھر یہ سرحدیں اور باڑیں کیوں…!
ابھی تک ان کو پاکستان کا دکھ کھائے جا رہا ہے…
ڈاکٹر سعید احمد ملک کی زبان میں‘ میں بھی یہی پوچھتی ہوں‘ یہ کون ہیں‘ جو ہم میں رہ کر ہمیں کو جلا رہے ہیں‘ جو قوم کے جوانوں کے اذہان کو اپنا ہی ملک توڑنے اور اپنی ہی آزادی کو ہندو کے آگے گروی رکھنے کی تربیت دے رہے ہیں کیا ہمارے اپنے نادیدہ ذرائع ابلاغ کا برین واش ہو چکا ہے۔ ان بے خبر صحافیوں‘ ادیبوں‘ ڈرامہ نویسوں‘ انشاء پردازوں اور دانشوروں کے لئے ڈاکٹر صاحب نے پروفیسر ہر دیال ایم اے کے پیغام کا اقتباس پیش کیا ہے… جس کا ایک جملہ ہے کہ۔
’’…یا تو سب مسلمانوں کو شدھی کے ذریعے ہندو بنا لیا جائے… یا مسلمان ملک چھوڑ کر چلے جائیں…‘‘
دور کیوں جائیں۔ حال ہی میں جسونت سنگھ کی کتاب شائع ہوئی ہے… قائداعظم محمد علی جناحؒ کی شخصیت کا اصل رنگ پیش کرنے اور انہیں برصغیر کا بڑا لیڈر ماننے پر‘ سیکولر ہندوازم کے پرچارک نے ان کا کیا حال کیا ہے…؟
عبرت کے لئے اتنا ہی کافی ہے!
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں