ابوظہبی ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم کی شاندار فتح
ـ 29 جنوری ، 2012
محمد صدیق .....
ابوظہبی میں کھیلی جارہی موجودہ انگلینڈ اور پاکستان کرکٹ سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان نے ٹیسٹ کرکٹ کی چیمپئن ٹیم انگلینڈ کو ہرا کر یہ ٹیسٹ اور سیریز جیت لی جو کہ بہت عمدہ اور بہت بڑی پرفارمنس کہی جاسکتی ہے کیونکہ پاکستان کی 60 سالہ کرکٹ تاریخ میں پہلی مرتبہ انگلینڈ کم سے کم 72 رنز پر آﺅٹ ہوا ہے۔ اس پہلے 1886ءمیں آسٹریلیا کے خلاف 45 رنز پر انگلینڈ آﺅٹ ہوا تھا۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف 1993ءمیں 46 رنز اور پھر ویسٹ انڈیز کے ہی خلاف 2009ءمیں 51 رنز پر آﺅٹ ہوا۔ سعید اجمل اور عبدالرحمان نے کمال کر دکھایا۔ کرکٹ کے موجد اپنے ہی گورے نیوٹرل امپائروں کی موجودگی میں 145 رنز کا ہدف نہ حاصل کر سکے۔ مصباح الحق کی کپتانی بہت عمدہ تھی تمام ٹیم نے بہت جان ماری۔ خاصکر ٹیم میں نئے ہونے کے باوجود اظہر علی اور اسد شفیق نے ایک مشکل وکٹ پر بہت ہی ذمہ دارانہ اور عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا۔ سابق پی سی بی صدر اعجاز بٹ پر بہت تنقید ہوتی رہی ہے اور میں بھی ان تنقید کرنے والوں میں شامل تھا مگر حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی ٹیم کی تشکیل نو میں اعجاز بٹ، کوچ وقار یونس، عاقب جاوید اور اعجاز احمد کا بہت بڑا ہاتھ اور محنت شامل ہے اور موجودہ کامیابیوں کا سہرا اعجاز بٹ اور وقار یونس کے سر ہی جاتا ہے۔ اس ٹیم کے 80 فیصد کھلاڑی نئے اور اعجاز بٹ کے دور کی دریافت ہیں اور ایک عمدہ کمبینیشن کے ساتھ بٹ اور وقار یونس نے نئی ٹیم تشکیل دی۔ جو اب کامیابیوں کا سفر طے کر رہی ہے۔ اس جیت سے پاکستانی کرکٹ کا نام تو اونچا ہوا ہی ہے۔ اب امید ہے کہ جلد پاکستان کے اندر غیرملکی ٹیمیں کرکٹ کھیلنے آنا شروع ہو جائیں گی۔ مجموعی طور پر اس سیریز میں ہر کھلاڑی نے اپنی سو فیصد محنت کی ہے۔ سعید اجمل کو ٹیسٹ کرکٹ میں 100 وکٹ حاصل کرنے کی مبارکباد قبول ہو۔ انگلینڈ کو ٹیسٹ میں ہرانا اور سیریز جیتنا بہت بڑی پرفامنس ہے دراصل انگلینڈ کے کھلاڑی سعید اجمل کو ابھی تک سمجھ ہی نہیں سکے اور گراﺅنڈ میں آنے سے پہلے ہی گھبرائے ہوتے ہیں۔ ایک لحاظ سے یہ جیت غموں میں ڈوبی اندھیرے کی شکار قوم کےلئے روشنی کی کرن ہے۔ جو خوشیاں پاکستانی عوام کو حکومت کی طرف سے ملنی چاہئیں تھیں وہ کرکٹ ٹیم دے رہی ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں