محترم ارشاد حقانی زندہ ہیں!a
مکتوب امریکہ…طیبہ ضیا ـ 28 جنوری ، 2010
طیبہ ضیاءچیمہ (نیویارک)
آٹھ برس پہلے محترم ارشاد حقانی مرحوم امریکہ آئے تو ان سے فون پر پہلی بار بات ہوئی۔ ان دنوں میں نے نوائے وقت جائن کیا تھا۔ حقانی صاحب کے ساتھ تذکرہ کیا تو بہت خوش ہوئے اور نوائے وقت کے ساتھ ہی منسلک رہنے کا مشورہ دیا۔ اس شفقت بھری گفتگو کے بعد ہر سال جب پاکستان جاتی حقانی صاحب سے ملنے کےلئے انکے دفتر اور کبھی رہائش گاہ پہنچ جاتی۔ ان کی رہنمائی میں بہت کچھ سیکھا۔ انہوں نے چند کتابیں بھی دیں اور کہا کہ مذہب کے ساتھ ساتھ سیاست پر بھی لکھا کرو۔ جب فون کرتی محبت سے میری فون کال لیتے اور جب یہ کہتی کہ میں طیبہ بول رہی ہوں تو کہتے آ پ کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے، آپ کی آواز اور اس میں احترام اور محبت میں لاکھوں میں پہچان سکتا ہوں۔ فون میں تاخیر ہوتی تو میری خیریت جاننے کےلئے بے چین ہو جاتے۔ حقانی صاحب سے پاکستان میں دوسری ملاقات کے موقع پر میں نے انہیں عشائیہ دیا۔ انہوں نے مع اہل خانہ شرکت کی اور کہا کہ بیمار اہلیہ اور تمام بچوں کے ہمراہ آیا ہوں تاکہ ان سے آپ کا تعارف کرا سکوں۔ حقانی صاحب کی اہلیہ ناسازی¿ صحت کے باوجود تشریف لائیں۔ فیملی کے ساتھ ملاقات کے بعد جب ان کے گھر جاتی ان کے بچے بڑی خوش دلی سے ملتے کہ حقانی صاحب کی بیٹی آئی ہے۔ کچھ حاسد حقانی صاحب کو میرے خلاف ورغلانے کی کوشش کرتے رہے مگر حقانی صاحب کی شفقت میں کمی نہ آ سکی۔ فرماتے کہ اندر کی طیبہ کو سمجھنا آسان نہیں ہے اور فارسی کا مصرع ”اے روشنی¿ طبع تو برمن بلا شدی“
(اے روشنی¿ طبع تو میرے لئے مصیبت بن گئی ہے) سناتے ہوئے بولے آپ کی روحانیت لوگوں کےلئے رہنمائی ہے مگر آپ کےلئے آزمائش ہے۔وہ صاحب نظر تھے۔گذشتہ برس پاکستان آئی تو وہ ہماری آخری ملاقات ثابت ہوئی۔ انکے گھر پہنچی تو حقانی صاحب کو گیٹ پر منتظر پایا۔ نہایت کمزور ہو چکے تھے۔ میرے سر پر دست شفقت رکھا۔ میں نے پھول پیش کئے تو کپکپاتے ہاتھوں سے پھول تھامتے ہوئے بولے آپ کے آنے کی اطلاع پھولوں کی مہک سے کم نہیں.... اپنے سادہ ڈرائنگ روم میں لے گئے۔ انکی بیٹی نے بتایا کہ صحت ناساز ہے مگر آپ کے انتظار میں دیر سے باہر کھڑے تھے۔ امریکہ لوٹ آئی۔ فون پر آخری گفتگو چند ماہ پہلے ہوئی اور پھر وہ شفقت بھری آواز ہمیشہ کےلئے خاموش ہو گئی۔ آخری ملاقات کے دوران حقانی صاحب نے اپنی سوانح حیات کا تذکرہ کیا کہ کتاب قریباً مکمل ہو چکی ہے۔ میں نے حقانی صاحب کی شخصیت کے بارے میں چند جملے لکھے اور انہیں ای میل کر دیئے۔ حقانی صاحب نے پڑھے اور فون پر اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہاکہ” آپ نے میر ی سوچ سے بھی زیادہ میرے بارے میں لکھ ڈالا ہے۔ ان قیمتی جذبات کو اپنی کتاب میں شامل کرونگا۔ میرے احساسات حقانی صاحب کے نام کے ساتھ ”مرحوم“ کا اضافہ ہونے سے پہلے لکھے گئے ہیں جبکہ انسان کے نام کے ساتھ جب لفظ مرحوم کا اضافہ ہو جائے تو بڑے بڑے قلم اور زبانیں پھول برسانے لگتے ہیں۔ میں نے لکھا تھا ”محترم ارشاد حقانی کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں البتہ صحیح معنوں میں ان کا تعارف ان کی امریکہ آمد پر ہوا۔ اس سے پہلے بھی جب پاکستان جایا کرتی فون پر بات ہوتی تھی۔ پہلی ملاقات ان کے دفتر میں ہوئی۔ میرے سامنے ایک نہایت شفیق اور مہربان شخص بیٹھا تھا جو کالم نگاری اور صحافت کی دنیا میں میرا بڑا مقام دیکھنا چاہتا ہے۔ حقانی صاحب کی رہنمائی میرے لئے باعث فخر ہے۔ آپ پاکستان کی صحافت کا ستون اور علم و دانش کی وہ درسگاہ ہیں جہاں سے ہزاروں نوجوانوں نے سیکھا اور آج وہ اندرون و بیرون ملک اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ امریکہ میں مقیم پاکستانی بھی اپنے ملک کے حالات اور مستقبل حقانی صاحب کی عینک سے دیکھتے ہیں۔آپ کے تجزیئے انسان کی سوچ کا رخ بدل کر رکھ دیتے ہیں اور انکے کالموں کے حوالے بڑے بڑے مباحث میں استعمال ہوتے ہیں۔ حقانی صاحب کے تبصرے بڑوں بڑوں کی بولتی بندکر دیتے ہیں۔ صحافت میںبڑے بڑے نام ہیں اور ان کے پاس اس سے بھی بڑے بڑے پلاٹ،کوٹھیاں اور گاڑیاں ہیں۔ رعونت سے ان کی گردنیں اکڑی رہتی ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا تک پہنچ جائیں تو کبر خدائی میں ڈھل جاتا ہے جیسے ملک کا سسٹم یہی لوگ چلا رہے ہیں۔ محترم حقانی صاحب صحافت کا سنہرا باب ہیں۔آپ کہا کرتے ہیں کہ انسان گود سے گور تک سیکھتا ہے اور علم انسان مین انکساری پیدا کرتا ہے۔ حقانی صاحب کی شخصیت میں شفقت اور انکساری ہر ملاقات میں پہلے سے زیادہ محسوس کی ہے۔ حضرت علی ؓ کا قول کہ ”جس کی شاخ نرم ہو گی اس میں ٹہنیاں زیادہ ہونگی“۔ حقانی صاحب علم و معرفت کی ایسی شاخ ہیں جن پر ہزار رنگ کی ٹہنیاں جھول رہی ہیں۔ سب سے مضبوط ٹہنی انکا کردار ہے۔ حقانی صاحب کا لائف سٹائل نہایت سادہ ہے۔ حقانی صاحب نے اپنے بڑے پن کو کبھی چھوٹا نہیں ہونے دیا۔ سٹریٹ فارورڈ انسان ہیں۔ آپ کی زبان سے ادا ہونے والی ہر ہر نصیحت اور مشورہ میرا ہمسفر رہا۔ایک بار فرمایا کہ ”انسان کوخود ساختہ آزمائشوں سے بچنا چاہئے۔ زندگی اتنی مشکل نہیں جتنی مشکل ہم نے بنا لی ہے“۔ ہر قدم پر میری مسلسل حوصلہ افزائی کی۔ ایک روز مجھے کہنے لگے کہ اصل صحافی آپ ہو۔ اصل صحافی صحافت کی چار کتابیں پڑھنے والا نہیں بلکہ بغیر کسی لالچ، مفاد اور خوف کے حق لکھنے والا ہوتا ہے جبکہ آپ امریکہ میں بیٹھ کر امریکی پالیسی کے خلاف ڈٹ کر لکھتی ہو۔ آپ دشمن ملک میں کلمہ حق کہتی ہو جبکہ ملک میں لوگ حق کہتے اور لکھتے ہوئے گھبراتے اور نفاق سے کام لیتے ہیں۔ حقانی صاحب کی شخصیت کے بارے میں بس اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ شاخ مضبوط ہو تو ٹہنیوں پر کبھی خزاں نہیں آ سکتی۔ حقانی صاحب جدا ہو چکے مگر وہ میرے دل میں زندہ ہیں۔ اللہ ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے۔ آمین!
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں