پنجاب کا وزیر صحت کہاں ہے؟

ڈاکٹر محمد اجمل نیازی ـ 27 جنوری ، 2012
صوبائی وزیر اور سابق وزیراعلیٰ دوست محمد کھوسہ نے کمال کر دیا ہے۔ وہ بات جو مسلم لیگ ن میں کوئی نہیں کہہ سکتا۔ وہ کابینہ کے ایک ممبر نے کہہ دی ہے۔ یہ بات نوائے وقت کے پہلے صفحے پر شائع ہوئی ہے۔ ”محکمہ صحت کو ایک شخص دیکھ رہا ہوتا تو معاملات ٹھیک رہتے“۔ اس کا مطلب ہے کہ محکمہ صحت کو کئی شخص دیکھ رہے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ڈاکٹر سعید الٰہی کو پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت بنایا گیا ہے۔ وزیر صحت کیوں نہیں بنایا گیا۔ یہ خاصا غور طلب معاملہ ہے مگر وہ اپنے آپ کو خود بخود وزیر صحت سمجھتا ہے۔ وزیر صحت تو ہے نہیں۔ شہباز شریف تو وزیراعلیٰ ہیں۔ وہ ڈینگی مچھر کی تباہی کے دوران وزیر صحت لگتے تھے۔ تب وہ اتنے سرگرم تھے اور گرم تھے کہ کہا جانے لگا تھا۔ پنجاب میں دو چیزیں قابل ذکر اور ناقابل فراموش ہیں۔ ایک ڈینگی مچھر اور دوسرے شہباز شریف۔ ہنگامی بنیادوں بلکہ جنگی بنیادوں پر کام ہوا۔ جبکہ ڈاکٹر جاوید اکرم کہتے ہیں کہ فروری 2012ءکے بعد ڈینگی زیادہ قوت کے ساتھ حملہ آور ہو گا مگر کوئی انسدادی اقدامات نظر نہیں آ رہے۔ جب مچھر سینہ سپر ہو گا تو افسران اور حکمران مورچوں کے اندر جائیں گے۔ ادویات کے ری ایکشن کے لئے بھی کمیٹی کا سربراہ ڈاکٹر جاوید اکرم کو بنایا گیا ہے۔ ان سے امید ہے کہ وہ سارے حقائق کو سامنے لے آئیں گے۔ بات حقائق کے بعد شروع ہو گی۔ حقیقت تلخ حقیقت بن جاتی ہے۔ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔ آجکل ہر شے میں ملاوٹ اتنی ہے کہ دودھ اس پانی کو کہتے ہیں جس کا رنگ سفید ہو۔ اور پانی پر بھی کوئی اعتبار نہیں۔ پانی بنا کر بیچنے والی فیکٹریوں نے کوئی گڑبڑ کر دی تو پھر کیا ہو گا۔ یہ پانی تو امیر لوگ پیتے ہیں۔ اب کے ادویات کے ری ایکشن سے نوے کے قریب لوگ چند دنوں میں مر گئے ہیں۔ کچھ لوگ کہہ رہے تھے کہ انہیں شہید کہا جائے۔ ہمیشہ ایکشن ہوتا ہے پھر ری ایکشن ہوتا ہے۔ اب کے پہلے ری ایکشن ہوا اور اس کے بعد ایکشن شروع ہوا ہے۔ جو ابھی پوری طرح شروع نہیں ہوا کیونکہ ابھی ایکشن جاری ہے کئی لوگ ابھی تک مرتے جا رہے ہیں۔ میں نے کل بھی کالم لکھا تھا تو اسقدر فون آئے کہ کسی اور موضوع پر کالم لکھنا گناہ کبیرہ لگتا ہے۔ کچھ لوگ فخر سے کہتے ہیں کہ ہم نے کبھی گناہ صغیرہ تو کیا ہی نہیں۔ ابھی تک ادویہ ساز کمپنیاں، ڈاکٹرز، محکمہ صحت کے لوگ، سیاسی کھڑپینچ اور مریض لوگ کوئی بھی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں۔ گناہ صغیرہ سے بھی انکاری ہیں۔ آخر کار بے چارے مریضوں پر ذمہ داری ڈال دی جائے گی کہ انہوں نے دوا نسخے کے مطابق کھائی نہیں تھی۔ لہٰذا ری ایکشن ہوا۔ جن ڈاکٹروں نے نسخے لکھے تھے انہوں نے بیگار بھگتائی تھی۔ کوئی وی آئی پی مریض تو تھا نہیں۔ غریبوں اور عام لوگوں کے لئے نسخے اسی طرح لکھے جاتے ہیں۔ کوئی مریض ان کے کلینک پر آئے تو اُسے چیک بھی کرتے ہیں اور دوائیوں کو بھی چیک کرتے ہیں۔ یہ دوائیاں مفت تو دی نہیں جاتیں کہ ان کے ری ایکشن کا خطرہ ہو۔ حیرت ہے کہ پی آئی سی ہسپتال کے کسی ڈاکٹر، کسی فارماسسٹ اور کسی ملازم کے بارے میں کوئی تفتیش نہیں کی گئی۔ معطل ہوئی تو سروسز ہسپتال کی ایم ایس ہوئی۔ سنا ہے رات گئے اس کے آرڈر واپس لے لئے گئے تھے۔ یہ ایکشن کیا تھا اور اس کا ری ایکشن کیا تھا۔
اندازہ فرمائیں کہ پورے پاکستان میں کہیں بھی ڈرگ ٹیسٹنگ لیب نہیں ہے۔ بہت اہل اور ماہر سرجن پروفیسر ڈاکٹر صداقت نے بتایا کہ کسی دوائی میں کوئی ایسی چیز زیادہ مقدار میں شامل ہو گئی ہو گی جو ری ایکشن کا باعث بنی ہے۔ یہ چیز ٹیسٹ میں سامنے آ سکتی تھی۔ پرانے علامہ اقبال میڈیکل کالج کے پاس ڈرگ ٹیسٹنگ لیب بنائی گئی تھی جو کھنڈر بن چکی ہے۔ ڈاکٹر صداقت نے اچھے دل و دماغ والے دردمند انسان سیکرٹری صحت جہاں زیب سے کہا تھا کہ لاہور میں ایک ڈرگ ٹیسٹنگ لیب قائم کی جائے۔ یہ ایک ایسی معرکہ آرائی ہو گی کہ ایک زمانہ آپ کو یاد رکھے گا۔ شاید جہاں زیب نے کچھ کیا بھی ہو مگر ہماری بیورو کریسی کام نہ کرنے اور کام میں رکاوٹیں ڈالنے میں ماہر ہے اور عادی ہے۔ ہر کام کو فائلوں میں دفن کر دیا جاتا ہے۔ کوئی بھلائی اور اچھائی کا کام ہونے ہی نہیں دیا جاتا، ہماری حکومتیں بیورو کریسی پر انحصار کرتی ہیں۔ موجودہ پنجاب گورنمنٹ تو بیورو کریسی کے مشوروں پر چل رہی ہے۔ محکمہ صحت نے ڈینگی بخار کے حوالے سے واقعی بہت کام کیا ہے۔ اب کیا ہوتا ہے۔ اس کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ سروسز ہسپتال میں ڈاکٹر فیصل مسعود نے ایک ایسی ہی (اینیمل لیب) جانوروں کے لئے ٹیسٹنگ لیب بنوائی ہے۔ یہ لیب ویٹنری یونیورسٹی میں بنائی جا سکتی ہے مگر ڈاکٹر فیصل مسعودکے فیصلوں کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے اور دلوں کے درمیان فاصلے بڑھتے جاتے ہیں۔ ڈینگی مچھر کے لئے بھی بیرون ملک سے ”ماہرین“ منگوائے گئے تھے۔ اب بھی دوائیں بیرون ملک بھجوائی گئی ہیں۔ اس ملک میں کچھ ہوتا تو حکمران افسران وزیر شذیر امیر کبیر اور ارب پتی ڈاکٹر صاحبان علاج معالجے کے لئے بیرون ملک کیوں جاتے۔ یہ ملک غریبوں کے لئے ہے۔ ان کا مرنا جینا یہیں ہے زندگی اور موت کے فیصلے یہیں ہوتے ہیں اور وہ لوگ یہ طے کرتے ہیں کہ ہم نے زندگی کس شرمندگی کے ساتھ گزارنا ہے اور مرنا کس درندگی کا شکار ہو کر ہے۔ یہی لوگ صرف حکومت کرنے لوٹ مار کرنے عیش و عشرت بلکہ عیاشی کرنے یہاں آتے ہیں۔ کیونکہ ان کاموں کے لئے پیسے بھی قومی خزانے سے خرچ ہوتے ہیں جو عوام کا ہے۔ افسران حکمران کے علاوہ ڈاکٹر صاحبان بھی بیرون ملک کے دورے کرتے ہیں اور ان کا ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہوتا۔
کروڑوں روپے خرچ کرنے والے چالیس پچاس ہزار کے چیک مرنے والوں کے اشکبار رشتہ داروں میں تقسیم کرتے ہیں اور اس بات کا اہتمام ہوتا ہے کہ میڈیا پر تصویر آ جائے۔ موت کے لئے پانچ لاکھ کی قیمت رکھی جاتی ہے۔ اعلان ہوتا ہے اور ملتا کس کس کو ہے۔ موت کی خبروں سے لتھڑے ہوئے یہ پیسے بھی کھائے جاتے ہیں۔ ان کی بھوک ختم ہی نہیں ہوتی۔ تو پھر بھوکے پیاسوں کے لئے باقی کیا بچتا ہے۔ پروفیسر آف میڈیسن درویش صفت ڈاکٹر ارشاد کہہ رہے تھے کہ اس ضمن میں تھوڑی سی ذمہ داری کا ثبوت دیا جاتا تو یہ المیہ نہ ہوتا۔ ڈاکٹروں کو اس حوالے سے پوری احتیاط برتنا چاہئے تھا۔ چند دواﺅں سے اتنے مریضوں کی موت ایک طرح سے قتل ہے۔ میں یہ بات ڈاکٹر صاحب سے کہہ نہ سکا کہ پھر اس قتل کا مقدمہ کس کے خلاف درج کرایا جائے۔ 302 کس کس پر لگنا چاہئے۔ ڈی جی ہیلتھ اور ای ڈی او ہیلتھ، پارلیمانی سیکرٹری ہیلتھ، ایم ایس اورپی آئی سی آخر کس مرض کی دوا ہیں۔ مگر اب تو دوا پر اعتبار نہیں رہا۔ اس گندے کرپٹ غلیظ معاشرے میں دعا کی تاثیر بھی ختم ہو گئی ہے۔ اب تو بددعائیں بھی قبول نہیں ہوتیں۔ یہ خبر بھی غالباً نوائے وقت میں شائع ہوئی ہے کہ جاوید ہاشمی نے کہا ہے شہباز شریف کو چاہئے کہ کسی اہل اور اہل دل آدمی کو وزیر صحت مقرر کریں۔ جاوید کا اپنے بارے میں کیا خیال ہے؟
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں