فنکارانہ بے بسی دوستانہ بے حسی

ڈاکٹر محمد اجمل نیازی ـ 27 جنوری ، 2010
معروف کامیڈین (مزاحیہ فنکار) ببو برال گردوں کے مرض میں مبتلا ہیں، جسے دیکھتے ہی ہنسی آ جاتی تھی۔ آج اسے دیکھ کر رونا آتا ہے اسے دوست چھوڑ گئے ہیں۔ انہیں دوست کہنا دشمنی کے مترادف ہے۔ ببو برال نے کہا کہ میں ڈیڑھ سال سے موت کے انتظار میں دن گن رہا ہوں، حکومت کی طرف سے صرف وعدے اور باتیں ملی ہیں۔ میرے دوست کہاں ہیں، ببوبرال کی اہلیہ نے اس سے بھی بڑی بات کی ہے چند سینئر فنکار ببوبرال کا علاج کرا سکتے ہیں مگر لوگوں کو مرنا بھول گیا ہے۔ مون مارکیٹ کے دھماکے میں ہم دونوں اور ہمارے بچے بھی شامل ہوتے تو شاید حکومت کچھ معاوضہ دے دیتی۔ یہ ایک طمانچہ حکمرانوں اور سیاستدانوں کے منہ پر ہے۔ ببوبرال کے دل میں دھماکے ہو رہے ہیں اور یہ تباہی کسی کو دکھائی نہیں دیتی۔ ببو برال جیسے فنکار روز روز پیدا نہیں ہوتے جن لوگوں کے علاج پر کروڑوں روپے سرکاری خزانے سے خرچ ہوتے ہیں وہ ببو کے قدموں کی خاک برابر نہیں ہیں۔ یہ وہ ببو برال ہے جس نے لوگوں کو رلایا ہے یہ وہ ببو برال ہے جس نے لوگوں میں خوشیاں بھی تقسیم کی ہیں، آج وہ خود رنج والم کے راستوں پر خاک میں ملتا جا رہا ہے۔
پنجاب کے وزیراعلیٰ شہبازشریف نے جو اپنے لئے خادم پنجاب کا لفظ پسند کرتے ہیں۔ پچھلے دنوں غریب مگر لائق طالب علموں کے لئے امداد اور اعزاز کا اہتمام کیا تھا جی خوش ہو گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ کسی کو غریب اور بے سہارا نہیں رہنے دیا جائے گا۔ ان سے گزارش ہے کہ وہ فن وثقافت کے سرمائے ببوبرال کی زندگی بچانے کے لئے کچھ کریں۔ ببو برال وہ بیش بہا زندگی ہے جس نے ہمیں خوشی کے بہت خرانے خیرات کئے ہیں اس کے لئے یہ اپیل کرتے ہوئے میری ویران ہوتی ہوئی آنکھوں میں آنسو ہیں۔ شہبازشریف کیا نہیں کر سکتے؟ جن لوگوں نے ان کے دور میں فائدے اٹھائے ہیں ایسے لوگ ہر دور میں فائدے اٹھاتے رہتے ہیں۔ ببو برال ہر دور کا آدمی ہے وہ غیر سیاسی ہے۔ ہمارے سیاستدان حکمران بنتے ہیں تو وہ دیکھتے ہیں کہ کون ہمارا دوست ہے۔ ببوبرال توسب کا دوست ہے اسے اپنے دوستوں سے بھی کوئی امید نہیں رہی۔ پنجاب حکومت سے اسے صرف ایک لاکھ روپے ملے ہیں۔ چھوٹے سے چھوٹے حکمران کا یومیہ خرچہ بھی ایک لاکھ سے زیادہ ہے۔ اندر خانے نجانے کتنا روپیہ خرچ ہوتا ہو گا یہ جو بھابھی نے بات کی ہے کہ چند امیر کبیر فنکار دوست ببو برال کا خرچہ اٹھا سکتے ہیں اس پر غور کرنے کے لئے کیا ان کے پاس وقت ہے۔ پچھلی عمر میں اکثر فنکاروں کی زندگی شرمندگی کیوں بن جاتی ہے اور دوست فنکاروں کو شرم کیوں نہیں آتی۔ بھابھی نے کچھ نام بھی لئے ہیں ان لوگوں سے امید بھی ہے۔ سخی سرور، عمر شریف اور سہیل احمد سے اس نے اپیل کی ہے کہ وہ کوشش کریں اور کوئی سبیل نکالیں۔ ممتاز گلوکار ابرارالحق نے ہسپتال بنوایا ہے یہ ایک کارنامہ ہے مگر صرف ایک ببوبرال کی زندگی بچانا ایک ہسپتال بنانے سے بڑا کام ہے۔ جو فنکار ببو ببرال کے ساتھ سٹیج ڈرامے کرتے تھے وہ بھی سب مل کر آسانی سے یہ مشکل دور کر سکتے ہیں۔
شہبازشریف اور نوازشریف مظلوم اور مقتول غریب بے سہارا مسیحی بچی کے گھر گئے۔ اقلیتوں کے وزیر شہباز بھٹی بشپ الیگزینڈر اور پرویز رشید بھی ساتھ تھے پرویز رشید نے میرے کالم پر کچھ مستحق اور مظلوم لوگوں کے لئے امداد کا بندوبست کیا تھا۔ راجہ ریاض نے صدر زرداری کی طرف سے پانچ لاکھ دیئے۔ وہ صدر زرداری تک ببوبرال کی بے بسی بھی پہنچائیں۔ ایک تنگ و تاریک گندے مکان میں نوازشریف اپنے چہرے سے مکھیاں اڑاتے رہے یہ بہت قابل تعریف بات ہے۔ دونوں بھائیوں کا یہاں آنا یاد رکھا جائے گا مگر اس واقعہ میں مجھے کہیں نہ کہیں سیاست کی بو آ رہی ہے۔ میاں صاحب نے ایسے کام تو اپنے پہلے زمانے میں بھی بہت کئے ہیں اور اب بھی کر رہے ہیں۔ حافظ آباد بھی ایسے ہی کسی معاملے میں تشریف لے گئے تھے۔ میں نے کالم لکھا تھا میں نے شہبازشریف کے لئے اچھے جذبات کے اظہار میں لوگوں کی ترجمانی کی تھی۔ یہ سیاسی پارٹیوں کے ترجمانوں کی تائید اور تردید کی طرح نہ تھی میں نے لکھا تھا کہ شہبازشریف کے اس اقدام کے بعد بھی ظلم ختم کیوں نہیں ہوتا۔ اس طرح کے ظالمانہ واقعات بڑھتے ہی جاتے ہیں۔ ظلم جتنا بڑا ہو سزا بھی اتنی ہی بڑی ہونا چاہیے۔ فوری اور عبرتناک سزا۔ ہر بار حکام اور افسران اعلان کرتے ہیں کہ ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے مگر ایسا کبھی نہیں ہوا۔ بے چارے مظلوم ہی صبر کرتے ہیں اور صبر کا کوئی اجر یہاں نہیں۔
نامور ایڈووکیٹ سینیٹر ایس ایم ظفر نے امریکہ جانے سے انکار کر دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ امریکہ میرا پسندیدہ ملک ہے امریکی عوام ، امریکی حکام سے مختلف ہیں۔ وہاں میرے بہت دوست ہیں مگر نئی امیگریشن پالیسی کی وجہ سے میں یہ ذلت برداشت نہیں کر سکتا۔ یہ بڑی معرکہ آرائی ہے۔ ظفر صاحب دانشور بھی ہیں کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ مگر کیا یہ ممکن ہے کہ سیاستدان اور حکمران بھی امریکہ جانے سے انکار کر دیں۔ سیکورٹی کے بہانے کسی کو بے لباس کرکے تلاشی لینا توہین ہے۔ ہمارے کئی وزیر شذیر بھی تلاشی کے مرحلوں سے بڑی بے عزتی کرا کے گزرے مگر بڑی شان سے گزرے۔ یہ غلام حکام پورے ملک کی پوری دنیا میں بے عزتی کرانے پر تلے ہوئے ہیں۔ یہاں شہر میں دندناتی ہوئی امریکی گاڑیوں میں بیٹھے ہوئے مسلح لوگ تلاشی دینے سے انکار کرتے ہیں پھر اسی اسلحے سے دہشت گردی کی وارداتیں ہوتی ہیں۔ امریکی پاکستان کے ہوائی اڈوں پر بغیر کسی چیکنگ کے آ جاتے ہیں ان کے پاس کاغذات بھی پورے نہیں ہوتے۔ رچرڈ ہالبروک ہر دوسرے مہینے کیوں پاکستان آ جاتے ہیں۔ ان کا کام یہاں کیا ہے، ان کے آنے پر پابندی لگائی جائے اور امریکیوں کی اسی طرح تلاشی لی جائے جس طرح پاکستانیوں کے لئے امریکہ میں روا رکھی جاتی ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں