وراثت کی حفاظت
رفیق ڈوگر ـ 27 فروری ، 2009
پورے 31 سال بعد ہم نے کرکٹ میچ دیکھا۔ جمہوریت کے ٹکٹ پر‘ گھر سے چلے تھے تو گمان تک نہ تھا کہ مقدر میں اتنی بڑی ’’خوشی‘‘ بھی ڈال دی ہے جمہوریت دینے والے نے۔ ویگن سے نکلے تو لوگ بھاگ دوڑ رہے تھے ۔ تھوڑی سی حیرانی ہوئی مگر وہی تو ہے جو ہمہ وقت ساتھ ساتھ رہتی ہے اس حیرانی پر بھی پریشان نہ دیکھ کر کسی صاحب کمال نے بتایا کہ ’’فیصلہ‘‘ آ گیا ہے اور ذرا سنبھل کر چلنے کا مشورہ دیا دفتر کے جوار میں نمازی دروازے بند کر کے نمازیں پڑھ رہے تھے اور جلوس ہمارا انتظار کئے بغیر ہی وہاں سے گورنر ہائوس روانہ ہو گیا تھا۔ لکشمی چوک بہت ہی مصروف رہتا ہے اس کی اسی کھابا مصروفیت کی وجہ سے ہم گھبرانے لگے ہیں۔ دفتر جاتے ہوئے اور وہ مصروف ترین چوک بھی کافی فارغ البال تھا اور مجاہد کی نماز ہی مکمل نہیں ہو رہی تھی لڑکے بالے دکانوں کے سامنے ’’اب کیا ہوگا؟‘‘ اور ’’اب کیا نہیں ہوگا‘‘ کی خرید و فروخت میں مصروف تھے دکانیں جو بند تھیں دکان بند ہو‘ مالک کسی اور کام میں لگا ہو تو بیچنے کے عادی ملازمین کو کچھ تو بیچنا ہی ہوتا ہے۔ ٹیلی ویژن چینلوں پر بھی تو جمہوریت کی دکان پر روزی روٹی کمانے والے جمہوریت بیچ ہی رہے تھے۔ دکان بند ہو تو لڑکوں بالوں کو ’’اب کیا ہوگا؟‘‘ ’’اب کیا نہیں ہوگا؟‘‘ کے علاوہ اور کوئی خدمت تو درپیش نہیں ہوتی مگر پتہ نہیں کیوں ہمیں ان لڑکوں بالوں پر رحم سا آنے لگا تھا۔ دکان کھلی ہو تو مصروف دکان کا مالک دروازہ بند کر کے لیٹا ہو تو مزدوری پیشہ مصروف‘ کوئی دکان کی سیڑھیوں پر کوئی کسی ٹیلی ویژن چینل پر ’’ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اور بندہ جمہور کے اوقات‘‘۔ ہم تو آپ سے اپنی خوشی شیئر کرنے جا رہے تھے جو پورے 31 سال بعد بن مانگے ہمارے سامنے آن کھڑی ہوئی تھی کچھ ایسا ہی موسم ہوتا تھا ملک میں ذوالفقار علی بھٹو کی جمہوریت بام عروج زوال پر سے گونج رہی ہوتی تھی اور جب ہم کرفیو پاس جیب میں ڈال کر دفتر سے نکلتے تھے اور شاہراہ قائد کی اِردگرد کی گلیوں کے بچے بڑی آزادی سے کرکٹ کھیل رہے ہوتے تھے ۔ روزِ رفتہ شاہراہ قائد کی دکانوں پر مزدوری کرنے والے لڑکے جگہ جگہ کرکٹ کھیل رہے تھے مگر اتنی آزادی سے نہیں جتنی آزادی ان کرفیو کے دنوں میں کرکٹ اور جمہوریت کا ٹیسٹ میچ کھیلنے والوں کو حاصل ہوتی تھی۔ 30 سال میں شاہراہ قائد بہت ہی زیادہ آباد ہو چکی ہے بہت ہی بدل چکی ہے ہمیں کبھی گمان تک نہ گزرا تھا کہ اب کبھی اس پر کوئی کرکٹ کھیل سکے گا۔ میاں نوازشریف صاحب بتا رہے تھے کہ بچوں کو مزدوروں کو اور ہمیں ایسی خوشی صدر آصف علی زرداری نے فراہم کی ہے تو پھر ’’ماں پر دھی پتا پر گھوڑا‘‘ والی بات تو ایک دفعہ پھر درست ثابت ہو گئی اور وہ بھی جو صدر مکرم فرمایا کرتے ہیں کہ وہ بھٹو جمہوریت کے وارث اور واحد مالک و مختار ہیں۔ کیا کریں ان کی بھی مجبوری ہے بھٹو جمہوریت کی وراثت انہوں نے جس بلاول کو واپس کرنا ہے وہ ابھی نابالغ ہے۔ اس کی وراثت اور امانت کی حفاظت ان کا دینی اور دنیاوی فرض ہے مگر چھوڑیں اس ان کے دین و دنیا کے معاملات کو‘ ہمیں تو اپنی ’’خوشی‘‘ اور کرکٹ سے غرض ہے جس طرح وکیلوں کو عدلیہ کی آزادی سے غرض ہے اور وہ اپنا سارا زور اس کیلئے بچا کر رکھ رہے ہیں ہم اپنا وقت سیاہی اور کاغذ جمہوریت پر کیوں ضائع کریں؟ اور تھوڑے ہیں ملک میں سیاہی بردار اور جمہوریت بردار۔ میاں شہبازشریف کی چودھری برادران سے اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقاتوں سے ہمیں ’’چاہ یوسف‘‘ سے پارلیمنٹ کی خودمختاری کی جو آواز سنائی دینا شروع ہو گئی تھی اس کا کیا بنا؟ کیا وہ یوسف ملتانی اپنی جمہوریت میں پھر سے بے کارواں سا تو نہیں ہو گیا؟ کیا اس کے حال احوال بھی تو ویسے ہی نہیں ہو جائیں گے جیسے اس چاہ یوسفؑ والے یوسف ؑ کے چاہ سے دربار مصر یا مصر کے شاہ کے دربار میں پہنچ جانے سے ہو گئے تھے؟ اس کے خوابوں کا کیا بنے گا؟ پہلے تو ان میں اور شریف برادران میں کسی ہم خیالی کی گنجائش تلاش کی جا سکتی تھی اب تو ایسی ’’تلاش‘‘کی راہ میں بھی ہمارے گورنر اور ان کا راج حائل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ مگر ہمیں کیا؟ وہ جانیں اور ان کی جمہوریت کا مالک و مختار جانیں وہ اب تک جس تنخواہ پر جمہوریت کرتے آئے ہیں کرتے رہیں گے ہمیں تو ان کے نئے والے چاہ جمہوریت سے یہی آواز آ رہی ہے ہمیں یقین کامل ہے کہ شریف برادران بھی سن رہے ہوں گے۔ ہم نہ سمجھ رہے ہوں گے ہرگز نہیں‘ کہا کہ وہ ڈیڑھ دو سال میں کیا کچھ اور کس کسی کو نہیں سمجھ چکے ہوں گے ہمیں تو ان دو عدد رانا صاحبان پر غصہ آ رہا ہے جو اس رات بھی اسمبلی کے ہال میں حکمران تھے ہمارا مطلب ہے رانا اقبال اور رانا مشہود اور انہوں نے ہمیں دعوت ہی نہیں دی تھی کہ ہم بھی وہ رات ان کے ساتھ اسمبلی ہال میں گزار سکیں۔ کیسا زمانہ آ گیا ہے۔ اس وقت تو رانا پھول خاں ہمیں دھکیل کر پیپلز ہائوس لے گیا تھا کہ تم خطرے میں ہو مگر شاید اب جمہوریت کو ہم سے زیادہ خطرہ ہے اور انہیں نئے تعلقات کی زیادہ فکر ہے۔ پتہ نہیں کیوں ہمیں شبہ سا ہوتا ہے کہ صدر مکرم کو اپنی جمہوریت کی طغیانیوں سے ہی کام کاج رہے گا۔ کسی کی کشتی پار ہو جائے یا درمیان میں ہی رہ جائے ان کا یہ مسئلہ نہیں انہیں تو اس سیاسی وراثت کی حفاظت کی آزمائش درپیش ہے جو ان کی بی بی جی انہیں اپنی خاندانی سیاست سمیت سونپ گئی ہوئی ہیں اور روز رفتہ شاہراہ قائد پر مزدوری پیشہ لڑکوں کو کرکٹ کھیلتے دیکھ کر ہمارا شبہ یقین میں بدلنا شروع ہو گیا تھا۔ اللہ نہ کرے وہ اپنے بارے میں ہمارے بقیہ شبہات بھی ویسے ہی دور کر دیں جیسے اپنے بڑے بھائیوں کے اپنے بارے میں سارے ہی یقین و گمان دور کرتے جا رہے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں