تعزیت کے لئے ہی چلے آتے۔۔۔!
طیبہ ضیاء ـ 26 اگست ، 2010
ایم کیو ایم والے کہتے ہیں کہ ملک میں وڈیرہ اور جاگیردارانہ نظام ختم کرنے کےلئے فوج بلائی جائے۔یعنی فوج کے وڈیروں کو حکومت سونپ دی جائے۔۔۔؟ وڈیرے اور جاگیردار صرف گوشت پوست کے انسان ہی نہیں ایک سوچ کا نام بھی ہے۔پاکستان میں وڈیروں کا وڈیرا۔۔۔جاگیرداروں کا جاگیردار۔۔۔چودھریوں کا چودھری۔۔۔ ”وڈا وڈیرا“۔۔۔امریکہ۔۔۔اس کا نظام کون ختم کرے گا۔۔۔؟ فساد کی اصل جڑ کون اکھاڑے گا۔۔۔؟پاکستان میں جب ”جرنیلی وڈیرا“ لانے کا ارادہ کر لیا جاتا ہے تو اپنے ”طوطوں“ کو اس کام پر لگا دیا جاتا ہے اور پھر”میاں مٹھو کی چوری“ سر چڑھ کر بولتی ہے۔ ان زاویوں پر کام شروع ہو جاتا ہے۔جنرل کیانی کی ملازمت میں تین سالہ توسیع کا مقصد گو کہ ”جرنیلی نظام“ نہیں مگر ”طوطوں“ کی دہائی سے معاملہ مشکوک دکھائی دے رہاہے۔ طوطے خواہ پنجرے میں ہوں یا باہر ”وڈے وڈیرے“ کے طفیل ہیں۔ایم کیو ایم سے گزارش ہے کہ سب سے پہلے اپنے ملک سے امریکہ کی چودھراہٹ ختم کرے۔یہی وہ وڈیرہ ہے جس نے چھوٹے بڑے لاتعداد وڈیرے اور جاگیردار پال رکھے ہیں۔امریکیوں کے باپ دادا انگریزتھے۔یورپ کے گورے تھے۔ پاکستانی وڈیروں اور جاگیرداروں کے باپ دادوں کو زمینیں امریکیوں کے باپ دادوں نے الاٹ کی تھیں اوران کی نسلیں آج بھی گوروں کی نمک حلالی کا حق ادا کر رہی ہیں البتہ جو بے نصیب وڈیرے اور جاگیر دار نہ بن سکے وہ ”طوطے“ بن گئے۔یہ سب بہروپیے اوربلیک میلرگوری چمڑی کا کھاتے ہیں۔اصل پاکستانی وہ ہیں جو وڈیرے اور جاگیردار نہیں ، نہ ”وڈے وڈیرے“ کے” پیڈ“ ہیں اور نہ ہی کسی کے غلام ہیں ۔ پاکستان کی سیاست میںکوئی چھوٹا غلام ہے اور کوئی بڑا غلام ۔۔۔خواہ ملک میں ہے یا ملک سے باہر۔۔۔ نظام میں ہے یا نظام سے باہر۔۔۔ بے شمار غلام ہیں بلکہ غلاموں کے بھی غلام ہیں۔۔۔سیلاب کی آفت میں آمرانہ عذاب کی بات کرنا ملک کو مزید غیر مستحکم کرنا ہے۔عمران خان نے امریکہ میں اپنے خطابات کے دوران بھی صاف شفاف انتخابات کی بات کی تھی کہ آئندہ الیکشن سپریم کورٹ یا فوج کی نگرانی میں کرائے جائیں اس سے فوجی حکومت ہر گز مراد نہیں ہے ۔فوجی حکومت کی حمایت کرنے والے امریکہ کا پروپیگنڈا لے کر چل رہے ہیں۔امریکہ کو پاکستان میں اپنی جنگ نبٹانے کی فکر ہے جبکہ پاک فوج کو اپنے بندے بچانے کی فکر لاحق ہے۔سیلاب کی تباکاریوں کے سبب ملک کے تمام ایشوز اور معاملات معمولی دکھائی دے رہے ہیں جبکہ ”وڈے وڈیرے“ نے پاکستان میں وار آن ٹیرر پر بھاری ”سرمایہ“ لگارکھا ہے اور وہ یہ جنگ ہر صورت جیتنا چاہتا ہے۔ فوج کی بات گو کہ امریکی ایجنڈے کی حمایت ہے مگر زمینی حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ موجودہ حکومت جمہوری ہے اور نہ ہی ”لولی لنگڑی جمہوریت“ ہے ۔حکمرانوں کو الطاف حسین کے بیان پر پریشان ہونے کی بجائے اپنے گریبان میں بھی جھانکنا چاہئے۔موجودہ جمہوریت صرف لولی لنگڑی ہوتی تو گزارا ہو سکتا تھا لیکن یہ تو “اندھی اور گنجی“بھی ہے۔رہی یہ تکرار کہ ہم عوام کے ووٹوں سے آئے ہیں۔۔۔تو یہی وہ جملہ ہے جس سے عمران خان کا میٹر گھوم جاتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ فراڈ ووٹوں کو الیکشن نہیں کہا جا سکتا۔۔۔اگریقین نہیں آتا تو ایم کیو ایم سے پوچھ لیں کہ عوام کے ووٹ کتنے ہوتے ہیں اور ۔۔۔؟ملک تاریخ کی بد ترین آفت سے دوچار ہے۔لوگ مر رہے ہیں۔مہلک امراض ایک اور عذاب کی خبر دے رہے ہیںمگر ”وڈے وڈیرے کے طوطوں“نے بے موسم کی ٹیں ٹیں شروع کر دی ہے۔ سیالکوٹ کے سانحہ کے پیچھے کسی وڈیرے یا جاگیردار کا ہاتھ تھا اور نہ ہی اس کے ڈانڈے کراچی کی ”دہشت گردی“ سے ملتے ہیں مگر مسلم لیگ نون کو تیلی لگائی گئی کہ شریف برادران لواحقین کے پاس تعزیت کے لئے ان کے گھر خود چل کر نہیں گئے بلکہ لواحقین کو اپنے پاس بلا کر انہیں تعزیت عطا کی گئی ہے اوریہ فعل بھی وڈیرا سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔۔۔مسلم لیگ نون نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ شریف برادران کو لواحقین نے اپنے گھر آنے سے خود منع کیا تھا اور وہ سکیورٹی وجوہات اور لواحقین کے مشورے پر تعزیت کے لئے ان کی رہائشگاہ پر نہ جا سکے ۔۔۔سبب جو بھی ہو ایم کیو ایم کو شریف برادران کے لواحقین کے پاس تعزیت کے لئے خود چل کر نہ جانے پر دکھ ہوا ہے جبکہ الطاف بھائی کی جانب سے تعزیت کے لئے لواحقین کے پاس خود چل کر نہ جانے اور نہ ہی انہیں اپنے پاس بلا کر تعزیت پیش کرنے پر پوری قوم کو شدید رنج پہنچا ہے۔۔۔ حالانکہ ٹیلی فونک تعزیت کا جو مقام ہے اس کے فضائل پر پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے۔۔۔!
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں