”خمیرہ حُبِ کرپشن“ تو امراض کا علاج نہیں

رفیق ڈوگر ـ 26 اگست ، 2010
ایسا تو نہیں دکھتا کہ پیر کرامات کی جرنیلوں کو ”آ بھی جاﺅ کہ جی نہیں لگتا“ کی دعوت کسی امریکی عہدیداری کی حاضری کا نتیجہ ہے۔ یہ ایک چھوٹی سی خبر آپ نے بھی پڑھی ہو گی نہیں پڑھی تو پڑھ لیں اور جو جاننا چاہے اسے بتا اور سنا دیں۔ خبر نوائے وقت میں 22 جولائی کو شائع ہوئی تھی ”واشنگٹن (ریڈیو مانیٹرنگ) امریکی صدر اوباما نے افغانستان اور پاکستان کی حکومتوں کو مستحکم کرنے کے لئے ایڈ آفس کے قیام کا حکم دے دیا ہے“ بارک حسین اوباما تو پاکستان کی حکومت کو مزید مستحکم کرنے کے لئے خصوصی دفتر قائم کر رہے ہوں اور ان کے کوئی سفارتی افسر لندن میں پیر کرامات کا جی بہلانے کے لئے ان کی جرنیلوں کی یادیں تازہ کریں؟ مانتا ہے آپ کا دل ناتواں؟ الطاف حسین کا این آر او شاہ کی شاہی میں حصہ داری سے جی کیوں نہیں بھرتا؟ وہ وفاق میں اس شاہی کے اتحادی ہیں سندھ میں شامل حکمرانی ہیں۔ سندھ کی گورنری کے مالک ہیں پھر بھی ان کا جی بھرتا یا لگتا نہیں تو اس کی کوئی معقول وجہ تو ہو گی ہی۔ ہم پڑھتے ہیں کہ این آر او شاہ جی کی جمہوریت کے چیف ترین ایگزیکٹو نے روز رفتہ ان وجوہ کے بارے میں اپنے قبلہ شاہ جی سے خصوصی ملاقات کی تھی اور الطاف حسین کی اداسی کے اسباب معلوم کرنے کے لئے ان کے مریدین یعنی جماعت والوں سے بات کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ اس اتفاق کے حوالے سے روز رفتہ ہی انہوں نے یعنی سید اور گیلانی یوسف رضا نے فرمایا تھا کہ ”پتہ نہیں الطاف حسین نے کس سیاق و سباق میں بیان دیا ہے“ یعنی پیر گیلانی اور ان کے پیرزرداری مل کر بھی اس ملاقات میں الطاف کے بیان کا سیاق و سباق تلاش نہیں کر سکے تھے۔ ان کے شاہ این آر او کی رازدان خصوصی ہمارا مطلب حکومتی رازوں کی رازداں فوزیہ وہاب کا یہ فرمان اسی روز کے اخبار میں شائع ہوا تھا کہ ”ایم کیو ایم اتحادی جماعت ہے ان کی رائے کا احترام کرتے ہیں“ کس رائے کا احترام کرتے ہیں؟ اس رائے کا جس کے سیاق و سباق کا ابھی تک سید اور گیلانی یوسف رضا کو کچھ پتہ ہی نہیں چل سکا یا اس رائے کا جس پر اہل ن تڑپ پھڑک رہے ہیں؟ قابل ڈیڑھ سو احترام قمرالزماں کائرہ صاحب فرماتے ہیں کہ ”چودھری نثار علی نے تعلقات خراب کرنے کی ٹھان رکھی ہے“ یعنی وہی تعلقات جن کا این آر او شاہ جی کی ترجمان خصوصی اس بیان کے باوجود احترام کرتی ہیں؟ ہمیں کچھ پلے نہیں پڑا اس لئے کہ جب ایوان صدر کا مکیں اپنے اتحادی کے خیالات کا احترام کرتا ہے ان کے وزیراعظم کو ابھی تک اس بیان کے سیاق و سباق کا ویسے ہی پتہ نہیں چل سکا جیسے 18ویں ترمیم کے نفاذ کے بعد سے ابھی تک انہیں اپنے اختیارات کے سیاق و سباق کی سمجھ نہیں آ سکی تو اس بیان پر اہل ن کیوں اتنا تڑپ پھڑک رہے ہیں؟ کچن میں اور کھانے پینے کی میز پر برتن ورتن ٹکرا ہی جایا کرتے ہیں ن لیگ والے کیوں ان کے گھریلو تعلقات خراب کرنے کی ٹھانے پھرتے ہیں؟ پیر کرامات نے فرمایا کیا تھا؟ یہی تو کہا تھا کہ کرپشن اور جاگیرداری ملک کی بقا کے لئے خطرہ بن گئی ہے۔ کس کی کرپشن اور کون سی کرپشن؟ اندر کے بھیدی الطاف حسین جس کسی کی اور جن کی کرپشن سے تڑپ پھڑک رہے ہیں کیا اہل ن بھی ان میں شامل ہیں خدا ہی نخواستہ جو وہ این آر او سے بھی زیادہ پھڑک رہے ہیں اتنے زیادہ کہ سارے زمانے کے چاند کو بھی اس تڑپ کی وجوہ صاف دکھائی دینے لگی ہیں۔ اداسی پیر کرامات کی، کرپشن کسی اس کی جس کے وہ رازداں ہیں اور بدنامی بے چارے جرنیلوں کی اصل معاملہ تو یہ ہونا چاہئے کہ ن لیگ کے چودھری نثار علی خاں ایوان میں یہ قرارداد پیش کریں کہ ایوان ایک کمیٹی بنائے جو یہ تحقیق کرے کہ کیا وہ الزامات درست ہیں جو پیر کرامات نے لگائے ہیں؟ ان الزامات کو گول کر جانا اور جرنیلوں کا نام لینے پر تڑپنا پھڑکنا پھڑک کر تڑپنا کیوں؟ کرائیں اہل ن اور پارلیمنٹ والے ان الزامات کی تحقیق اور باندھیں اپنی انڈے بچے دینے والی جمہوریت میں کرپشن کے سونامی کے آگے بند ایسا تو وہ کر نہیں سکے کر نہیں سکتے اور آئین آئین کے پہاڑے گاتے پھر رہے ہیں۔ کیوں؟ اس لئے کہ ان کی جمہوریت میں وہ سب کچھ جائز ہے جس کا درد رویا ہے پیر الطاف حسین نے یا اس لئے کہ ان میں اس کرپشن وپشن کو روکنے کی تو کیا اس کا نام تک لینے کی بھی جرات نہیں اور کسی اور کی طرف سے اس کا نام لینے سے بھی ان کے جمہوری ضمیر میں آئین و قانون کا درد ٹھاٹھیں مارنا شروع کر دیتا۔ ہم خدا ہی نخواستہ گول دائرے میں سفر کا کوئی جواز پیش نہیں کر رہے عرض و غرض صرف اتنی ہے کہ وہ جو محاورہ ہے کہ ”انجانا بات کرے اور سیانا اس پر غور کرے کہ انجانا کوئی دکھ کیوں رو رہا ہے؟“ سارے اہل خدمت و سیاست ایسے غور کے بھی قابل نہیں رہے؟ اور پھر پیر کرامات تو کسی بھی حوالے سے ”انجانا“ نہیں۔ کیا ملک میں جمہوریت ہے؟ جمہوریت کے نام پر وجود میں آئے ادارے جمہوری اصولوں پر چل رہے ہیں؟ وہ ادارے ملک کی حکومت کو جمہوری آئینی اصولوں کا پابند کر کرا سکے ہیں؟ اگر نہیں تو ان کے اس این آر او جمہوریت کے ”جمہوریت کی نتھ کبھی نک تے کبھی ہتھ“ ہی بنے رہنے سے کیا فرق پڑا ہے ملک کو اور اس کے عوام کو؟ ہے کوئی فرق وردی شاہ کی جمہوریت میں اور بے وردی شاہ کی جمہوریت میں؟ اصل مسئلہ جمہوریت کو جمہوریت بنانے کا ہے آئین و قانون کی پابندی اور ملک اور اس کے عوام کی غمخوار جمہوریت بنانے کا ہے اس کے دامن سے کرپشن کے داغ دھبے دھونے کا ہے۔ اس طرف دھیان دیں اور اس جمہوریت کو ”خمیرہ حُبِ کرپشن“ کھلانے سے توبہ کر لیں۔ علاج بالغذا سے نہ اس جمہوریت کی صحت بحال ہوئی ہے نہ ہو سکتی ہے۔ تڑپنے پھڑکنے پھڑک کر تڑپنے سے اس مرض کا علاج ہوا ہے نہ ہو سکتا ہے۔ آخر ایوان صدر کا شاہ کیوں نہیں تڑپا پھڑکا اس بیان پر؟ اس لئے کہ اوباما نے دفتر بنا دیا ہے اور ان کی شاہی کے پیل پایوں نے بند وند تڑوا کر حفاظتی انتظامات نہ کرکے اور خود انہوں نے کیمرون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر فوج کو
اتنے بحرانوں میں پھنسا دیا ہے کہ بقول ان کے اپنے ہی اس وجہ سے فوجی بغاوت کا امکان نہیں تو کیا اہل ن شون کو بھی این آر او شاہ کے اس اطمینان کا سیاق و سباق بالکل ہی سمجھ نہیں آیا؟ اور وہ خمیرہ حُبِ کرپشن کے استعمال سے ہی اپنی ہر قسم کی دماغی جسمانی جمہوری جی حضور کی کمزوری دور کرنا چاہتے ہیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں