غیرت و حمیت کی تاریخ

پروفیسر محمد مظفر مرزا ـ 26 اگست ، 2010
ملت اسلامیہ کی تاریخ غیرت و حمیت کی تاریخ سے موسوم کی جاتی ہے ایک وقت تھا کہ مسلمانوں کے تمام ممالک ایک دوسرے کے ساتھ باہم ہر طرح کا اشتراک عمل رکھتے تھے خواہ وہ اشتراک علمی، سیاسی، ملی اور تجارتی ہی کیوں نہ ہو آج صورت احوال یہاں تک آ پہنچی ہے کہ اُمت اسلامیہ کی اجتماعی غیرت اور حمیت ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ اٹھارویں اور انیسویں صدی میں مسلمان ریاستیں فرنگیوں کی غلام ہونا شروع ہوئیں تو ان کے باہمی روابط ہمیشہ کے لئے کٹ گئے اور بیسویں صدی کے آغاز سے ہی خوفناک زوال شروع ہو گیا۔ یہ تکلیف دہ امر ہے کہ فرنگیوں نے پاسپورٹ نافذ کئے اور ملت اسلامیہ کے تجارتی قافلوں پر پابندی عائد کر دی۔ حضرت جمال الدین افغانیؒ نے ان کو جگانے کی کوشش کی اور پین اسلام ازم کا نعرہ لگا کر ملت اسلامیہ کے رگ و ریشے میں آگ لگائی لیکن ملت ابھی تک ہوش میں نہیں آ سکی۔ پاکستان جوکہ ملت اسلامیہ کا ایک اہم ترین حصار اور انحصار بن کر معرض وجود میں آیا تھا لیکن اسے نہ فرنگیوں نے تسلیم کیا اور نہ ہنودویہود نے بلکہ اس کے خلاف گھناونی اور خطرناک سازشوں کا طوفان کھڑا کر دیا گیا لیکن ہمارے پاکستانی احوال و کیفیات کو پرکھا جائے تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے اپنے اعمال و افعال کی روشنی میں آزمائشوں سے ہمکنار کیا ہے جس میں بدعنوانیوں کی جلوہ افروزیاں ہیں کرپشن کی لامتناہی طغیانیاں ہیں، ناانصافیوں کی بلاخیز آندھیاں ہیں اور سیلابوں نے عذابوں کی شکل اختیار کرکے عبرتناک سبق سے ہمکنار کر دیا۔ جب کسی قوم کے حکمران بدقماش کرپٹ اور ظالم ہو جائیں تو دھرتی یا زلزلے اُگلتی ہے یا پانی سیلابی شکل میں قیامت کا منظر پیش کرتا ہے۔ پاکستان عزم عالیشان کی موجودہ کیفیات کے پیش نظر دو کروڑ افراد اپنے گھروں سے بے گھر ہو گئے ہیں ان کے مال مویشی سیلاب کی نذر ہو گئے ہیں۔ سیلاب ہے کہ ٹھہرنے کا نام نہیں لے رہا۔ اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو قوم بے حس اور بے پرواہ نظر آ رہی ہے۔ سیاست کاران وطن اور حکمرانان جلوہ افروز باہمی سیاسی الجھنوں میںاور لایعنی مصلحتوں کا شکار ہیں۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ خانماں برباد پاکستانی کب اور کیسے اپنی بحالی کے حوالے سے مطمئن ہوں گے۔ مجھے یہاں یہ بات کہنے میں باک محسوس نہیں ہوتا کہ سوائے پاکستانی افواج اور نوائے وقت گروپ کے قوم کا کوئی ادارہ موثر امور انجام نہیں دے رہا اور سیلاب کے ختم ہونے کے بعد جو حالات پیدا ہوں گے وہ مہنگائی افراتفری اور انتشار کا باعث بنیں گے۔ اُجڑے ہوئے لوگ پھر دوسروں کو بھی بے چین کریں گے اور خانہ جنگی کا سماں پیدا ہو گا۔ پاکستان پہلے ہی دہشت گردی کا شکارہے اور سیلاب بلاخیز کے دوران بھی اس دہشت گردی میں ٹھہراو نہیں آیا جو ان خانماں برباد افراد کو بھی شامل کرے گا اور ملک کی سالمیت کے لئے خطرناک صورتحال پیدا ہو گی۔ انتہائی شرمناک مرحلہ ہے کہ وہ دشمن جوہر لمحہ پاکستان کو نیست و نابود کرنے کے طریقے تیار کر رہا ہے اس سے پچاس لاکھ ڈالر کی امداد لینا کتنی بڑی بے غیرتی و بے حمیتی کا ثبوت ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں