جاپانی اپنے ثقافتی ورثہ پر فخر کرتے ہیں
محمد مصدق ـ 26 اگست ، 2010
ثقافتی روایات کسی ملک کی تعمیری توانائی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ جاپان ترقی پذیر ممالک کے لئے اس لئے رول ماڈل ہے کہ جاپانیوں نے اپنی ثقافتی روایات و ورثہ کے ساتھ زبان کو بھی معاشی ترقی کے لئے استعمال کیا۔ جاپانیوں نے ثابت کر دیا کہ ہر قوم اپنی زبان میں بھی ترقی کر سکتی ہے ضروری نہیں ہے کہ وہ سامراج کی زبان اور ثقافت کو اپنائے۔ دنیا کا ہر علم جاپانی زبان میں موجود ہے اور جاپان سے بزنس کرنے والی قوموں کے افراد اپنے منافع کے لئے جاپانی زبان سیکھنے پر مجبور ہیں۔ حال ہی میں ادارہ ثقافت پاکستان یعنی نیشنل کونسل آف دی آرٹس کے ڈائریکٹر جنرل توقیر ناصر جاپان کے پندرہ روزہ مطالعاتی دورے کے بعد اسلام آباد پہنچے تو اپنے تاثرات نوائے وقت کو بتائے ”میرا دورہ جاپان فاونڈیشن کی دعوت پر تھا اور یہ ان کے کلچرل لیڈر پروگرام کا حصہ ہے۔ پاکستان میں سب سے بڑے ثقافتی ادارے کا سربراہ ہونے کی وجہ سے بطور پاکستانی کلچرل لیڈر مجھے پندرہ روزہ دورے کی دعوت دی گئی۔ جاپان روانگی سے پہلے انہوں نے میرے مشورے سے پورے پندرہ روز کا پروگرام ترتیب دے دیا تھا۔ صرف آرام‘ کھانے پینے اور سونے کے علاوہ تمام وقت فلم‘ ٹی وی‘ تھیٹر اور وژیل آرٹس کی شخصیات سے ملاقات اور ثقافتی اداروں کے مطالعاتی دوروں کے لئے مخصوص تھا۔ وہاں میں نے NHK ٹی وی کے علاوہ مختلف تھیٹروں میں ڈرامے دیکھے۔ آرٹ اور ثقافت کی قدآور شخصیات سے ملاقات کی۔ ٹوکیو یونیورسٹی میں اردو زبان کے شعبہ میں بھی گیا کیونکہ ٹوکیو میں ایک جاپانی اردو زبان اتنی دلچسپی لے کر پڑھاتا ہے کہ پچھلے دنوں وہ اپنا ایک اردو ڈرامہ ہیروشیما لے کر پاکستان بھی آئے تھے اور اپنی جاندار پرفارمنس اور برجستہ مکالموں پر تماشائیوں سے بھرپور داد بھی وصول کی تھی۔ میں نے اردو کے شعبہ کو دعوت دی ہے کہ وہ نیا ڈرامہ لے کر پاکستان آئیں تو ہمیں بہت خوشی ہو گی اور تمام سہولتیں فراہم کریں گے۔ مختلف اداروں کے مطالعاتی دورے میں بہت کچھ حاصل کیا لیکن انیمیشن اور کارٹون کے مانگا میوزیم میں جا کر بہت خوشی ہوئی۔ اس میوزیم میں کارٹون اور انیمیشن کے حوالے سے پوری تاریخ کو محفوظ کیا گیا ہے۔ جاپانی فیئر بہت مقبول ہے اور دو تین ہزار کا ہال ہاوس فل ہوتا ہے۔ ٹکٹ میں لنچ بکس کی قیمت بھی شامل ہوتی ہے۔ تیس منٹ کے وقفے میں جاپانی مزے سے کھاتے پیتے ہیں لیکن اتنی صفائی پسند قوم ہے کہ کیا مجال ہے اگر ایک ٹشو پیپر بھی فرش پر گرے۔ کھانے پینے کے بعد سب کچھ شاپر میں ڈال کر ایک مخصوص جگہ پر پھینک آتے ہیں۔ مجموعی طور پر میں نے جاپان کے ثقافتی مطالعاتی دورے سے بہت کچھ سیکھا اور کوشش کروں گا کہ متعلقہ اداروں کی بہتری کے لئے کچھ تجاویز اور سفارشات اپنی وزارت ثقافت کو پیش کروں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں