شرم ان کو مگر نہیں آتی!
توفیق بٹ ـ 25 نومبر ، 2009
سترہ کروڑ عوام کا مشترکہ مطالبہ ہے این آر او یافتہ سیاستدانوں اور افسروں کو اپنے عہدوں سے فوری طور پر مستعفی ہو جانا چاہئے۔ دوسری طرف این آر او یافتہ سیاستدان اور افسران صدر مملکت کی سربراہی میں پوری ڈھٹائی سے ڈٹے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک غیرت مند نہیں جو عہدے پر عزت کو ترجیح دے۔ ان کا خیال ہے عہدہ نہیں رہے گا۔ تو عزت بھی نہیں رہے گی۔ یہ خیال کسی حد تک درست بھی ہے۔ وزارتوں شزارتوں کی وجہ سے عارضی طور پر جو عزت انہیں نصیب ہوتی ہے وزارتیں شزارتیں کھونے کے فوراً بعد اس سے یوں محروم ہو جاتے ہیں کہ پھر کوئی ان سے ہاتھ تک ملانا پسند نہیں کرتا۔ سو انہیں پتہ ہے۔ یہ جو دس بارہ لوگ روز انہیں ”آداب عرض“ کرنا فرض اولین سمجھتے ہیں وزارت سے محروم ہو گئے تو ان کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کریں گے۔ اسی لئے تو غیرت مندی کا مظاہرہ کرنے سے ان کی جان جاتی ہے مگر بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی کہ اب تو برا وقت ان کے باپ پر بھی آنے والا ہے!
کس قدر المیہ ہے ہمارے حکمران عوام کی بے پناہ نفرت کے باوجود ان پر مسلط رہتے ہیں ان سے پہلے کے تخت نشیں کی حالت یہ تھی کہ اس کے آخری دنوں میں ڈاک ٹکٹ پر اس کی تصویر چھاپنے کا فیصلہ ہوا تو لوگ سوچ میں پڑ گئے۔ ایسا ہوا تو ٹکٹ پر تھوک کس طرف لگائیں گے؟ اس کے باوجود وہ اپنے بارے میں ہونے والے ایسے تمام عالمی سروے مسترد کرتا رہا جس میں اسے ناپسندیدہ ترین حکمران قرار دیا جاتا تھا۔ وہ آخری وقت تک اسی خوش فہمی میں مبتلا رہا کہ عوام کی ایک بڑی اکثریت اسے پسند کرتی ہے۔ اور جو اب اس کی سیٹ پر براجمان ہے اس کی سوچ بھی مختلف نہیں وہ بھی اسی یقین میں مبتلا ہے کہ لوگ اب بھی اس کے صدقے واری جاتے ہیں۔ لوگ ضرور اس کے صدقے واری جاتے گر عوام کے لئے ویسی قربانیاں دینے کا جذبہ رکھتا جو اس کے سسرِ محترم اور زوجہ محترمہ نے دیں اور امر ہو گئے۔ بدقسمتی سے اب وہ ایسے مقام پر کھڑا ہے صدارت سے استعفیٰ دے بھی دے تو عزت نہ پائے گا کہ بے عزتی کے جو عالمی ریکارڈ اس نے قائم کئے ہیں اس کا ازالہ ممکن ہی نہیں۔
لوگ تو اب یہاں تک سوچتے ہیں کہیں بے عزتی کروانے کے اسے پیسے تو نہیں ملتے شہید بی بی سے محبت کرنے والے دکھی ہیں کہ ان کے شوہر محترم نے محض ڈیڑھ دو برسوں میں پارٹی کا وہ حشر کر دیا جو پارٹی کا بدترین دشمن جرنیل حکمران گیارہ برسوں تک ایڑی چوٹی کا زور لگا کر بھی نہیں کر سکا تھا۔ ہاں ایک ”کریڈٹ“ اسے ضرور جاتا ہے کہ ان ”مخالفین“ کو رام کر لیا کچھ عرصہ قبل تک جو اس کے بارے میں ایسا زہر اگلتے تھے یوں محسوس ہوتا تھا۔ صدارتی عہدے پر دنیا کا بدترین شخص براجمان ہے۔ کیا ”انقلابی تبدیلی“ ہے آج فرماتے ہیں ”صدر این آر او سے ماورا ہے“ چلئے ان کے اس عمل سے قلم کار کا موقف تو ثابت ہو گیا کہ اقتدار کے شاہی حمام میں سبھی سیاستدان ننگے ہیں جن کے تن پر کپڑے دکھائی دئیے من کے وہ بھی ننگے نکلے۔ اچھا ہوا عوام نے آزمائے ہو¶ں کو ایک بار پھر آزما لیا اور میرے خیال میں یہ عوام کی آخری ”آزمائش“ ہے۔ اس کے بعد باہر سے اندر آنے والے اور اندر سے باہر جانے والے ”ڈیلر“ یہ سمجھیں کہ عوام کو پھر سے بے وقوف بنا لیں گے تو میرے خیال میں ان سے بڑا بے وقوف کوئی نہیں!
ان لوگوں پر بھی حیرت ہے جو امید باندھے بیٹھے ہیں کہ این آر او کی فہرست میں شامل ”معززین“ اپنے اپنے عہدوں سے مستعفی ہو جائیں گے اور اس وقت تک مستعفی رہیں گے۔ جب تک عدالتیں ان کے حق میں کوئی فیصلہ نہیں کر دیتیں۔ کیا ملک کی ”روشن تاریخ“ میں ایک مثال بھی ایسی موجود ہے کسی افسر یا سیاستدان پر کوئی الزام لگا ہو اور وہ مارے شرم کے مستعفی ہو گیا ہو؟ یہ کوئی ناروے ہے جہاں ایک وزیر پر الزام لگا کہ اس نے سرکاری لیٹر پیڈ کا ایک صفحہ ذاتی مقصد کے لئے استعمال کر لیا ہے تو اس نے نہ صرف کھلے دل سے اعتراف ”جرم“ کر لیا بلکہ عہدے سے استعفیٰ بھی دے دیا۔ تو جناب یہ ہوتے ہیں معاشرے اور ان میں بسنے والے افراد جن کی دنیا قدر بھی کرتی ہے۔ کبھی سنا ہے ناروے میں کسی نے باپ کا مال سمجھ کر قرضہ لیا ہو اور دادے کا مال سمجھ کر ہڑپ کر لیا ہو؟ کسی وزیر مشیر کا بچہ وہاں کے کسی کالج یا یونیورسٹی میں آﺅٹ آف میرٹ داخل ہو گیا ہو اور غریب کا بچہ میرٹ پر ہونے کے باوجود داخلے سے محروم رہ گیا ہو؟ حکومتی عہدہ حاصل کرنے سے پہلے کوئی کنگال ہو اور حکومت میں آنے کے بعد دوسرے بڑے نمبر کا دولت مند بن جائے تو کوئی تیسرے بڑے نمبر کا؟ ایک ہی جرم میں ایک کو سزا سنا دی جائے اور دوسرا باعزت بری ہو جائے؟.... جی نہیں وہاں ایسے نہیں ہوتا‘ اس لئے وہاں دہشت گردی بھی نہیں ہوتی۔ جس معاشرے میں انصاف نہیں ہو گا‘ قانون کی حکمرانی نہیں ہو گی‘ جس کے حکمران لوٹ مار کی دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوششوں میں مصروف ہوں گے وہاں دہشت گردیاں اور وحشت گردیاں نہیں ہوں گی تو کیا ہو گا؟۔
اسلام کے نام لیوا بتائیں کون سی حدیث پاک یا آیت مبارک ایسی ہے جس میں فرمایا گیا ہو غریب جرم کرے تو اُسے اُلٹا لٹکا دیا جائے اور صدر‘ وزیراعظم یا وزیروں شذیروں پر کوئی قانون لاگو نہ ہو؟ ”سرکاری لٹیروں نے“ حجة الوداع کے موقع پر نبی پاک کا یہ فرمان بھی یقیناً نہیں سنا ہو گا کہ ”اسلام میں کسی عربی کو عجمی پر ‘ کسی عجمی کو عربی پر‘ کسی کالے کو گورے پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئی فضلیت نہیں سوائے تقویٰ کے“۔ یہ واقعہ بھی یقیناً نہیں سنا ہو گا کہ قبیلہ بنو مخزوم کی فاطمہ نامی عورت نے چوری کی تو نبی پاک نے سزا کے طور پر اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ اُسامہ بن زیدؓ سفارشی بن کر تشریف لائے تو آپ نے فرمایا ”تم سے پہلی قومیں اس لئے برباد ہوئیں جب اُن کا کوئی بڑا جرم کرتا تو اُسے چھوڑ دیا جاتا اور جب کوئی معمولی آدمی جرم کرتا تو اُسے سزا دی جاتی۔ قسم ہے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو میں اُس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا“۔ تو جناب جس وجہ سے ہم سے پہلی قومیں برباد ہوئیں اُسی وجہ سے ہم کیسے آباد ہو سکتے ہیں؟ آباد اب صرف ایک ہی صورت میں ہوا جا سکتا ہے کہ جن سیاستدانوں‘ افسروں اور طاقتوروں نے دونوں ہاتھوں اس ملک کو بار بار لوٹا اُن کے چیر پھاڑ کر کے لوٹا ہوا سارا مال برآمد کیا جائے۔ جنم جنم کے لٹیروں کو اب کوئی ریلیف ملا تو سترہ کروڑ بھیڑبکریوں کے لئے تکلیف کا ایسا دور شروع ہو گا جو شاید کبھی ختم نہ ہو سکے!
عجب رسم ہے چارہ گروں کی بستی میں
لگا کر زخم نمک سے مساج کرتے ہیں
غریب شہر توترستا ہے اک نوالے کو
امیر شہر کے کتے بھی راج کرتے ہیں!
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں