میمو کی غائبانہ نماز جنازہ !

طیبہ ضیاء ـ 25 جنوری ، 2012
صدرکے استثنیٰ کو آئینی، جائز اور (حلال) قرار دینے والے نہ صرف کرپٹ صدور کو محفوظ راستہ دینے کے قائل ہیں بلکہ استثنیٰ کے ناقدین کو کبھی طالبان اورکبھی آئین کے مخالفین قرار دیتے ہیں۔استثنیٰ کے حامیان کا کہنا ہے کہ حضرت عمر ؓ کے عدل و انصاف یا اسلامی فقہ و قانون کی مثالیں دےنے والے صدر کے استثنیٰ کو غیر اسلامی ثابت کرنا چاہتے ہیں،یہ لوگ ملک میںطالبان کا نظام لانا چاہتے ہیں۔آج نہ تو حضرت عمر فارق ؓ کا زمانہ ہے اور نہ پندرہ صدیاں پہلے والے مسلمان ہیں لہذااستثنیٰ کو ناجائز قرار دینے والے ”غیرت بریگیڈ“ آئین کے مخالفین ہیں۔ اسلام کی بات کرنے والوں کو غیرت بریگیڈ“ کا نام دینے والے ”بے غیرت بریگیڈ“ کا یہ بھی کہنا ہے کہ نبی کریم ﷺ اور صحابہ ؓ کے ادوار میں لوگ پڑھنا لکھنا نہیں جانتے تھے لہذا آئین نہ بنایا جا سکا، آئین کا نظام بعد کے زمانوں میں رائج ہوا وغیرہ۔۔۔!
دور حاضر کے یہ پڑھے لکھے صحافی اور سیاستدان کہتے ہیں اسلام کی بات کرنے والے استثنیٰ کو غلط ثابت کرنے کے لئے اسلام میں سے من پسند حوالے نکال لاتے ہیں۔۔۔ درحقیقت پاکستان کی سیاست میںمختلف ادوار میں مختلف قسم کے ”پالتو“ رہے ہیں۔ یہ وہ طبقہ ہے جس کے سامنے جو ”ہڈی“ پھینک دے، یہ اسی کے سامنے دم ہلانے لگتے ہیں۔ اور صدر زرداری سے زیادہ ”تکڑی ہڈی“ پھینکے کی مہارت کوئی نہیں رکھتا۔ اسلام کو ”نظریہ ضرورت“ کے تحت استعمال کرنے میں زرداری حکومت طالبان کو بھی پیچھے چھوڑ گئی ہے۔ اس کی حالیہ مثال امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کی رہائی ہے۔ دو پاکستانی شہریوں کے مبینہ قتل میں ملوث امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس کو اسلامی شق ”دیت“ کی آڑ میں رہا کر دیا گیا۔ پاکستان کے ”مقدس آئین“ میں مبینہ قاتل کی رہائی کی شق موجود نہ تھی لہذا ”قرآنی آئین“ کا سہارا لیا گیا۔ ”دیت“ اور ”استثنیٰ “ کی شقوں کا ناجائز استعمال اسلام سے مبینہ بغاوت ہے۔ صدر پاکستان کو جان کا خطرہ لاحق ہو جائے تو غیر اسلامی شق کو آڑ بنا لیتے ہیں اور جب اقتدار کو خطرہ لاحق ہو جائے تو اسلامی شق کو جواز بنا لیتے ہیں
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا
غیر مسلم، غیر ملکی، قاتل اور جاسوس کو رہا کر کے ”پاکستانی ڈالر کی خاطر اپنی ماں بھی بیچ سکتا ہے“ امریکی قول کو سچ ثابت کر دیا جبکہ استثنیٰ کو آڑ بنا کر پورا پاکستان ہی بیچ دیا۔ ”مردِ حُر“ آصف علی زرداری کے بارے میں علامہ اقبال ؒ پیش گوئی کر گئے تھے کہ
بھروسا کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پر
کہ دنیا میں فقط’ مردانِ حُر‘ کی آنکھ ہے بینا
مردِ حُر کی” بصیرت“ محض ”دیت اور استثنیٰ“ تک محدود نہیں رہی، میمو کیس کو بھی ”مک مکا“ کی نذر کر کے دم لیا۔ عوام کی شدید مخالفت کے باوجود ریمنڈ ڈیوس کو چھوڑ دیا گیا۔ ریمنڈ ڈیوس پر جاسوسی کا بھی الزام تھا مگر امریکہ اسے جاسوس ماننے سے انکار کرتا رہا۔آج پاکستان میں حسین حقانی پر غداری کا الزام ہے مگر حکومت اسے غدار ماننے سے انکار کررہی ہے۔امریکہ نے ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے لیے زرداری حکومت سے مدد مانگی ،آج زرداری حکومت حسین حقانی کی رہائی کے لئے امریکہ سے مدد مانگ رہی ہے۔ زرداری حکومت نے امریکنوں سے کہا کہ کل آپ کا بندہ پاکستانیوں کی نظر میں جاسوس تھا لیکن ہم نے رہا کر دیا ،آج ہمارا اپنا بندہ پاکستانیوں کی نظر میں غدار ہے ،آپ اسے چھوڑ دیں۔ ۔۔لہذا منصور اعجاز کو پاکستان جانے سے روک دیا گیا اور یوں اندر کھاتے میمو کا معاملہ بھی ”مک مکا“ کی نذر ہو گیا۔رحمان ملک نے بھی منصور اعجاز کو قبر کے تختے تک پہنچا نے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔رحمان ملک کی صلاحیتوں کے حسین حقانی بھی گرویدہ ہو گئے ہیں۔مَلک ایک منجھا ہوا کردار ہے۔اسے جو بھی ڈیوٹی دی جائے ،کرکے دکھاتا ہے اور پھر بڑی ہوشیاری سے پتلی گلی سے نکل جاتا ہے۔رحمان ملک فقط دھمکیاں نہیں دیتا ،کر کے بھی دکھاتا ہے۔اس کی کارکردگیوں کی فائل وائٹ ہاﺅس کی اسی دراز میں رکھی ہے جس دراز میں (مسٹر ہنڈرڈ پرسنٹ) کی فائل موجود ہے۔ امریکہ ”بِگ باس“ ہے۔ ریمنڈ بھی اس کا تھا، مَلک بھی اس کا ہے، اسی کے ہیں یہ سارے یار۔۔۔ جنرل کیانی نے میمو رنڈم کو ”حقیقت“ قرار دیا۔ حقیقت کو ثابت کرنے کے لئے منصور اعجاز کا بیان بیرون ملک سے بھی لیا جا سکتا ہے، اس کے لئے منصور اعجاز کا پاکستان آنا لازمی نہیں۔ جس ملک میں بے نظیر بھٹو کی جان محفوظ نہیں تھی، وہاں منصور اعجاز کے خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ محترمہ کو آستین کے سانپوں نے قتل کیا جبکہ منصور اعجازکو اپنے قاتل صاف دکھائی دے رہے ہیں۔ موت کے کنوئیں میں جان بوجھ کر کوئی چھلانگ نہیں لگاسکتا البتہ پاک فوج میمو گیٹ کو کیفر کردار تک پہنچانے میں سنجیدہ ہے تو منصور اعجاز سے شواہد حاصل کئے جا سکتے ہیں ۔اس سے پہلے کہ میمو کیس دفن کر دیاجائے اس کی غائبانہ نماز جنازہ اداکر لی جائے۔
میمو کیس کی نماز جنازہ کی امامت کی ذمہ داری میمو کی میت کو کاندھا دینے والے اہم کردار میاں نواز شریف کو سونپ دی جائے مگر موقع کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے میاں صاحب پھر لندن جا بیٹھے ہیں لہذا امامت کا فریضہ جنرل کیانی کو ادا کرنا ہو گا۔ ریمنڈ ڈیوس، میمو گیٹ، این آر او۔۔۔کے لئے ایک ہی نماز جنازہ کافی ہے! حسین حقانی کی اہلیہ فرح ناز اصفہانی کی صحت یابی کے لئے بھی دعا کی جائے جو امریکی شہری ہوتے ہوئے بھی گھبراہٹ کاشکار ہے۔ امریکہ کو مسلسل یقین دلانے کی کوشش کر رہی ہے کہ اسے اور اس کے شوہر کی جان کو خطرہ ہے۔ پاکستانی ایجنسیوں کے خلاف بیان دئیے اور پھر تردید کر دی۔
حالانکہ اس کے شوہر کا باڈی گاڈ رحمان ملک ہے ۔میمو رنڈم کیس کو دبانے میں ہی سب کا فائدہ ہے کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں!
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں