امجد فرزند کا حیرت انگیز کارنامہ

محمد مصدق ـ 25 جنوری ، 2010
پاکستان کی فلم انڈسٹری میں آغا جی اے گل اور چودھری فرزند علی کی خدمات حیرت انگیز ہیں۔ جب پاکستان بنا تو فلم انڈسٹری کی حوصلہ افزائی کے لئے آغا جی اے گل نے ایورنیو سٹوڈیو بنایا جہاں فلمسازوں کو حیرت انگیز سہولتیں دستیاب تھیں۔ یعنی مزے سے اپنی فلم بنائیں اور فلم لگانے کے بعد پیسے ادا کریں۔ چودھری فرزند کا کمال یہ تھا کہ جہاں کسی فلمساز کے پاس سرمایہ ختم ہو جاتا اور فلم درمیان میں پھنس جاتی تو میاں فرزند فوراً اسے سرمایہ فراہم کر دیتے اور فلمساز فلم کی نمائش کے بعد ادائیگی کر دیتا۔ لیکن اچھا زمانہ ہمیشہ نہیں رہتا۔ کچھ نادانوں کی غلط حکمت عملی اور بدقسمتی سے پاکستانی فلم انڈسٹری زوال کا شکار ہو گئی اور اب اردو پنجابی کی اتنی فلمیں نہیں بنتی جتنی پستو کی بنتی ہیں کیونکہ پشتو فلموں کو عرب امارات میں ایک اچھی مارکیٹ مل گئی ہے۔
پاکستانی فلم انڈسٹری کو خواب غفلت سے جگانے کے لئے چودھری فرزند کے ہونہار صاحبزادے میاں امجد فرزند نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر تمام تنظیموں کے اہم ارکان کو اکٹھا کر کے یونائیٹڈ فلم ایسوسی ایشن آف پاکستان قائم کی جس کی تقریب حلف برداری پی سی ہوٹل میں ہوئی اور وفاقی وزیر سردار آصف علی نے حلف لیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر رانا ثناءاللہ نے بھی بہت اچھی تقریر کی۔ پنجاب حکومت کی طرف سے ملکی دعوت دی کہ وہ اپنے پنجاب حکومت کے دائرہ اختیار میں مسائل لے کر آئیں وہ فوراً حل کر دئیے جائیں گے۔ دوسری طرف وفاقی حکومت کی طرف سے سردار آصف علی نے بھی مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔ مصطفٰی قریشی نے کہا ”بھارتی فلمیں کسی قانون اور پالیسی کے تحت نہیں دکھائی جا رہیں“۔ ویسے مجموعی طور پر پوری محفل نے انڈین فلموں کی یک طرفہ نمائش کے خلاف گفتگو کی۔ فلمسٹار شان نے جدید سہولتوں اور ٹیکنالوجی کے استعمال پر زر دیا۔ ریما نے خوشخبری سنائی کہ اس کی نئی فلم کو وارد نے سپانسر کر لیا ہے۔ شائد اسی وجہ سے کمپنی نے اسے اپنا برانڈ ایمبیسیڈر مقرر کیا ہے۔ غلام محی الدین نے بتایا کہ یونائیٹڈ فلم ایسوسی ایشن فلمیں بھی بنائے گا اور اس مقصد کے لئے فنڈ اکٹھے کئے جائیں گے۔ سردار آصف علی نے پرانی فلموں کا ذکر کیا کیونکہ حلف برداری کی تقریب میں پرانی فلموں کی جھلکیاں دکھائی گئی تھیں اور خوشی ہوئی جب نور جہاں کو دیکھ کر حاضرین نے تالیاں بجائیں۔ ویسے بعد میں اتنے اچھے اچھے سین اور گانے اور فنکار آئے کہ حاضرین بے ساختہ تالیا بجا کر داد دیتے رہے اور کہتے رہے کہ پاکستان میں پہلے کتنی معیاری فلمیں تخلیق ہوتی تھیں۔ ناصر ادیب نے اپنی تقریر میں رائٹر کی اہمیت بیان کی۔ آخر میں میاں امجد فرزند نے نوائے وقت کو بتایا ”پوری انڈسٹری کے نمائندے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو گئے ہیں۔ اب امید پیدا ہو گئی ہے کہ 2010ء پاکستانی فلموں کی بحالی کا سال ثابت ہو گا۔ امید کی کرن نظر آگئی ہے“۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں