حلف ہم نے پڑھا ہے‘ اٹھایا نہیں
اسکو عہدے کا مقصد بنایا نہیں
ایسی تحریر میں ہو گی تاثیر کیا
کوئی بھی حرف دل پر لکھایا نہیں
ہم وہ کرتے ہیں جو دل ہمارا کہے
دل کو شرمندگی سے بچایا نہیں
حق جنہوں نے دیا حکمرانی کا وہ
سچ کبھی پوچھ لیں‘ تو بتایا نہیں
ہم کو بس‘ عیش اور کیش سے ہے غرض
قرض سر پر چڑھا جو چکایا نہیں
چھوڑ جائیں گے اک روز اس ملک کو
ہاتھ آنے دو جو مال آیا نہیں
ہضم ہو تو چکی زلزلے کی رقم
ابھی ”سیلابی چورن“ تو کھایا نہیں
ایم این اے بن گئے بیٹے اور بیٹیاں
ابھی پوتا سیاست میں آیا نہیں
ہیں کہاں سارے دنیا میں ایسے عوام
موت آئی جنہیں جینا آیا نہیں
یہ اجڑتے رہے اور روتے رہے
ہم نے ان کو بسایا‘ ہنسایا نہیں
ہم نے لوٹا ہے ان کو ترسیٹھ برس
کوئی ہم کو کٹہرے میں لایا نہیں
لوگ تاریک راہوں میں مرتے رہیں
اس لئے ان کو سورج دکھایا نہیں