سانحہ سیالکوٹ۔۔۔حکومت کا امتحان

طیبہ ضیاء ـ 25 اگست ، 2010
سیالکوٹ میںکبھی ثانیہ شعیب کی ڈولی لانے پر بھنگڑے ڈالے جاتے ہیں۔ اس کے سر پر سونے کا تاج سجاتے ہیں۔خوشیاں مناتے ہیں اور کبھی وحشیانہ کھیل کھیلے جاتے ہیں۔ درندگی کا سر عام نظارہ کرتے ہیں۔۔۔؟ سیالکوٹ کے ایک چوراہے میں موت کا اندوہناک منظر پوری دنیا نے دیکھا۔ ایک انڈین نے حیرانی سے پوچھا کہ، یہ وہی شہر ہے ناں جہاں ٹینس کی کھلاڑی ثانیہ مرزا بیاہ کر گئی تھی۔۔۔؟دنیا بھی سوچتی ہے کہ یہ کیسی عجیب قوم ہے۔کیسا خوفناک ملک ہے جس کی گلی اورسڑکوں پر کھلے عام دہشت گردی ہو رہی ہے اور کوئی قانون نہیں بلکہ قانون کے محافظ دہشت گردی کا باقاعدہ حصہ ہیں۔سیالکوٹ میں بہیمانہ واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے جب ”شہر اقبال“ بولا جاتا ہے تو دل پھٹنے لگتا ہے۔ براہ مہربانی جب بھی سیالکوٹ کے کسی شرمناک واقعہ کا تذکرہ ہو صرف شہر کا نام لیا جائے اس کے ساتھ اقبالؒ کا نام لے کر مزید شرمندہ نہ کیا جائے۔شہر اقبالؒ درندوں کا شہر کہلانے لگا ہے۔سانحہ سیالکوٹ میڈیا کے طفیل انٹر نیشنل واقعہ بن چکا ہے۔ دو کم عمر خوبرو نوجوان جو حالت روزہ میں تھے۔نیک اور معصوم تھے۔ان کی عمر ابھی شرارتیں کرنے اور ہنسنے کھیلنے کی تھی۔ان کے لئے شہید کا لفظ استعمال کیا جائے۔لواحقین کے جذبات کا احترام کیا جائے۔دو جوان لخت جگر۔۔۔گویاماں دونوں آنکھوں کی بینائی سے محروم ہو چکی ہے۔باپ ۔۔۔گویا اس کے دونوں بازو ٹوٹ گئے ہیں۔اس پر بڑا ظلم یہ کہ بچوں کے ساتھ وہ سلوک کیا گیاہے جو کسی جانور کے ساتھ بھی تصورنہیں کیا جا سکتا۔وہ ہوا ہے جو کافروں کے ملکوں میں بھی تصور نہیں کیا جا سکتا۔ان قاتلوں اور مجرموں کو کافر کہنا کافروں کی توہین ہے۔کافر خدا اور اس کے دین سے انکار کرنے والے کو کہتے ہیں۔وہ جو اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کرتے ہیں وہ خدا کے منکر ہیں۔انہیں یقین ہوتا ہے کہ خدا انہیںنہیں دیکھ رہا ۔وہ دنیا کے سامنے دین اسلام کی بے حرمتی کرتے ہیں۔وہ کافروں سے بھی بد تر ہیں۔مشرک خداکے ساتھ کسی غیر کو شریک ٹھہرانے کو کہتے ہیں جبکہ اپنے مسلمان بھائیوں کو سر عام بھرے مجمع میں پوری دنیا کے سامنے بربریت کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اپنی طاقت کو خدا کا شریک ٹھہرایا جاتا ہے۔جب بھی کوئی فرعون بن جاتا ہے اسلام وہاں سے رخصت ہوجاتا ہے۔ مسلمان بھائیوں کی زندگی اور موت کو اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں اور سینہ تان کر کہتے ہیں کہ ہے کوئی جو ہمیں روکے ۔۔۔؟کراچی میں اس قسم کے شرمناک واقعات دیکھنے کے لوگ عادی ہوچکے ہیں۔کراچی کے بارے میں لوگ بڑی سادگی کے ساتھ کہہ دیتے ہیں وہ ڈاکوﺅں اور لٹیروں کے شہر ہیں۔سیاسی اکھاڑے ہیں۔بدمعاشی کے اڈے ہیں۔وہاں وحشیانہ تماشے رونما ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ مگرسیالکوٹ کراچی نہیں ہے۔اس شہر اور نواحی قصبوں اور دیہاتوں کے شہریوں کے بارے میں یہ سوچ عام پائی جاتی ہے کہ یہ سادہ لوگ ہیں۔مروت والے ملنسار اور پیار کرنے والے لوگ ہیں۔کراچی کی سفاکی اور اسلام آباد کی بے مروتی سے مختلف لوگ ہیں۔ لیکن جب وہاں کے ایک گاﺅں میں بھی ہولناک سانحہ پیش آجائے جو اندرون و بیرون ملک لوگوں کو دہلا کر رکھ دے تو اس صورت میں پاکستان کے کسی ایک شہر کو سفاکی علامت قرار دینا مناسب نہیں ہے۔ شیطان کو بھی معاف کر دیا جائے کہ یہ شرمناک اور اذیتناک فعل اس کا نہیں ہے کہ وہ غریب تو ماہ رمضان میں قید ہوتا ہے۔ مسلمانوں کے اندر کا شیطان کھل کرسامنے آ گیاہے۔ میں اکثر لکھتی ہوں کہ امریکہ کو گالیاں دینے اور ان کے جھنڈے جلانے سے پہلے اپنا قبلہ درست کریں۔ اپنا مصلیٰ سیدھا کریں۔ امریکہ کی بدنام زمانہ ابو غریب جیل اور گوانٹا نامو بے میں قیدیوں کے ساتھ سلوک اور سیالکوٹ کے ایک چوراہے میں ایک بھرے مجمع میں، تماشایﺅں کے ایک ”مہذب“ ہجوم کے بیچ سر عام ہونے والے فعل۔۔۔؟ موازنہ کروگے تو آئینے میں اپنی صورت نہیں پہچان سکو گے۔مذکورہ بدنام زمانہ جیلوں میں تشدد سلاخوں کے پیچھے ہوتا ہے۔ اوپر والوںکے حکم پر ہوتا ہے ۔ وہ ”کافر“ ہیں اور تم مسلمان ہو؟ کیایہ مسلمانی ہے؟آج امریکی تم سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے لوگ سر عام دہشت گردی کے مرتکب ہیں۔ ہمارا نہیںتمہارا میڈیا دکھاتا ہے۔
تمہارے ملک کے محافظ اورشہریوں کی جان مال کے رکھوالے خود دہشت گرد ی میں ملوث ہیں۔مسلمان مسلمان کا دشمن ہے۔ ہمیں اپنا دشمن کیوں کہتے ہو؟ تم پر جب بھی کوئی آفت آتی ہے ہماری امداد اور لوگ پہنچتے ہیں۔ تمہارے ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کی جنگ تمہاری اور پوری دنیا کی حفاظت کے لئے لڑی جا رہی ہے اور تم کہتے ہو کہ امریکی ہمارے بے گناہ شہریوں کو مار رہے ہیں؟ سانحہ سیالکوٹ کا ابو غریب اور گوانٹا نامو بے جیلوں کے ساتھ موازنہ کروگے تو امریکہ کے سامنے سر نہیں اٹھا سکو گے۔ سانحہ سیالکوٹ پرامریکی پاکستانی کمیونٹی کی آنکھیں نم، دل اداس اور سر شرمندگی سے جھکے ہوئے ہیں۔ اندیشہ ہے کہ پاکستان میں دیگر سانحات اور واقعات کی طرح سانحہ سیالکوٹ بھی ”ٹھپ“ نہ دیا جائے۔ ان ظالموں اور جلادوں کو جب تک سر عام پھانسی نہیں دی جائے گی سکون نہیں مل سکتا۔اللہ تعالیٰ کی جاری کردہ حدود اورسزاﺅں پر عمل کیا جاتا تو آج پاکستان زندہ لاشوں کا قبرستان نہ بنتا۔ انسان کا ضمیر مر جائے تو اس کا وجود ایک چلتی پھرتی لاش ہوتا ہے۔ مجرموں کو سر عام پھانسی، کوڑے، چوروں کے ہاتھ کاٹنے جیسی عبرتناک سزاﺅں کے بغیر پاکستان کا بچنا ناممکن ہے۔ زندہ لاشوں سے بہتر ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہی بار قصہ مکائے۔ پاکستان میںزلزلہ آیا ۔دنیا ہلاک ہوئی۔ معاملہ سمٹ گیا۔ سیلاب آ رہا ہے۔ لوگ زندہ ہیں مگر ان کی زندگی موت سے بھی بد تر ہو جائے گی۔منیب اور مغیث پر اللہ اپنی رحمتیں نازل فرمائیں۔شہداءکے والدین سے گزارش ہے کہ وہ پاکستان کی سلامتی اور لوگوں کی ہدایت کے لئے دعا کریں کہ مظلوم کی دعا اور بد دعا عرش کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔!!
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں